مس شادی اور پیار میں کیا فرق ہے؟‎

ایک بار ایک لڑکا اپنی ایک ٹیچر کے پاس گیا اور ان سے پوچھا کہ مس شادی اور پیار میں کیا فرق ہوتا ہے؟ وہ بولی کہ اس کا جواب میں تمہیں ایک تجربے کی روشنی میں سکھاؤں گی۔ ایک گندم کے کھیت میں جاؤ اور وہاں سے گندم کا ایک ایسا خوشہ توڑ کر لاؤ جو تمہیں سب سے بڑا اور شاندار لگے پر ایک شرط ہے کہ ایک بار آگے چلے گئے تو کھیت میں واپس جا کر کوئی پرانا گندم کا خوشہ نہیں توڑ سکتے،مثال کے طور پر تم نے ایک بہت بڑا خوشہ دیکھا لیکن تمہیں لگے کہ ابھی اتنا کھیت باقی پڑا ہے اور تم اس کو چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہو اور آگے کوئی خوشہ اس جتنا بڑا نہیں ملتا تو اب تم واپس

لوٹ کر اس والے کو نہیں لے سکتے۔وہ گیا اور بغل والے کھیت میں چھانٹی کرنے لگا، ابھی دیکھ ہی رہا تھا کہ چوتھائی کھیت میں چھانٹی کر کے اس کو بہت سے بڑ ے بڑے گندم کے خوشے نظر آئے لیکن اس نے ان میں سے کسی کو چننے کے بچائی سوچا کہ ابھی اتنا کھیت باقی پڑا ہے اس میں اس سے بھی بڑے مل جائیں گے، جب اس نے سارا کھیت دیکھ لیا تو آخر میں اس کو سمجھ آئی کہ بالکل شروع میں جو خوشے اس نے دیکھے تھےوہی سب سے بڑے بڑے تھے اور اب وہ واپس تو جا نہیں سکتا تھا، سو وہ اپنی میڈم کے پاس خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا۔ اُس کی میڈم نے پوچھا کہ کدھر ہے سب سے بڑا گندم کا خوشہ، وہ بولا کہ میں آگے نکل گیا تھا اس امید میں کہ شاید کوئی اور بہتر والا مل جائے گا مگر جب تک سمجھ آیا ، میں آگے آگیا تھا اور واپس تو نہیں لوٹ سکتا تھا نا۔ اس کی میڈم نے بولا کہ بیٹے سمجھ جاؤ کہ یہ معاملہ ہی محبت میں ہوتا ہے، آپ جوان ہوتے ہو، کم سن اور پر جوش بہتر سے بہتر کی تلاش میں ایک عمر گزار دیتے ہو تو پتہ چلتا ہے کہ جو بیچ میں چھوڑ دیے تھے وہی لوگ اصل میں بہت انمول تھے لیکن اب آپ ان کو واپس حاصل نہیں کر سکتے تو پچھتاتے ہو۔ اب ایک کام کرو ساتھ والے چھلی کے کھیت میں جاؤ اور ادھر سے سب سے بڑی چھلی لے کر آؤ جو تمہیں مطمئن کر سکتی ہو۔وہ گیا اور لگا مکئی کے کھیت کی چھانٹی کرنے۔ ابھی تھوڑا ہی کھیت دیکھا تھا کہ ایک درمیانی چھلی اس کو ٹھیک لگی اور اس نے سوچا کہ پھر پہلے والی غلطی نہ کر بیٹھوں،

تو وہ اسی کو لے آیا۔میڈم نے بولا اب کی بار آپ خالی ہاتھ نہیں لوٹے؟ اس نے بولا، مجھے لگا کہ اس سے بڑی بھی ہوں گی مگر میرے لیے یہی بہتر تھی اور اگر آگے اس سے بھی چھوٹی ہوتیں تو میں واپس بھی تو نہیں لوٹ سکتا تھا نا۔میڈم بولی: یہ ہے شادی کا معاملہ، جو آپ کو ایسی لگے کہ یہ مجھے مطمئن کر رہی ہے، اس کا سب سے شاندار ہونا ضروری نہیں، اور یہ بات ہمیشہ آپ کو آپ کی ماضی کی محبتوں کے تجربے سکھاتے ہیں۔ اب آپ سمجھے کہ محبت اور شادی میں کیا فرق ہوتا ہے۔

عورت ایک مرد سے کیا چاہتی ہے

ایک عورت سو رہی تھی جب اس کی آنکھ کھلی تو رات کے تین بج رہے تھے اور اس کے سرہانے ایک پری بیٹھی تھی۔ پری نے اس سے پوچھا کہ اپنی دلی تین خواہشیں بتاؤ۔میں ایک دن میں ایک خواہش پوچھوں گی اور اس دن وہی پوری ہو گی۔لیکن ایک شرط ہے کہ جو کچھ تم اپنے لیے مانگو گی وہ تمہیں ضرور ملے گا مگر اس سے دس گناہ زیادہ مقدار میں وہ تمہارے شوہر کو ملے گا۔ اس عورت نے بہت سوچا اور بولا کہ میری پہلی خواہش یہ ہے کہ میں صرف اور صرف اپنے شوہر سےپیار کروں اور بے انتہا کروں۔پری نے اسے بتایا کہ کل تمہاری یہ خواہش تمہارے لیے پوری ہو جائے گی اور دس

گناہ تمہارے خاوند کے لیے پوری ہو گی۔۔اگلی رات جب تین بجے تو پری نے اس کے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔وہ عورت نکل کر باہر گئی۔تو پری نے دیکھا کہ وہ بہت خوش تھی اور اس کا چہرہ طمانیت سے چمک رہا تھا۔پری نے اس سے پوچھا کہ تم خوش ہو؟ تمہاری پہلی خواہش پوری ہو گئی؟ وہ عورت ہنسنے لگی اور بولی کہ ہاں پوری ہو گئی اور میں بہت خوش ہوں۔ پری نے پوچھا کہ اب دوسریخواہش بتاؤ۔ کل وہ بھی پوری ہو جائے گی اور تمہارے شوہر کے لیے دس گنا پوری ہو گی۔ وہ عورت بولی کہ مجھے اور کچھ بھی نہیں چاہیے۔آپ باقی دونوں خواہشیں کسی اور عورت کو دے دو۔ حاصل سبق عورت کی زندگی کی سب سے بڑی حسرت صرف یہی ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اس سے پیار کرتا ہو۔ زیادہ تر عورتیں چاہے جتنی بھی امیر ہوں یا جتنی بھی کامیاب، وہ صرف اپنی پوری زندگی شوہر کی قبولیت اور اس کے پیار کے حصول میں بسر کر دیتی ہیں۔اگر آپ ان عورتوں کو دیکھیں جو بوڑھی اپنے شوہر کی اولاد اکیلے پال رہی ہوتی ہیںتو آپ بخوبی اس بات کو سمجھ جائیں گے کہ عورت کی فطرت میں بھی صرف ایک آدمی کی پوجا اور اس کی وفاداری ہوتی ہے۔ہمارے مشرقی معاشرے میں تو خیر سب عورتیں اپنی پوری زندگی برے سے برے سسرال کو اور اپنے بچوں کی

تمام بے سروپا خواہشات کو صرف ایک مرد کے لیے ہی زندگی بھر برداشت کرتی رہتی ہیں۔جو مرد یہ سوچتے ہیں کہ بیوی کو کیسے خوش رکھا جا سکتا ہے ان کے لیے بہت آسان ہے کہ تہہ دل سے اس کی عزت کریں اور اس سے پیار کریں۔ باقی سب کچھ

خاندان اور خون کی پہچان

سلطان محمود غزنوی نے اک بار دربار لگایا . دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا ۔۔۔۔۔سلطان نے شرط منظور کر لی اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا۔۔6 ماہ

گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید لگیں گے۔۔مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود نے پھر دربار لگایا اور دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے۔۔۔۔۔۔۔ اس شخص کو دربار میں حاضر کیا گیا اور بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہو۔۔۔۔۔۔ یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا ۔۔۔۔۔۔ میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا…..سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے۔ لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک نورانی چہرے والے بزرگ تشریف فرما تھے کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا …..بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ……….

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز محمود سے پوچھا آپ کیا کہتے ہو ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی .اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانو تو اسے معاف کر دو ……..اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے …..ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا …. ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ……سلطان محمود غزنوی نے اس بابا کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے… بابا کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا…….. دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے ..اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا …..

سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو……ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی راز کھول دیتا ہوں سنو اے بادشاہ سلامت اور درباریو یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔

اور ملک الموت آپہنچا!

ایک نوجوان لڑکی ایک سپر مارکیٹ میں اپنے جسم کی نمائش کرتے ہوئے فتنہ انگیز انداز میں جارہی تھی۔ اس کے انداز میں ایسی خود نمائی اور خود ستائی تھی جیسے دنیا اسی کیوجہ سے پیدا کی گئی ہو… وہاں سے ایک نیک اور صالح نوجوان گزر رہا تھا اس نے ازراہ ہمدردی کہا:” میری بہن ! اپنی اس روش سے باز آجاؤ۔ اگر اسی حالت میں ملک الموت تمہارے پاس آپہنچا تو، اللّٰہ کو کیا جواب دو گی؟” اس کے جواب میں وہ مغرور لڑکی کہنے لگی..! “اگر تم میں جرات ہے تو ابھی اپنا موبائل نکالو اور اپنے رب سے کال ملاؤ کہ وہ ملک الموت کو بھیجے۔” وہ نوجوان کہتا ہے کہ :” اس نے ایسی

ہولناک بات کہی تھی کہ مجھے ڈر ہوا کہیں اس بازار کو ہی نہ ہم پر الٹا دیا جائے۔” میں ڈرتا ہوا جلدی سے وہاں سے نکلا۔ جب میں بازار کے کنارے پر پہنچا تو میں نے اپنے پیچھے چیخ وپکار اور آہ وبکا کی آوازیں سنیں ۔ میں وآپس مڑا تو دیکھا کہ ایک جگہ لوگ اکھٹے ہیں، یہ وہی جگہ تھی جہاں میری اس لڑکی سے بات ہوئی تھی۔ میں وہ منظر دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ وہ لڑکی ٹھیک اُسی جگہ پر مردہ حالت میں پڑی تھی، جہاں اس نے ملک الموت کو بلانے کا چیلنج کیا تھا۔ میں تو اس چیلنج کے بعد فوراً وہاں سے نکل گیا تھا، لیکن لڑکی اسی وقت منہ کے بل گری اور دم توڑ دیا۔کیونکہ ملک الموت آپہنچا تھا…!

(آئین القلوب، مصطفیٰ کامل) قارئین کرام! یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور ایک عرب ملک میں پیش آیا تھا۔ اس واقعہ کو قریباً بارہ پندرہ سال گزرے ہونگے، جب یہ رونما ہوا تو اس کی بازگشت مقامی اخبارات اور مجالس میں سنائی دی تھی.. “بعض اوقات انسان تکبر اور جوانی کے نشے میں یا دولت واقتدار کے گھمنڈ میں بےحد غلط باتیں منہ سے نکال دیتا ہے، اسے معلوم نہیں ہوتا کہ عین ممکن ہے وہ قبولیت دعا کا وقت ہو۔” اور اس کے الفاظ پر رب کی طرف سے پکڑ بھی ممکن ہے، اس لئے ہمیشہ منہ سے اچھی بات نکالنی چاہئے… “دعاؤں کی قبولیت کے سنہرے واقعات” سے ماخوذ..

دانت کے کیڑوں سے نجات

چہرے کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دلکش اورحسین مسکراہٹ خوبصورت دانتوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔اس لئے دانتوں کی صفائی اورخوبصورتی کا خاص خیال رکھیں دانت انسان کے چہرے پر نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔کیونکہ یہ باتیں کرتے ، مسکراتے وقت دوسروں کودکھائی دیتے ہیں اور اگر یہ گندے ہوں تو اس سے دیکھنے والوں کو گھن آتی ہے نیز دانتوں کی صفائی نہ کرنے سے معدے اور مسوڑھوں کی بہت سی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔اس لئے گاہے بگاہے ڈینٹسٹ کو اپنے دانتوں کے تمام مسائل سے آگا ہ کرتے رہیں تا کہ مزید پیچیدگی پیدا نہ ہو۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دانتوں کی ٹھیک طرح صفائی نہ کرنے کی وجہ سے دانتوں میں کیڑا لگ جاتا ہے اورتب ڈاکٹر کے پاس جانااور علاج کرواناجیب پربہت بھاری پڑسکتا ہے۔ اسی لیے آج میں آپ کو انڈے کے چھلکے کے ذریعے دانتوں کی حفاظت کرنے اوردانت کے کیڑے سے نجات حاصل کرنے کا انتہائی سستا اور مفید نسخہ بتاؤں گا۔جس سے آپ کوڈاکٹروں کی بھاری فیس بھی نہیں دینا پڑے گی اور آپ کے دانت بھی سفید موتیوں کی طرح چمک اٹھیں گے،نسخہ یہ ہے۔ اجزاء: انڈوں کے چھلکے : دو عدد انڈوں کو ابال کر چھلکے اتار لیں ناریل کا تیل : 2 کھانے کے چمچ بیکنگ سوڈا : 1 کھانے کا چمچ اگر آپ چاہیں تو ایک چمچ سمندری نمک اور پیپر منٹ کے چند قطرے بھی شامل کرسکتے ہیں۔ ترکیب اور طریقہ استعمال انڈو ں کو ابال کر ان کے چھلکے اتار لیں اوران چھلکوں کو ایک کپ پانی ڈال کرپانچ سے دس منٹوں کے لیے اچھی طرح ابال لیں اور اس کے بعد خشک کرلیں۔ اب انہیں اچھی طرح پیس لیں اوراسے کسی برتن میں ڈال کر ناریل کا تیل اور بیکنگ سوڈاشامل کریں اوراچھی طرح ہلالیں ۔ اسے اچھی طرح باریک اور یک جان کرلیں اور اس محلول کو ضرورت کے مطابق انگلی کی مدد سے دانتوں پر لگائیں اور تمام دانتوں پر پھیلا لیں ۔ پانچ منٹ تک لگا رہنے دیں پھر پانی سے کلی

کرلیں تا کہ پیسٹ دانتوں سے صاٖ ف ہو جائے اسے روزانہ استعمال کریں ۔چند ہی دنوں میں دانت چمکدار اور کیڑے سے پاک ہو جائیں گے۔ یہ قدرتی ٹوتھ پیسٹ دانتوں میں لگے کیڑے کے لیے بہت ہی زیادہ مفید ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق انڈے کا چھلکا، کیلشیم کا بہت بڑا ذریعہ ہے اورہمارے دانت بھی کیلشیم سے بنے ہوئے ہیں،اگران چھلکوں کودانتوں کی حفاظت کے لئے ٹھیک طرح استعمال کیا جائے تو کیلشیم کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ انڈوں کے چھلکوں کی ٹوتھ پیسٹ بہت زیادہ کارآمد اور سستی ہے اور اس ٹوتھ پیسٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بازار سے ملنے والی ٹوتھ پیسٹ کے مقابلے میں خطرناک کیمیکلز سے بھی پاک ہے۔

میاں بیوی ایک خوبصورت لباس ہیں

قارئین محترم اللہ پاک نے قرآن پاک کی (سورة ابقرہ) میں ارشاد فرمایا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں۔لباس کے لفظی معنی ہیں۔ڈھاپنا (چھپانا)حالانکہ اسلام میں نکاح کے رشتے کو سب سے خوبصورت رشتہ قرار دیا جاتا ہے۔اور اس میں کوئی شک نہیںکہ میاں بیوی دونوں زندگی کے پہیئے ہیں۔اگر ان دونوں میںتھوڑی سی دراڑ پڑ جائے توراستے جدا ہو جاتے ہیں۔جوڑے آسمانوں میں بنتے ہیں۔اس کی مثال آپ کے سامنے ہے کتنی اپنے پسند کی شادیاں ہوتی ہیں۔لیکن کچھ عرصہ کے بعدان میںاختلاف پیدا ہو جاتے ہیں۔پھر طلاق تک نوبت آ جاتی ہے۔اسلامی رو سے طلاق ایک بد نما دھبہ ہے۔ہمارے معاشرے میںشوہر کے حقوق تو بیان کیے جاتے ہیں۔مگر بیوی کے حقوق ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔بیشک جس طرح شریعت مطہرہ نے بیوی پر مرد کے حقوق لازمی قرار دیے ہیں۔مثال کے طور پر کھانے پینے رہنے وغیرہ کی خبر گیری،مہر کی ادائیگی،حسن معاشرت،یعنی اچھی طرح رہنا سہنا،حسن سلوک،نیک باتوں کی تعلیم دینا،شرم و حیاء کی تاکید اور ہر جائز بات کی دلجوئی وغیرہ کرنا۔یہ تمام باتیں مرد پر عورت کاحق ہیں۔اسلامی نقطہ رو سے میاں بیوی کو گھر میں لڑائی جھگڑے سے بچنا چاہیے۔میاں بیوی کو چاہیے کہ دونوں پیار محبت سے زندگی بسر کریں۔یہ نہ ہو کہ مرد عورت کولونڈی بنا کر رکھے۔

جیسا کہ اللہ کریم نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا۔اور ان(یعنی عورتوں) سے اچھا سلوک کرو۔اور ہمارے پیارے آقا ،نور مجسم،سرکار دو عالم ۖنے ارشاد فرمایا۔تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جو عورتوںسے اچھی طرح پیش آئیں۔یہ نہ ہوکہ اگر ہانڈی میں نمک مرچ زیادہ ہو جائے تومرد عورت کی پٹائی کر دے۔بیوی سے کوئی چھوٹی سی غلطی ہو جائے تو شوہر اسے درگزر کر دے۔بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنے شوہر کی تابعداری کرے اسے راضی رکھے۔حضرت سیدنا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے۔کہ حضور پر نور ،آقا دو جہاں،سرور کائناتۖکا فرمان جنت نشان ہے۔،،جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ جنت میں داخل ہو گی۔دوسری حدیث میں ہے۔کہ بیوی اپنے مرد کو غلام نہ بنا لے۔حضرت سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔کہ پیارے آقا ۖ کا فرماب مبارک ہے۔،،اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ غیر خدا کے لیے سجدہ کرے۔تو حکم دیتا کہ عورت اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔پیارے آقا ۖ کی اس حدیث مبارکہ سے ہمیں یہ معلوم ہوا ہے۔کہ شوہروں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ لہذااسلامی بہنوں کو چاہیے کہ اپنے شوہروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔خالص اور پاکیزہ عورت مرد کا غرور ہوتی ہے۔ مرد سر اٹھا کر چل سکتا ہے اس کی زندگی کا سکون اور اطمینان صرف ایک نیک اور باحیات عورت سے ممکن ہے اور قارئین آخر میںمیری آپ سے یہ التجاء ہے۔کہ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے والدین کو اپنے والدین سمجھ کران کے آداب بجا لاتے رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ پاک ہم سب کاحامی و ناصر ہو۔۔۔

عورت کو حکم دیا جائے کہ وہ اپنے چہرے سے نقاب ہٹائے

ایک عورت مکمل پردے کے عالم میں قاضی کے سامنے کھڑی تھی. اس نے اپنے شوہر کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا تھا. مقدمے کی نوعیت بڑی عجیب تھی کہ میرے شوہر کے ذمہ مہر کی 500 دینار رقم واجب الاداء ہے وہ ادا نہیں کر رہا.لہذا مجھے مہر کی رقم دلائی جائے.. قاضی نے خاوند سے پوچھا تو اس نے انکار کر دیا.عدالت نے عورت سے گواہ طلب کیے.. عورت نے چند گواہ عدالت میں پیش کر دیے۔گواہوں نے کہا:” ہم اس عورت کا چہرہدیکھ کر ہی بتا سکتے ہیں کہ یہ واقعی وہ عورتہے جس کی گواہی دینے ہم آئے ہیں۔ لہذا عورت کو حکم دیا جائے کہ وہ اپنے چہرے سے نقاب ہٹائے۔” عدالت نے حکم

دیا کہ عورت اپنے چہرے سے نقاب اتارے تاکہ گواہ شناخت کر سکیں.ادھر عورت تذبذب کا شکار تھی کہ وہ نقاب اتارے یا نہیں گواہ اپنے موقف پر مصر تھے۔اچانک اس کے شوہر نے غیرت میں آکر کہا” مجھے قطعاََ یہ برداشت نہیں کہ کوئی غیر محرم میری بیوی کا چہرہ دیکھے… لہذا گواہوں کو چہرہ دیکھنے کی ضرورت نہیں .. واقعی اس کے مہر کی رقم میرے ذمہ واجب الاداء ہے…۔ عدالت ابھی فیصلہ دینے والی ہی تھی کہ وہ عورت بول اٹھی..!!۔ “اگر میرا شوہر کسی کو میرا چہرہ دکھلانا برداشت نہیں کرتا تو میں بھی اسکی توہین برداشت نہیں کر سکتی. میں اپنا مہر معاف کرتی ہوں. میں غلطی پر تھی جو ایسے شخص کے خلاف مقدمہ دائر کیا..”۔

مجھے رات کو نیند ٹھیک سے نہیں آتی

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص آتا ہے اورعرض کرتا ہے۔ اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے رات کو نیند ٹھیک سے نہیں ہے آتی رات کو سو نہیں ہو پاتا اور صبح جب اٹھتا ہوں تو پورے جسم میں درد سا رہتا ہے اور وہ درد بڑھتا رہتا ہے جب وہ اپنا درد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بیان کر چکا تو تو انہوں نے اس شخص سے فرمایا کے اے شخص اگر تم رات کو پانی پیتے ہو تو پانی پینا بند کر دو کیونکہ ایسا کرنا سخت کے لئے انتہائی نہ مناسب ہے کیونکہ رات کو پانی پینے سے جسم میں ایسا دردشروع ہوجاتا ہے اگر اللہ پاک اسے شفاء دینا چاہیں تو دے سکتا ہے ورنہ اس کا علاج نا ممکن ہےمیرے دوستو میری بہنو میرے بھائیو پانی جسم کے لئے ایک بہت اہم چیز ہے جب ہم مناسب مقدار میں پانی نہیں ہے پیتے تو ہمارے جسم سے پانی خشک ہو جاتا ہے اور اکثر رات کے وقت ہمیں پانی کی پیاس زیادہ لگتی ہے ہمیں رات کے وقت پانی کی ضرورت زیادہ محسوس ہوتی ہے اور اکثر لوگ رات کو نیند سے اٹھ کر پانی پیتے ہیں اس کا نقصان کیا ہوتا ہے۔

رات کو اٹھ کر پانی پینے سے اب میڈیکل بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ رات کے وقت پانی پینے سے غریض کرناچاہیئے کس وجہ سے تین بڑی وجوہات ہے ایک تو یہ ہے کہ بستر پر جانے سے قبل پانی کا استعمال نیند کو متاثر کرتاہے اور اس عادت کے نتیجے میں رات کو پیشاب کے لئے بار بار اٹھنا پرتا ہے انسان گرم بستر سے ایک دم واشروم جاتا ہے تو جسم ٹھنڈا پر جاتا ہے اس سورت میں بھی اٹھنا سخت کے لئے نقصان دہ ہے۔اور دوسری بری وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق گردوں کے ساتھ ہے آپ سب جانتے ہی ہوں گے کہ رات کو گردے اپنے کام میں بہت آہستہ ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد کے صبح اٹھنے پر چہرے اور ہاتھ پائوں سوجن کا شکار ہوتے ہیں رات کو سونے سے قبل پانی پینا ایسے افراد کے لئے یہ مسئلہ بڑھا سکتا ہے۔ اور تیسری بری وجہ اگر آپ سونے سے قبل پانی پیتے ہیں تو یہ آپ کی نیند میں مداخلت کا سبب بنتا ہے وزن کم کرنے کے لئے پانی کی طرح نیند بھی ایک اہم چیز ہے اور میڈیکل سائنس یہ کہتی ہے کہ چھ سے آٹھ گھنٹے نیند ہماری زندگی میں واقع ایک تبدیلی لا سکتی ہے سائنس کے مطابق وہ لوگ جو کم سوتے ہیں اور وہ لوگ جو زیادہ نیند لیتے ہیں ان کے وزن بڑھنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں کھڑے ہو کر پانی پینا اخلاقیات کے خلاف سمجھا جاتا ہے،اور اس حوالے سے اب ماہرین بھیبہت سے مشورہ دے رہے ہیں ہربل ماہرین کےمطابق کھڑے ہو کر پانی پینے سے نہ صرف ہماری نسیں کھنچائو پیدا ہو تا ہے بلکہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے آپ کے پینے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جوڑوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہربل ماہرین کےمطابق کھڑے ہو کر پانی پینے سے نہ صرف ہماری نسیں کھنچائو پیدا ہو تا ہے بلکہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے آپ کے پینے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جوڑوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جس طریقے سے ہم آہستہ آہستہ کھانا کھاتے ہیں اسی طرح آرام سے پانی بھی بیٹھ کر اور آہستہ آہستہ پینا چاہیئے۔ جلدی جلدی پانی پینے سے جسم میںآکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے جس سے دل اور پھیپھڑوں کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ماہرین ہمیں اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے بیٹھ کر سکون سے پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرے جسم کھڑے ہوکر پانی پیا جاتا ہے تو یہ معدے کی دیوار سے ٹکراتا ہے اور لہر کی شکل میں نیچے جاتا ہے، یہ لہر معدے کی دیوار، ارگرد موجود اعضاءاور غذائی نالی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، طویل مدت تک اس مشق کو اپنانا نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرسکتا ہے۔ گردوں کا کام جسم میں موجود زہریلے مواد کی صفائی ہے اور یہ عادت اسے متاثر کتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے یعنی گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا پیشاب کی نالی کیسوزش کا شکار ہوسکتی ہے۔ اس طرح پانی پینا غذائی نالی کو متاثر کرتی ہے جس سے معدے میں تیزابیت کی شکایت کا امکان بڑھ جاتا ہے جو آگے بڑھ کر سینے میں جلن یا السر وغیرہ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ پیاس نہیں بجھتی ماہرین کے مطابق کبھی کبھار کھڑے ہوکر پانی پینے میں کوئی برائی نہیں یا نقصان نہیں ہوتا مگر اس عادت بنالینے سےگریز کرنا چاہئے، اس عادت کے نتیجے میں پیاس کی بھی صحیح معنوں میں تشفی نہیں ہوتی۔

حشر میں حساب کون کرے گا۔؟

ﺍﯾﮏ ﺑَﺪﻭ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﭘُﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﺸﺮ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﻮﻥ ﻟﮯ ﮔﺎ؟ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧـــﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ” ﺍﻟﻠّٰﮧ ” ﺑﺪﻭ ﺧُﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺟُﮭﻮﻡ ﺍُﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ، ” ﺑﺨﺪﺍ ﺗﺐ ﺗﻮ ﮬﻢ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﺌﮯ “ ۔ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧـــﮯ ﭘُﻮﭼﮭﺎ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ؟ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﺮﯾﻢ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﯾﻢ ﺟﺐ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﻣُﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ “ﺑَﺪﻭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﺭﮬﺎ۔

ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺟﻤﻠﮧ ﺩُﮬﺮﺍ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺭﮬﮯ , ” ﺩُﮬﺮﺍ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺭﮬﮯ , ” ﻗﺪ ﻭﺟﺪ ﺭﺑﯽ “ ، ” ﻗﺪ ﻭﺟﺪ ﺭﺑﯽ “ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺭﺏّ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﯿﺎ , ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺭﺏّ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﯿﺎ …!!

میرے شوہر آگئے نئی

نئی خوبصورت، طرحدار اور جواں سال پڑوسن محلے میں آباد ہوئی تھی۔ تین چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ شوہر شکل ہی سے خرانٹ اور بدمزاج لگتا تھا۔ پڑوسن کی صورت دیکھ کر ہی محلے کے مردوں کی تمام تر ہمدردیاں خاتون کے ساتھ ہوگئیں۔ خاتون نے آہستہ آہستہ محلے کے گھروں میں آنا جانا شروع کیا۔ شیخ صاحب اور مرزا صاحب کو اپنی اپنی بیگمات کے توسط سے پتا چلا کہ نئی پڑوسن کا شوہر تند خو اور شکی ہے۔ خاتون شوہر سے کافی ڈرتی ہیں۔ یہ سنتے ہی دونوں مرد حضرات کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں دل ہی دل میں شکوہ کر لیا کہ یا اللہ کیسے کیسے ہیرے ناقدروں کو دے دیئے ہیں۔ ایک دن نئی خوبصورت پڑوسن سبزی والے کی دکان پر شیخ صاحب کو ملی۔ خود ہی آگے بڑھ کر سلام کیا۔ شیخ صاحب کو اپنی قسمت پر ناز ہوا۔ خاتون نے کہا کہ شیخ صاحب برا نہ مانیں تو آپ سے کچھ مشورہ درکار ہے۔

شیخ صاحب خوشی سے باولے سے ہوگئے۔ خاتون نے عام گھریلو عورتوں کی طرح بھائی صاحب کہنے کے بجائے شیخ صاحب کہا تھا۔ شیخ صاحب نے دلی خوشی چھپاتے ہوئے نہایت متانت سے جواب دیا۔ جی فرمایئے۔ خاتون نے کہا میرے شوہر کام کے سلسلے میں اکثر شہر سے باہر رہتے ہیں۔ میں اتنی پڑھی لکھی نہیں۔ بچوں کے اسکول کے ایڈمیشن کی سلسلے میں رہنمائی درکار تھی۔ خاتون نے کہا کہ یوں سڑک پہ کھڑے ہو کر بات کرنا مناسب نہیں۔ کیا آپ کے پاس وقت ہوگا تو چند منٹ مجھے سمجھا دیں تاکہ میں کل ہی ان کا داخلہ کروا دوں۔ شیخ صاحب چند منٹ کیا صدیاں بتانے کو تیار تھے۔ فورا کہا جی ضرور۔ آئیے۔ شیخ صاحب خاتون کے ہمراہ چلتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔ ابھی صوفے پر بیٹھے ہی تھے کہ باہر اسکوٹر کے رکنے کی آواز آئی۔ خاتون گھبرا گئی۔ یا اللہ میرے شوہر آگئے۔ انہوں نے تو میرا اور آپ کا قتل ہی کر دینا ہے۔ وہ کچھ بھی نہیں سنیں گے۔ ایک کام کیجیے۔ یہ سامنے کپڑوں کا ڈھیر ہے آپ یہ نیلا دوپٹے کا گھونگھٹ نکال کر بیٹھ جائیں اور کپڑے استری کرنا شروع کردیں۔ میں کہہ دوں گی کہ استری والی ماسی کام کر رہی ہے۔ شیخ صاحب نے جلدی سے گھونگھٹ کاڑھا اور استری کرنے لگے۔ تین گھنٹے تک استری کرتے رہے جب تک وہ خرانٹ شخص گھر میں موجود رہا۔ جیسے ہی شوہر گھر سے باہر گیا۔ پسینے میں شرابور، تھکن سے چور شیخ صاحب نڈھال قدموں سے گھر سے نکلےجیسے ہی باہر نکلے سامنے مرزا صاحب آتے دکھائی دییے۔ پوچھا کتنی دیر سے اندر ہو۔ بولے تین گھنٹوں سے استری کررہا ہوں۔ مرزا صاحب نے تاسف سے دیکھا اور بولے۔ جس کپڑوں کے ڈھیر کو تم نے تین گھنٹے استری کیا ہے، کل میں نے ہی چار گھنٹے بیٹھ کر دھوئے ہیں۔کیا تمہیں بھی نیلا دوپٹہ اوڑھایا تھا؟؟؟؟؟ شیخ صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں دوست مرے مرے قدموں سے اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دییے۔