جن گھروں میں یہ کام ہوتے ہیں وہاں کبھی بھی برکت نہیں آسکتی

ال کی بے جامحبت، جمع کرنے کی ہوس اور اس پر اترانا تو بے شک بہت بڑی برائی ہے اوراسلامی زندگی میں اس کا کوئی جواز نہیں ہے، لیکن اچھے کاموں میں خرچ کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ حلال مال کمانا ایک پسندیدہ کام ہے، تاکہ معاشرے سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔آج ہم اپنے مسائل کے حل کے لیے مشکل ترین دنیوی ذرائع استعمال کرنے کے لیے تو تیار ہیں،مگر اللہ تعالیٰ اوراس کے رسولؐ کے عطا کردہ روزی میں برکت کے آسان ذرائع کی طرف ہماری توجہ نہیں، یہ افسوس کا مقام ہے۔ مزیدویڈیودیکھنےکےلیےنیچےویڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں

۔ گھمبیر معاشی ومعاشرتی مسائل نے لوگوں کو بے حال کر دیا ہے۔ شاید کوئی گھر ایسا ہو جہاں حالات کا رونا نہ رویا جاتا ہو، بے روزگاری وتنگ دستی تو گویا ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے۔رزق میں برکت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے رزق میں بے برکتی کے اسباب تلاش کیے جائیں، تاکہ رزق میں بے برکتی کے اصل حقائق تک رسائی ہو۔رزق کی بے قدری اور بے حرمتی سے کون سا گھر خالی ہے، بنگلے میں رہنے والے ارب پتی سے لے کر جھونپڑی میں رہنے والے مزدور ومحنت کش تک سب اس حوالے سے غفلت اور بے احتیاطی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ شادی ودیگر تقریبات میں قسم قسم کے کھانے ہوں یا گھروں میں برتن دھوتے وقت بچا کچھا کھانا، یہ جس طرح ضائع کیا جاتا ہے، اس سے کون واقف نہیں؟کاش رزق میں تنگ دستی کے اس عظیم سبب پر ہماری نظر ہوتی اور اصلاح کی کوشش کی جاتی تو بہت اچھا ہوتا، کیوں کہ یہ بیماری عام ہے، جس میں ہماری اکثریت مبتلا ہے۔آج کل کئی دکاندار، روزی میں بندش ختم کرانے کے لیے تعویذ، عملیات اور دعا کے ذرائع تو اپناتے ہیں، مگر روزی میں برکت کے زائل ہونے کے ایک بڑے سبب، خرید وفروخت میں بے احتیاطی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔جس طرح روزی میں برکت کے ذرائع موجود ہیں اس طرح روزی میں تنگی کے اسباب بھی پائے جاتے ہیں ،اگر ان سے بچا جائے تو ان شاء اللہ روزی میں برکت ہی برکت ہوگی۔تنگ دستی اور بے برکتی کےاسباب درج ذیل ہیں:نماز میں سستی کرنا، گناہ کرنا، خصوصاً جھوٹ بولنا، نیک اعمال میں ٹال مٹول کرنا، بغیرہاتھ دھوئے کھانا کھانا، ماں باپ کے لیے دعائے خیر نہ کرنا، اندھیرے میں کھانا کھانا، دروازے پر بیٹھ کر کھانا، بغیر دسترخوان بچھائے کھانا، دانتوں سے روٹی کترنا،
چینی یا مٹی کے ٹوٹے ہوئے برتن استعمال میں رکھنا، کھانے کے بعد جس برتن میں کھانا کھایا اس میں ہاتھ دھونا، کھانے پینے کے برتن کھلے چھوڑ دینا، دسترخوان پر گرے ہوئے کھانے وغیرہ کے ذرے اٹھانے میں سستی کرنا، گھر میں مکڑی کے جالے لگے رہنے دینا، چراغ کو پھونک مارکر بجھانا، ٹوٹی ہوئی کنگھی استعمال کرنا وغیرہ۔رزق میں برکت کے طالب کو چاہیے کہ وہ بے برکتی کے اسباب پر نظر رکھتے ہوئے ان سے نجات کی ہر ممکن کوشش کرے اور یہ بھی واضح ہو کہ کثرت گناہ کی وجہ سے رزق میں برکت ختم ہو جاتی ہے، اس لیے گناہوں سے بچنے کی ہر صورت کوشش کرے، کیوں کہ کثرتِ گناہ آفات کے نزول کا سبب بھی ہے۔مشائخ کرام فرماتے ہیں دو چیزیں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں، مفلسی اور چاشت کی نماز، یعنی جوکوئی چاشت کی نماز کا پابند ہوگا وہ کبھی مفلس نہ ہوگا۔ غربت، بے روزگاری اور تمام مشکلات کا خاتمہ اس وقت ہوگا جب خوش حالی کے ذرائع کو اپنایا جائے گا۔خوش حالی لانے والی چیزیں سات ہیں:قرآن پاک کی تلاوت کرنا، پانچ وقت کی نماز پڑھنا، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا، غریبوں اور مجبوروں کی مدد کرنا، گناہوں پر نادم ہو کر معافی مانگنا، ماں باپ اور رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا،
صبح کے وقت سورۂ یسٰین اور رات کے وقت سورۂ واقعہ پڑھنا۔اگر آج ہم صدق دل سے بے برکتی والی چیزوں سے اجتناب کرنے اور برکت والی چیزوں کو اپنانے کا تہیہ کریں تو ہمارے گھر سے بے برکتی کا خاتمہ اور برکت کا نزول ہوگا، ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ پر بھروسا کریں تو آپ خود اپنے اہل خانہ، رشتے داروں کے ساتھ قابل اعتماد ہوجائیں، ایسا رویہ اپنائیں کہ وہ بلا تکلف اپنے حالات آپ سے کہہ سکیں، دوسروں کو اپنے سخت رویے اور حاکمانہ ذہنیت سے مرعوب کرنے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی یہ سمجھیں کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں یا کرنے والے ہیں وہ سب لوگ بے چوں چرامان لیں گے اور آپ کی بات سے کوئی اختلاف نہیں کرے گا۔ ا

پنے رویے سے، اپنی گفتگو سے بے زاری اور عداوت کو ختم کریں، اگر اتفاق سے کسی کو تکلیف پہنچ جائے تو فوراً معذرت کرلیں۔ لوگوں کے مسائل کو درد مندی اور خیر خواہی سے سْنیں، اچھے کاموں کی خوش دلی سے داد دیں، تاکہ دوسروں کی حوصلہ افزائی ہو

وہ عورتیں جن سے نکاح کرنا حرام ہے

جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو حقیقت میں ایک ایسے ضابطہ حیات کی بات کرتے ہیں جو ہمیں زندگی گذارنے کی تعلیم دیتا ہے- اسلام میں خاندان کا تصور خاص اہمیت رکھتا ہے اسی لیے اسلام میں کچھ ایسے رشتے ہیں

جن کے ساتھ نکاح سے صریحا” منع کیا گیا ہے، آئیے ایسی عورتوں کے بارے میں جانتے ہیں جن کے ساتھ اسلام نکاح کی اجازت نہیں دیتا-

(۲۳۴۴)ان عورتوں کے ساتھ جو انسان کر محرم ہوں ازدواج حرام ہے ،مثلاً ماں، بہن، بیٹی، پھوپھی، خالہ،بھیتجی، بھانجی،ساس. (۲۳۴۵)اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے چا ہے

اس کے ساتھ جماع نہ بھی کرے تو اس عورت کی ماں ،نانی،اور دادی اور جتنا سلسلہ اوپر چلا جائے سب عورتیں اس مرد کی محرم ہو جاتی ہیں.

(۲۳۴۶)اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کے ساتھ ہم بستری کرے تو پھر اس عورت کی لڑکی،نواسی، اور جتنا سلسلہ نیچے چلا جائے سب عورتیں اس مرد کی محرم ہو جاتی ہیں خواہ وہ عقد کے وقت موجود ہوں یا بعد میں پیدا ہوں.

(۲۳۴۷)اگر کسی مرد نے ایک عورت سے نکاح کیا ہو لیکن ہم بستری نہ کی ہو تو جب تک وہ عورت اس کے نکاح میں رہے… احتیاط واجب کی بنا پر…اس وقت تک اس کی لڑکی سے ازدواج نہ کرے.

(۲۳۴۸)انسان کی پھوپھی اور خالہ اوراس کے باپ کی پھوپھی اور خالہ اور دادا کی پھوپھی اور خالہ باپ کی ماں(دادی)اور ماں کی پھوپھی اور خالہ اور نانی اور نانا کی پھوپھی اور خالہ اور جس قدریہ سلسلہ اوپر چلا جائے سب اس کے محرم ہیں.

(۲۳۴۹)شوہر کا باپ اور دادا اور جس قدر یہ سلسلہ اوپر چلا جائے اور شوہر کا بیٹا،پوتا اور نواسا جس قدر بھی یہ سلسلہ نیچے چلا جائے اور خواہ وہ نکاح کے وقت دنیا میں موجود ہوں یا بعد میں پیدا ہوں سب اس کی بیوی کے محرم ہیں.

(۲۳۵۰)اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو خواہ وہ نکاح دائمی ہو یا غیر دائمی جب تک وہ عورت اس کی منکوحہ ہے وہ اس کی بہن کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا.

(۲۳۵۱)اگر کوئی شخص اس ترتیب کے مطابق جس کا ذکر طلاق کے مسائل میں کیا جائے گا اپنی بیوی کو طلاق رجعی دے دے تو وہ عدت کے دوران ان کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا لیکن طلاق بائن کی عدت کے دوران اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے

اور متعہ کی عدت کے دوران احتیاط واجب یہ ہے کہ عورت کی بہن سے نکاح نہ کرے. (۲۳۵۲)انسان اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر اس کی بھتیجی یا بھانجی سے شادی نہیں کرسکتا

لیکن اگر وہ بیوی کی اجازت کے بغیر ان سے نکاح کر لے اور بعد میں بیوی اجازت دیدے تو پھر کوئی اشکال نہیں . (۲۳۵۳)اگر بیوی کو پتا چلے کہ اس کے شوہر نے اس کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح کر لیا ہے اور خاموش رہے

تو اگر وہ بعد میں راضی ہو جائے تو نکاح صحیح ہے اور اگر رضامند نہ ہو تو ان کا نکاح باطل ہے. (۲۳۵۴)اگرانسان خالہ یا پھوپھی کی لڑکی سے نکاح کرنے سے پہلے(نعوذ باللہ) خالہ یا پھوپھی سے زنا کرے تو پھر وہ اس کی لڑکی سے احتیاط کی بنا پر شادی نہیں کر سکتا.

(۲۳۵۵)اگر کوئی شخص اپنی پھوپھی کی لڑکی یا خالہ کی لڑکی سے شادی کرے اور اس سے ہم بستری کرنے کے بعد اس کی ماں سے زنا کرے تو یہ بات ان کی جدائی کاموجب نہیں بنتی اور اگر اس سے نکاح کے بعد لیکن جماع کرنے سے پہلے اس کی ماں سے زنا کرے تب بھی یہی حکم ہے.

اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس صورت میں طلاق دے کہ اس سے (یعنی پھوپھی زاد یا خالہ زاد بہن سے )جدا ہو جائے. (۲۳۵۶)اگر کوئی شخص اپنی پھوپھی یا خالہ کے علاوہ کسی اور عورت سے زنا کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کی بیٹی کے ساتھ شادی نہ کرے

بلکہ اگر کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کے ساتھ جماع کرنے سے پہلے ا سکی بیٹی کے ساتھ پہلے اس کی ماں کے ساتھ زنا کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس عورت سے جدا ہو جائے.لیکن اگر اس کے پہلے اس کی ماں کے ساتھ زنا کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس عورت سے جدا ہو جائے.

لیکن اگر اس کے ساتھ جماع کرلے او ربعد میں اس کی ماں سے زنا کرے تو بے شک عورت سے جدا ہونا لازم نہیں. (۲۳۵۷)مسلمان عورت کافر مرد سے نکاح نہیں کر سکتی.مسلمان مرد بھی اہل کتاب کے علاوہ کافر عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتا.

لیکن یہودی اور عیسائی عورتوں کی مانند اہل کتاب عورتوں سے متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور احتیاط لازم کی بنا پر ان سے دائمی عقد نہ کیا جائے اور بعض فرقے مثلاً ناصبی جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں ،کفار کے حکم میں ہیں اور مسلمان مرد اور عورتیں ان کے ساتھ دائمی یا غیر دائمی نکاح نہیں کر سکتے.

(۲۳۵۸)اگر کوئی شخص ایک ایسی عورت سے زنا کرے جو رجعی طلاق کی عدت گزاررہی ہو تو… احتیاط کی بنا پر… وہ عورت اس پر حرام ہو جاتی ہے اور اگر ایسی عورت کے ساتھ زنا کرے جو متعہ یا طلاق بائن یا وفات کی عدت گزاررہی ہو تو بعد میں اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے

اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس سے شادی نہ کرے.رجعی طلاق اور بائن طلاق اور متعہ کی عدت اور وفات کی عدت کے معنی طلاق کے احکام میں بتائے جائیں گے.

(۲۳۵۹)اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے زنا کرے جو بے شوہر ہو مگر عدت میں نہ ہو تو احتیاط کی بنا پر تو بہ کرنے سے پہلے اس سے شادی نہیں کر سکتا.لیکن اگر زانی کے علاوہ کوئی دوسرا شخص(اس عورت کے)توبہ کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شادی کرنا چاہے تو کوئی اشکال نہیں.

مگر اس صورت میں کہ وہ عورت زنا کار مشہور ہو تو احتیاط کی بنا پر اس (عورت) کے توبہ کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے.اسی طرح کوئی مرد زنا کار مشہور ہو تو توبہ کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے

کہ اگر کوئی شخص زنا کار عورت سے جس سے خود اس نے یا کسی دوسرے نے منہ کالا کیا ہو شادی کرنا چاہے تو حیض آنے تک صبر کرے اور حیض آنے کے بعد اس کے ساتھ شادی کرلے. (۲۳۶۰)اگر کوئی شخص ایک ایسی عورت سے نکاح کرے جو دوسرے کی عدت میں ہو

تو اگر مرد اور عورت دونوں یا ان میں سے کوئی ایک جانتا ہو کہ عورت کی عدت ختم نہیں ہوئی اور یہ بھی جانتے ہوں کہ عدت کے دوران عورت سے نکاح کرنا حرام ہے تو اگرچہ مرد نے نکاح کے بعد عورت سے جماع نہ بھی کیا ہو تو وہ عورت ہمیشہ کیلئے اس پر حرام ہو جائے گی

اور اگر دونوں اس سے بے خبر ہوں کہ عدت کے دوران ہونے یا عدت میں نکاح کے حرام ہونے سے تو دونوں کا نکاح باطل ہے،اگر ہمبستری بھی کی ہے تو ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائیں گے.اگر ہمبستری نہ کی ہو تو عدت کے ختم ہونے کے بعد دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں.

(۲۳۶۱)اگر کوئی شخص یہ جانتے ہوئے کہ عورت شوہر دار ہے اور(اس سے شادی کرنا حرام ہے)اس سے شادی کرے تو ضروری ہے کہ اس عورت سے جدا ہو جائے اور بعد میں بھی اس سے نکاح نہیں کرنا چاہیے. اگر اس شخص کو یہ علم نہ ہو کہ عورت شوہر دار ہے

لیکن شادی کے بعد اس سے ہم بستری کی ہو تب بھی احتیاط کی بنا پر یہی حکم ہے. (۲۳۶۲)اگر شوہر دار عورت زنا کرے تو ..احتیاط کی بناپر.. وہ زانی پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو جاتی ہے.لیکن شوہر پر حرام نہیں ہو تی اور اگر توبہ واستغفار نہ کرے اور اپنے عمل پر باقی رہے

(یعنی زنا کاری ترک نہ کرے)تو بہتر یہ ہے کہ اس کا شوہر اسے طلاق دیدے لیکن شوہر کو چاہیے کہ اس کا مہر بھی دے. (۲۳۶۳)جس عورت کو طلاق مل گئی ہو اور جوعورت متعہ میں رہی ہو اور اس کے شوہر نے متعہ کی مدت بخش دی ہو یا متعہ کی مدت ختم ہو گئی ہو

اگر وہ کچھ عرصے کے بعد دوسرا شوہر کرے اور پھر اسے شک ہو کہ دوسرے شوہر سے نکاح کے وقت پہلے شوہر کی عدت ختم ہوئی تھی یا نہیں تووہ اپنے شک کی پروانہ کرے. (۲۳۶۴)اغلام کروانے والے لڑکے کی ماں،بہن،اور بیٹی اغلام کرے والے پر..

جبکہ(اغلام کرنے والا)بالغ ہو… حرام ہو جاتے ہیں… اگر اغلام کروانے والا مرد ہو یا اغلام کرنے والا نابالغ ہو تب بھی احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے.لیکن اگر اسے گمان ہو کہ دخول ہوا تھا یا شک کرے کہ دخول ہو ا تھا یا نہیں تو پھروہ حرام نہیں ہوں گے.

(۲۳۶۵)اگر کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے اور شادی کے بعد اس عورت کے باپ، بھائی یا بیٹے سے اغلام کرے تواحتیاط کی بنا پر وہ عورت اس پر حرام ہو جاتی ہے.

(۲۳۶۶)اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں جو اعمال حج میں سے ایک عمل ہے کسی عورت سے شادی کرے تو اس کا نکاح باطل ہے اور اگر اسے علم تھا کہ کسی عورت سے احرام کی حالت میں نکاح کرنا اس پر حرام ہے تو بعد میں وہ اس عورت سے کبھی بھی شادی نہیں کر سکتا چاہے

عورت احرام میں نہ ہو. (۲۳۶۷)جو عورت احرام کی حالت میں ہو اگر وہ ایک ایسے مرد سے شادی کے جو احرام کی حالت میں نہ ہوتو اس کا نکاح باطل ہے اوراگر عورت کو معلوم تھا کہ احرام کی حالت میں شادی کرنا حرام ہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ بعد میں اس مرد سے شادی نہ کرے.

(۲۳۶۸)اگر مردیا عورت طواف النساء نہ بجالائیں جو عمرہ مفردہ کے اعمال میں سے ایک ہے تو ایسے مرد عورت کے لئے جنسی لذت کا حصول جائز نہیں رہتا. یہاں تک کہ وہ طواف النساء بجالائیں.لیکن اگر حلق یا تقصیر کے ذریعے احرام سے خارج ہونے کے بعد شادی کرے تو صحیح ہے چاہے طواف النساء انجام نہ دیا ہو .

(۲۳۶۹)اگر کوئی شخص نابالغ لڑکی سے نکاح کرے تواس لڑکی کی عمر نو سال ہونے سے پہلے اس کے ساتھ جماع کرنا حرام ہے.لیکن اگر جماع کرے تو اظہر یہ ہے کہ لڑکی کے بالغ ہونے کے بعد اس سے جماع کرناحرام نہیں ہے خواہ اسے افضاء ہی ہوگیاہو..

افضاء کے معنی مسئلہ۲۳۴۰میں بتائی جا چکے ہیں.. لیکن احوط یہ ہے کہ اسے طلاق دے دے. (۲۳۷۰)جس عورت کو تین طلاق دی جائے وہ شوہر پر حرام ہو جاتی ہے.ہاں اگرا ن شرائط کے ساتھ جن کاذکر طلاق کے احکام میں کیا جائے گا

وہ عورت دوسرے مرد سے شادی کرے تو دوسرے شوہر کی موت یا اس سے طلاق ہو جانے کے بعد اور عدت گزر جانے کے بعد اس کا پہلا شوہر دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کر سکتاہے.

رسول اللہ ﷺ کے اہل خانہ میں سے جب کوئی بیمار ہوتا تھا

رسول اللہ ﷺ کے اہل خانہ میں سے جب کوئی بیمار ہوتا تھا تو حکم ہوتا کہ اس کے لیے تلبینہ تیار کیا جائے۔ پھر فرماتے کہ تلبینہ بیمار کے دل سے غم کو اُتار دیتا ہے اور اس کی کمزوری کو یوں اتار دیتا ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کر اس سے غلاظتa اُتار دیتا ہے۔” (ابن ماجہ)
رسول اللہﷺ نے حضرت جبرئیلؑ سے فرمایا کہ: جبرئیلؑ میں تھک جاتا ہوں۔ حضرت جبرئیلؑ نے جواب میں عرض کیا: اے الله کے رسولﷺ آپ تلبینہ استعمال کریں
آج کی جدید سائینسی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ جو میں دودھ کے مقابلے میں 10 گنا ذیادہ کیلشیئم ہوتا ہے اور پالک سے ذیادہ فولاد موجود ہوتا ہے، اس میں تمام ضروری وٹامنز بھی پائے جاتے ہیں
پریشانی اور تھکن کیلئے بھی تلبینہ کا ارشاد ملتا ہے۔
نبی ﷺ فرماتے کہ یہ مریض کے دل کے جملہ عوارض کا علاج ہے اور دل سے غم کو اُتار دیتا ہے۔” (بخاری’ مسلم’ ترمذی’ نسائی’ احمد)
جب کوئی نبی ﷺ سے بھوک کی کمی کی شکایت کرتا تو آپ اسے تلبینہ کھانے کا حکم دیتے اورفرماتے کہ اس خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ تمہارے پیٹوں سے غلاظت کو اس طرح اتار دیتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کر صاف کرلیتا ہے
۔نبی پاک ﷺ کومریض کیلئے تلبینہ سے بہتر کوئی چیز پسند نہ تھی۔ اس میں جَو کے فوائد کے ساتھ ساتھ شہد کی افادیت بھی شامل ہوجاتی تھی۔ مگر وہ اسے نیم گرم کھانے’ بار بار کھانے اور خالی پیٹ کھانے کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ (بھرے پیٹ بھی یعنی ہر وقت ہر عمر کا فرد اس کو استعمال کرسکتا ہے۔ صحت مند بھی ‘ مریض بھی)
نوٹ: تلبینہ ناصرف مریضوں کیلئے بلکہ صحت مندوں کیلئے بہت بہترین چیز ہے۔ بچوں بڑوں بوڑھوں اور گھر بھر کے افراد کیلئے غذا’ ٹانک بھی’ دوا بھی شفاء بھی اور عطا بھی۔۔۔۔خاص طور پر دل کے مریض ٹینشن’ ذہنی امراض’ دماغی امراض’ معدے’ جگر ‘ پٹھے اعصاب عورتوں بچوں اور مردوں کے تمام امراض کیلئے انوکھا ٹانک ہے۔
” جو ” ——– جسے انگریزی میں ” بارلے ” کہتے ہیں – اس کو دودھ کے اندر ڈال دیں ۔ پنتالیس منٹ تک دودھ میں گلنے دیں اور اسکی کھیر سی بنائیں ۔ اس کھیر کے اندر آپ چاھیں تو شھد ڈال دیں یا کھجور ڈال دیں ۔اسے تلبینہ ( Talbeena) کہیں گے —
ترکیب:
۔دودھ کو ایک جوش دے کر جو شامل کر لیں۔ ہلکی آنچ پر ۴۵ منٹ تک پکائیں اور چمچہ چلاتے رہی ۔ جو گل کر دودھ میں مل جائے تو کھجور مسل کر شامل کرلیں ۔ میٹھا کم لگے تو تھوڑا شہد ملا لیں ۔کھیر کی طرح بن جائے گی ۔ چولہے سے اتار کر ٹھنڈا کر لیں ۔ اوپر سے بادام ، پستے کاٹ کر چھڑک دیں (کھجور کی جگہ شہد بھی ملا سکتے ہیں)
طبی فوائد
طبی اعتبار سے اس کے متعدد فوائد بیان کئے جاتے ہیں-یہ غذا:
۔غم ، (Depression)۔ مایوسی، ۔ کمردرد،۔ خون میں ہیموگلوبن کی شدید کمی، ۔ پڑهنے والے بچوں میں حافظہ کی کمزوری، ۔ بهوک کی کمی، ۔ وزن کی کمی۔ کولیسٹرول کی زیادتی،۔ ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر لیول کے اضافہ، ۔ امراض دل،انتڑیوں،۔ معدہ کے ورم،۔ السرکینسر،۔ قوت مدافعت کی کمی،۔ جسمانی کمزوری،۔ ذہنی امراض، ۔ دماغی امراض،۔ جگر، ۔ پٹھے کے اعصاب،۔ نڈھالی.

وسوسے (Obsessions). تشویش (Anxiety)
کے علاوہ دیگر بے شمار امراض میں مفید ہےاور یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ جو میں دودھ سے زیادہ کیلشیم اور پالک سے زیادہ فولاد پایا جاتا ہےاس وجہ سے تلبینہ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے”

عورت کن باتوں کا خیال رکهے

غسل میں عورت کن باتوں کا خیال رکهے *
——————————————

سوال: فرض غسل میں عورت کن باتوں کا خاص اہتما م کرے ؟

جواب : فرض غسل میں عورت درج ذیل باتوں کا خاص اہتمام کرے ۔

1۔ غسل طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے اور استنجاء کرے پھر بدن پر کسی جگہ نجاست لگی ہو۔ اسے دھوڈالے ۔ پھر وضو کر لے ۔
2۔ غسل میں تین چیزیں فرض ہیں ۔ 1۔کلی کرنا 2۔ناک میں پانی ڈالنا 3، پورے بدن پر پانی بہانا

3۔ بیٹھ کر نہائیں اس میں پردہ زیادہ ہے ۔

4۔ اگر سر کے بال کھلے ہوں تو سب بالوں کو بھگونا اور جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے ایک بال بھی سوکھا رہ گیا تو غسل نہ ہوگا۔

5۔ نتھ ،بالیوں ، انگوٹھی ۔ اور چھلوں کو تنگ ہونے کی صورت میں خوب ہلائیں تاکہ پانی سوراخوں میں پہنچ جائے ۔

6۔اگر بالیاں نہ پہنی ہوں تو احتیاطا سوراخوں میں

پانی ڈال لے ۔
7۔اگر بالوں میں گوند افشان لگی ہو تو دھو ڈالے کیونکہ بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچانا واجب ہے ورنہ غسل نہ ہوگا ۔

8۔اگر ناخن وغیرہ میں آٹا لگ کر سوکھ گیا تو پہلے صاف کرے ورنہ غسل نہ ہوگا ۔

9۔اگر ناخنوں میں نیل پالش لگی ہو تو صاف کرے کیونکہ یہ بدن تک پانی بیچنے نہیں دیتی ۔ورنہ غسل نہ ہوگا۔

“ولو کان شعرۃ المراۃ منقوضا یجب ایصال الماء الی ٰ اثناء ہ ۔” ( ھندیہ :1/ 14) (دارالافتاء جامعہ حفیظ

میرا شوہر بہت نیک ہے لیکن میرا حق زوجیت ادا نہیں کرتا

سیدنا عمرؓ کے پاس کعب اسدی تشریف فرما تھے، ایک خاتون آئی اورآ کر کہنے لگی: امیر المومنین! میرا خاوند بہت نیک ہے، ساری رات تہجد پڑھتا رہتا ہے، اور سارا دن روزہ رکھتا ہے،اور یہ کہہ کر خاموش ہو گئی، عمرؓ بڑے حیران کہ خاتون کیا کہنے آئی ہے؟ اس نے پھر یہی بات دہرائی کہ میرا خاوند بہت نیک ہے، ساری رات تہجد میں گزار دیتا ہے اور سارا دن روزہ رکھتا ہے،اس پر کعبؒ بولے:

اے امیرالمومنین! اس نے اپنے خاوند کی بڑے اچھے انداز میں شکایت کی ہے، کیسے شکایت کی؟امیرالمومنین! جب وہ ساری رات تہجد پڑھتا رہے گا اور سارا دن روزہ رکھے گا تو پھر بیوی کو وقت کب دے گا؟ تو کہنے آئی ہے کہ میرا خاوند نیک تو ہےمگر مجھے وقت نہیں دیتا۔ چنانچہ عمرؓ نے ا

س کے خاوند کو بلایا تو اس نے کہا: ہاں میں مجاہدہ کرتا ہوں، یہ کرتا ہوں، وہ کرتا ہوں، حضرت عمرؓ نے حضرت کعبؓ سے کہا کہ آپ فیصلہ کریں، حضرت کعبؓ نے ان صاحب سے کہا کہ دیکھو! شرعاً تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزارو، ہنسی خوشی اس کے ساتھ رہو اور کم از کم ہر تین دن کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرو، خیر وہ میاں بیوی تو چلے گئے، تو عمرؓ نے ابی بن کعب سے پوچھا: آپ نے یہ شرط کیوں لگائی کہ ہر تین دن کے بعد بیوی سے ملاپ کرو؟-

انہوں نے کہا: دیکھیں! اللہ رب العزت نے مرد کو زیادہ سے زیادہ چار شادیوں کی اجازت دی، چنانچہ اگر چار شادیاں بھی کسی کی ہوں تو تین دن کے بعد پھر بیوی کا نمبر آتا ہے، تو میں نے اس سے کہا کہ تم زیادہ سے زیادہ تین دن عبادت کر سکتے ہو تین دن کے بعد ایک دن رات تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہیں گزارنا پڑے گا، تو دیکھو شریعت انسان کو کیا خوبصورت باتیں بتاتی ہے

ایک ہندو نوجوان نے مسلمان کی قبر میں سی سی ٹی

 انسانی زندگی میں روز ایسے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ عقل چکرا کر رہ جاتی ہے ۔عقل انسانی سے بالاتر واقعات کو کچھ لوگ معجزہ سمجھتے ہیں اور کچھ محض ایک عام سا واقعہ جس کے پیچھے کوئی بات پوشیدہ ہو سکتی ہے ۔ ایسا ہی ایک انسانی عقل کو دنگ کر دینے والا واقعہ بھارت کی ریاست کیرالہ میں پیش آیاجہاں چند ہندو نوجوانوں نے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہوئے بعد از مرگ قبر کے حالات اور قبر کا مشاہدہ کرنے کے لیے مسلمانوں کے مقامی قبرستان میں ایک مردے کی قبر میں سی سی

ٹی وی کیمرہ لگا دیا۔ بھارتی ویب سائٹ کے مطابق دو نوجوانوں راحول اور وجندالی نے مسلمان گورکن کو ساتھ ملا کر چپکے سے ایک قبر میں کیمرہ فٹ کرکے انڈر گراؤنڈ وائرنگ کی اور گورکن کو ہدایت کی کہ کوئی بھی نیا مردہ اسی قبر میں دفن کیا جائے۔ اسی اثنامیں ایک میت کی اطلاع آئی اور حسب وعدہ گورکن نے مردہ اسی قبر میں دفنا دیا۔ دونوں نوجوانوں نے مردہ دفن ہونے کے ایک گھنٹے بعد سی سی ٹی وی کیمرہ دیکھنے کے لیے مانیٹر آن کیا تو مانیٹر ایک خوفناک دھماکے سے پھٹ گیا جس سے دونوں نوجوان بری طرح جھلس گئے ہیں اور انتہائی خطرناک حالت میں ہسپتال داخل ہیں، ڈاکٹرز نے ان کے بچنے کے بہت کم چانسز بتائے ہیں۔(یہ خبر ایک بھارتی ویب سائٹ سے لی گئی ہے جس کی تصدیق کی بابت ابھی کچھ بھی کہنا دشوار ہوگا تاہم ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کیلئے یہ خبر پیش کر رہے ہیں )

اسلام اور انسانی زندگی میں رہنمائی

میاں بیوی کی حقیقت اسلام میں ایک دوسرے کے لباس کی طرح بیان کی گئی ہے ۔ان دونوں کے تعلق کے بہت سارے پہلوؤں میں سے سب سے اہم پہلو ان کا جنسی تعلق ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے شادی کے موقعے پر اس بارے مین رہنمائی مفقود نظر آتی ہے ۔شرم و حیا کے سبب کوئی بھی بزرگ نوبیاہتا

جوڑے کو اس حوالے سے کسی بھی رہنمائی سے گریز کرتا ہے ۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شادی شدہ جوڑے کی جنسی زندگی آغاز ہی سے مخمصے کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اللہ تعالی نے عورت کو مرد کی کھیتی قرار دیا ہے ۔اور اس سے حاصل ہونے والی لزت کو جنت کی لزتوں میں سے ایک قرار دیا ہے ۔ساتھ ہی

فرمان الہی ہے کہ تم جیسے چاہو اپنی کھیتی میں جاؤ یعنی اس تعلق کے حوالے سے آزادی بھی فراہم کر دی مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ شرعی حدود و عیود کا بھی تعین کر دیا جس کا جاننا میاں بیوی کے لیۓ ضروری ہے ۔

مباشرت کے عمل سے قبل باوضو ہو کر بسم اللہ پڑھنا ایک ایسا عمل ہے کہ اس سے شیطان اس عمل سے قبل میاں بیوی کے درمیان سے رخصت ہو جاتا ہے ۔اگر بسم اللہ نہ پڑھی جاۓ تو میاں بیوی کی قربت کے اس عمل میں شیطان ایک تیسرے فریق کی صورت ان دونوں کے درمیان موجود رہتا ہے ۔

قرآن نے عورت کو مرد کی کھیتی اس لیے قرار دیا ہے کہ مباشرت کا یہ عمل نئی نسل کی پیدائش کا وسیلہ ہوتا ہے لہذا اس موقع پر احکام خداوندی کو مد نظر رہنا مقصود ہونا چاہیۓ تاکہ پیدا ہونے والی نسل بہترین انسان کی صورت میں پیدا ہو اسی سبب جماع کے وقت گفتگو سے منع فرمایا گیا ہے

کیونکہ اگر اس دوران بات چیت کی جاۓ تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کے توتلے ہونے کے امکانات ہوتے ہیں ۔ اسی طرح جماع کے وقت شرم گاہ کو دیکھنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے

کیوںکہ اس صورت میں پیدا ہونے والے بچے کے پیدائشی اندھے ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اسی طرح اگرچے عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے مگر ایک

دوسرے کے سامنے مکمل برہنہ ہونے سے بھی اجتناب برتنے کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔برہنگی کی حالت میں مباشرت کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والا بچہ بھی بے حیا ہو گا ۔ احکام الہی کی بجا آوری ہم سب پر واجب ہ

ے

اور جب معاملہ اگلی نسل کی پیدائش کا ہو تو اس کی نزاکت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔لہذا اس بات کا اہتمام لازمی کرنا چاہیۓ کہ اس بارے میں تعلیم عام کی جاۓ ۔اور میاں بیوی کو اس امر سے آگاہ کیا جاۓ کہ مباشرت کے عمل کے قواعد و ضوابط کیا ہیں

ایسی غلطی جو ہر مرد اپنی بیوی ساتھ کر رہا ہے

ایسی غلطی جو ہر مرد اپنی بیوی ساتھ کر رہا ہے جس سےبلڈ پریشر، دل اور دیگر بیماریاں پیدا ہوتی ہے ایک ایسی غلطی جو ہر مرد اپنی بیوی ساتھ کر رہا ہے جس سےبلڈ پریشر، دل اور دیگر بیماریاں پیدا ہوتی ہے قوت مردانہ میں کمی واقع نہ ہواور جب بھی جماع کیا جائے اس سے حقیقی لطف حاصل ہو حقیقی لطف حاصل ہونے سے مردکی جنسی قوت کمزور نہیں ہوتی اور عورت بھی مطمئین اور خوش رہتی ہے ۔۔۔۔جاری ہے

طبی لحاظ 3سے 7 یوم بعد جماع کرنا چاہیے 3 دن سپرمز بنتے ھیں اور 4 دن بعد تحلیل ھوکر جسم کا حصہ بن جاتے ھیں کیونکہ دن میں.جاری ہے.دو بار یا روزانہ جماعکرنے سےچند ہی روزمیں شدید کمزوری سستی اور بلڈ پریشر کا لاحق ھوسکتا ھے اور اکثر جوڑوں کاپانی ختم ہو جاتا ہےجوانی میں گوڈے آواز کرنا شروع کر دیتے ہیں. اس نقصان کی کسی بھی صورت تلافی نہیں ہوسکتی خلاف ورزی کرتے رہنے سے آخرکو افسوس کرنا پڑتا ہے ذیادہ منی کا اخراج بار بار نہیں ہوسکتاکیونکہ یہ چیزانسانی جسم میں وافر مقدار میں نہیں بنتی طبی لحاظ 4سے 7 یوم بعد جماع کرنےسے جسم میں کسی قسم کی کمی یاں کمزوری نہیں ہوتی اورقدرتی حقیقی لطف حاصل ہوتا ہے تمام ذندگی تک مختلف امراض سے بچا جاسکتا ہے.جاری ہے. منی گاڑھی ہے یا پتلی ، تھوڑی ہے یا زیادہ اس کا رنگ کیسا ہے وغیرہ وغیرہ – ہر آدمی کی کے لحاظ سے اس کی منی میں بھی فرق ہوتا ہے-اس کا مردانہ قوّت کے ساتھ ہر گز کوئی تعلق نہیں ہوتا- سواے اولاد پیدا کرنے کے منی کا اور کوئی کام نہیں ہوتا منی کے ذریے صرف نطفہ یعنی سپرمز باھر آتے ہیں۔۔۔۔جاری ہے

جو مباشرت کے دوران عورت کے رحم میں جا داخل ہو کر حمل ٹھہراتے ہیں- اس کے علاوہ منی نطفہ کے لیے زندگی ہوتی ہے جس طرح انسانوں کے لیے ضروری ہوتی ہے- منی کو جوہر حیات کہا جاتا ہے یا منی کے ایک قطرے کو خون کی سو بوندوں کے برابر بھی کہا جاتا ہے جو کے سراسر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے- میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں اگر منی کا ایک قطرہ خون کی سو بوندوں کے برابر ہو تو ایک دن میں تین سے چار بار کرنے والا بندہ تو زندہ ہی نہ رہے- اس لیے یہ خیال بکل غلط ہے کہ منی کا ایک قطرہ خون کے سو قطروں کے برابر ہے-.جاری ہے. جو کچھ ہم کھاتے ہیں ہم کھاتے ہیں وہ ہمارے معدے میں جا کر ہضم ہوتا ہے خوراک کا کچھ حصّہ فالتو ہو کر نکل جاتا ہے۔۔۔۔جاری ہے

جب کے باقی کا حصّہ پہلے ایک جوس کی شکل اختیار کرتا ہے ، پھر اس سے خون بنتا ہے- خون پورے جسم میں سرکولیٹ کرتا ہے- پھر اس سے گوشت بنتا ہے پھر چربی بنتی ہے اس کے بعد ہڈی اور ہڈی کے بعد ہڈی کا گودا جو اس کے اندر ہوتا ہے وہ بنتا ہے اور سب سے آخر میں منی بنتی ہے- منی ایک لیس دار چیز ہوتی ہے جس میں ایک خاص قسم کی بو پائی جاتی ہے- اگر یہ کپڑے پر لگ جائے تو کپڑا اکر جاتا ہے – ایک بات کی مباشرت سے تقریبا بارہ گرام منی خارج ہوتی ہے- اور اس میں دو سو لاکھ ہوتے ہیں یہ اگر خورد بین بین سے دیکھے جاین تو سانپ کی شکل کے ہوتے ہیں.جاری ہے. اور حرکت کر رہے ہوتے ہیں ایک صحتمند آدمی کے سپرمز تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔۔۔۔جاری ہے

جب کے بیمار آدمی کے سپرمز آہستہ آہستہ حرکت کر رہے ہوتے ہیں اور یہ سب ہارمونز کی کمی بیشی یا خوراک کی کمی زیادتی کی وجہ سے ہو جاتا ہے اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ہے

وضواور پاگل خانے اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

انسانی دماغ سے نکلنے والی چھوٹی چھوٹی رگیں (نروز) پورے جسم میں پھیل جاتی ہیں اور مختلف اعضاء کو سگنل پہنچانے کا کام کرتی ہیں. یہ سب رگیں دماغ سے نکل کر گردن کے پیچھے سے ہوتی ہوئی ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے جسم کی مختلف جگہوں سے ملی ہوتی ہیں

گردن کے پیچھے کا حصہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے. اگر اس حصے کو خشک رکھا جائے تو رگیں کھنچے کی وجہ سے انسان کے دماغ پر اسکا اثر پڑتا ہے. کئی لوگ تو دماغی توازن کھو بیٹھتے ہیں. ڈاکٹر لوگ انہیں سمجھاتے ہیں کہ وہ گردن کے پچھلے حصے کو وقتًا فوقتًا تر کرتے رہیں. نمازی آدمی جب وضو کرتا ہے تو اسے یہ نعمت خود بخود مل جاتی ہے.ایک شخص فرانس کے ائیر پورٹ پر وضو کر رہا تھا تھا اس سے کسی نے پوچھا کہ نے پوچھا کہ آپ کس ملک سے تعلق رکھتے ہیں

اس نے کہا پاکستان سے. سائل نے پوچھا کہ پاکستان میں کتنے پاگل خانے ہیں. اس نے جواب دیا کہ مجھے تعداد کا پتہ نہیں ویسے چند ایک ہی ہوں گے. سائل نے اپنا تعارف کروایا کہ میں یہاں کے ایک پاگل خانے کے ہسپتال میں ڈاکٹر ہوں. میری پوری عمر اس تحقیق میں گزری ہے کہ لوگ پاگل کیوں ہوتے ہیں؟ میری تحقیق کے مطابق جہاں اور بہت ساری وجوہات ہیں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنی گردن کے پچھلے حصے کو خشک رکھتے ہیں. کچھاؤ کی وجہ سے رگوں پر اسکا اثر ہوتا ہے. جو لوگ اس جگہ کو وقتًا فوقتًا نمی پہنچاتے رہیں وہ پاگل ہونے سے بچ جاتے ہیں. میں نے دیکھا کہ آپ نے ہاتھ پاؤں دھونے کے ساتھ ساتھ گردن کے پیچھے کے حصے پر بھی گیلے ہاتھ پھیرے. نمازی نے بتایا کہ وضو کرتے وقت گردن کا مسح کیا جاتا ہے اور ہر نمازی دن میں پانچ مرتبہ گردن کا مسح کرتا ہے.

ڈاکٹر کہنے لگا کہ اسی لئے آپ کے ملک میں لوگ کم تعداد میں پاگل ہوتے ہیں. اللہ اکبر. ایک ڈاکٹر کی پوری زندگی کی تحقیق نبیﷺ‎ کے بتائے ہوئے ایک چھوٹے سے عمل پر آ کر ختم ہو گئی.

دودھ خالص ہے یا ملاوٹ شدہ ؟ اس آسان سے سے طریقے سے جانیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اشیائے خوردو نوش میں دودھ کو ایک مکمل غذا کہا جاتا ہے، جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے یکساں مفید ہے

، لیکن دودھ میں ملاوٹ اور پانی ملانے کی شکایات زبان زد عام ہے۔پاکستان میں ہر دوسرا گوالا دودھ میں پانی ملا کر بیچ رہا ہے کچھ ناعاقبت اندیش دودھ کو گاڑھا کرنے اور زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کیلئے اسی میں مضر صحت کیمیکلکا استعمال بھی کر رہے ہیں۔

جس سے انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ہم آپ کو آلائشوں سے پاک دودھ کا معیار چیک کرنے کے گھریلو طریقےبتاتے ہیں۔ دودھ کا خالص پن اس کے گاڑھے پن میں چھپا ہوتا ہے۔ خواتین بھی گھروں میں اکثر یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ آج تو دودھ بالکل پانی جیسا ہے یعنی یہ خالص نہیں۔

اس طریقہ میں آپ ایک ڈراپر کے ذریعے دودھ کا ایک قطرہ لے کر گھر میں ایسے ستون سے نیچے ٹپکائیں جو ماربل کا بنا ہوا ہو ، اگر تو دودھ خالص ہوا تو قطرہ فوری طور پر نہیں بہے گا۔ بازار یا گوالے سے خریدے ہوئے دودھ کا معیار چیک کرنے اور اسے دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے۔کہ فوری طور پر دودھ کو گرم کر لیں۔

دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر جمنے والی ملائی سے اس کے خالص پن کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر باقی رہ جانے والا ملائی میں تیل محسوس ہو تو مطلب دودھ خالص ہے ، اگر یہ خشک محسوس ہو تو دودھ میں ملاوٹ ہے ۔

یہاں ہم ایک سائنسی طریقہ بھی قارئین کی سہولت کےلئے پیش کر رہے ہیں جسے وہ با آسانی گھر میں اختیار کر کے دودھ میں ہونے والی ملاوٹ کا پتہ چلا سکتے ہیں،اس طریقہ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی موجودگی جانی جاتی ہے۔ تھوڑا سا دودھ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالیں اور پھر پیرافینلین ڈیامین نامی مادہ کے چند قطرےدودھ میں ڈال کراسے اچھی طرح ہلائیں، اگر دودھ کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ موجود ہے۔اور دودھ خالص نہیں۔

اس طریقہ کار کے لئے آپ کو میڈیکل سٹور سے ایک عدد ٹیسٹ ٹیوب اور پیرافینلین ڈیامین بھی خریدنا ہوگی .لیموں کارس: دودھ کو گرم کرنے کے بعد آدھا لیموں کا رس اس میں نچوڑ دیں، پھر چولہے پر موجود پتیلی میںچمچ ہلائیں اگر تو یہ دودھ اچھی دہی میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ خالص ہے ، اگر یہ ‘جیلی ‘ کی طرح کا مادہ بن جائے تو مطلب دودھ خالص نہیں۔