تین روٹیاں کتے کو کھلادی

حضرت عبداللہ بن جعفررحمتہ اللہ علیہ ایک مرتبہ جنگل میں تشریف لے جا رہے تھے ۔ راستہ میں ایک باغ پر گزر ہوا وہاں ایک حبشی غلام باغ میں کام کر رہا تھا۔ اس کی روٹی آئی اسی وقت ایک کتا بھی باغ میں چلا آیا اور اس غلام کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔اس غلام نے کام کرتے ایک روٹی اس کتے کے سامنے ڈال دی، کتے نے اس کو کھا لیا اور پھر کھڑا رہا۔ اس نے پھر دوسری اور تیسری روٹی بھی ڈال دی۔ کل تین ہی روٹیاں تھیں۔ وہ تینوں کتے کو کھلا دیں۔ حضرت کتے کو کھلا دیں۔ حضرت عبداللہ بن جعفررحمتہ اللہ علیہ غور سے کھڑے دیکھتے رہے ۔ جب وہ تینوں روٹیاں ختم ہو گئیں تو آپ نے اس غلام سے

پوچھا کہ تمہاری کتنی روٹیاں روزانہ آتی ہیں۔ اس نے عرض کیا آپ نے ملاحظہ فرما لیا تین ہی آیا کرتی ہیں۔حضرت عبد اللہ بن جعفر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا، پھر تینوں کا ایثار کیوں کر دیا؟غلام نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن جعفر رحمتہ اللہ علیہ یہاں جنگل میں کتے رہتے نہیں ہیں۔ یہ غریب بھوکا کہیں دور سے مسافت طے کر کے آیا ہے ۔ اس لئے مجھے اچھا نہ معلوم ہوا کہ اس کو ویسے ہی واپس جانے دوں۔ حضرت عبداللہ بن رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا پھر آج تم کیا کھاؤ گے غلام نے کہا ایک دن فاقہ کروں گا۔ یہ تو کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے دل میں سوچا کہ ایثار کے مقابلے میں گویا لوگ مجھے ملامت کرتے ہیں کہ بہت سخاوت کرتا ہے یہ غلام تو مجھ سے بہت زیادہ سخی ہے ۔ یہ سوچ کر آپ نے شہر میں جا کر مالک باغ سے وہ باغ اور غلام خرید لیا اور جا کر غلام سے کہا، جا میں نے تجھے آزاد کیا اور باغ بھی تجھے ہی بخش دیا ہے ۔ غلام نے انتہائی خودداری سے جواب دیا کہ میں آپ کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس شکریے کے اظہار میں یہ باغ آپ کی خدمت میں نذرانہ پیش کرتا ہوں چونکہ اب آپ کے دل میں میری عزت و عظمت اور عقیدت ہو گئی ہے جو کہ میرے حق میں زہرقاتل ہے ۔ لہٰذا اب میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہاں سے چل دیا۔

شادی میں رقص کرنا

میں شادی کی مخفلوں میں شریک ہونے کی بڑی شوقین تھی جبکہ میرا شوہر بڑا دیندار تھا،وہ ہمیشہ مجھے اختلاط سےبچنے کی تائید کرتاتھا۔ایک روز میں شادی کی محفل میں گئی محفل میں شریک عورتیں رقص کررہی تھیں۔مجھے بھی جوش آیا میں بھی اپنا برقع اتار کر ناچ گانے میں شریک ہوگئی۔ ایک روز میرے شوہر نے کسی خلیجی ملک کاسفر کیا ،وہاں کسی دفتر میں نوجوانوں کے مابین اختلاف ہوگیا کہ خلیجی ممالک میں سب سے خوبصورے لڑکی کون سی ہے؟ایک نوجوان فوراَ اٹھا ایک ویڈیو کیسٹ لاکر حاضرکردی جسے اس نے میرے ملک کے کسی آدمی سے چوری چھپے بھاری قیمت دے کر خریدا تھا۔اس کیسٹ میں شادی کی اس محفل کی ویڈیو تھی جس میں میں نے بھی شرکت کی تھی ۔

جب نوجوان نے کیسٹ لگائی تو وہ منظر دیکھ کر میرے شوہر کے پاؤں سے زمین کھسک گئی جس میں میں رقص کرہی تھی۔میرا شوہر اندر ہی اندر آگ بگولا ہورہاتھا،اس کی آتش غیظ و غضب تیز سے تیز تر ہورہی تھی۔وہ فوراَ سفر کے دیگر کاموں کو ملتوی کرکے واپس اپنے وطن آگیا۔گھر پہنچ تو میرے اور اس کے درمیان زبردست جنگ چھڑ گئی اور میرا انجام بھی وہی ہوا جو کسی عورت کےلئےسب سے تکلیف دہ ہوتا ہے۔اب میں مطلقہ ہوں میری زندگی عذاب سے گزر رہی ہے۔شقاوت وبدبختی نے مجھے رسوائی و بدنامی سے دوچار کردیا اب میں اکیلے زندگی کے کٹھن منازل طے کررہی ہوں۔ میرے مسلمان بہن بھائیو!آج ہمارے ہاں بھی اس طرح کا رواج ہے۔اگر کسی کے گھر شادی ہوتی ہے تو نوجوان لڑکیاں گانے گاتی ہیں اور ڈانس کرتی ہیں(پھر ویڈیو بھی بنتی ہے،کئی لوگ موبائلوں سے ویڈیو بنا کر پھر انٹرنیٹ پر چڑھادیتے ہیں جس سے ویڈیو ساری دنیا میں پہنچ جاتی ہے)۔
ایسی بہنوں کو اللہ تعالی سے توبہ کرنی چاہیے اللہ ہمیں بھی برے کاموں اور شیطان کے شر سے محفوظ رکھے۔آمین

خوبصورت لونڈی اور بادشاہ

پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا. وہ شکار کے ارادے سے نکلا تھا کہ اس دوران اس کی نظر ایک خوبصورت لونڈی پر پڑی اور بادشاہ پہلی نظر میں اس پر عاشق ہو گیا ۔لہٰذا اس نے اس لونڈی کو خرید اور خدا کی قدرت کہ وہ لونڈی بیمار پڑ گئی. معالجوں کو طلب کیا گیا تاکہ لونڈی کا علاج معالجہ ممکن ہو سکے. معالجوں نے کہا کہ ہمارے پاس ہر مرض کا شافی علاج موجود ہے، لیکن انہوں نے ساتھ انشاء اللہ کہنا گوارا نہ کیا. لہذا اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ رویہ پسند نہ آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے علاج کو اپنی شفا سے محروم رکھا اور ان کے علاج معالجے سے کچھ وصول نہ ہوا. بادشاہ کی حالت غیر ہونے لگی ادھر لونڈی

بھی بیماری کی وجہ سے لاغر ہونے لگی. معالج علاج سے معذور ہو چکے تھے. یہ جان کر بادشاہ نے مسجد کا رخ کیا اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہو گیا اور اس کی تعریف و توصیف سر انجام دینے لگا اور رو رو کر اس سے فریاد کرنے لگا. رحمت خدواندی جوش میں آئی . ادھر بادشاہ بار گاہ الہٰی میں روتے روتے بے حال ہو کر نیند کی آغوش میں جا پہنچا تھا۔ خواب میں اسے یہ نوید سنائی گئی کہ ایک اجنبی شخص آئے گا اور وہ لونڈی کا علاج کرے گا اور اس کا علاج بفضل خدا جادو اثر ہو گا. بادشاہ اس اجنبی کا منتظر رہا، بالآخر متذکرہ اجنبی آن پہنچا. بادشاہ نے اس کا استقبال کیا. بادشاہ نے اس اجنبی مہمان سے ملاقات کی اور عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آیا اور اس سے مدد کی درخواست کی. بادشاہ اس اجنبی کو بیمار لونڈی کے پاس لے گیا. اس نے لونڈی کا معائنہ کیا اور یہ انکشاف کیا کہ معالجوں نے اسے جو دوادارو دیا تھا وہ درست نہ تھا. کیونکہ وہ جسمانی طور پر درست تھی بلکہ دل کی بیماری میں مبتلا تھی. لونڈی کے مرض سے آشنائی حاصل کرنے کے بعد اجنبی نے بادشاہ سے کہا کہ میں تنہائی میں لونڈی کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہوں. اجنبی نے اس سے دریافت کیا کہ وہ کس شہر سے تعلق رکھتی تھی.اس کے رشتہ داروں کے بارے میں دریافت کیا اور اس سے مختلف سوالات کرتا رہا. در حقیقت وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ لونڈی کس کے سامنے اپنے دل ہار چکی تھی. لونڈی کے ساتھ اجنبی کی بات چیت کے دوران اچانک کسی موڑ پر شہر سمر قند کا ذکر آیا. اس شہر کا نام سن کر لونڈی نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور اس کی آنکھوں سے اشک بہنے لگے. اس نے اپنی داستان سناتے ہوئے کہا کہ اس شہر میں ایک تاجر نے مجھے ایک امیر کبیر سنار کے ہاتھ فروخت کیا جس نے مجھے چھ ماہ اپنے پاس رکھنے

کے بعد دوبارہ فروخت کر دیا. اس تذکرے پر لونڈی کے چہرے پر زردی چھا گئی. اجنبی نے لونڈی سے اس سنار کا نام اور پتہ دریافت کیا اور اسے تسلی دی کہ فکر نہ کر تیرا مرض میں سمجھ چکا ہوں. اب تیرا مرض انشاء اللہ رفع ہو جائے گا. اجنبی نے لونڈی کے مرض کے بارے میں چند ایک حقائق بادشاہ کو بتا دیے اور بادشاہ سے کہا کہ کسی ایلچی کو سر قند روانی کیا جائے جو سنار کو انعام و اکرام کا لالچ دے کر دربار میں لائے تاکہ اس کو دیکھ کر لونڈی کی جان میں جان آ جائے. بادشاہ نے دو ایلچی سمر قند روانہ کئے جو اس سنار تک جا پہنچے اور سنار کے فن کی تعریف کرنے لگی اور بادشاہ کی جانب سے کچھ انعام و اکرام اور سونا چاندی اسے پیش کیا اور اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا. وہ بیوی بچے کام کاج شہر اور گھر بار وغیرہ سب چھوڑ کر ان کے ساتھ چل پڑا اسے بادشاہ کے حضور پیش کیا گیا. اس کی قدر و منزلت سر انجام دی گئی اور اسے ڈھیروں سونا دے کر شاہی زیورات اور ظروف سازی کی ہدایت کی گئی. اجنبی نے بادشاہ کو مشورہ کیا کہ لونڈی اس سنار کے حوالے کر دی جائے. لہذا بادشاہ نے لونڈی سنار کے نکاح میں دے دی. اس دوران اجنبی نے سنار کے لئے ایک ایسا شربت تیار کیا جس کے چھ ماہ کے استعمال کے بعد اس کا جسم نہ صرف کمزور بلکہ بد صورت بھی ہو گیا اور رنگت زرد پڑ گئی. اس کی خوبصورتی زائل ہو چکی تھی اور لونڈی اس کی خوبصورتی پر عاشق تھی اور اس کی خوبصورتی زائل ہونے کے ساتھ ساتھ لونڈی کا عشق بھی رفو چکر ہو گیا. سنار موت سے ہمکنار ہو گیا. اجنبی کے ہاتھوں سنار کی ہلاکت مصلحت خداوندی تھی. اجنبی نے اسے کسی خوف کا بنا پر یا کسی امید کی بنا پر بادشاہ کی خاطر ہلاک نہ کیا تھا بلکہ مصلحت خداوندی کے تحت ہلاک کیا تھا کیونکہ اسے ایسا کرنے کا حکم بذریعہ الہام ہو ا تھا.

ایک پرہیزگار نوجوان اور طوائف

حضرت یحییٰ بن ایوب خزاعی سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک پرہیز گار جوان تھا، وہ مسجد میں گوشہ نشین رہتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ شخص بہت پسند تھا۔ اس جوان کا بوڑھا باپ زندہ تھا اور وہ شخص عشاءکے بعد اپنے بوڑھے باپ سے ملنے روزانہ جایا کرتا تھا۔ راستہ میں ایک عورت کا مکان تھا، وہ اس جوان پر فریفتہ ہو گئی اور بہکانے لگی، روزانہ دروازے پر کھڑی رہتی اور جوان کو دیکھ کر بہکایا کرتی۔ ایک رات اس شخص کا گزر ہوا تو اس عورت نے بہکانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ شخص اس کے پیچھے ہو گیا،جب وہ

اس عورت کے دروازے پر پہنچا تو پہلے عورت اپنے مکان میں داخل ہو گئی پھر یہ شخص بھی داخل ہو نے لگا، اچانک اس نے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور یہ آیت اس کی زبان سے بے ساختہ جاری ہو گئی ۔”اِنَّ الَّذِینَ اتَّقَوا اِذَا مَسَّھُم طَائِف مِّنَ الشَّیطَانِ تَذَکَّرُوا فَاِذَا ھُم مُبصِرُونَ (اعراف201) ”بے شک جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں جب انہیں شیطان چھوتا ہے وہ چونک جاتے ہیں اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں”۔اور پھر غش کھا کر وہیں دروازے پر گر پڑا۔ اندر سے عورت آئی، یہ دیکھ کر کہ جوان اس کے دروازے پر بے ہوش پڑا ہے، اس کو اپنے اوپر الزام آنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ اس نے اپنی ایک لونڈی کی مدد سے اس جوان مرد کو وہاںسے اٹھا کر اس کے دروازے پر ڈال دیا۔ ادھر بوڑھا باپ اپنے لڑکے کی آمد کا منتظر تھا، جب بہت دیر تک وہ نہ آیا تو اس کی تلاش میں گھر سے نکلا، دیکھا کہ دروازے پر بے ہوش پڑا ہے۔ بوڑھے نے اپنے گھر والوں کو بلایا، وہ اس کو اٹھا کر اپنے گھر کے اندر لے گئے۔ رات کو وہ جوان ہوش میں آیا۔ باپ نے پوچھا بیٹا! تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا، خیریت ہے۔باپ نے واقعہ کی حقیقت دریافت کی تو اس نے پورا واقعہ بیان کر دیا،پھر باپ نے پوچھا وہ کون سی آیت تھی جو تو نے پڑھی تھی؟ یہ سن کر بیٹے نے مذکورہ بالا آیت پڑھ کر سنا دی اور پھر بے ہوش ہو کر گر پڑا، اس کو ہلایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مر چکا ہے، چنانچہ رات ہی کو دفن کر دیا گیا جب صبح ہوئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے انتقال کی خبرملی تو مرحوم کے بوڑھے باپ کے

پاس تعزیت کیلئے گئے، تعزیت کے بعد شکایت کی کہ مجھے خبر کیوں نہ دی۔ اس نے کہا امیر المومنین!رات ہونے کی وجہ سے اطلاع نہ دے سکے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، مجھے اس کی قبر پر لے چلو۔ قبر پر جا کر فرمایا، اے شخصوَلِمَن خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ ”اور اس شخص کیلئے جو خدا سے ڈرتا ہے دو باغ ہیں“(الرحمن)اس شخص نے قبر کے اندر سے جواب دیا۔یَا عُمَرُ قَد اَعطَانِیھَا رَبِّی فِی الجَنَّةِ۔”اے عمر اللہ نے مجھے دونوں جنتیں دے دی ہیں۔

صرف تین خوراکوں سے شوگر کا علاج

آج سے ۳۰ سال پہلے میرے والد صاحب ایک نیک سفر پر میرپور خاض گئے وہاں ایک ریٹائرڈ ڈی ایس پی سے ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں انہوں نے اپنےوالد صاحب کا ایک آزمودہ نسخہ بتایا جو وہ بھی استعمال کرتے تھے ان کے والد صاحب کو کبھی کسی نے شوگر کی دوائی لیتے ہوئے نہیں دیکھا تھا وہ یہی آسان سا نسخہ استعمال کرتے تھے۔

بھوسا پنجابی میں جسے توڑی کہتے ہیں جو بھیس اور گائے وغیرہ کو بطور چارہ کھلاتے ہیں ایک چٹکی بھر بھوسا لے کر مٹی کے برتن میں تھوڑا پانی ڈال کر رات کو بھگودیں اور صبح چھان کر نہار منہ پی لیں ایک ہفتہ بعد شوگر ٹیسٹ کروائیں انشااللہ بہت فائدہ ہوگا بہت ہی لاجواب نسخہ ہے۔  والد صاحب نے جس کسی کو بھی بتایا بہت فائدہ ہوا ایک ایک عزیرہ کے بچے کو ۵۰۰ تک شوگر تھی اس کو بھی یہی نسخہ استعمال کروایا اس کی شوگر چند دنوں میں کم ہو کر ۲۵۰ تک رہ گئی

جب انسان مرتا ہے تو اس کی آنکھیں کھولی کیوں رہتی ہیں۔۔؟

مرنے کے بعد میت کی آنکھیں کیوں کھلی رہنے کا سائنس جو بھی جواب دے لیکن ایک مسلمان کے لئے اس سے بڑا حکمت افروز جواب کیا ہوسکتا ہے۔جاری ہے جو آقائے دوجہان نے دیا تھا اور اس راز لافانی سے آگاہ فرمادیا تھا کہ جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اسکی آنکھیں ایک ایسا منظر دیکھ رہی ہوتی ہیں جو زندوں کو نظر نہیں آتا۔مسلم اور ابن ماجہ کی روایات کے مطابق حضرت ابوسلمہؓکا جب آخری وقت آیا تورسول اللہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔وہ جان کنی کے عالم میں تھے، پردے کے دوسری طرف عورتیں رورہی آپﷺ نے فرمایا” میت کی جان نکل رہی ہوتی ہے تو اس کی نگاہیں پرواز کرنے والی روح کا پیچھا کرتی ہیں، تم دیکھتے نہیں کہ آدمی مر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں“ جب حضرت ابوسلمہؓ کا دم نکل گیا۔جاری ہےتو آپ نے دست مبارک سے ان کی آنکھیں بند کر دیں۔

آپ ﷺنے عورتوں کو تلقین کی کہ (میت پربین کرتے ہوئے) اپنے لیے بددعا نہیں، بلکہ بھلائی کی دعا ہی مانگیں، کیونکہ فرشتے میت اور اس کے اہل خانہ کی دعا یا بددعا پر آمین کہتے ہیں اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسلمہ کے لیے یوں دعا فرمائی” اے اللہ، ابوسلمہ کی مغفرت کر دے۔ ہدایت یافتوں (اہل جنت) میں ان کا درجہ بلند کر دے۔ پس ماندگان میں ان کا قائم مقام ہو جا۔ اے رب العٰلمین، ہماری اور ان کی مغفرت کردے۔ قبر میں ان کے لیے کشادگی کر دے اور اسے منور کر دے “ حضرت ابوسلمہؓ سابقون الاولین صحابہ کرام میں سے تھے ،روایت ہے کہ رسول اللہ نے حضرت ابو سلمہؓ کی نماز جنازہ کے دوران پہلی بار نو تکبریں کہی تھیں۔زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔جاری ہےہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔

پرفیوم کا استعمال

پرفیوم لگاناہرآدمی کوپسند ہے کیونکہ اس سے شخصیت میں ایک نکھارآتاہے اورخاص کرگرمیوں میں پرفیوم کااستعمال بڑھ جاتاہے لیکن اصلی اورنقلی پرفیوم میں فرق کرنابھی اب مشکل نہیں رہا 9مختلف طریقوں کے ذریعے آپ اپنے پرفیوم کے اصلی یا نقلی ہونے کا پتہ لگا سکتے ہیں ۔پرفیوم کارنگیاد رکھیں کے اصلی پرفیوم کا رنگ مدھم ہو گا نہ کہ تیز اور بھڑکیلا جبکہ نقلی پرفیوم میں کئی قسم کے اجزاشامل ہونگے جس کی وجہ سے پرفیوم کا رنگ تیز اور گہرا نظر آتا ہے پرفیوم کی بوتل کی فنشنگنقلی پرفیوم والی بوتل کبھی بھی ہموار اور فنشنگ میں سموتھ نہیں ہو گی ، اس کی فنشنگ ناہموار ہو گی اور پرفیوم کی چمک مدہم دکھائی دے گی اور اس بوتل کے پیندہ کی شکل بھی عجیب ہو گی جبکہ اصلی پرفیوم کی بوتل ڈیزائن کے حوالے سے ہموار اور سموتھ ہوتی ہے جس کے نوز ل کا سائز بھی زیادہ بڑا نہیں ہو گا ۔

سیریل نمبرصارف پرفیوم خرید کر اس کا ڈبہ کھولنے سے پہلے بوتل اور ڈبے کے سیریل نمبر کا موازنہ نہیں کر سکتا مگر کسی بھی پرفیوم کو خریدنے سے پہلے یہ یقین کر لیں کے اس کے ڈبے پر موجود سیریل نمبر بوتل پر موجود سیریل نمبر سے مماثلت رکھتا ہے یا نہیں کیونکہ اگر سیریل نمبر میں یکسانیت نہیں ہوگی تو فورا سمجھ جائیں کہ پرفیوم جعلی ہے پلاسٹک کی ریپنگڈبے پر موجود پلاسٹک ریپنگ بھی اس پرفیوم کے اصلی یا نقلی ہونے کا اندازہ لگانے میں بڑی حد تک معاون ہو سکتی ہے ڈبے پر موجود پلاسٹک ریپر نگ چیک کریں کیونکہ اگر ریپر کی فولڈنگ ناہموار یا 5ملی میٹر سے چوڑی ہیں تو آپکا پرفیوم نقلی اور جعلی ہے ۔ڈبے کے اندرکی پیکنگیاد رکھیں کے اصلی اور برانڈڈ پرفیوم کے ڈبے میں اندرونی پیپر صاف سفید رنگ کا ہوتا ہے نا کہ سرمئی رنگ کا جبکہ ڈبے میں ایک گتہ بھی موجود ہوتا ہے جو بوتل کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے رکھا گیا ہوتا ہے۔پرفیوم کی بوتل کاڈھنبوتل پر موجود لوگو متوازن اور بوتل یا ڈھکن کے مرکز میں چسپاں ہونا چاہئیے کیونکہ اگر یہ لوگو بوتل پر لگے ڈھکن کی سیدھ کے مرکز میں نہ ہوا تو پرفیوم کی کوالٹی کے بارے میں سوال پیدا ہوگا خریدار ی سے پہلے چیک کرلیںعموما لوگ اس بات کو ضروری نہیں سمجھتے کہ پرفیوم خریدنے سے پہلے اطمینان کیساتھ اس کمپنی کی ویب سائٹ وزٹ کر لیں جس سے ایک تو پرفیوم کی اصل قیمت کا پتہ چل جاتا ہے اور دوسرا یہ کہ اس سے آپکو پرفیوم کے رنگ اورکمپنی کی پیکنگ وغیرہ کے بارے میں بھی پتہ چل جا تا ہے جبکہ پرفیوم کے انگریڈینٹس سے بھی واقفیت ہو جاتی ہے۔

لہذا کسی بھی پرفیوم کی خریداری سے پہلے اس کی ویب سائٹ کو ضرور وزٹ کر لیں۔ پرفیوم کی آن لائن خریداریکسی بھی پروڈکٹ کی آن لائن خریداری میں آپکے ساتھ فراڈ اور دھوکہ ہونے کے چانسز زیادہ ہو جاتے ہیں کیونکہ اس طرح نہ تو آپ پرفیوم کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی خوشبو کا معائنہ کر سکتے ہیں تو کبھی بھی پرفیوم کی آن لائن خریداری نہ کریں بلکہ پرفیوم خریدنے کیلئے خود جائیں اور اچھی طرح چیک کر کے خریدیں۔قیمت کا فرقاصل پرفیوم برانڈ کبھی بھی اپنی قیمت میں ڈسکاونٹ نہیں دیتے بلکہ یہ کام صرف جعلی پرفیوم بیچنے والی کمپنیاں ہی اپنے صارفین کیساتھ کرتی ہیں جس کا مقصد قیمت کم کر کے غلط اور جعلی چیز فروخت کرنا ہوتا ہے

میرا انار کھانے کو دل کررہا ہے

ایک دفعہ داماد رسولؐ حضرت علی ؑ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے کہ ان سے بی بی پاک فاطمۃ الزہرہ ؐ نے فرمایا کہ یا علیؑ میرا انار کھانے کو دل کر رہا ہے. حضرت علیؑ اپنی اہلیہ اور دختر رسول ﷺ کی خواہش پوری کرنے کی غرض سے گھر سے نکلے حالانکہ کے اناروں کا موسم نہیں تھا اور ایک یہودی کے پاس پہنچے جو اناروں کی تجارت کرتا تھا. آپؑ نے اس کے دروازے پر دستخط دی جیسے ہی وہ یہودی گھر سے باہر آیا تو اس نے آپ کو دیکھتے ہی آنے کی وجہ پوچھی. آپؑ نے اس یہودی سے فرمایا کہ مجھے ایک انار چاہیئے. یہودی نے صاف انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ میرے گھر میں اس وقت ایک دانہ بھی انار کا موجود نہیں. آپؑ نے فرمایا کہ انار تو تمہارے گھر میں ہے۔

اُس نے کہاں میں موسیٰ کا امتی ہو کر کہتا ہوں میرے گھر میں انار نہیں ہے. آپ مسکرائے اور فرمایا میں محمد مصطفیٰ ﷺکا داماد ہونے کی حیثیت سے فرماتا ہوں کہ انار تمہارے گھر میں موجود ہے یہودی ابھی اپنی ضد پر اڑا تھااور آپ ؑ سے تکرار کر رہا تھا کہ اسکی بیوی جو گھر کے پردے کے پیچھے کھڑی ہو کر سب سن رہی تھی اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں کلمہ پڑ ھ رہی ہوں ، تم بھی پڑھ لو کیونکہ گھر میں انار موجود ہے. وہ یہودی یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ گھر میرا ہے علم علی ؑ کو ہے. اُس نے کلمہ پڑھتے ہوئے انار یا علی سپرد کیا. آپ انار لے کر گھر کی طرف چلے کہ راست میں ایک اندھا فقیر بیٹھا صدا لگا رہا تھا کہ ہے کوئی اللہ کا نیک بندہ جو مجھے اللہ کی محبت میں انار کھلائے؟ علیؑ نے صدا سنتے ہی انار کھولا اور اُس فقیر کے دے کر گھر کی طرف چل پڑے. گھر پہنچتے ہی آپ جائے نماز پر پہنچے اور یہ سوچنے لگے کہ اب دختر رسولﷺ کو کیا جواب دونگا؟ منگوایا انہوں نے تھا . اتنے میں آواز سیدہؐ آئی کہ یا علی آپ کا شکریہ ، میں نے ایک انار میں فرمائش کی تھی آپ نے دس انار بھیج دیئے. علیؑ مسکرائے اور فرمایا کہ یہ انار میں نے نہیں بلکہ آپ کے لیے اللہ نے بھیجے ہیں اور جو آپ کو دے کر گیا ہے وہ قنبر نہیں تھے.۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ شادی کے بعد لڑکے اور لڑکیاں موٹی کیوں ہو جاتی ہیں ؟

ہم عموماً دیکھتے ہیں کہ شادی کے بعد اکثر مردوخواتین کا وزن بڑھ جاتا ہے. اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں. شادی کے بعد میاں بیوی اکثر گھر سے باہر کھانا کھاتے ہیں، باہر چونکہ انواع و اقسام کی کھانے کی چیزیں میسر ہوتی ہیں لہٰذا دونوں اپنی اپنی پسند کے کھانے کھاتے ہیںاور موٹے ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن انہیں اپنے موٹا ہونے کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب شادی کے تین ماہ بعد ان کے کپڑے انہیں پھنس جاتے ہیں. شادی کے بعد خواتین کی ایک شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے کھانوں کے ذریعے اپنے شوہر کا دل لبھائیں. اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ اچھے اچھے اور خوش ذائقہ کھانے وافر مقدار میں

بناتی ہیں اور نتیجتاً میاں بیوی دونوں موٹے ہوتے چلے جاتے ہیں.شادی کے بعد موٹے ہونے کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میاں بیوی جب تک کنوارے ہوتے ہیں انہیں اپنا لائف پارٹنر ڈھونڈنے کی فکر لاحق ہوتی ہے جس سے شادی کے بعد ان کی جان چھوٹ جاتی ہے اور وہ ذہنی طور پر پرسکون ہو جاتے ہیں.چونکہ ذہنی آسودگی بھی موٹاپے کا باعث بنتی ہے اس لیے میاں بیوی میں بھی موٹاپے کا رجحان شروع ہو جاتا ہے.اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جو خواتین شادی سے قبل سلم اور سمارٹ رہنے کے لیے ڈائٹنگ کرتی ہیں وہ شادی کے بعد اس معاملے میں لاپرواہ ہو جاتی ہیں. یہ خواتین میں نفسیاتی مسئلہ ہے کہ شادی سے قبل وہ اچھے شوہر کی تلاش میں خوبصورت نظر آنا چاہتی ہیں اور جیسے ہی انہیں شوہر مل جاتا ہے وہ لاشعوری طور پر مطمئن ہو جاتی ہیں اور اپنی خوراک کے معاملے میں لاپرواہ بھی، جس سے وہ موٹی ہو جاتی ہیں.مردوں میں بھی یہی رجحان پایا جاتا ہے. شادی کے بعد خواتین کے موٹاپے کی ایک وجہ ان کا حاملہ ہونا بھی ہے. خواتین اپنے پیٹ میں موجود بچے کی صحت اور نشوونما کے لیے اچھی خوراک کھاتی ہیں جس سے موٹی ہو جاتی ہیں

قریب قیامت میں لوگ اپنی بیویوں سے زنا کرینگے

معروف مذہبی سکالرحضر ت ذوالفقاراحمدنقشبندی نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ حضوراکرم ؐ نے فرمایاکہ قرب قیامت میں لوگ ا پنی بیویوں کیساتھ زناکریں گے ہم نے حدیث پاک پڑھی توہمیں سمجھ نہیں آئی ہم نے اپنے استادسے پوچھاکہ استادجی اس کاکیامطلب ہے ؟.کہ لوگ اپنی ہی بیوی سے زناکریں گے توانہوں نے فرمایہ کہ ہاں اس کی کئی صورتیں ہیں ایک صورت تواس کی یہ ہے کہ مردیاعورت کوئی کفریہ بول بو ل دےاورنکاح ٹوٹ جائے اور ان کواس کاپتاہی نہیں کہ نکاح ٹوٹ گیاہےیانہیں اورآج کل تویہ بات عام ہے لوگوں کواس بات کاعلم ہی نہیں  مولانافرماتے ہیں کہ فارسی کی فقہی کتاب مالابدامنہ ہم مفتی صاحب سے پڑھ رہے تھےتوجب انہوں نے کلمات کفرپڑھائے توہماری آنکھیں کھل گئیں۔

اس میںقاری ثنااللہ پانی پتیؒ حضرت نے لکھاہےکہ اگردوبندے گفتگوکررہے تھےایک نے کہاکہ یہ توشریعت کی بات ہےاوراگلے نے جواب ہےاوراگلے نے جواب دیاکہ رکھ پرے شریعت کو…فقدکفر..تووہ آدمی کافرہوگیا.ہمیں چاہیے کہ ہم علماسے پوچھیں کہ کلمات کفرکون کون سے ہیںیہ نہ ہوکہ ہم ایسے جملے بولیں اورکفرکاارتکاب کررہے ہوں ،کئیجملے توبہت عام ہے مثلاً علما نے لکھاہےکہ کسی نے کہاکہ کہاں رہتے ہودوسرے نے کہاکہ فلاں جگہ رہتاہوں. اوخدادے پچھاوڑے..خداکے پچھاوڑے یعنی خداکے پیچھے رہتے ہو…فقدکفر..تووہ بندہ کافرہوگیا.توان کاعلم حاصل کرناضروری ہےکہ کہیں ہم تواپنی گفتگومیں کوئی ایسی با ت نہیں کہہ جاتےاگرنکا ح ٹوٹ گیاتوپھراپنے زعم میں میاں بیوی رہ رہے ہیں اورزناکاگناہ لکھاجارہاہےتوفرمایاکہ مردقریب قیامت میں اپنی بیویوں سے زناکریں گےایک صورت تویہ ہے یہ کفریہ کلمات بیوی بولے توبھی نکاح ٹوٹااوراگرخاوندبولے توبھی نکاح ٹوٹا اوردوسری صورت ایک دوسرے کیساتھبحث اوریہ توہرگھرکی بات نظرآتی ہے جب شادی ہوئی تومیں بولتاتھااوربیوی سنتی تھی اس نے کہاپھر..پھربچے ہوگئے توبیوی بولتی تھی. اورمیں سنتاتھا اس نے کہاپھر..پھرہم دنوں بوڑھے ہوگئے ہم دونوں بولتے تھے اورمحلے والے سنتے تھےبڑھاپے میں بحث اورزیادہ ہوجاتی ہے اوراس میں ہوتاکیاہے مردکی زبان میں کنائے میں طلاق نکل جاتی ہے.کنایہ کہتے ہیں کہ لفظ توطلاق والانہیں بولالیکن بات ایسی کردی کہ مفہوم طلاق والانکلتاہےاس کوکنائے میںطلاق کہتے ہیںاب یہ گناہ بہت زیادہے’’غصے میں کہہ دیتے ہیں کہ چلی جامجھے تیری کوئی ضرورت نہیںآج کے بعد اس قسم کے الفاظ جس کانتیجہ یہ نکلے کہ تومیر ی بیوی نہیں ہے اب اس قسم کے مسائل کی بھی معلومات حاصل کرنی چاہیے،شریعت کہتی ہے کہ علم حاصل کرو۔

ایسانہ ہوکہ کنایہ میں طلاق ہوجائے انہیں پتابھی نہ ہواوروہ ساتھ رہ رہے ہوںاورآج تویہ حالات ہیں کہ زبان سے طلاق کہہ دیتے ہیں طلاق ہوبھی جاتی ہے پتابھی ہے دونوں کو..مگربدنامی ہوجائے گی. پھرایک دوسرے کیساتھ رہ رہے ہوتے ہیں.مولاناصاحب فرماتے ہیں کہ ہمیں ایسے لوگ ملے پانچ وقت کے نمازی،تہجدپڑھنے والا سب نیکی کرنے والا خودا س نے مجھے کہاکہ آج سے 8سال پہلے میں نے اپنی بیوی کوطلاق دیدی تھی غصے میں آکراوربعدمیں ہم نے سوچاکہ وہ بھی نیک ہے اورمیں بھی نیک ہوں بدنامی ہوجائے گی بچے خراب ہوجائیں گےتوبس پھرہم نے دوبارہ اکٹھارہناشروع کردیانہ رشتہ داروں کوپتانہ علماسے پوچھاپھرمیاں بیوی اکٹھارہ رہے ہیں ایک گھرایک کمرے میںتویہ زناکررہے ہیں.قربان جائیں اس سچے نبیؐ کی مبارک زبا ن پرچودہ سوسال پہلے وارن کردیاتھاکہ قرب قیامت میں لوگ اپنی بیویوں سے زناکریں گے