بھلا کون بے قرار کی التجا قبول کرتاہے

ایک بہت ہی عجیب واقعہ حافظ ابن عساکرنے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ میں ایک خچر پر لوگوں کو دمشق سے زیدانی لے جایاکرتا تھا اور اسی کرایہ پر میری گذر بسر تھی ۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے خچر مجھ سے کرایہ پرلیا۔ میں نے اسے سوار کیا اور چلا ایک جگہ جہاں دو راستے تھے جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا اس راہ پر چلو ۔ میں نے کہا میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ سیدھی راہ یہی ہے۔ اس نے کہا نہیں میں پوری طرح واقف ہوں، یہ بہت راستہ ہے۔ میں اس کے کہنے پر اسی راہ پر چلا تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک لق ودق بیابان میں ہم پہنچ گئے ہیں جہاں کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ نہایت خطرناک جنگل ہے ہر طرف لاشیں پڑی ہوئی ہیں ۔ میں سہم گیا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا ذرا لگام تھام لو مجھے یہاں اترنا ہے میں نے لگام تھام لی وہ اترا اور اپنا تہبند اونچا کرکے کپڑے ٹھیک کرکے چھری نکال کر مجھ پر حملہ کیا۔

میں وہاں سے سرپٹ بھاگا لیکن اس نے میرا تعاقب کیا اور مجھے پکڑلیا میں اسے قسمیں دینے لگا لیکن اس نے خیال بھی نہ کیا۔ میں نے کہا اچھا یہ خچر اور کل سامان جو میرے پاس ہے تو لے لے اور مجھے چھوڑ دے اس نے کہا یہ تو میرا ہو ہی چکا لیکن میں تجھے زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا میں نے اسے اللہ کا خوف دلایا آخرت کے عذابوں کا ذکر کیا لیکن اس چیز نے بھی اس پر کوئی اثر نہ کیا اور وہ میرے قتل پر تلا رہا۔ اب میں مایوس ہوگیا اور مرنے کے لئے تیار ہوگیا اور اس سے منت سماجت کی کہ تم مجھے دو رکعت نماز ادا کرلینے دو ۔ اس نے کہا اچھا جلدی پڑھ لے ۔ میں نے نماز شروع کی لیکن اللہ کی قسم میری زبان سے قرآن کا ایک حرف نہیں نکلتا تھا ۔ یونہی ہاتھ باندھے دہشت زدہ کھڑا تھا اور جلدی مچا رہا تھا اسی وقت اتفاق سے یہ آیت میری زبان پر آگئی آیت اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ النمل27:62 ترجمہ: بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو یعنی اللہ ہی ہے جو بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو سنتا اور قبول کرتا ہے اور بےبسی بےکسی کو سختی اور مصیبت کو دور کر دیتا ہے

پس اس آیت کا زبان سے جاری ہونا تھا جو میں نے دیکھا کہ بیچوں بیچ جنگل میں سے ایک گھڑ سوار تیزی سے اپنا گھوڑا بھگائے نیزہ تانے ہماری طرف چلا آرہاہے اور بغیر کچھ کہے اس ڈاکو کے پیٹ میں اس نے اپنا نیزہ گھونپ دیا جو اس کے جگر کے آر پار ہوگیا اور وہ اسی وقت بےجان ہو کر گر پڑا۔ سوار نے باگ موڑی اور جانا چاہا لیکن میں اس کے قدموں سے لپٹ گیا اور کہنے لگا اللہ کے لئے یہ بتاؤ تم کون ہو؟ اس نے کہا میں اس کا بھیجا ہوا ہوں جو مجبوروں بےکسوں اور بےبسوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور مصیبت اور آفت کو ٹال دیتا ہے میں نے اللہ کا شکر کیا اور اپنا سامان اور خچر لے کر صحیح سالم واپس لوٹا۔

تفسیر ابن کثیر: سورة النمل، آیت 62

اسلام میں قسم کھانے کی کیا حیثیت ہے؟

عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ کے پاس عمر ؓ آئے تو وہ سواروں کی ایک جماعت کے ساتھ چل رہے تھےاور اپنے باپ دادا کی قسم کھا رہے تھے. حضور اکرمﷺ نے اسی وقت ان کو اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے منع فرما دیا۔ اور کہا کہ اگر قسم کھانی بھی ہے تو اللہ تعالیٰ کی کھائے ورنہ چپ رہے. حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور اکرمﷺ سے پوچھا کہ کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ چاہے ہم مر جائیں یہ زندہ رہیں؟ حضور اکرمﷺ نے جواب دیا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں‌۔

میری جان ہے بیشک تم دین حق پر ہو. چاہے زندہ رہو یہ مر جائو. تو حضرت عمر نے کہا کہ پھر ہم چھپ کر کیوں رہیں؟ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو نبیﷺ بنا کر بھیجا ہم باہرنکلیں گے! چنانچہ ہم نے حضور اکرمﷺ کو باہر نکلنے کے لیے کہا اور آپ کو دو صفوں میں لے لیا ایک صف میں میں اور دوسری صف میں‌حضرت حمزہ تھے اسی طرح ہم مسجد نبوی پہنچے تو ہم لوگوں‌کو دیکھ کر قریش نے کہا کہ ابھی ایک غم ختم نہیں‌ہوا کہ دوسرا سامنے آگیا. اسی دن سے اسلام کو غلبا نصیب ہوا اور لوگ مجھ کو فاروق کہنے لگے۔ اس لیے کہ میرے سبب سے اللہ نے حق اور باطل کو جدا کر دیا۔ مندرجہ بالا واقعہ پڑھ کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں اپنے باپ دادا یا اللہ تعالیٰ کی زات کے علاوہ کسی کی بھی قسم کھانے سے منع فرمایا گیا ہے۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر اور لائک کریں تاکہ یہ بات تمام مُسلمانوں تک پہنچ جائے اور وہ یہ غلطی سے بچ جائیں۔

اللہ ہم سب کو گناہوں سے بچائے آمین۔

سائنس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ پوچھ رہی ہے؟

مسلمانوں میں1400سال سے پہلے سے دراڑھی رکھنے کی خوبصورت روایت چلی آ رہی ہے اور اب پہلے دفعہ جدید مغربی سائنس نے بھی اسکے بے شمار فوائد کو تسلیم کر لیا ہے۔برطانیہ میں ڈاکٹر ایڈ ین مونٹی اور دیگر سائنسدانوں نے انسانی صحت پر داڑھی کے بے شمار مثبت اثرات دریافت کئے ہیں جن میں سے چند اہم کا ذکر درج ذیل ہے ۔1شیو کے دوران جلد پر زخم آنے سے فولی کلیٹس باربی نامی بیماری پیداہو جاتی ہے جس میں ایک بیکٹریا جلد میں انفیکشن پیداکرد یتا ہے ، داڑھی رکھنے سے یہ مصیبت قریب بھی نہیں آئی۔

-2داڑھی اور مونچھوں بال گردوغبار اور پولن زرات کو اپنی طرف کھینچ کرناک اور نظام تنفس میں جانے سے روکتے ہیں اور یوں الرجی سے تحفظ مل جاتاہے ۔-3چہرے کے گھنے بال جلد کو سورج کی الڑوائلٹ شعاعوں سے بچا کر جلد کے کینسر سے 90سے 95فیصد تک تحفظ فر اہم کردیتے ہیں ۔-4چہرے کی جلد پر دھوپ اور ماحولیاتی اثرات کی وجہ سےجھریاں پڑنے کا عمل شروع ہو جاتاہے جبکہ داڑی کی صورت میں جھریوں کا مسئلہ بہت ہی کم رہ جاتا ہے ۔-5شیو کرنے سے بال جلد کے اندر تک کٹ سکتے ہیں اور جب یہ دوبارہ بڑھتے ہیں تو ان میں سے کوئی جلد اندر ہی بڑھ کر دانوں اور کیل سہاسوں کا سبب بن جاتاہے ۔داڑھی اس مسئلہ سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔-6دمہ کی مشہور برطانوی ڈاکٹر ڈیبوراویڈل کہتی ہیں کہ داڑھی کے بال دمہ پیدا کرنے والے خطرناک جرثوموں سے پھیپڑوں کو بچاتے ہیں اور انسان کو دمہ جیسی فوزی بیماری سے تحفظ مل جاتاہے۔

مُرشد کے جوتے

کہتے ہیں کہ ایک دن ایک سید زادہ حضرت سید نظام الدین اولیاء کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی…… یاحضرت میں ایک غریب سید زادہ ہوں اور سر پر جوان بیٹیوں کا بوجھ ہے….سادات گھرانے کی نسبت ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ بھی نہیں لے سکتا… آپ میرے دینی بھائی ہیں اور سید بھی ہیں آپ میری کچھ مدد کر دیجیے…. آپ نے اس کو عزت و تکریم کے ساتھ بٹھایا اور خادم سے بلا کر کہا کہ آج کوئی نذر و نیاز آئی خانقاہ میں؟تو خادم نے عرض کی سیدی ابھی تک تو کوئی نہیں آئی لیکن ہی آئی میں آپ کو اطلاع کر دوں گا….آپ نے سید زادے کو تسلی دی اور کہا اللہ پہ بھروسہ کرے وہ دست غیب سے کوئی نہ کوئی انتظام فرما دے گا..مگر تین دن گزر گئے کوئی نیاز نہ آئی…. سید زادہ بھی مایوس ہوگیا کہ ایویں باتیں مشہور ہیں ان کے بارے میں یہاں تو کوئی مدد ہی نہیںہو سکی

میری. ایک دن اس نے اجازت طلب کی واپسی کی. حضرت محبوب الہیٰ کو بہت دکھ ہوا کہ مہمان خالی ہاتھ گھر سے جا رہا ہے…آپ نے اس کو چند پل کے لیئے روکا اور اندر سے اپنے نعلین لا کر دے دیئے اور کہا بھائی اس فقیر کے پاس تمھیں دینے کے لیئے اپنے ان جوتوں کے علاوہ کچھ نہیں…… وہ سید زادہ جوتے لیکر چل پڑا اور سوچنے لگا کہ ان پرانے بوسیدہ جوتوں کا کیا کروں گا…حضرت نے اچھا مذاق کیا ہے میرے ساتھ …دوسری طرف کی سنیئےسلطان محمد تغلق کسی جنگی مہم سے واپس آرہا تھا اور حضرت امیر خسرو جو حضرت نظامالدین اولیا ء کے خلیفہ بھی تھے سلطان کے ساتھ تھے اور چونکہ آپ ایک قابل قدر شاعر تھے اس لیے دربار لطانی میں اہمیت کے حامل تھے….. آپ نے سلطان کی شان میں قصیدہ کہا تو سلطان نے خوش ہو کر آپ کو سات لاکھ چیتل (سکہ رائج الوقت )سے نوازا۔اپنے واپسی کے سفر پر جب ابھی لشکر سلطانی دہلی سے باہر ہی تھا اور رات و پڑاؤ کیا گیا… تو اچانک امیر خسرو چلا اٹھے مجھے اپنے مرشد کی خوشبو آتی ہےمصاحب بولے امیر حضرت محبوب الہیٰ تو کیلوکھڑی میں ہیں جو دہلی سے کافی دور ہے تو آپ کو انکی خوشبو کیسے آ گئی؟؟ مگر امیر خسروبے قرار ہوکر باہر نکل پڑے اور خوشبو کا تعاقب کرتے کرتے ایک سرائے تک جا پہنچے جہاں ایک کمرے میں ایک شخص اپنے سر کے نیچے کچھ رکھ کر سویا ہوا تھا اور خوشبو وہاں سے آ رہی تھی آپ نے اس کو جگایا اور پوچھا تم حضرت نظام الدین کی خانقاہ سے آ رہے ہو کیا؟ تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بولا ہاںآپ نے اشتیاق سے پوچھا یسے ہیں میرے مرشد…..؟ وہ شخص بولا وہ تو ٹھیک ہیں اور میں ان کے پاس مدد کے لیے گیا تھا مگر اور کچھ تو دیا نہیں ہاں اپنے پرانے بوسیدہ

جوتے ضرور دیئے ہیں… یہ سنتے ہیں امیر خسرو کی حالت غیر ہو گئی اور کہنےلگے کہاں ہیں میرے مرشد کے نعلین ؟ تو اس نے ایک کپڑا کھول کر دکھا دیئے آپ نے ان کو پکڑا چوما اور اپنی آنکھوں سے لگایا اور کہنے لگے کیا تو ان کو بیچے گا… اس نے کہا امیر کیوں مذاق اڑاتے ہو.امیر خسرو بولے مذاق نہیں میرے پاس اس وقت سات لاکھ چیتل ہیں وہ لے لو مگر میرے مرشد کے نعلین مجھے دے دو… اگر چاہو تو دہلی چلو اتنی ہی رقم اور دے دوں گا تمھیں.. سات لاکھ چیتل کا سن کر وہ چکرا گیا اور بولا نہیں بس میرا تو چند ہزار سے گزارا ہو جائے گا….مگر امیر خسرو نے زبردستی اس کو سات لاکھ چیتل دیئے اور ساتھ میں سپاہی اور تحریر دے دی تا کہ کوئی اس پر شک نہ کرے.. اور پھر امیر خسرو اس حالت میں خانقاہ مرشد میں داخل ہوئے کہ جوتے اپنی دستار میں لپیٹ رکھے تھے اور سر پر رکھے بڑھے چلے آ رہے تھے اور زارو قطار رو رہے تھےحضرت نظام الدین اولیاء نے مسکراتے ہوئے پوچھا ،خسرو ہمارے لیئے کیا لائے ہو؟امیر نے جواب دیا سیدی آپ کے نعلین لایا ہوں…. کتنے میں خریدے؟ حضرت نظام الدین اولیاء نے استفسار کیا؟سات لاکھ چیتل امیر نے جوابا” عرض کیبہت ارزاں لائے ہو۔محبوب الہیٰ مسکراتے ہوئے بولےجی سیدی سات لاکھ چیتل تو بہت کم ہیں اگر وہ

سید زادہ میری جان بھی مانگتا تو جان دے کر نعلینِ مرشد حاصل کر لیتایہ تھی ان کی اپنے مرشد سے محبت اور حضرت نظام الدین اولیاء کا مقام معرفت جس کی وجہ سے ان کو محبوبِ الہیٰ کہا جاتا ہے…… دراصل یہ واقعہ میرے ذہن میں تب آیا جب میں نے یہ شعر پڑھا..جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاک حضور… تو پھر کہیں گے ہاں تاجدار ہم بھی ہیں… جب اولادِ رسول کے نعلین کی اتنی قیمت اور وقعت ہے… تو میرے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلینِ پاک کی کیا بات ہو گی.

یہ لذت وہی جان سکتا ہے جس نے آزمایا ہو

گاہک نے دکان میں داخل ہو کر دکاندار سے پوچھا: کیلوں کا کیا بھائو لگایا ہے؟ دکاندار نے جواب دیا: کیلے 12 درہم اور سیب 10 درہم۔اتنے میں ایک عورت بھی دکان میں داخل ہوئی اور کہا: مجھے ایک کیلو کیلے چاہئیں، کیا بھاو ہے؟ دکاندار نے کہا: کیلے 3 درہم اور سیب 2 درہم۔ عورت نے الحمد للہ پڑھا۔ دکان میں پہلے سے موجود گاہک نے کھا جانے والی غضبناک نظروں سے دکاندار کو دیکھا، اس سے پہلے کہ کچھ اول فول کہتا: دکاندار نے گاہک کو آنکھ مارتے ہوئے تھوڑا انتظار کرنے کو کہا۔عورت خریداری کر کے خوشی خوشی دکان سے نکلتے ہوئے بڑبڑائی: اللہ تیرا شکر ہے، میرے بچے

انہیں کھا کر بہت خوش ہونگے۔عورت کے جانے کے بعد، دکاندار نے پہلے سے موجود گاہک کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا: اللہ گواہ ہے، میں نے تجھے کوئی نے تجھے کوئی دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔یہ عورت چار یتیم بچوں کی ماں ہے۔ کسی سے بھی کسی قسم کی مدد لینے کو تیار نہیں ہے۔ میں نے کئی بار کوشش کی ہے اور ہر بار ناکامی ہوئی ہے۔ اب مجھے یہی طریقہ سوجھا ہے کہ جب کبھی آئے تو اسے کم سے کم دام لگا کو چیز دیدوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا بھرم قائم رہے اور اسے لگے کہ وہ کسی کی محتاج نہیں ہے۔ میں یہ تجارت اللہ کے ساتھ کرتا ہوں اور اسی کی رضا و خوشنودی کا طالب ہوں۔دکاندار کہنے لگا: یہ عورت ہفتے میں ایک بار آتی ہے۔ اللہ گواہ ہے جس دن یہ آ جائے‘ اس دن میری بکری بڑھ جاتی ہے اور اللہ کے غیبی خزانے سے منافع دو چند ہوتا ہے۔گاہک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ اس نے بڑھ کر دکاندار کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا: بخدا لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں جو لذت ملتی ہے اسے وہی جان سکتا ہے جس نے آزمایا ہو۔

ٹھگوں کی نانی

ایک بڑھیا تھی۔ وہ بڑھیا اپنا سارا گہنا پاتا پہن کر کہیں جا رہی تھی۔ گہنا کیا تھا؟ یہی کانوں میں جھمکے تھے۔ باہوں میں گنگن تھے اور گلے میں ہار تھا۔ مگر یہ سارے زیور تھے سونے کے۔ بے چاری بڑھیا کے پیچھے دو ٹھگ لگ گئے۔ دونوں بڑے چال باز، مکار اور عیار تھے۔ دونوں آپس میں گہرے دوست تھے۔دونوں چاہتے تھے کہ بڑھیا سے سارے کا سارا زیور ہتھیا لیں۔ لیکن بڑھیا نے بھی اپنے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے تھے، وہ ٹھگ تو ٹھگ تھے ہی…. یہ بڑھیا ان کی بھی نانی تھی۔ایک ٹھگ نے آگے بڑھ کر علیک سلیک کے بعد پوچھا کہ بڑی اماں کہاں جا رہی ہو؟بیٹا! شہر جا رہی ہوں

بڑھیا نے جواب دیا۔پھر تو خوب ساتھ ہوا۔ بڑی اماں ہم بھی تو شہر ہی جارہے ہیں۔ دوسرا ٹھگ بولا۔ہاں بیٹا! اچھا ہوگیا۔ بڑھیا نے کہا۔تھوڑی دور چلنے کے بعد ایک ٹھگ بولا۔بڑی اماں کوئی کہانی ہی سناﺅ جس سے سفر کی تھکان معلوم نہ ہو اور وقت بھی جلد کٹ جائے۔بیٹا! میں بھلا کون سی کہانی سناﺅں؟ تم ہی کچھ کہو۔ہم سنائیں۔ دوسرا ٹھگ بولا۔ مگر بڑی اماں ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ اگر تم نے ہماری کہانی کو جھوٹ کہا تو ہم تمہارے کنگن اتار لیں گے۔ بڑھیا نے ان کی یہ شرط مان لی اور ایک ٹھگ کہانی سنانے لگا۔بڑی اماں! ہماری ایک گائے تھی۔ بڑی خوب صورت موٹی موٹی آنکھیں تھیں اس کی۔ لمبے لمبے کان تھے۔ دودھ اتنا دیتی تھی کہ ہم دوہتے دوہتے تھک جاتے تھے لیکن دودھ پھر بھی ختم نہ ہوتا تھا۔ اس میں خاص بات یہ تھی کہ اگر ہم اس کے داہنے سینگ پر بیٹھ جاتے تو مغرب میں پہنچ جاتے اور جب بائیں پر بیٹھتے تو مشرق میں آجاتے۔پاکستان بننے پر جب ہم قافلے کے ساتھ پاکستان آرہے تھے تو ہم پر فسادیوں نے حملہ کر دیا۔ ایک سنسناتی ہوئی گولی آئی اور ہماری گائے کو لگی جس سے بے چاری وہیں ڈھیر ہو گئی۔بڑا افسوس ہوا۔ بڑھیا نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا۔بڑی اماں! اب تم کچھ سناﺅ۔ ٹھگ نے تیر نشانے پر نہ لگتےدیکھ کر کہا۔میں سناﺅں؟ بڑھیا نے کہا۔ اگر تم نے میری بات کو غلط جانا تو تمہیں ایک سو روپیہ دینا پڑے گا۔ٹھگو نے کہا۔ ہمیں منظور ہے۔تو پھر سنو بیٹوں! جب میری شادی ہوئی تو میرے والد نے ایک بیل بھی مجھے جہیز میں دیا۔ بڑا اچھا بیل تھا۔ کسی کو کچھ نہ کہتا تھا، ایک دفعہ یوں ہی باہر کھیت میں کوئی دوسرا بیل اس سے لڑ پڑا۔ ایسا لڑا کہ ہمارے بیل کے ماتھے پر اچھا خاصا زخم ہو گیاہم نے بہیترے علاج کرائے لیکن زخم نہ بھر سکا…. کرنا خدا

کا یوں ہوا کہ بنولے کا دانہ اس کے زخم میں کہیں سے گر گیا۔ ہوتے ہوتے وہ اچھا خاصا پودا بن گیا۔ اس میں ایسی نفیس کپاس لگی کہ تمہیں کیا بتاﺅں، وہ کپاس ہم نے جمع کرنی شروع کر دی۔ اتنی کپاس جمع ہو گئی کہ اب گھر میں جگہ نہ رہی، گھر گھر ہمارے بیل کے چرچے ہونے لگے، بڑی بڑی دور سے لوگ اس انوکھے بیل کو دیکھنے کے لیے آتے۔ اس کی کپاس کو دیکھتے اور تعریفوں کے پل باندھ دیتے۔ اب ہمارے پاس اتنی زیادہ کپاس ہو گئیکہ سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ ہم نے اسے بیلوا کر کاٹنا شروع کیا اور اس کا کپڑا لتا بنانے لگے، کئی قسم کے کپڑے بنوائے، جن میں کھیس بھی تھے، ان کھیسوں میں سے دو کھیس کہیں چوری ہو گئے۔ بیٹا! خدا جھوٹ نہ بلوائے، یہ کھیس جو تم اوڑھے ہوئے ہو، وہی ہیں جو چوری ہوئے تھے۔ مہربانی کر کے یہ کھیس اتار دو۔ دونوں ٹھگوں نے اپنے کھیس بڑھیا کو دے دیے اور کرتے بھی کیا۔شرط جو تھی۔ مجبور تھے۔ ہاں تو بیٹا! بڑھیا نے پھر کہانی کا سلسلہ شروع کیا۔ ہم نے اس کپاس میں سے ململ کے تھان بنوائے۔ ململ کےتھانوں میں سے ایک تھان گم ہو گیا۔ یہ جو تمہاری پگڑیاں ہیں، اسی تھان کی ہیں، یہ بھی اتاردو۔انہوں نے پگڑیاں بھی اتار دیں۔ نہ اتارتے تو شرط کے مطابق سو روپیہ دیتے۔اب شہر نزدیک ہی تھا۔ ایک ٹھگ بولا۔ بڑی اماں! بھوک لگ رہی ہے۔اچھا بیٹا! شہر آیا ہی سمجھو۔ مجھے اپنے کنگن بیچنے ہیں۔ کنگن بیچ لیں اور پھر آرام سے کسی جگہ بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔وہ خاموش ہو گئےاور سوچنے لگے کہ بڑھیا کنگن بیچ لے پھر کوئی داﺅ چلائیں گے۔ وہ بڑھیا کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی دماغی سڑکوں پر تدبیروں کے گھوڑے دوڑانے لگے۔ اب وہ شہر میں پہنچ گئے تھے۔ ہر طرف خوب چہل پہل تھی۔ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ بڑھیا نے

اپنے کنگن اتار لیے اور ان سے کہنے لگی: بیٹا! سنار کی دکان آ گئی ہے۔ تم یہاں بیٹھو میں اپنے کنگن بیچ لوں۔وہ سنار کی دکان کے قریب ہی بیٹھ گئے اور بڑھیا سنار کی دکان پر پہنچ گئی۔ کیا چاہیے اماں تمہیں؟ سنار نے پوچھا۔ میں اپنے دو نوکر بیچنا چاہتی ہوں وہ سامنے بیٹھے ہیں۔ نوکروں کی تو ہمیں بہت ضرورت ہے۔ سنار نے کہا۔ بولو اماں! کیا قیمت ہے ان دونوں کی؟ تین سو روپے۔ بڑھیا نے کہا اور بات دو سو روپے پر طے ہو گئی۔ میں نوکروں سے پوچھ لوں کہ ان میں سے ایک بکنا چاہتا ہے یا دونوں؟ بڑھیا نے کہا اور پھر بلند آواز سے پوچھنے لگی۔ بیٹا! ایک بیچوں یا دونوں؟ادھر سے جواب ملا۔ اماں! دونوں بیچ دے۔ ایک کو کہاں رکھے گی؟ بڑھیا نے دو سو روپوں میں دونوں ٹھگوں کو سنار کے ہاتھ بیچ دیا اور ان کے پاس آ کر کہنے لگی۔ بیٹا! تم یہیں بیٹھو۔ میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتی ہوں۔ کچھ مٹھائی بھی لیتی آنا اماں! دونوں نے کہا اور بڑھیا اچھی بات کہہ کر نو دو گیارہ ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد سنار نے انہیں بلایا اور دریاں جھاڑنے کا حکم دیا تو ان کو حقیقت معلوم ہوئی اور انہوں نے کہا۔ ارے وہ تو ہماری بھی نانی نکلی۔

پٹھانوں کا تعلق دراصل کس قوم سے ہے

پٹھان کو آفغان کہتے ہیں آفغان اسلئے کہتے ہیں کہ آفغان حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام تھا اور ان کو جنات کی زبان سے پیار ہوگیا تھا تو انہوں نے اپنے والد حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ آپ جننات کو کہے کہ مجھے اپنی زبان سیکھائیں سلیمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی درخواست قبول کی اور جنات کو حکم دیا کہ آفغان کو جنات کی زبان سیکھائی جائـے وہ زبان بعد میں پختنوں کی نام سے پہجانا گیا پٹھان کی اصلیت اور قومیت کے بارے میں جو دلائل ہیں وہ یہ کہ پٹھان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے اولاد ہیں, اور قومیت سے بنی اسرائیل هــے انگریز مورخین لکھتـے ہیں کہ پٹھان قوم ارجینیا کی ایک حصے میں رہتـے تھـے ارجینیا کے لوگوں تھـے ارجینیا کے لوگوں کا دعوی هــے کہ افغان یا پٹھان ارجینیا ہم میں سے ہیں۔۔

کیونکہ البانیہ کے اوغان جو کے بعد مین افغان بنا ارجینیا سے ہندوستان کی طرف چل پڑے ایک اور مورخین لکھتے ہیں کہ اسرائیل قبائیل بہت تکالیف اور مصیبتون کے بعد افغانستان میں آباد ہوگئیں, جب حضور اکرم ﷺ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور لوگ جوق درجوق اسلام مین داخل ہونے لگے تو اس وقت پٹھان قوم کا سردار جس کا نام قیس عبدالرشید تھا اپنے پورے خاندان کیساتھ محمد ﷺ کی حضور میں حاضر ہوا اور محمد ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمان ہوگئـے اس لئـے دنیا بھر میں جہاں بھی پُختون ہونگـے مسلمان ہونگـے دنیا میں پُختون ہی واحد قوم هــے جس میں اسلام کے بغیر کوئی مذہب نہیں اگر پُختون سے پوچھاجائـے کہ اپ پہلـے مسلمان ہے یا پُختون ؟ تو جواب ہوگا کہ میں پانچ ہزار سال سے پُختون ہوں اور چودہ سو سال پہلـے مسلمان ہوں،۔جاری ہے۔ افغان قوم کو پٹھان کیو کہا جاتا ہے،؟جب کافروں نے مکہ پر قبضہ کر لیا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رض کو حکم دیا کہ جاؤ اپنے افغانیوں کو بلاؤں جہاد کے لیے خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنھ افغانستان چلے گئے اور افغان سردار قیس عبدالرشید کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ارسال کیا، قیس عبدالرشید کے قیادت میں لشکر مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا۔ شام کو صحابہ کرام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری سنائی کہ افغانی لشکر آتے ہی کافروں کا قاتل عام شروع کر دیا اور تمام کافروں کا خاتمہ کردیا، اور مکہ مکرمہ کو افغانیوں نے فتح کر لیا، تو اسی لمحے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زبان پر پر یہ الفاظ آئے بطان یہ لقب افغان قوم کو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے طرف سے ملا ہےبطان لفظ عربی زبان کے ہے یعنی سخت ترین لکڑی وہ جو سمندری جہازوں میں لگایا جاتا ہے جیسے سمندری پانی بھی کمزور نہیں کرسکتا ہےیہ لفظ جب برصغیر پہنچا تو بطان سے پٹھان ہوگیا

اللہ سے ڈرو

وہ عورت روز اس نوجوان کو دیکھتی لیکن وہ بغیر اس کی طرف دیکھے سر جھکا کر اسکی گلی سے گزر جاتا ، دیکھنے میں وہ کسی مدرسے کا طالب علم لگتا تھا ، لیکن اتنا خوبصورت تھا کہ وہ دیکھتے ہی اسے اپنا دل دے بیٹھی اور اب چاہتی تھی کہ وہ کسی طرح اس پر نظرِ التفات ڈالے ۔ لیکن وہ اپنی مستی میں مگن سر جھکائے زیر لب کچھ پڑھتا ہوا روزانہ ایک مخصوص وقت پر وہاں سے گزرتا اور کبھی آنکھ آٹھا کر بھی نہ دیکھتا اس عورتکو اب ضد سی ہوگئی تھی وہ حیران تھی کہ کوئی ایسا نوجوان بھی ہوسکتا ہے جو اس کی طرف نہ دیکھے ، اور اسے ایسا سوچنے کا حق بھی تھا وہ اپنے علاقے کی سب سے امیر اور خوبصورت عورت تھی خوبصورت اتنی کہ جب وہ باہر نکلتی تو لوگ اسے بے اختیار دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ۔

اسے حیرت تھی کہ جس کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے لوگ ترستے ہیں وہ خود کسی کو پسند کرے اور وہ مائل نہ ہو، اسکی طرف دیکھنا گوارہ نہ کرے اپنی انا کی شکست اور خوبصورتی کی توہین پر وہ پاگل ہوگئی اور کوئی ایسا منصوبہ سوچنے لگی جس سے وہ اس نوجوان کو حاصل کرسکے اور اسکا غرور توڑ سکے ، آخر کار شیطان نے اسے ایک ایسا طریقہ سجھا دیا جس میں پھنس کر وہ نوجوان اس کی بات مانے بنا رہ ہی نہیں سکتا تھا اگلے دن جب وہ نوجوان اس گلی سے گزر رہا تھا تو ایک عورت اسکے قریب آئی اور کہنے لگی بیٹا میری مالکن تمہیں بلا رہی ہے ۔ نوجوان نے کہا اماں جی آپ کی مالکن کو مجھ سے کیا کام ہے ، اس عورت نے کہا بیٹا اس نے تم سے کوئی مسلئہ پوچھنا ہے وہ مجبور ہے خود باہر نہیں آسکتی ۔ نوجوان اس عورت کے ساتھ چلا گیا اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہجو عورت اسے بلا رہی ہے اسکا منصوبہ کیا ہے وہ کیا چاہتی ہے وہ تو اپنی فطرتی سادہ دلی کی وجہ سے اسکی مدد کرنے کے لیے اس کے گھر آگیا اسکے ذہن میں تھا کہ شاید کوئی بوڑھی عورت ہے جو اپنی کسی معذوری کی وجہ سے باہر آنے سے قاصر ہے نوکرانی نے اسے ایک کمرے میں بٹھایا اور انتظار کرنے کا کہہ کر چلی گئی ، تھوڑی دیر بعد کمرے میں وہی عورت داخل ہوئی نوجوان نے بے اختیار اپنی نظریں جھکا لی کیونکہ اندر آنے والی عورت بہت خوبصورت تھی ، نوجوان نے پوچھا جی بی بی آپ نے کونسا مسلئہ پوچھنا ہے ۔ عورت کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آگئی اس نے اپنے دل کا حال کھول کر رکھ دیا اور کہا کہ میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں ایک دفعہ تمہیں حاصل کرلوں نوجوان یہ بات سن کر کانپ گیا اور کہنے لگا اللہ کی بندی اللہ سے ڈرو کیوں گناہ کی طرف مائل ہو رہی ہو ۔

اس نے عورت کو بہت سمجھایا لیکن عورت پر تو شیطان سوار تھا اس نے کہا کہ یا تو تم میری خواہش پوری کرو گے یا پھر میں شور مچاؤں گی کہ تم زبردستی میرے گھر میں داخل ہوئے اور میری عزت پر حملہ کیا نوجوان یہ بات سن کر بہت پریشان ہوا ، اسے اپنی عزت کسی بھی طرح محفوظ نظر نہیں آرہی تھی ، اسکی بات مانتا تو گناہ گار ہوتا نہ مانتا تو لوگوں کی نظر میں برا بنتا ۔ وہ علاقہ جہاں لوگ اسکی شرافت کی مثالیں دیا کرتے تھے وہاں پر اس پر اس قسم کا الزام لگ جائے یہ اسے گوارہ نہیں تھا ، وہ عجیب مصیبت میں پھنس گیا تھا دل ہی دل میں وہ اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور اللہ سے مدد چاہی تو اس کے ذہن میں ایک ترکیب آگئی اس نے عورت سے کہا کہ ٹھیک ہے میں تمہاری خواہش پوری کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے مجھے بیت الخلاء جانے کی حاجت ہے عورت نے اسے بیت الخلاء کا بتا دیا اس نوجوان نے اندر جاکر ڈھیر ساری غلاظت اپنے جسم پر مل لی اور باہر آگیا ، عورت اسے دیکھتے ہیں چلا اٹھی یہ تم نے کیا کیا ظالم ۔ مجھ جیسی نفیس طبعیت والی کے سامنے اتنی گندی حالت میں آگئے ، دفع ہو جاؤ ، نکل جاؤ میرے گھر سے  نوجوان فورا” اس کے گھر سے نکل گیا اور قریب ہی ایک نہر پر اپنے آپ کو اور اپنے کپڑوں کو اچھی طرح پاک کیا اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوا واپس مدرسے چلا گیا نماز کے بعد جب وہ سبق میں بیٹھا تو تھوڑی دیر بعد استاد نے کہا کہ آج تو بہت پیاری خوشبو آرہی ہے ، کس طالب علم نے خوشبو لگائی ہے وہ نوجوان سمجھ گیا کہ اس کے جسم سے ابھی بدبو گئی نہیں اور استاد جی طنز کر رہے ہیں وہ اپنے آپ میں سمٹ گیا اور اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے تھوڑی دیر بعد استاد جی نے پھر پوچھا کہ یہ خوشبو کس نے لگائی ہے لیکن وہ خاموش رہا آخر کار استاد نے سب کو ایک ایک کرکے بلایا اور خوشبو سونگھنے لگے ۔

اس نوجوان کی باری آئی تو وہ بھی سر جھکا کر استاد کے سامنے کھڑا ہوگیا ، استاد نے اس کے کپڑوں کو سونگھا تو وہ خوشبو اسکے کپڑوں سے آرہی تھی استاد نے کہا کہ تم بتا کیوں نہیں رہے تھے کہ یہ خوشبو تم نے لگائی ہے نوجوان رو پڑا اور کہنے لگا استاد جی اب اور شرمندہ نہ کریں مجھے پتا ہے کہ میرے کپڑوں سے بدبو آرہی ہے لیکن میں مجبور تھا اور اس نے سارا واقعہ استاد کو سنایا استاد نے کہا کہ میں تمہارا مذاق نہیں اڑا رہا خدا کی قسم تمہارے کپڑوں سے واقعی ہی ایسی خوشبو آرہی ہے جو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سونگھی اور یقینا” یہ اللہ کی طرف سے ہے کہ تم نے اپنے آپ کو گناہ سے بچانے کے لیے اپنے آپ کو گندگی لگانا پسند کرلیا لیکن اللہ نے اسی گندگی کو ایک ایسی خوشبو میں بدل دیا جو کہ اس دنیا کی نہیں لگتی کہتے ہیں کہ اس نوجوان کے ان کپڑوں سے ہمیشہ ہی وہ خوشبو آتی رہی (نوٹ ، یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور ایک عالم دین نے اپنے بیان میں سنایا تھا

شہزادی نےتمھیں پسند کرلیا ہے

ایران  کا بادشاہ بہت دنوں سے پریشان تھا _یوں تو ہر طرف خوش حالی کا دور تھا ، مگر بادشاہ کی پریشانی کی وجہ اس کی اکلوتی بیٹی شہزادی ثنا تھی _۔ہر باپ کی طرح بادشاہ بھی اپنی بیٹی کی شادی کر کے اپنے فرض سے دوش ہونا چاہتا تھا ، لیکن شہزادی ثنا نے بھی عجیب اعلان کر رکھا تھا کہ جو شخص اس سوالوں کے درست جواب دے گا ، وہ اس سے شادی کرے گی آس پاس کی ریاستوں کے کئ شہزادے آئے ، مگر نا کام لوٹ گئے۔اس ملک میں نوجوان طالب علم بھی رہتا تھا ، اس کا نام اعظم تھا _۔اس نے اپنے والد سے کہا کہ وہ بھی اپنی قسمت آزما نا چاہتا ہے _ اعظم کے والد اُستاد تھے اور کئ برسوں سے لوگوں میں علم کی روشنی بانٹ رہے تھے _ملک فارس کا وزیراعظم ، بڑے بڑے درباری اور شہر کا قاضی بھی ان کا شاگرد تھا باپ نے بیٹے کی خواہش دیکھی تو بولے” بیٹا ! اگر تو نا کام لوٹا تو تیرا کچھ نہیں جائے گا ، لوگ کیا کہیں گے کہ ایک استاد کا بیٹا نا کام ہوگیا _۔اعظم اپنے باپ سے کہنے لگا” بابا ! بڑے بڑے شہزادے لوٹ گئے۔

  اگر میں بھی نا کام ہو گیا تو کیا ہوا ، یہ تو مقابلہ ہے ، جو بھی جیت لے اور شاید وہ خوش نصیب میں ہی ہوں _ “۔آخر باپ کو بیٹے کی ضد ماننی پڑی _ اعظم خوشی خوشی محل کی طرف چل پڑا ۔شہر بھر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئ کہ ایک عالم کا بیٹا قسمت آزمانے محل میں چلا آیا ہے _۔مقررہ وقت پر محل لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا _ بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا _ ملکہ عالیہ بھی محل میں موجود تھیں _ وزیر ، امیر ، درباری ، اور عوام الناس سب دربار میں موجود تھے۔ آخر شہزادی نے اپنا پہلا سوال کر ڈالا۔ اُس نے شہادت کی انگلی فضا میں بلند کی _۔اعظم نے کچھ دیر توقف کیا اور پھر شہادت والی انگلی کے ساتھ والی اگلی بھی فضا میں بلند کی _ یہ دیکھ کر شہزادی مسکرا اٹھی اورملکہ عالیہ بولی :” شاباش ، اے نوجوان ! تم پہلا مرحلہ کام یابی سے طے کر گئے ہو۔ دوسرے سوال کے لیے شہزادی کرسی سے اٹھی اور ہاتھ میں تلوار لے کر ہوا میں چلانے لگی _ کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اپنی نشست پر آکر بیٹھ گئ_بادشاہ سمیت ہر درباری کی نظر اعظم پر تھی _۔اعظم کھڑا ہوا اور اپنی جیب سے قلم نکال کر فضا میں بلند کردیا _۔ شاباش اے نوجوان ! ہم خوش ہوئے _ یہ جواب بھی درست ہے _ “ملکہ عالیہ کی آواز دربار میں ابھری _۔اسی کے ساتھ دربار ، مبارک ہو ، مبارک ہو ، کی آواز سے گونج اٹھا _ْدوسوالات کیا تھے ؟ ان کے جوابات کیا تھے ، اب ہر شخص اس پر غور کر رہا تھا کہ شہزادی نے کیا پوچھا اور اعظم نے کیا جواب دیا ؟ لوگوں کے لیے یہ ایک راز تھا _۔ آخر شہزادی نے تیسرا سوال کر ڈالا وہ تیزی سے سیڑھیاں اُتری اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر دو بارہ اپنی نشست پر بیٹھ گئ _یہ بڑا عجیب و غریب سوال تھا۔ ہر طرف خاموشی تھی۔ لوگوں کی سانسیں رُکی ہوئ تھیں _ اب تو اعظم کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوئے جا رہے تھے _آخر اعظم کھڑا ہوا اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر شہزادی کی طرف دیکھنے لگا _۔” مرحبا ، مرحبا اے نوجوان ! مبارک ہو ! شہزادی نے تمھیں پسند کر لیا ہے _ “ملکہ عالیہ کی آواز کے ساتھ ہی شہزادی ثنا شرما کر محل کے اندرونی حصے میں چلی گئ اور محل مبارک باد کی آواز سے گونج اٹھا۔

لوگ خوشی سے جھوم رہے تھے _وہ دل ہی دل میں اللّٰه کا شکر ادا کر رہا تھا ، جس نے اُسے یہ اعزاز بخشا تھا۔بادشاہ نے اعظم سے پوچھا :” اے نوجوان ! ملکہ عالیہ کو تو تم نے مطمئن کر دیا _ اب یہ بتاؤ کہ تم سے کیا پوچھا گیا تھا اور تم نے کیا جواب دیا ؟ اگر تم نے ایک بھی غلط جواب دیا تو تمھاری گردن ماردی جائے گی _ “۔اعظم پُر اعتماد انداز میں کھڑا ہوا اور بولا :” بادشاہ سلامت ! شہزادی نے ایک انگلی کھڑی کر کے پوچھا تھا کہ۔تم کیا اللّٰه کو ایک مانتے ہومیں نے دو اُنگلیاں کھڑی کر کے جواب دیا کہ۔اللّٰه اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر میر ایمان اٹل ہے۔ ” بہت خوب ! ہم خوش ہوئے _ “،بادشاہ نے مسکرا کر کہا۔اعظم بولا: ” اس کے بعد شہزادی نے تلوار چلا کر پوچھا تھا کہ اس سے بڑا کوئ ہتھیار ہے ؟ میں نے جواب دیا ہاں ، قلم کا وار تلوار کے وار سے زیادہ کارگر ہوتا ہے _ ” ” ماشاءاللّٰه ! نوجوان ! تم نے ہمارا دل جیت لیا _ تم نے ثابت کر دیا کہ جاہ و جلال ، دولت و حشمت کی علم کے سامنے کوئ حیثیت نہیں ، لیکن تیسرا جواب ؟ ” بادشاہ نے حوصلہ افزائ کرتے ہوئے پوچھا : اعظم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگا : ” بادشاہ ! شہزادی دربار کی سیڑھیاں اُتریں اور چڑھیں ، کرسی پر تھک کر بیٹھ گئیں۔

انھوں نے پوچھا تھا کہ میں تھک چکی ہوں ، لیکن میرے جسم کی ایک چیز نہیں تھکی _ میں نے جواب دیا _۔دل ، یہ پیدایش سے لے کر موت تک بغیر تھکے دھڑکتا رہتا ہے۔” بادشاہ نے اعظم کو کو پاس بلا کر گلے سے لگا لیا اور کہا۔” اے لوگو ! گواہ رہنا ، میں نے حق دار کا حق ادا کر دیا ہے _ میری بیٹی ایسے شخص کی بیوی بن رہی ہے ، جس کے پاس علم کی دولت ہے ، جسے کوئ نہیں چرا سکتا ہے اور نہ کم کر سکتا ہے _ “۔بادشاہ نے اسی وقت خوشی خوشی اعظم اور شہزادی ثنا کی شادی طے کر دی

عقل کے اندھے

ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ہو جائے گی.اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب قمتي چیز کو ہاتھ لگاؤں گا. کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤں گا، کچھ لوگ چاندي کو تو کچھ لوگ قیمتی زیورات کو، کچھ لوگ گھوڑوں کو تو کچھ لوگ ہاتھی، کچھ لوگ دودھ دینے والی گائے کو ہاتھ لگانے کو ہاتھ لگانے کی بات کر رہے تھے.جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لئے

دوڑے.سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے میری ہو جاے۔ بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ہو رہی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.اسی وقت اس بھیڑ میں سے ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے بادشاہ کو چھو لیا.بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی بادشاہ اس کا ہو گیا اور بادشاہ کی ہر چیز بھی اس کی ہو گئی.جس طرح بادشاہ نے ان لوگوں کو موقع دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کی. ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا مالک بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے، لیکن افسوس ہم عقل کے اندھےلوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں.ہم اللہ کوحاصل کرنے کی بجاےاللہ کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں.لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے مالک کو پا لیا جاے.اگر مالک ہمارا ہو گیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی ہماری ہو جائے گی