تربوز کی طرح لٹکا ہوا پیٹ

اگر آپ مختلف نسخوں اور ڈاکٹروں کے پاس جا جاکر تھک گئے ہیں اور آپ کا پیٹ کم نہیں ہو رہا توآج ہم آپ کو ایک ایسا آزمودہ نسخہ بتانے جارہے ہیں جس سے آپکا بڑھا ہوا پیٹ چند دنوں میں اندر چلا جائے گا۔صرف تین سے چار چیزوں سے جو آپ کے گھر میں موجود ہیں ان سے آپ یہ نسخہ بنا سکتے ہیں۔یہ ٹوٹکہ بنانے کے لئے ہمیں سب سے پہلے چاہئے ۔

اجزائ:

زیرہ 50گرام

سون 50 گرام

برگ سداب 50گرام

اجوائن 50 گرام

ترکیب استعمال:

ان تمام چیزوں کو بلینڈر میں ڈال کے ان کا اچھی طرح سے پاﺅڈر بنا لیں۔جب یہ پاﺅڈر بن جائے تو روزانہ صبح ناشتے سے پہلے آدھا چمچ یہ پاﺅڈر ایک گلاس پانی کے ساتھ پی لینی ہے۔اور پھر رات کو کھانا کھانے سے آدھا گھنٹا پہلے یہی آدھا چمچ اور ایک گلاس پانی کے ساتھ کھانی ہے۔ایک
ماہ تک اس کا استعمال اور انشا ءاللہ آپ کا جو بڑھا ہوا پیٹ ہے ختم ہوجائے گا۔

سردیوں کا خاص تحفہ مونگ پھلی

روزانہ گری دار میوہ جیسے مونگ پھلی اور پستہ کو اپنی خوراک کا حصہ بنانے سے آپ کی دماغی فریکوئنسی مضبوط ہوتی ہے جس کا تعلق سیکھنے،شفایابی، یاداشت اور کوگنیشن سے منسلک ہے،اس کے علاوہ یہ غذا آپ کو دماغی طور پر چست ا بھی بنادیتی ہے۔ گری دار میوے دل کو محفوظ ،کینسر سے لڑنے ، سوجن کو ختم کرنے اور عمر بڑھنے والے عمل کو کم کرنے میں اہم کردارادا کرتے ہیں۔ مطالعے کے مطابق ، روزانہ 6 الگ قسم کے گری دار میوے جیسے بادام ، کاجو، مونگ پھلی، اخروٹ، پستہ اور بیکن کو کھانے سےانسان میں پیدا ہونے والے اثرات کو ٹیسٹ کیا گیا۔

گری دار میوے کھانے والے حضرات پر الیکٹرواینس فالوگرامز(ای ای جی) کا تجربہ کیا گیا تاکہ ان کی دماغی فریکوئنسی معلوم کی جاسکے۔ایف اے ایس ای بی جرنل میں شائع ہونے والے مطالعے سے یہ پتا لگا کہ پستوں نے دماغ میں سب سے زیادہ گاما ویوبنائی جو کہ عمل، معلومات، سیکھنے، یاد رکھنے کا عمل اور سوتے وقت آنکھوں میں حرکت پیدا ہونے کے عمل کیلئے بے حد ضروری ہے۔دوسری جانب مونگ پھلی نے دماغ میں سب سے زیادہ ڈیلٹا ویو بنائی جو صحت مند قوت مدافعت، قدرتی شفا یابی، گہری نیند کے عمل سے منسلک ہے۔ وارسٹی کے ایسوسیٹ ڈین اور تفتیش کار لی بارک کا کہنا ہے کہ’اس تجربہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گری دار میوے جتنا آپ کے جسم کیلئے فائدہ مند ہے اتنا ہی دماغ کیلئے بھی فائدہ مند ہیں’تمام گری دار میوےفائدہ دینے والےاینٹی آکسیڈنٹ سے مالا مال ہیں جبکہ اخروٹ میں سب سے زیادہ اینٹی آکسیڈنٹ کی مقدار پائی جاتی ہے۔

ہمبستری کرنے پر شوہروں کو نبی کریم ﷺ کی ہدایت

قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے حیا نہیں کرتے احدیث میں بعض ایسے مسائل رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے ہے جو بظاہر حیاح کے خلاف ہے مگر اس لیے بیان کہ کے اگر آپﷺ بیان نہ کرتے تو لوگ اُن بے شرمی کے کاموں میں مبتلا ہوجاتے اسی وجہ سے آج کل ہمارے معاشرے میں ایک گناہ جس میں لوگ مبتلا ہے اور وہ ہے حیاح کے خلاف مگر ہے بہرحال شریعت کا مسعلہ اور لوگ اس میں مبتلا بھی ہے اس لیے بتانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ لوگ شادی کے بعد بھی آج کی نوجوان نسل زوجہ سے یعنی بیوی سے غیر فطری طریقے سے ہمبستری کرتے ہے انٹرنیٹ پر بے

ہودہ فلمیں دیکھتے ہے تو جو چیز انگریزوں کی دیکھ رہے ہیں کہ اُنکا کلچر آہستہ آہستہ میڈیاں کے زریعے ہماری اندر بھی آ رہا ہے اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت فرمائی ایک روایت میں ہے کہ اللہ اُس کی طرف دیکھے گا نہیں کہ جو اپنی زوجہ یعنی بیوی سے پچلے راستے سے ہمبستری کریگا یہ بیماری بھی یہ گندگی بھی بڑتھی جارہی ہے خاص طور پہ جنکو لڑکوں سے بدفعلی کی عادت پڑھ جائے تو وہ اپنی زوجہ سے فطری راستے سے ہمبستری نہیں کرتے اللہ نے فرمایا کہ “تمھاری زوجات بیویاں ہے یہ نسل بڑھانے کیلئے
تو اُسی راستے میں انسان اپنی خواہش کو پوری کرسکتا ہے جس راستے سے نسل بڑھتی ہے اُسکے علاوہ کسی اور راستے سے اپنی خواہش کو
پورا کرنا یہ حرام ہے گناہ کبیرہ ہے گندگی ہ

انجیر کو بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملا کر کیا فائدہ ہے؟

انجیر کو جنت کا پھل کہا گیا ہے، انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں ہوتا ہے، انجیر کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لیے بیش بہا مفید ہے یہ جسم کو فربہ اور چہرے کو سرخ و سپید بناتا ہے۔ انجیر دوسرے پھلوں کی نسبت ایک نازک پھل ہے اور پکنے کے بعد خود بہ خود ہی گر جاتا ہے اور اسے دوسرے دن تک محفوظ کرنا بھی ممکن نہیں رہتا۔ اگر انجیر کو فریج میں رکھا جائے تو یہ شام تک پھٹ جاتا ہے، اسے استعمال کرنے کے لیے خشک کرنا پڑتا ہے، انجیرکو خشک کرنے کے لیے سب سے پہلے اسے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے تاکہ یہ جراثیم سے پاک ہو جائے اور آخر میں نمک کے پانی میں ڈبوتے ہیں تاکہ سوکھنے کے بعد نرم و ملائم انجیر کھانے میں خوش ذائقہ ہو جائے۔

عرب ممالک میں انجیر کو بہت پسند کیا جاتا ہے، انجیر ہمارے ہاں بھی دستیاب ہے۔ انجیر کے اندر پروٹین، معدنی اجزاء شکر، کیلشیم، فاسفورس پائے جاتے ہیں، دونوں انجیر یعنی خشک اور تر میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس میں وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں، ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے اس لیے عام کمزوری اور بخار میں اس کا استعمال انتہائی مفید ہے، انجیر کو بطور میوہ بھی کھایا جاتا ہے اور بطور دوا بھی استعمال کیا جاتاہے، یہ قابل ہضم ہے اور قبض کو دور کرتا ہے۔ انجیر جگر اور تلی کے سدوں کو کھولتا ہے، انجیر کی بہترین قسم سفید ہے، یہ پھل گردہ اور مثانہ سے پتھری کو تحلیل کرکے نکال دیتا ہے، زہر کے مضر اثرات سے بچاتا ہے، انجیر کو مغز بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملا کر استعمال کریں تو یہ خطرناک زہروں سے محفوظ رکھتا ہے اگر بخار کی حالت میں مریض کا منہ بار بار خشک ہو جاتا ہو تو اس کا گودہ منہ میں رکھنے سے افاقہ ہوتا ہے۔ انجیر کھانے کے بے شمار فائدے ہیں، انجیر کو پانی میں بھگو کر چند گھنٹے بعد پھول جانے پر دن میں دو بار کھائیں، دائمی قبض دور ہو جائے گی، اس کے علاوہ خشک انجیر کو رات بھر پانی میں رکھ دیا جائے تو وہ تازہ انجیر کی طرح پھول جائے گا اسے کھانے سے گلہ بیٹھ جانا یا بند ہوجانے کے امراض پیدا نہیں ہوتے، سردی کے ایام میں بچوں کو خشک انجیردی جائے تو ان کی نشوونما کے لیے بے حد مفید ہے اس کے علاوہ انجیرکم وزن والوں اور دماغی کام کرنے والوں کے لیے بے حد مفید ہے۔ انجیر کھانے سے آدمی قولنج جیسے مرض سے محفوظ رہتا ہے۔

کھانسی، دمہ اور بلغم کے لیے انتہائی مفید ہے، انجیر کا باقاعدہ استعمال سر کے بالوں کو دراز کرتا ہے، انجیر کو سرکہ میں ڈال کر رکھ دیں،ایک ہفتہ بعد دو تین انجیرکھانے کے بعد کھانے سے تلی کے ورم کو آرام آ جاتا ہے۔ جن لوگوں کو پسینہ نہ آتا ہو، ان کے لیے انجیر کا استعمال مفید ہے، جن لوگوں کو ضعف دماغ کی شکایت ہو، وہ اس طرح ناشتہ کریں کہ پہلے تین چار انجیر کھائیں، پھر سات دانے بادام، ایک اخروٹ کا مغز، ایک چھوٹی الائچی کے دانے پیس کر پانی میں چینی ملا کر پی لیں، دماغ کی کمزوری سے نجات مل جائے گی۔ بواسیر کی مرض میں بھی انجیر انتہائی مفید ہے یہ ایسا پھل ہے کہ پرانی سے پرانی بواسیر کو ختم کر دیتا ہے۔

نشے سے نجات کا روحانی علاج

نشہ موجودہ دور کی ایسی لعنت ہے جس نے گھروں کو اجاڑ کر رکھ دیا اور خوبصورت انسانوں کی جوانیاں اور رعنائیاں کھا گیا ہے۔نشہ سگریٹ ،شراب،ہیروئن یا دولت کا ہی کیوں نہ ہو اس سے جتنی جلد نجات مل جائے اچھی بات ہوگی۔ 

بہت سے لوگ نشہ سے جان چھڑوانے کے لئے اپنا علاج بھی کراتے ہیں لیکن قوت فیصلہ کمزور ہونے سے وہ کامیاب نہیں ہوتے،ان کا دل اور دماغ نشہ کا محتاج ہوچکا ہوتا ہے۔ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ ’’یا قابض ‘‘ کو روازنہ اکیالیس سو بار پڑھنا معمول بنا لیں ،پانی پر اسکا دم کرکے بھی پئیں تو ان کے اندر غیر معمولی قوت ارادی پیدا ہوجاتی اور تطہیر کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔خلوص نیت سے باوضو ہوکر اکیالیس روز تک پڑھیں۔نشہ کے عادی خود نہ پڑھ سکیں۔

تو جس دوران وہ ترک نشہ ادویات استعمال کررہے ہوں انہیں کوئی بھی عزیز یہ پانی دم کرکے پلاتے رہا کریں۔یاقابض کے اسقدر روحانی اثرات ہیں کہ بیاں ختم ہوجاتا ہے مگر اسکی خصوصیات احاطہ قلم میں نہیں لائی جاسکتیں۔یا قابض کا ورد کرنے والوں کے اندر سے خوف ختم ہوجاتا۔ 

اور جو لوگ ان کا برا چاہتے ہیں ،وہ خود اس ذاکر سے خوف کھانے لگتے ہیں۔یہ جلالی اسم مبارکہ ہے اس لئے با وضو ہوکر اور درود پاک اول و آخر گیارہ گیارہ بار لازمی پڑھیں ۔

کالے جادو کا اثر ختم

لوگ جگہ جگہ عاملین اور مختلف بابوں کے پاس دھکے کھاتے پھرتے ہیں کہ ہمارے گھر پر جادو ہے یا جنات کا اثر ہے۔ ہماری زندگی میں صرف ویرانی اور پریشانی ہے۔اولاد کی نافرمانی‘ چڑچڑاپن‘ ڈھٹائی ضد‘ اور غصہ پھر مارکٹائی نے اور زیادہ جلتی پر تیل کا کام کیا‘ لوگ ہر دس دن بعد عامل تو بدلتے ہیں وظیفے تو تبدیل کرتے ہیںلیکن اپنے آپ کو بدلنے کا کبھی خیال نہیںکرتے ۔

کیا کبھی سوچا میرا رزق کیسا‘ میرے گھر کاماحول کیسا۔مائیں یہ نہیں دیکھتیں کہ میں سارا دن ٹی وی کے سامنے بیٹھ کرکیا دیکھتی ہوں‘ کونسی موسیقی سنتی ہوں‘ جو میں دیکھتی اورسنتی ہوں میرا معصوم بچہ یا بچی بھی دیکھ رہی ہوتی ہے‘ وہ معصوم ہے لیکن اس کے اندر بھی ا حساسات کا موجیں اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جس کی سمجھ والدین کو اس وقت آتی ہے جب وہ نافرمانی کی شکل میں اظہار کرتا ہے۔

ہماری زندگی کے عادات و اطوار میں کیوں نہ جناتی چیزیں آئیں جس گھرسے حفاظت والے اعمال چلے جائیں گے تو شریر جنات کیلئے ایسے گھر میں داخل ہونا اور ہر قسم کی عیاشی کرنا‘ گھر تباہ کرنا‘ عورتوں کو چھیڑنا‘ معاشی پریشانیوں میں گھر والوں کو مبتلا کرنا‘ بیماریوں میںمبتلا کرنا بالکل آسان ہوجاتا ہے۔آئیے حفاظت والے اعمال کی طرف آئیے اور جادو جنات، بیماریوں، معاشی پریشانیوں سے نجات پائیں۔

جنات کی نظربد اور خواتین کے چہرے پردانے: جو خواتین بے پردگی اختیار کرتی ہیں اور گھر یا باہر چہرے کو نہیں ڈھانپتی اکثر ان کے چہروں پر دانوں کی بھرمار ہوجاتی ہے۔ یا ان کے چہرے کی جلد خراب ہوجاتی ہے۔ جگہ جگہ سے علاج معالجہ کے باوجود آرام نہیں آتا۔ بالآخر وہ روحانی علاج کروائیں تو انہیں صحت ملتی ہے۔ یہ سب جنات کی نظر بد کا شاخسانہ ہے۔ لہٰذا جنات کی نظربد سے بچنے کیلئے پردہ کا اہتمام ضرور کریں۔

عض لوگ جگہ جگہ عاملین اور مختلف بابوں کے پاس دھکے کھاتے پھرتے ہیں کہ ہمارے گھر پر جادو ہے یا جنات کا اثر ہے۔ ہماری زندگی میں صرف ویرانی اور پریشانی ہے۔اولاد کی نافرمانی‘ چڑچڑاپن‘ ڈھٹائی ضد‘ اور غصہ پھر مارکٹائی نے اور زیادہ جلتی پر تیل کا کام کیا‘ لوگ ہر دس دن بعد عامل تو بدلتے ہیں وظیفے تو تبدیل کرتے ہیںلیکن اپنے آپ کو بدلنے کا کبھی خیال نہیںکرتے ۔

کیا کبھی سوچا میرا رزق کیسا‘ میرے گھر کاماحول کیسا۔مائیں یہ نہیں دیکھتیں کہ میں سارا دن ٹی وی کے سامنے بیٹھ کرکیا دیکھتی ہوں‘ کونسی موسیقی سنتی ہوں‘ جو میں دیکھتی اورسنتی ہوں میرا معصوم بچہ یا بچی بھی دیکھ رہی ہوتی ہے‘ وہ معصوم ہے لیکن اس کے اندر بھی ا حساسات کا موجیں اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جس کی سمجھ والدین کو اس وقت آتی ہے جب وہ نافرمانی کی شکل میں اظہار کرتا ہے۔

ہماری زندگی کے عادات و اطوار میں کیوں نہ جناتی چیزیں آئیں جس گھرسے حفاظت والے اعمال چلے جائیں گے تو شریر جنات کیلئے ایسے گھر میں داخل ہونا اور ہر قسم کی عیاشی کرنا‘ گھر تباہ کرنا‘ عورتوں کو چھیڑنا‘ معاشی پریشانیوں میں گھر والوں کو مبتلا کرنا‘ بیماریوں میںمبتلا کرنا بالکل آسان ہوجاتا ہے۔آئیے حفاظت والے اعمال کی طرف آئیے اور جادو جنات، بیماریوں، معاشی پریشانیوں سے نجات پائیں۔

جنات کی نظربد اور خواتین کے چہرے پردانے: جو خواتین بے پردگی اختیار کرتی ہیں اور گھر یا باہر چہرے کو نہیں ڈھانپتی اکثر ان کے چہروں پر دانوں کی بھرمار ہوجاتی ہے۔ یا ان کے چہرے کی جلد خراب ہوجاتی ہے۔ جگہ جگہ سے علاج معالجہ کے باوجود آرام نہیں آتا۔ بالآخر وہ روحانی علاج کروائیں تو انہیں صحت ملتی ہے۔ یہ سب جنات کی نظر بد کا شاخسانہ ہے۔ لہٰذا جنات کی نظربد سے بچنے کیلئے پردہ کا اہتمام ضرور کری

الاول کا وظیفہ نماز فجر کے بعد

جس انسان کی جو بھی جائز ھاجب ہو دلی مراد اور وہ یہ چاہتا ہو کہ اسکی حاجت پوری ہو جائے اسکا ہر مقصد پورا ہو اسکو چاہئے کہ وہ روزانہ نماز فجر ادا کرے اور نماز فجر کے بعد اللہ پاک کا یہ اسم مبارک 100 مرتبہ پڑھے اور پھر اللہ پاک سے دعا بھی کرے انشاءاللہ ہر جائز حاجت پوری ہوگی ہر دلی مراد برائے گئ (یا اولال جل جلا ہو) ایک شخص نے اپنی بیوی سے سخت دلی تکلیف اٹھائی جو اس کے کچھ دل و دماغ پہ چوٹ لگا گئی اور اسے اجتماعی طور پر عورت کے وجود سے نفرت ہوگئی۔ وہ اپنے نومولود بیٹے کو لے کر آبادی سے دور جنگل میں لے گیا ، اور وہاں ایک کٹیا بنالی اور اپنے ساتھ قسم کھالی کہ میں اپنے بیٹے کو عورت کی شکل تک دیکھنے نہیں دونگا۔بیس برس بیت گئے ، ایک دن اس کا بیٹا جنگل میں شکار کررہا تھا کہ وہاں سے کچھ لڑکیوں کا قافلہ گزرا ، لڑکا انہیں مسلسل دیکھ رہا تھا کہ باپ نے۔

باپ نے اس کا بازو جھٹکتے ہوئے کہا کہ چلو گھر چلتے ہیں ، جب بیٹے نے بہت پوچھا کہ وہ کون سی مخلوق تھی جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ، تو باپ نے تنگ آکر اسے کہا کہ وہ دوسرے جنگل کا ایک جانور ہے جسے شتر مرغ کہتے ہیں۔رات ہوئی تو نوجوان بیٹا کروٹیں بدلنے لگا ، کبھی چھت کو دیکھے کبھی باہر جائے ، رات کے آخری پہر باپ نے تنگ آکر پوچھا کہ سوتے کیوں نہیں ہو ، کیا وجہ ہے۔بیٹے نے آنکھیں جھکاتے ہوئے جواب دیا کہ ” ابا مجھے وہ شتر مرغ چاہیئے “کہنے کا مقصد یہ کہ انسانی فطرت کو بدلہ نہیں جاسکتا ، فطری خواہشات فطرت کے اصولوں کے مطابق جنم لیتی ہیں ،انٹڑ نیٹ کے اس دور میں مرد عورت کے تعلقات قائم ہونے کیلئے سیکنڈز بھی زیادہ ہوسکتے ہیں ، ہم زریعہ کوختم نہیں کرسکتے ، لیکن دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات کو آگہی ، منطقی تربیت اور پاک تبدیلی سے ضرور ختم کیا جاسکتا ہے۔پہاڑوں سے پگھلنے والی برف کا رخ دریاوں کی طرف نہ موڑا جائے تو فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے ، بچہ کو کوئلہ پکڑنے سے پہلے ہم اس کی تربیت کرتے ہیں کہ وہ اسے نقصان پہنچائے گا۔

مسلمانوں کا آج سب سے بڑا مسئلہ اپنی نوجوان نسل کے سامنے کھڑے ان کی ذہنی عمروں سے بڑے چیلنجز اور وقت کے تقاضوں کو نہ سمجھنا اور گھریلو تربیت کا فقدان ہے ، چونکہ بقیہ ادیان تقریبا اعلانیہ اور غیر اعلانیہ الحاد کو اختیار کرچکے ہیں ، اگر مسلمانوں نے اسلام سے وابستہ رہ کر اپنی نسلوں کی تربیت کرنا ہے تو پھر فطری تقاضوں اور زمانہ حال کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کرنا ہوگی۔۔ تعلیم تربیت اور شعور یہ لازم و ملزوم ہیں ورنہ ہماری اجتماعی موت ہمارے در پہ کھڑی ہے۔

اللہ کا سچا

:میں نے قرآن میں نوے جگہوں پر پڑھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بندے کی تقدیر میں رزق لکھ دیا ہے اور اسے اس بات کی ضمانت دے دی ہے اور میں نے قرآن شریف میں صرف ایک مقام پر پڑھا کہ شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے۔ ہم نے سچے رب کا نوے مقامات پر کئے ہوئے وعدے پر تو شک کیا مگر جھوٹے شیطان کی صرف ایک مقام پر کہی ہوئی بات کو سچ جانا۔ ابن قیمؒ کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ پردے ہٹا کر بندے کو دکھا دے کہ وہ اپنے کہ وہ اپنے بندے کے معاملات سدھارنے کیلئے کیسی کیسی تدبیریں کرتا ہے اور وہ اپنے بندے کی مصلحتوں کی کیسی کیسی حفاظتیں کرتا ہے اور وہ کس طرح

اپنے بندے کیلئے اس کی ماں سے بھی زیادہ شفیق ہے تو کہیں جا کر بندے کا دل اللہ کی محبت سے سرشار ہوگا اور تب کہیں جا کر بندہ اپنا دل اللہ کیلئے قربان کرنے پر کمر بستہ ہوگا۔تو پھراگر تمہیں غموں نے تھکا دیا ہے تو کوئی غم نہ کریں ہو سکتا ہے اللہ تمہاری دعاؤں کی آواز سننے کا خواہاں ہو تو پھر اپنے سر کو سجدے میں رکھئے اور کہہ دیجئے اپنے رب سے اے میرے رب ”میرا دل بدل دے“۔

کلونجی میں ہر بیماری کا علاج

حضور اکرم ﷺکاارشاد ہے ”کلونجی استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری کیلئے شفا ہے۔“کلونجی ایک قسم کی گھاس کابیج ہے۔اس کا پودا سونف سے مشابہ، خودرو اور چالیس سینٹی میٹر بلند ہوتا ہے۔ پھول زردی مائل،بیجوں کا رنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا ہی بیج سمجھتے ہیں۔ کلونجی کے بیجوں کی شفائی تاثیر سات سال تک قائم رہتی ہے۔صحیح کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھیں تو اس پر چکنائی کے داغ دھبے لگ جاتے ہیں۔کلونجی کے بیج خوشبو دار اور ذائقے کے لئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ اچار اور چٹنی میں

پڑے ہوئے چھوٹے چھوٹے تکونے سیاہ بیج کلونجی ہی کے ہوتے ہیں جو اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتے ہیں۔یہ سریع الاثر یعنی بہت جلد اثر کرنے والے ہوتے ہیں۔ اطبائے قدیم کلونجی اور اس کے بیجوں کے استعمال سے خوف واقف تھے۔ تاریخ میں رومی ان کا استعمال کرتے تھے۔قدیم یونانی اور عرب حکماءنے کلونجی کو روم ہی سے حاصل کیا اور پھر یہ پوری دنیا میں کاشت اور استعمال ہونے لگی۔ کلونجی گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے۔کلونجی نظام ہضم کی اصلاح کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ وہ لوگ جن کو کھانے کے بعد پیٹ میں بھاری پن، گیس یا ریاح سے بھر جانے اور اپھارے کی شکایت محسوس ہوتی ہے وہ کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کے بعد استعمال کریں تو نہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدے کی اصلاح بھی ہوگی۔کلونجی کو سر کے کے ساتھ ملا کرکھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں جب تھوڑی سی سردی لگنے سے زکام ہونے لگتا ہے تو ایسی صورت میں کلونجی کو بھون کر باریک پیس لیں اور کپڑے کی پوٹلی بنا کر بار بار سونگھیں اس سے زکام دور ہو جاتا ہے۔اگر چھینکیں آرہی ہوں تو کلونجی بھون کر باریک پیس کر روغن زیتون میں ملا کر اس کے تین چار قطرے ناک میں ٹپکانے سے چھینکیں جاتی رہیں گی۔کلونجی پیشاب آور بھی ہے۔ اس کا جوشاندہ شہد میں ملا کر پینے سے گردے اور مثانے کی پتھری بھی خارج ہوجاتی ہے۔اگر دانتوں میں ٹھنڈا پانی لگنے کی شکایت ہو تو کلونجی کو سرکے میں جوش دے کر کلیاں کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔چہرے کی رنگت میں نکھار اور جلد صاف کرنے کے لئے کلونجی کو باریک پیس کر گھی میں ملا کر چہرے پر لیپ کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ ا گر روغن زیتون میں ملا کراستعمال کیا جائے تو او ر زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔آج کل نوجوان لڑکیوں میں کیل، دانوں اور مہاسوں کی شکایت عام ہیں۔ اس کے لئے کلونجی باریک پیس کر، سرکے میں ملا کر سونے سے پہلے چہرے پر لیپ کریں اور صبح دھولیا کریں۔ چند دنوں میں بڑے اچھے اثرات سامنے

آئیں گے اس طرح لیپ کرنے سے نہ صرف چہرے کی رنگت صاف و شفاف ہوگی اور مہاسے ختم ہوں گی بلکہ جلد میں نکھار بھی آجائے گا۔جلدی امراض میں کلونجی کا استعمال عام ہے۔ جلد پر زخم ہونے کی صورت میں کلونجی کو توے پر بھون کر روغن مہندی میں ملا کر لگانے سے نہ صرف زخم مندمل ہو جاتے ہیں بلکہ نشان دھبے بھی چلے جاتے ہیں۔ جن خواتین کو دودھ کم آنے کی شکایت ہو اور ان کا بچہ بھوکا رہ جاتا ہو وہ کلونجی کے چھ سات دانے صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل دودھ کے ساتھ استعمال کرلیا کریں۔ اس سے ان کے دودھ کی مقدارمیں اضافہ ہو جائے گا البتہ حاملہ خواتین کو کلونجی کا استعمال نہیں کرنا چاہئے وہ سونے کے پانی سے لکھےجانے کے قابل ہے۔ لینگ لینڈ صاحب نے کہا

رزق بڑھانے کا طریقہ

انسان کی زندگ میں اتار چھڑھاؤ آتا رہتا ہے اس کو کبھی خوشی ملتی ہے تو کبھی غم کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی اس کی صحت اچھی ہوتی ہے تو کبھی بیماریوں نے گھیر رکھا ہوتا ہے۔ کبھی وافر مقدار میں رزق ہوتا ہے پیسوں کی ریل پیل ہوتی ہے تو کبھی ایک وقت کے کھانے کو نہیں ہوتا کبھی وسائل تو کبھی مسائل ۔ یہ تمام چیزیں انسان کی زندگی کا حصہ ہے اور مرتے دم تک یہ چلتے رہتے ہیں لیکن اصل کمال تو یہ ہے کہ انسان ہر ھالت میں اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کی طرف سے کسی بھی بھیجی جانے والی حالت میں خوش رہے۔

انسان کو اللہ سے مانگنا چاہئے کیونکہ کسی بابے کے پاس کسی دربار پر کچھ نہیں ملتا جو ملتا ہے اللہ سے ملتا ہے اس لئے تنہائی میں اس کو یاد کرنا چاہئے اس کے آگے سر بسجود ہو کر اپنے مسائل پیش کرنے چاہئے تب جاکر اللہ بھی نوازتا ہے ۔ آج ہم آپ کو ایک ایسا وظیفہ بتانے جارہے ہیں جس کے پڑٖھنے سے رزق کی تنگی ختم ہو جائے گی بے روزگی نہیں رہے گی اور اگر کاروبار ہے تو اس میں ایسی برکت آئے گی کہ پھر سنبھالنے سے بھی نہیں سنبھلے گا ۔ یہ وظیفہ بس رات کو سونے سے پہلے کر لیا کریں اور پھر اس کے کمالات دیکھیں ۔ اس وظیفہ سے پہلے 3 بار درود شریف پڑھے اگر درود ابراہیمی ہو تو زیادہ بہتر ہے اس کے بعد یا مجیب یا وھاب 300 مرتبہ پڑھیں اور پھر درود شریف پڑھ لیں اس کے بعد اپنے حاجت کے لئے دعا کریں اور سو جائیں مال و دولت میں اضافے کیلئے یَاوَھَّابُ یَارَزَّاقُ کا وظیفہ بہت مؤثر ہے‘ اس لیے اضافہ کے خواہش مند شخص کو چاہیے کہ شام کی نماز کے بعد نوافل اوابین پڑھے ‘اس کے بعد دو رکعت نفل اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے پڑھے۔