بھنڈی کا پانی تین دن میں شوگر ختم

تین سے پانچ دن میں ذیابیطس سے فوری نجات کیلئے ایک مجرب گھریلو نُسخہ پیش خدمت ہے بہت لوگوں نے آزمایا اور دُعائیں دیں۔ آپ بھی آزما کر دیکھئے۔ اور جو رزلٹ آپ کو ملیں اس پوسٹ کو جتنا ہوسکے شئیر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے۔تین عدد بھنڈیاں لیکر اُن کے سرے کاٹ دیں، اور ہر بھنڈی کو چھری سے ایک ایک چیرا لگا دیں تاکہ اُس کے اندر جو لیس ہوتی ہے وہ باہر نکلنی شروع ہوجائے۔ ا۔۔

۔ ب بھنڈیوں کوساری رات پانی کے ایک کپ میں رہنے دیں۔ صبح ناشتہ کرنے کے ایک گھنٹہ بعد بھنڈیا ں کپ سے نکال دیں اور پانی پی لیں۔ بس اتنا سا کام ہے اس کے ایک گھنٹے بعد اپنی شوگر چیک کریں۔ جن کی 300 سے اُوپر شوگر رہتی ہے وہ اس پانی کو تین دن پئیں تو بتاتے ہیں۔۔جاری ہے۔ کہ شوگر 150 سے بھی کم ہوجاتی ہے۔ اللہ نے بھنڈی کے پانی میں انسولین کےمعجزاتی خواص رکھے ہیں۔

زنا کیا ہے؟ اور اس کی کتنی قسمیں ہیں

اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحبت ، ہم بستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کی ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلکہ چھونا بھی زنا ایک حصہ ہے اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے.ذنا کو اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے، اور اسلام نے ایسا کرنے والو کی سزا دنیا میں ہی رکھی ہے. اور مرنے کے بعد اللہ اس کی سخت سزا دے گا۔زنا کے بارے میں کچھ حدیث اور قرآن کی آیت دےكھيےحضرت محمد (صلی الله عليه وسلم) نے عليه وسلم) نے فرمایا مومن (مسلم) ہوتے ہوئے تو کوئی زنا کر ہی نہیں سکتا(بخاری شریف) الله قرآن میں فرماتا ہے اور (دیکھو) زنا کے قریب بھی نہ جانا، کورس وہ بے حیائی ہے۔

اور بری راہ ہے(القرآن)ذنا کی سزا اور عذاب: اگر زنا کرنے والے شادی شدہ ہو تو کھلے میدان میں پتھر مارمار کر مار ڈالا جائے اور اگر کنوارے ہو تو 100 کوڑے مارے مارے جائے. (بخاری شریف)ج کل دیکھنے میں آیا ہے کی اس گناہ میں بهت سے لوگ شامل ہیں، خاص کر کے اس بازار میں جہاں عورتیں اور مرد جاتے ہیں کس کا ہاتھ کس کو لگ رہا ہے کہا لگتا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا، چاہے لڑکا ہو یا لڑكيا اور پھر اس گناہ کو کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو بڑی شان سے سناتے ہیں، بلکہ ان کو بھی ایسا کرنے کی رائے دیتے ہیں۔اگر کوئی اکیلے لڑکے یا لڑکی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا گناہ اس کے ماں باپ کو بھی ملتا ہے کیونکہ انہوں نے ان کی جلدی شادی نہیں کی جس کی وجہ سے وہ غلط کام کرنے لگے،اور شادی کی عمر ہونے کے بعد بھی ماں باپ ان کی شادی نہ کرے تو اللہ ناراض ہوجاتا ہے اور ان کے گھر کی برکت ختم ہوجاتی اور اللہ ان ماں باپ سے قیامت کے دن حساب مانگے گا۔

غضب خدا کا! تعریف کا ایک جملہ اور سامنے والے کے آدھے گھنٹے پر مشتمل دلائل و جوابات، یہ شرک نہیں تو اور کیا ہے؟ بندہ اپنی ہی ذات کو پوج رہا ہے، خدا کےلیے تو کام تھا ہی نہیں۔ کسی نے ذرا سی بلاگ یا تقریر کی تعریف کردی اور حضور کا خمار اترنے ہی میں نہیں آتا۔ آپ کا گھر بڑا شاندار ہے… جی، میں نے مکمل سروے کیا، بہترین زمین، بہترین گاریگر، اسپین کی ٹائل، اٹلی کا فرنیچر… لو جی! ہوگئی اسٹوری شروع… اب بھگتیے! آپ کی ٹریننگ بڑی پُراثر تھی۔ میری تو آنکھوں میں پانی آگیا… جی، ہزاروں لوگ گزر چکے ہیں۔ زندگیوں میں انقلاب، معرفت الہٰی کے روشن باب، امتِ مسلمہ کے درد میں اربوں کے پراجیکٹس… ایک اور اسٹوری شروع۔

تین دن سورۃ کوثر کا یہ وظیفہ کرلیں

سورة کوثر کا بہت ہی پاورفل وظیفہ آپ نے یہ وظیفہ صرف تین دن کرنا ہے ۔ صرف تین دنوں کے اندر اندرآپ کی جو بھی بڑی سے بڑی حاجت ہوگی جس بھی مقصد کے لیے آپ اس وظیفے کو پڑھوگے آپ کا وہ مقصد انشا اللہ تین دنوں کے اندر اندر پورا ہو جائے گا آپ کا مقصد کوئی بھی ہو آپ کی حاجت جتنی مرضی بڑی ہو آپ کی پریشانی کوئی بھی ہوآپ جس بھی مقصد کے لیے اس وظیفے کو پڑھو گے آپ کا وہ مقصد انشا ء اللہ تین دنوں کے اندر پورا ہو جائے گا آپ نے یہ وظیفہ جمعرات جمعہ ہفتہ تین دن یہ وظیفہ کرنا ہے۔ انشا ء اللہ یہ وظیفہ کرنے سے آپ کی ہر جائز حاجت آ پ کی بڑی سے بڑی پریشانی ختم ہو جائے گی ۔

آپ چاہے یہ وظیفہ اپنی شادی کے لیے کر رہے ہیں آ پ کی شادی نہیں ہے ہو رہی اس کے لیے کر رہے ہیں آپ کو اس میں بھی کامیابی ملے گی ۔آپ بے رازگار ہیں آپ کو کوئی کام نہیں ہے مل رہا آپ اس کے لیے بھی یہ وظیفہ کر سکتے ہیں ۔آپ کے دشمن ہیں ان سے چھٹکارا پانے کے لیے بھی آپ یہ وظیفہ کر سکتے ہیں ۔کسی کے دل میں آپ اپنی محبت پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ تو اس عمل کے لیے بھی آپ یہ وظیفہ کر سکتے ہیں ۔آپ کی کوئی بھی حاجت ہو کوئی بھی مقصد ہو آپ اس وظیفے کے زریعے آپ اپنا مقصد پورا کر سکتے ہو آپ نے صر ف تین دن اس وظیفے کو کرنا ہے ۔اور انشاء اللہ تین دن کے اندر اندر آپ کا ہر مقصد پورا ہو جائے گا ۔اس وظیفہ کو شروع کرنے سے پہلے درود شریف لازم پڑھیں ۔آپ نے وظیفہ کس طرح کرنا ہے ۔ آپ نے سورة کوثر پڑھنی ہے ۔ سورة کوثر قرآن پاک کی سب سے چھوٹی سورت ہے ۔یہ سورت قرآن پاک کے تیسرے پارے میں ہے ۔آپ نے جمعرات کو یہ وظیفہ کرنا ہے ۔ اور ہفتے ہو یہ وظیفہ ختم کرنا ہے ۔تین دن آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے ۔جمعرات کے دن آپ نے نماز فجر کے بعداول اخر درود شریف پڑ ھ لیں اس کے بعد آپ 129 دفعہ سورة کو ثر کو پڑھ لیں ۔ صبح نماز فجر پڑھ کر اس وظیفے کو کریں پھر نماز عصر پڑھ کر اس وظیفے کو کریں ۔ پہلے اول آکر درود پڑھ لیں پھر درمیان میں 129 دفعہ سورة کوثر پڑھ لیں ۔اور ایسی طرح ہی آپ نے نمازعشا ء کے بعدایسی طرح روٹین سے آپ یہ وظیفہ کریں گے ۔ ایسی طرح تینوں دن آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے ۔ آپ کی کوئی بھی حاجت ہے کوئی بھی مقصد ہے اس کو زہن میں رکھ کے آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے ۔

وظیفہ کرتے وقت پورا دھیان آپ کا وظیفے پر ہونا چاہیے ۔دل میں کوئی بھی شک نہیںلے کے آنا پورا دھیان وظیفے پر رکھ کے آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے انشا ء اللہ اس وظیفے کو کرنے کے بعد آپ کی اللہ سے مانگی ہر دعا قبول ہوگی ۔اس وظیفے کو پڑھنے کی ہر بھائی بھن کو اجازت ہے ۔اس کو پڑھنے کی کیسی سے بھی اجازت لینے کی ظرورت نہیں ہے ۔اور صدقہ جاریا سمجھ کر اس وظیفے کو لازمی شیئر کریں

رات کو سونے سے پہلے یہ سورۃ 1 بار پڑھ لیں

سورۃ الملک کی فضیلت میں جامع ترمذی: (2891) میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قرآن مجید کی ایک سورت ہے جس کی تیس آیات ہیں، وہ آدمی کی اس وقت تک سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے، اور وہ ہے سورت ” تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ المُلْكُ”) اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں حسن قرار دیاہے۔ ترمذی (2892) میں ہی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک سورۃ سجدہ اور سورۃ الملک نہ پڑھ ، اس روایت کو بھی البانی نیچے ست پڑھیں۔

رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ ایسے ہی نسائی (10479) میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: (جو شخص سورۃ الملک ہر رات پڑھے تو اللہ تعالی اس سے عذاب قبر کو روک لے گا، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسے مانعہ [یعنی روکنے والی]کہتے تھے، اور یہ قرآن مجید میں ایک ایسی سورت ہے جو اسے ہر رات پڑھ لے تو وہ بہت زیادہ اور اچھا عمل کرتا ہے) اس حدیث کو بھی البانی رحمہ اللہ نے صحیح ترغیب و ترہیب میں حسن کہا ہے۔ مقصود اور مطلوب یہاں پر حدیث سے ظاہر ہونے والا معنی ہے کہ یہ فضیلت اس شخص کے بارے میں ہے جو یہ سورت پڑھتا ہے، تاہم اس بارے میں مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (26240) اور سوال نمبر: (191947) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔ لہذا پڑھنے کی بجائے صرف سننے والا شخص قاری یعنی اس سورت کی قراءت اور پڑھنے والا نہیں ہو سکتا، اگرچہ قرآن مجید کی تلاوت سننا ایک شرعی اور مطلوب عمل ہے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ صرف سننے والے کو بھی پڑھنے والے کے برابر اجر ملے گا، ہمیں سننے اور پڑھنے والے دونوں کے اجر میں برابری کی کوئی دلیل نہیں ملی۔ اس بنا پر جو شخص ان احادیث میں وارد فضیلت پانا چاہتا ہے تو وہ سورت پڑھے محض سننے پر اکتفا مت کرے۔ ور اگر وہ پڑھ نہیں سکتا، تاہم قاری کی آواز کے ساتھ ساتھ یا پیچھے پیچھے پڑھ سکتا ہے۔

کیونکہ اب تو ملٹی میڈیا کے ذریعے ایسا ممکن ہے اور ریکارڈ شدہ تلاوتیں بھی موجود ہیں جس میں آپ ایک ہی آیت کو بار بار بھی سن سکتے ہیں ، تو اگر ایسا ممکن ہو تو یہ ان شاء اللہ اچھا ہو گا، اور اس طرح سن کر پڑھنے والا بھی قاری اور پڑھنے والوں میں شامل ہو جائے گا، بلکہ امید ہے کہ اتنی مشقت اٹھانے پر اسے اضافی اجر بھی ملے۔ اور اگر کسی کیلیے اس انداز سے پڑھنا بھی ممکن نہیں ہے یا انتہائی زیادہ مشکل پیش آتی ہے تو وہ حسب استطاعت سننے پر اکتفا کرتا ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ اسے پڑھنے والے کے اجر سے محروم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی پڑھنے کے بدلے وارد فضائل سے محروم کیا جائے گا؛ کیونکہ اس نے اپنی بساط بھر کوشش کی ہے۔ انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں ، اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنا مسلمان کیلئے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کی دنیا میں آزمائش کیلئے اس کے سامنے کئی امتحان رکھے وہیں ان امتحانات سے سرخرو ہونے کا طریقہ بھی بتایا۔ بیماری ہو یا کوئی اور مسئلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی فرمائی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ نے دنیا میں کوئی ایسا مرض نہیں اتارا جس کا علاج نہ اس کے ساتھ پیدا فرمایا ہو سوائے مرض الموت کے ہر مرض کی شفا رکھ دی گئی ہے۔

ہماری روز مرہ میں اتار چڑھائو معمول کا حصہ ہیں۔ معاشی پریشانیاں بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو آزمانے کا سبب ہیں تاکہ بندہ اللہ کی ہر حالت میں شکر گزاری کا عادی ہو اور اچھے اور برے دونوں حالات کو رب کی طرف سے سمجھ کر شکر ادا کرے۔اللہ تعالیٰ کے 99اسم مبارک ہیں ۔ ہر اسم مبارک اپنے اندر الگ تاثیر کا حامل ہے۔اسلم مبارکہ کے وظائف جہاں روحانی معاملات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں وہیں دنیاوی مشکلات سے بھی چھٹکارا دلانے کا باعث ہیں۔ گھریلو اور کاروباری زندگی میں اتار چڑھائو آنے کی صورت میں نماز عشا کے بعد اول و آخر درود شریف کے ساتھ تین سو تین بار ’’یا مجیب یا وہاب‘‘پڑھیں اور بعد از تسبیح اسم مبارکہ اللہ سے نہایت خلوص اور درمندانہ انداز میں اپنی مشکلات دور اور حاجات پوری فرمانے کی دعا کریں انشااللہ آپ کی دعا اللہ تعالیٰ کےہاں مقبول ٹھہرے گی۔نوٹ: وظیفے کیلئے ہی صرف نماز نہ پڑھیں بلکہ پنج گانہ نماز کو اپنی عادت بنائیں۔ حضرت علیؓ کا قول مبارک ہے کہ جب میری خواہش ہوتی ہے کہ میں اپنے رب سے گفتگو کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں اور جب میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ میرا رب مجھ سے گفتگو فرمائے تو میں تب بھی نماز پڑھتا ہوں۔ حدیث شریف کا مفہوم ہےکہ ایککافر اور مسلمان میں فرق صرف نماز کا ہے۔ نماز نہ صرف خود ادا کریں بلکہ گھر میں خواتین اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کریں۔ نمازنہ صرف ذہنی، قلبی سکون کا باعث ہے بلکہ گھر کے ماحول کو بھی پرسکون اور رحمتوں کے نزول کا باعث بنتی ہے۔

اخروٹ چور

ایک شخص نے ڈرائی فروٹ کی دُکان ڈال رکھی تھی۔ ایک شرارتی بچہ روزانہ وہاں جاتا اورایک اخروٹ اُٹھا کر بھاگ جاتا۔ لیکن اُس شخص کو اُس بچے کی یہ عادت کبھی بُری نہیں لگی تھی، کیونکہ وہ سوچتا تھا کہ اُس کے پاس منوں، ٹنوں کے حساب سے اخروٹ پڑے ہوئے ہیں، اگر اُن میں سے ایک آدھ اخروٹ یہ بچہ لے بھی جاتا ہے تو کونسا نقصان ہو جائے گالیکن ایک روز یہ شخص اپنی دُکان کی

خرید و فروخت اور نفع نقصان کا حساب لگا رہا تھا تواچانک اُس نے سوچا کہ ایک کلو میں 25 سے 30 اخروٹ آتے ہیں اور فی کلو اخروٹ کی قیمت 350 روپے بنتی ہے تو اِسکا مطلب ہے کہ وہ بچہ مذاق مذاق میں اُسے ہر مہینے 350 روپے کا نقصان دے کر چلا جاتا ہے۔ چنانچہ اِس خیال کے
اِس خیال کے آتے ہی اُس نے ارادہ کیا کہ آئندہ وہ بچے کو اخروٹ اُٹھانے نہیں دےگا۔عزیز دوستو! ہماری زندگی بھی ڈرائی فروٹ کی اُس دکان کی مانند ہے جس میں ہمارا ایک ایک لمحہ اُن اخروٹ کی

مثال ہے جو بچہ مذاق مذاق میں لے جاتا ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جو لمحے ہم خدا اور رسول ﷺ کی نافرمانی میں یونہی مذاق مذاق میں گزار دیتے ہیں، وہ کتنے قیمتی ہوتے ہیں، جو ایک بار چلے گئے تو پھر کبھی لوٹ کر واپس نہیں آئیں گے۔ لمحۂ فکریہ تو یہ ہے کہ اُس ڈرائی فروٹ والےشخص کو تو اپنے اخروٹ ضائع ہونے کا احساس ہو گیا تھا، لیکن ہمیں اپنی زندگی کے قیمتی اور انمول

لمحوں کے ضائع ہونے کا نہ تو احساس ہوتا ہے اور نہ ہی افسوس۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہماری زندگی میں سے اگر چند لمحے ضائع بھی ہو گئے تو کیا نقصان ہو جائے گا، ہم اللہ سے معافی مانگ کر پھر سے نیک بن جائیں گے۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ موت کبھی بھی، کہیں بھی اور کسی بھی حال میں آ سکتی ہے۔اللہ سے دُعا ہے کہ موت سے پہلے پہلے ہمیں اپنے تمام معاملات کو درست کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین

خدا کا خوف

ایک آدمی گھر پھر دیر سے آیا، آدھی رات تھی اور پڑوسیوں کے کتے بھونک بھونک کر ہلقان ہو رہے تھے۔ اس نے ہمیشہ کی طرح بہت پی رکھی تھی اور اسے اپنا کوئی ہوش نہیں تھا۔ اس کی بیوی نے روز کی طرح آج بھی اس کے لیے دروازہ کھولا اور اس کو بیڈ تک سہارا دے کر لے گئی۔ بیڈ پر لے کر گئی تو اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی شراب کی بوتل زمین پر دے ماری، بیوی نے دیکھا کہ نیچے

سارے کانچ ہی کانچ پھیل گئے ہیں، لیکن اس نے اپنے خاوند کو کچھ نہ بولا بلکہ اس کے جوتے اتارے، پھر اس کے کپڑے اتارے اس کے اوپر کنبل ڈالا اور اس کو سلا دیا۔ہمیشہ کی طرح وہ بے سدھ پڑا سو رہا تھا۔ بیوی نے جھاڑو لا کر نیچے سے کانچ صاف کیے کانچ صاف کیے اور راستے میں کمرے تک آتے ہوئے اس کے شوہر نے جو کچھ بھی توڑا تھا، وہ ہر چیز کو اٹھا کر گھر صاف کرنے لگی۔ صبح جب اس کا شوہر اٹھا تو وہ دعا کرنے لگا کہ آج بیگم لڑائی نہ کرے کیونکہ وہ ہر روز اتنی لڑائی کرتی تھی اپنے خاوند کے شراب پینے اور دیر سے گھر آنے پر، اور سونے پر سہاگہ، آج رات تو اس نے کتنے برتن اور شراب کی بوتل بھی توڑ دی تھی۔ وہ ڈرتا ڈرتا ناشتے کی میز پر پہنچا تو دیکھا کہ صرف اس کا بیٹا بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔ اس نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ ماما کدھر ہیں؟وہ بولا کہ وہ بازار گئی ہیں گروسری کے لیے اور جاتے وقت آپ کے لیے آپ کا پسندیدہ ناشتہ بنا گئیں تھیں اور آپ کے لیے یہ سٹکی نوٹ چھوڑ گئی تھیں۔ اس نے حیرت سے سٹکی نوٹ پڑھا تو لکھا تھا: میری جان میں ابھی آدھے گھنٹے تک واپس آرہی ہوں، آپ ناشتہ کریں۔ آپ کا پسندیدہ ناشتہ بنایا ہے آج۔ آئی رئیلی لوو یو اے لاٹ۔ وہ حیران و پریشان تھا کہ یہ کیا مجرا ہے، بیگم آج لڑ کیوں نہیں رہی اور اتنا پیار

کیوں جتا رہی ہے، اس نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ تمہاری ماما کی طبیعت تو ٹھیک ہے، پاگل تو نہیں ہو گئی، میرے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیوں کر رہی ہے آج؟بیٹا ہنسا اور بولا: پاپا۔۔ ماما نے مجھے ابھی جانے سے پہلے بتایا تھا کہ رات کو جب وہ آپ کے جوتے، موزے اور کپڑے اتار رہی تھیں کہ آپ پر سکون ہو کر سو سکیں تو آپ نے اتنی پی رکھی تھیکہ آپ نے ماما کو پہچانا ہی نہیں اور آپ نے ان کو بولا کہ او بی بی میں کوئی ایسا ویسا آدمی نہیں ہوں، خدا کا خوف کرو، پیچھے ہٹو، میں شادی شدہ ہوں۔ ماما آج صبح سے گانے گنگناتی پھر رہی تھیں۔ یہ سن کر باپ بھی ہنسنے لگ گیا۔ اگر آپ اپنے رشتے ٹھیک سے نبھائیں گے تو آپ چھوٹی غلطیاں کر سکتے ہیں لیکن کبھی کسی بڑی غلطی کا ارتکاب آپ کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اپنی ترجیحات ٹھیک سے متعین کریں اور رشتوں کی قدر کریں۔ جب آپ کی ترجیحات کی درست تقرری ہوتی ہیں تو آپ کی عادتیں خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہیں اور آپ کے گھر والے آپ سے پیار کرنے لگتے ہیں اور آپ کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے بھی پیار کرنے

لگتے ہیں، پر یاد رہے کہ کسی بھی رشتے میں بے وفائی نا قابل معافی جرم ہے۔

پیشاب کے بعد منی کے قطرے

دوستو آج میں آپ لوگوں کو مثانے کی کمزوری کا علاج بتانے والا ہوں جیس کی وجہ سے آپ لوگوں کو پیشاب کے ساتھ ساتھ منی اور پیشاب کے قطرے آتے ہیں اور آپ کو مباشرت کے وقت بھی ایسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے آپ لوگ مثانے کی کمزوری کا شکار ہو جائے ہیں

بے ارادہ پیشاب کا خارج ہونا یا پیشاب کا نکل جانا اس بیماری میں مثانہ میں پیشاب روکنے کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے

اسباب

پیشاب کے بلا ارادہ خارج ہونے کے اسباب میں کمزوری مثانہ یا خراش مثانہ مثانہ کا ڈھیلا ہو جانا جنرل کمزوری یا فالج ہونا ہے بچوں میں پیٹ کے کیڑے ،کانچ نکلنا وغیرہ بھی اسباب ہیں ذیابیطس اور مزاج کا سرد ہونا یا سخت سردی کے موسم میں بھی تکلیف ہوتی ہے ۔

علامات

پیشاب بلا ارادہ قطرہ قطرہ خارج ہوتا رہتا ہے مریض سویا ہوا ہو یا جاگ رہا ہو پیشاب جتنا گردوں سے آتا ہے اتنا ہی خارج ہو جاتا ہے بس مریض کو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے کپڑے بھیگ رہے ہوں ۔

نسخہ خاص

فلفل سیاہ دو گرام زنجیل 3 گرام کندر، سعد کوفی ،جفت بلوط ،قسط شیریں ،مصطگی رومی ،فلفل دراز ہر ایک 5 گرام شہد خالص 7 گرام

ترکیب تیاری ۔

تمام ادویات کو نہایت باریک کر کے شہد میں ملا کر حبوب بنا لیں ۔

ترکیب استعمال ۔

چھ گرام صبح اور شام گائے کے دودھ کے ساتھ استعمال کریں ۔

دوستو اب میں آپ لوگوں کو پیشاب کے ساتھ منی جو آتی ہے اس کا علاج بتانے والوں ہوں اوپر دیا گیا علاج بے وقت پیشاب کا تھا اور وہ بھی مثانے کی کمزوری کی وجہ سے ہی ہوتا ہے .

پیشاب کے قطروں کا علاج

سفوف مولف 5 گرام

کشتہ قلعی 2 چاول معجون آردخرما 12 گرام ملا کر کھائیں پیشاب کے ساتھ قطرے آتے ہوں تو اس کے لئے بہترین علاج ہے ۔

پیشاب کے قطرے آنے کا اسباب ۔

کشرت احتلام ، قبض و گیس ، بادی اشیاء کا زیادہ استعمال ، مشت زنی ، کثرت مباشرت وغیرہ

پرہیز ۔

جن حضرات کو پیشاب کے ساتھ قطرے آتے ہوں ان کو ان چیزوں سے پرہیز کرنا چائیے ثقیل اور بادی اشیاء ، گرم اور تلی ہوئی اشیاء اور فحش مواد ۔

جائے نماز کا کنارہ

کیا نماز میں پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھنے سے نماز ہو جاتی ہے؟ موضوع: عبادات | نماز سوال نمبر 468:اکثر لوگ نماز میں پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھتے ہیں، شرع کی رو سے کیا ایسے نماز ادا کرنا جائز ہے؟ جواب: اگر چادر یا شلوار، پتلون وغیرہ کو اَسراف اور تکبر سے زمین پر گھسیٹا جائے تو حرام ہے کیونکہ یہ مال ضائع کرنے اور دوسروں کو کمتر اور خود کو بڑا سمجھنے کے مترادف ہے، اور اگر عرف کی وجہ سے کپڑے لٹکائے جائیں تو حرام نہیں۔ اس سوال کا جواب واضح کرنے کے لیے ذیل میں نفسِ مضمون سے متعلقہ چند احادیث درج کی جاتی ہیں : 1۔ حضرت جابر بن

سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے کوئی نصیحت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کبھی کسی کو گالی نہ دینا۔ حضرت جابر بن سلیم کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی آزاد، غلام، اونٹ، بکری یعنی کسی بھی مخلوق کو گالی نہیں دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’کبھی کسی نیکی کو معمولی نہ سمجھنا اگرچہ اپنے بھائی سے مسکرا کر بات کرنا ہی کیوں نہ ہو! بیشک یہ بھی نیکی ہے۔ اپنا تہبند آدھی پنڈلی تک اونچا رکھو، نہیں تو ٹخنوں تک۔ اور خبردار چادر زمین پر نہ گھسیٹنا کہ یہ غرور و تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں۔ اور اگر کوئی شخص تجھے گالی دے اور ایسی غلط بات کا تجھے عار دے جو اُس کے علم میں تیرے اندر موجود ہے، تو اُسے اُس بار پر عار نہ لگا جو تیرے علم میں اُس کے اندر موجود ہے۔ اس کے گناہ کا وبال اُسی پر ہوگا۔‘‘ ابو داؤد، السنن، کتاب الحمام، باب ما جاء في إسبال الإزار، 4 : 56، رقم : 4084 2۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُیَ. لَاءَ، لَمْ يَنْظُرِ اﷲُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. ’’جس نے غرور و تکبر سے اپنا کپڑا (تہبند، چادر، شلوار، پتلون، جبہ وغیرہ) گھسیٹا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔‘‘ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میری چادر (تہبند) کا ایک کنارہ میں پکڑے رکھتا ہوں (ورنہ لٹک جاتا ہے)؟ فرمایا :

نیم گرم پانی پینے سے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟

اگر آپ روزانہ صبح خالی پیٹ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے آپ کو کیا فائدے ملتے ہیں۔زیادہ تر لوگ ایک کپ چائے یا کافی سے کرتے ہیں ۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دن کا آغاز ایک گلاس نیم گرم پانی سے کرتے ہوں گے۔ اس بات سے تو کافی واقف ہیں کے صبح نرما پیٹ پانی پینے کے بہت سارے فوائد ہیں۔ پانی کا استعمال صحت مند زندگی کے لیے بہت ظروری ہوتا ہے۔ہماری ساری باڈی کو پروپر پانی کی مقدار کی ظرورت ہوتی ہےروزانہ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال خالی پیٹ آپ کےڈائیزیشن کومزیدویڈیودیکھنےکےلیےنیچےویڈیوپرکلک کریں

کو بھوسٹ کرتا ہے ۔ اور آپ کے میٹابولیزم کوسپیڈ اپ کرتا ہے ۔ اور جسم میں ٹوکسن کو نکالنے میں بھی بہت زیادہ ظروری ہوتا ہے ۔آج میں آپ کو نیم گرم پانی پینے کے فوائد کے بارے میں بتا رہا ہوں۔ جب ہم بے توکی چیزیں کھا لیتے ہیں تو ہمارے باڈی کے اندر بہت زیریلے معدے پیدا ہوا جاتے ہیں ۔ صبح ایک گلاس نیم گر م پانی کا استعمال آپ کے اس مسئلے سے چھٹکارا دلا سکتا ہے ۔ایک گلاس پانی ٹھنڈا استعمال کرنے کی بجائے آپ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال کریں تو اس سے آپ کانظام حاضمہ بہتر ہوتا ہے ۔اور آپ کے جسم سے فاضل معدوں کو با ہر نکالنے میں مدد ملتی ہے۔صبح اٹھتے وقت جسم میں کمزوری کی وجہ سے محسوس ہونے والے درد کو ختم کرنے کے لیے ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔وزن کو کم کرنے کے لیے اور جسم سے چربی کوپگلانے لیے نیم گرم پانی بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔نیم گرم پانی آپ کی بوڈی میں ٹمپریچر کو بیلینس رکھتا ہے ۔اس سے آپ کا جسم ایکٹیو رہتا ہے ۔نیم گرم پانی خون میںپیدا ہونے والے زریلے معدوں کو بھی باہر نکالتا ہے ۔اور جسم میں نئے ریڈ سیلز مدد گا ہوتا ہے ۔اور جسم میں آکسیجن بلڈ کو بڑھاتا ہے جس سے آپ کی باڈی اینر جائز رہتی ہے ۔پانی آپ کے سکن کو فریش رکھنے کے ساتھ ساتھ سکن سیلز کو بھی پروموٹ کرتا ہے ۔اور آپ کی سکن کو سخت مند رکھنے میں بھی بہت مدد گار ہوتا ہے ۔نیم گرم پانی کا استعمال صبح خالی پیٹ کرنے سے آپ کے ریڈبلڈ سیلز کی تعداد برھتی ہے ۔اور جسم میں آکسیجن بلڈ کو اگر آپ روزانہ صبح خالی پیٹ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال کرتے ہیں

تو اس سے آپ کو کیا فائدے ملتے ہیں۔زیادہ تر لوگ ایک کپ چائے یا کافی سے کرتے ہیں ۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دن کا آغاز ایک گلاس نیم گرم پانی سے کرتے ہوں گے۔ اس بات سے تو کافی واقف ہیں کے صبح نرما پیٹ پانی پینے کے بہت سارے فوائد ہیں۔ پانی کا استعمال صحت مند زندگی کے لیے بہت ظروری ہوتا ہے ۔ہماری ساری باڈی کو پروپر پانی کی مقدار کی ظرورت ہوتی ہے ۔روزانہ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال خالی پیٹ آپ کے ڈائیزیشن کو بھوسٹ کرتا ہے ۔ اور آپ کے میٹابولیزم کوسپیڈ اپ کرتا ہے ۔ اور جسم میں ٹوکسن کو نکالنے میں بھی بہت زیادہ ظروری ہوتا ہے ۔آج میں آپ کو نیم گرم پانی پینے کے فوائد کے بارے میں بتا رہا ہوں۔ جب ہم بے توکی چیزیں کھا لیتے ہیں تو ہمارے باڈی کے اندر بہت زیریلے معدے پیدا ہوا جاتے ہیں ۔ صبح ایک گلاس نیم گر م پانی کا استعمال آپ کے اس مسئلے سے چھٹکارا دلا سکتا ہے ۔ایک گلاس پانی ٹھنڈا استعمال کرنے کی بجائے آپ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال کریں تو اس سے آپ کانظام حاضمہ بہتر ہوتا ہے ۔اور آپ کے جسم سے فاضل معدوں کو با ہر نکالنے میں مدد ملتی ہے۔صبح اٹھتے وقت جسم میں کمزوری کی وجہ سے محسوس ہونے والے درد کو ختم کرنے کے لیے ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔وزن کو کم کرنے کے لیے اور جسم سے چربی کوپگلانے لیے نیم گرم پانی بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔نیم گرم پانی آپ کی بوڈی میں ٹمپریچر کو بیلینس رکھتا ہے ۔اس سے آپ کا جسم ایکٹیو رہتا ہے ۔نیم گرم پانی خون میںپیدا ہونے والے زریلے معدوں کو بھی باہر نکالتا ہے ۔اور جسم میں نئے ریڈ سیلز مدد گا ہوتا ہے ۔اور جسم میں آکسیجن بلڈ کو بڑھاتا ہے جس سے آپ کی باڈی اینر جائز رہتی ہے ۔

پانی آپ کے سکن کو فریش رکھنے کے ساتھ ساتھ سکن سیلز کو بھی پروموٹ کرتا ہے ۔اور آپ کی سکن کو سخت مند رکھنے میں بھی بہت مدد گار ہوتا ہے ۔نیم گرم پانی کا استعمال صبح خالی پیٹ کرنے سے آپ کے ریڈبلڈ سیلز کی تعداد برھتی ہے ۔اور جسم میں آکسیجن بلڈ کو بڑھاتا ہے جس سے آپ کی باڈی اینر جائز رہتی ہے۔ جس سے آپ کو بیماریوں سے لرنے میں مدد ملتی ہے ۔پانی سخت مند زندگی کے لیے بہت ظرور ہے ۔ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال اپنی ڈیلی روٹین میں شروع کر لیجئے۔

جا اللہ تجھے کعبہ کا امام بنائے

امام کعبہ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس ایک واقعہ بیان کرتے ہیں‘ایک لڑکا تھا،اس کی عمر یہی کوئی نو،دس برس رہی ہوگی.وہ بھی اپنی عمر کے لڑکوں کی طرح شریر تھابلکہ شاید اس سے کچھ زیادہ ہی‘ یہ وہ دور تھا،جب نہ آج کی طرح بجلی کے پنکھے تھے،نہ گیس کے چولہے،گھر بھی مٹی کے، چولہا بھی مٹی کا ہوا کرتا تھا،اور نہ اس زمانہ میں دولت کی اس قدر ریل پیل تھی،جو آج دیکھی جارہی ہے ‘ایک دن اس کے گھر مہمان آگئے، اس کی ماں نے اپنے مہمانوں کے لئے کھانا تیار کیا، یہ لڑکا بھی قریب ہی دوستوں کے ہمراہ کھیل رہا تھا، ماں نے جیسے ہی سالن تیار کیا،بچہ نے شرارت سے اس سالن میں مٹی ڈال دی۔ اب آپ خود ہی اس ماں کی مشکل کا اندازہ کر سکتے ہیں،غصے کا آنا بھی فطری تھا‘غصہ سے بھری ماں نے ماں نے صرف اتنا کہاکہ جا تجھے اللہ کعبہ کا امام بنادے ‘اتنا سنا کر ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس رو پڑے اور کہنے لگے‘آپ جانتے ہو کہ یہ شریر لڑکا کون تھا؟پھر خود ہی جواب دیتے ہیں‘وہ شریر لڑکا ”میں“ تھاجسے آج دنیا دیکھتی ہے کہ وہ کعبہ کا امام بنا ہوا ہے۔

ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں،2010 تک کے عالمی سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ امام کعبہ عبد الرحمان السدیس اس وقت پوری دنیا کے مسلمانوں کی مقبول ترین شخصیت ہیں.اللہ نے ان کو دنیا کی سب سے بڑی سعادت عطا کی کہ ان کو اپنے گھر کا امام بنادیا،اب نہ صرف وہ امام کعبہ ہیں، بلکہ حرمین کی نگران کمیٹی کے صدر بھی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس یہ واقعہ کئی بار سنا چکے ہیںاور جب بھی سناتے ہیں،جذباتی ہوجاتے ہیں. ابھی پچھلے ماہ یہ واقعہ سنا کر انہوں نے ماؤں کو اس جانب توجہ دلائی ہے کہ وہ اولاد کے معاملے میں ذرا دھیان دیںاور غصہ یا جذبات سے مغلوب ہوکر اپنی اولاد کو برابھلا نہ کہہ بیٹھیںکیونکہ ماؤں کے لب کی ہلکی سی جنبش اولاد کا نصیب لکھ دیتی ہے.توجہ طلب بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں والدین، بالخصوص مائیں اولاد کی غلطیوں پر ان کو برا بھلا کہہ دیتی ہیں اور ان کے لئے ہدایت اور صالح بننے کی دعا کرنے بجائے بددعا کر بیٹھتی ہیں. آپ سب یاد رکھئے کہ ایمان اور صحت کے بعد اس دنیا کی سب سے بڑی نعمت ”اولاد“ ہے حتیٰ کہ قرآن میں اولاد کو”آنکھوں کا قرار“ کہا گیا ہے،زندگی کی رونق مال یا مکان یا خوبصورت لباس سے نہیں ہے،بلکہ زندگی کی تمام تر بہاریں اور رونقیں اولاد کے دم سے وابستہ ہیں،یہی وجہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور زکریا علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبروں نے ”نبوت“ کی سعادت رہنے کے باوجود اللہ سے اولاد مانگیںلہٰذا ہر اس عورت کا جوماں ہے، فرض بنتا ہے کہ اپنے بچوں کی قدر کریں،اور ہمیشہ ان کے لئے دعا کرتے ہیں،بچے تو بچے ہی ہوا کرتے ہیں،وہ شرارت نہ کریں تو کیا بوڑھے شرارت کریں؟۔

کبھی بچوں کی شرارت سے تنگ آکر ان کو برا بھلا مت کہیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں پچھتانا پڑے‘اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے منع کیا ہے،ہم یہاں حدیث کا مفہوم ذکرکررہے ہیں‘اپنے لئے،اپنے بچوں کے لئے،اپنے ماتحت لوگوں کے لئے اللہ سے بری (غلط) دعا نہ مانگو، ہوسکتا ہے کہ جب تم ایسا کررہے ہو،وہ وقت دعاؤں کے قبول کر لئے جانے کا وقت ہو‘ماں باپ کے منہ سے نکلے جملے کبھی اولاد کا مقدر لکھ دیتے ہیں.اسی لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اپنی اولاد کو عزت دواور ان کی قدر کروکیونکہ وہ تمہارے بعد تمہارا نشان بن جاتے ہیں.(یعنی والدین کی وفات کے بعد اولاد کے دم سے ان کا نام باقی رہتا ہے)اگر آپ کو امام حرم کا واقعہ اچھا لگا ہو،اور آپ مناسب سمجھیں تو اسے ان تمام خواتین سے جو “ماں “ہیں،شیئر کریں،ممکن ہے کہ کوئی ایک ہی نصیحت قبول کرلے۔