پاگل ملنگ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی ملکیت یعنی اپنے ملک کی سیر کو نکلا۔ وہ اپنی رعایا کی خبر لینا چاہتا تھا۔ دورے کے دوران اس کی نظر ایک ملنگ پر پڑی جو راستے میں بیٹھا تھا اور ایک دری اور ایک پرچ کے علاوہ اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ بادشاہ نے مزید نوٹ کیا کہ اس پرچ میں بھی صرف چند چھولے پڑے تھے پر وہ ملنگ مسکرا رہا تھا۔ ملنگ کی مسکراہٹ میں اتنا شدیدا طمینان اور سکون ظاہر ہو رہا تھا کہ بادشاہ حیران رہ گیا خیر وہ آگے بڑھ گیا۔ دوسرے دن پھر بادشاہ کی نظر اس پر پڑی اور وہ اسی طرح خوش باش۔ بادشاہ کی پالکی پھر بھی آگے بڑھ گئی۔ تیسرے دن جب

بادشاہ کا گزر اس مقام سے ہوا اور پھر اس غریب کو اتنا مطمئن دیکھا تو اب بادشاہ اس حد تک تجسس کا شکار ہوا کہ پالکی رکوا دی اور نیچے اتر کر اس درویش کے پاس چلا گیا۔ اسے بتایا کہ ملک کا بادشاہ ہوں اور تین دن سے تیری مسکراہٹ اور مفلسی کا یکجا ہونا مجھے ہرگز ہضم نہیں ہو رہا۔ آخر ایسا کیا ہے تمہارے پاس جو تمہیں خوشی دیتا ہے؟ میرے پاس پورے ملک میں سب سے زیادہ دولت ہے مگر میں پرسکون نہیں ہوں۔ کیا تمہارے پاس پوشیدہ دولت ہے؟ درویش نے نفی میں سر ہلایا۔ بادشاہ نے پوچھاکہ پھر کیا تمہارا خاندان ہے یا گھر والے جو تم سے نہایت رغبت رکھتے ہیں؟ درویش نے بولا جی نہیں میں بالکل تنے تنہا ہوں، میرا کوئی نہیں۔۔میرے پاس ان چھولوں کے سوا کھانے کو کچھ اور نہیں۔ بادشاہ بہت حیران ہوا اور آخری سوال کیا کہ کیا کہ پھر کیا تمہیں اللہ نے قابل فخر صحت سے نوازہ ہے جو تم خوش رہتے ہو؟ ملنگ بولا ہا ہا ہا! ہرگز نہیں میرے آدھے دانت ٹوٹ کر گر چکے ہیں اور ٹھنڈ سے میری ہڈیاں درد کرتی ہیں۔بادشاہ نے پوچھا کہ او بھائی صاحب پھر کیوں سکون سے بیٹھے ہو؟ ملنگ بولا: اللہ پر یقین رکھو، اس پر توکل کرو۔ اس نے تمہیں جس حال میں، حالات میں اور جس بھی مشکل میں ڈالا وہ اس کا فیصلہ ہے، وہ تمہاری نشونما کے لیے ضروری ہے۔ اس کو پتہ ہے کہ تمہارے اندر کیا کمی کجی ہے جو تمہیں دور کرنے کی ضرورت ہے، وہ تمہیں اس آگ میں ڈال کر سونا بنائے گا۔ صبر، شکر، اللہ کی رضا میں رضا مندی۔۔ایسے سوچو اور اپنے حال کو ایسے ہی تسلیم کرو تو تمہیں کسی شے کی کمی محسوس نہیں ہوگی۔ رزق اس نے دینا ہے وہ دے گا!۔۔مجھے روز کے چھولے مل جاتے ہیں۔

حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ’’آپ ﷺ کی زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا؟‘‘حضورﷺ نے فرمایا

زیرو پوائنٹ (جاوید چوہدری)  والدہ نے سات دن دودھ پلایا‘ آٹھویں دن دشمن اسلام ابو لہب کی کنیز ثوبیہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا‘ ثوبیہ نے دودھ بھی پلایا اور دیکھ بھال بھی کی‘ یہ چند دن کی دیکھ بھال تھی‘ یہ چند دن کا دودھ تھا لیکن ہمارے رسولؐ نے اس احسان کو پوری زندگی یاد رکھا‘ مکہ کا دور تھا تو ثوبیہ کو میری ماں میری ماں کہہ کر پکارتے تھے‘ ان سے حسن سلوک بھی فرماتے تھے‘  67  ان کی مالی معاونت بھی کرتے تھے‘ مدنی دور آیا تو مدینہ سے ابولہب کی کنیز ثوبیہ کیلئے کپڑے اور رقم بھجواتے تھے‘ یہ ہے شریعت۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضاعی ماں تھیں‘ یہ ملاقات کیلئے آئیں‘

دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور میری ماں‘ میری ماں پکارتے ہوئے ان کی طرف دوڑ پڑے‘ وہ قریب آئیں تو اپنے سر سے وہ چادر اتار کر زمین پر بچھا دی جسے ہم کائنات کی قیمتی ترین متاع سمجھتے ہیں‘ اپنی رضاعی ماں کو اس پر بٹھایا‘ غور سے ان کی بات سنی اور ان کی تمام حاجتیں پوری فرما دیں‘ یہ بھی ذہن میں رہے‘ حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘ فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘ اپنے ہاں قیام کی دعوت دی‘   حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘ یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘ یہ ہے شریعت۔13 جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے کے عوض رہا کیا گیا‘ حضرت زید بن ثابتؓ کو عبرانی سیکھنے کا حکم دیا‘ آپؓ نے عبرانی زبان سیکھی اور یہ اس زبان میں یہودیوں سے خط و کتابت کرتے رہے‘ کافروں کا ایک شاعر تھا‘ سہیل بن عمرو۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں بھی کرتا تھا اور توہین آمیز

شعر بھی کہتا تھا‘ یہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا‘ سہیل بن عمرو کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا‘ حضرت عمرؓ نے تجویز دی‘ میں اس کے دو نچلے دانت نکال دیتا ہوں‘ یہ اس کے بعد شعر نہیں پڑھ سکے گا‘ تڑپ کر فرمایا ’’ میں اگر اس کے اعضاء بگاڑوں گا تو اللہ میرے اعضاء بگاڑ دے گا‘‘ سہیل بن عمرو نے نرمی کا دریا بہتے دیکھا تو عرض کیا ’’ مجھے فدیہ کے بغیر رہا کر دیا جائے گا‘‘ اس سے پوچھا گیا ’’کیوں؟‘‘ سہیل بن عمرو نے جواب دیا ’’ میری پانچ بیٹیاں ہیں‘ میرے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں‘‘ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن عمرو کو اسی وقت رہا کر دیا‘ یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے‘ سہیل بن عمرو شاعر بھی تھا اور گستاخ رسول بھی لیکن رحمت اللعالمینؐ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا‘ یہ پانچ بچیوں کے کفیل کو قید میں رکھیں یا پھر اس کے دو دانت توڑ دیں‘ یہ ہے شریعت ۔غزوہ خندق کا واقعہ ملاحظہ کیجئے عمرو بن عبدود مشرک بھی تھا‘ ظالم بھی اور کفار کی طرف سے مدینہ پر حملہ آور بھی ۔ جنگ کے دوران عمرو بن عبدود مارا گیا‘ اس کی لاش تڑپ کر خندق میں گر گئی‘ کفار اس کی لاش نکالنا چاہتے تھے لیکن انہیں خطرہ تھا‘ مسلمان ان پر تیر برسادیں گے‘ کفار نے اپنا سفیر بھجوایا‘ سفیر نے لاش نکالنے کے عوض دس ہزار دینار دینے کی پیش کش کی‘ رحمت اللعالمینؐ نے فرمایا ’’میں مردہ فروش نہیں ہوں‘ ہم لاشوں کا سودا نہیں کرتے‘ یہ ہمارے لئے جائز نہیں‘‘ کفار کو عمرو بن عبدود کی لاش اٹھانے کی اجازت

دے دی ‘ خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تورات کے نسخے پڑے تھے‘ تورات کے سارے نسخے اکٹھے کروائے اور نہایت ادب کے ساتھ یہ نسخے یہودیوں کو پہنچا دیئے اور خیبر سے واپسی پر فجر کی نماز کیلئے جگانے کی ذمہ داری حضرت بلالؓ کو سونپی گئی‘حضرت بلالؓ کی آنکھ لگ گئی‘ سورج نکل آیا تو قافلے کی آنکھ کھلی‘ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا ’’بلال آپ نے یہ کیا کیا‘‘ حضرت بلالؓ نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ﷺ جس ذات نے آپؐ کو سلایا‘ اس نے مجھے بھی سلا دیا‘‘ تبسم فرمایا اور حکم دیا ’’تم اذان دو‘‘ اذان دی گئی‘ آپؐ نے نماز ادا کروائی اور پھر فرمایا ’’تم جب نماز بھول جاؤ تو پھر جس وقت یاد آئے اسی وقت پڑھ لو‘‘ یہ ہے شریعت۔حضرت حذیفہ بن یمانؓ سفر کر رہے تھے‘ کفار جنگ بدر کیلئے مکہ سے نکلے‘ کفار نے راستے میں حضرت حذیفہؓ کو گرفتار کر لیا‘ آپ سے

پوچھا گیا‘ آپ کہاں جا رہے ہیں‘ حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا ’’مدینہ‘‘ کفار نے ان سے کہا ’’ آپ اگر وعدہ کرو‘ آپ جنگ میں شریک نہیں ہو گے تو ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘ حضرت حذیفہؓ نے وعدہ کر لیا‘ یہ اس کے بعد سیدھے مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ گئے‘ مسلمانوں کو اس وقت مجاہدین کی ضرورت بھی تھی‘ جانوروں کی بھی اور ہتھیاروں کی بھی لیکن جب حضرت حذیفہؓ کے وعدے کے بارے میں علم ہوا تومدینہ بھجوا دیا گیا اور فرمایا ’’ہم کافروں سے معاہدے پورے کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہیں‘‘ نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے عیسائی پادریوں کو نہ صرف ان کے روایتی لباس میں قبول فرمایا بلکہ انہیں مسجد نبویؐ میں بھی ٹھہرایا اور انہیں ان کے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت بھی تھی‘ یہ عیسائی وفد جتنا عرصہ مدینہ میں رہا‘ یہ مسجد نبویؐ میں مقیم رہا اور مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرتا رہا‘ ایک مسلمان نے کسی اہل کتاب کو قتل کر دیا‘ آپؐ نے مسلمان کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ مسلمان قتل کے جرم میں قتل کر دیا گیا‘ حضرت سعد بن عبادہؓ نے فتح مکہ کے وقت مدنی ریاست کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا‘ یہ مکہ میں داخل ہوتے وقت جذباتی ہو گئے اور انہوں نے حضرت ابو سفیانؓ سے فرمایا ’’ آج لڑائی کا دن ہے‘ آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا‘‘ رحمت اللعالمینؐ نے سنا تو ناراض ہو گئے‘ ان کے ہاتھ سے جھنڈا لیا‘ ان کے بیٹے قیسؓ کے سپرد کیا اور فرمایا ’’نہیں آج لڑائی نہیں‘ رحمت

اور معاف کرنا کا دن ہے‘‘۔ مدینہ میں تھے تو مکہ میں قحط پڑ گیا‘ مدینہ سے رقم جمع کی‘ خوراک اور کپڑے اکٹھے کئے اور یہ سامان مکہ بھجوادیا اور ساتھ ہی اپنے اتحادی قبائل کو ہدایت کی ’’مکہ کے لوگوں پر برا وقت ہے‘ آپ لوگ ان سے تجارت ختم نہ کریں‘‘۔ مدینہ کے یہودی اکثر مسلمانوں سے یہ بحث چھیڑ دیتے تھے ’’نبی اکرم ﷺ فضیلت میں بلند ہیں یا حضرت موسیٰ ؑ ‘‘ یہ معاملہ جب بھی دربار رسالت میں پیش ہوتا‘ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں سے فرماتے ’’آپ لوگ اس بحث سے پرہیز کیا کریں‘‘۔ ثماثہ بن اثال نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا اعلان کر رکھا تھا‘ یہ گرفتار ہو گیا‘ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی‘ اس نے انکار کر دیا‘ یہ تین دن قید میں رہا‘ اسے تین دن دعوت دی جاتی رہی‘ یہ مذہب بدلنے پر تیار نہ ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا‘ اس نے راستے میں غسل کیا‘ نیا لباس پہنا‘ واپس آیا اور دست مبارک پر بیعت کر لی۔ ابو العاص بن ربیع رحمت اللعالمین ؐکے داماد تھے‘ رسول اللہ ﷺکی صاحبزادی حضرت زینبؓ ان کے عقد میں تھیں‘ یہ کافر تھے‘ یہ تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس مکہ جا رہے تھے‘ مسلمانوں نے قافلے کا مال چھین لیا‘ یہ فرار ہو کر مدینہ آگئے اور حضرت زینبؓ

کے گھر پناہ لے لی‘ صاحبزادی مشورے کیلئے بارگاہ رسالت میں پیش ہو گئیں‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ابوالعاص کی رہائش کا اچھا بندوبست کرومگر وہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ تم اس کیلئے حلال نہیں ہو‘‘ حضرت زینبؓ نے عرض کیا ’’ابوالعاص اپنا مال واپس لینے آیا ہے‘‘ مال چھیننے والوں کو بلایا اور فرمایا گیا’’یہ مال غنیمت ہے اور تم اس کے حق دار ہو لیکن اگر تم مہربانی کر کے ابوالعاص کا مال واپس کردو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا‘‘ صحابہؓ نے مال فوراً واپس کر دیا‘ آپ ملاحظہ کیجئے‘ حضرت زینبؓ قبول اسلام کی وجہ سے مشرک خاوند کیلئے حلال نہیں تھیں لیکن رسول اللہ ﷺنے داماد کو صاحبزادی کے گھر سے نہیں نکالا‘ یہ ہے شریعت۔ حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ’’ زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا‘‘ فرمایا‘ وہ دن جب میں طائف گیا اورعبدیالیل نے شہر کے بچے جمع کر کے مجھ پر پتھر برسائے‘ میں اس دن کی سختی نہیں بھول سکتا‘عبدیالیل طائف کا سردار تھا‘ اس نے رسول اللہ ﷺ پر اتنا ظلم کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جلال میں آ گئی‘ حضرت جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کیا‘ اگر اجازت دیں تو ہم اس پورے شہر کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دیں‘ یہ سیرت کا اس نوعیت کا واحد واقعہ تھا کہ جبرائیل امین نے گستاخی رسول پر کسی بستی کو تباہ کرنے کی پیش کش کی ہو اور عبدیالیل اس ظلم کی وجہ تھا‘ عبد یالیل ایک بار طائف کے لوگوں کا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبویؐ میں اس کا خیمہ لگایا اور عبد یالیل

جتنے دن مدینہ میں رہا‘ رسول اللہ ﷺ ہر روز نماز عشاء کے بعد اس کے پاس جاتے‘ اس کا حال احوال پوچھتے‘ اس کے ساتھ گفتگو کرتے اور اس کی دل جوئی کرتے‘ عبداللہ بن ابی منافق اعظم تھا‘ یہ فوت ہوا تو اس کی تدفین کیلئے اپنا کرتہ مبارک بھی دیا‘ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور یہ بھی فرمایا‘ میری ستر دعاؤں سے اگر اس کی مغفرت ہو سکتی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ بار اس کیلئے دعا کرتا‘‘ یہ ہے شریعت۔ مدینہ کی حدود میں آپ کی حیات میں نو مسجدیں تعمیر ہوئیں‘ آپؐ نے فرمایا ’’تم اگر کہیں مسجد دیکھو یا اذان کی آواز سنو تو وہاں کسی شخص کو قتل نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں‘‘ جواب دیا ’’غصہ نہ کرو‘‘ وہ بار بار پوچھتا رہا‘ آپؐ ہر بار جواب دیتے ’’غصہ نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت اور اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا ’’ پیغمبرؐ اللہ کی بڑی رحمت ہیں‘ آپ لوگوں کیلئے بڑے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں‘ آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گردوپیش سے چھٹ جاتے‘‘ اور یہ ہے شریعت لیکن ہم لوگ نہ جانے کون سی شریعت تلاش کر رہے ہیں‘ ہم کس شریعت کا مطالبہ کر رہے ہیں‘ کیا کوئی صاحب علم میری رہنمائی کر سکتا ہے؟۔

مجھے شادی کا کوئی شوق نہیں

مجھے شادی کا کوئی شوق نہیں لیکن بابا اور آپ کا اصرار ھے تو ایک شرط پر راضی ہوں کون سی شرط؟میرے پاس میرے پھلے شوہر کی کچھ تصویریں ہیں جن کے بغیر میں نہیں رہ سکتی اور جن کے ساتھ شاید تم نہ رہ سکومجھے شرط منظور ہےان دونوں کا رشتہ طے ہوگیا اور وہ بھیگی پلکوں سے ماضی میں بھیگنے لگی آج سے کئی سال پہلے جب ایک خوبرو لڑکا اس کا رشتہ مانگنے اس کے گھر آیا تھا تو بابا نے کہا تھا میں رشتہ نہیں دے سکتا میری بیٹی اکلوتی ناز ونعم میں پلی بڑھی ہے۔ ذات بھی ہم سے کمتر ہے اورمالی حیثیت بھی لیکن اس نے کہا تھا میں آپ کی بیٹی کو بے انتہا چاہتا ہوں روٹی کی کمی شاید ہوجائے لیکن عزت اورمحبت کی کمی کبھی نہیں ہوگی بس اس کا یہی ایک جملہ تھا جس نے مجھے ڈھیر کردیا اوریوں میرے اصرارکی وجہ سے اس شرط پر اس کے ساتھ شادی ہوگئی کہ میں سسرال میں کسی کام

کوہاتھ نہیں لگاؤںگی بابا نے کہا تھا چارماسیاں رکھ لو تنخواہ میں دونگا لیکن میری بیٹی شہزادی ہے شہزادی بن کے رہے گی لیکن میرے سسرال والوں کو میرا شہزادی بننا پسند نہ آیا نکاح نامے میں شرائط کے باوجود میں کام کرنے لگی صرف اپنے ہم سفر کی خاطر کہ اس کے لئے کوئی مسئلہ نہ ہو اور اس کے گھر والے خوش رہ سکیں لیکن ادھر میرا کام بڑھتا ادھر میری ساس اورنندوں کے طعنے اور مار پیٹ بڑھتی گئی میرا کمسن بھولا شوہر میرے لئے ہر ایک سے گھر میں لڑتا رہا میری دفاع کرتا رہا کئی بار الگ ہوجانے کا سوچا لیکن اس کی والدہ اورگھروالے نہیں مانےمیں امیر گھر کی لڑکی راتوں کو روتی دن کو کام کرتی اور مجھے ٹوٹ کرچاہنے والا میرا شوہر دن بدن ٹوٹتا گیا اور پھر ایک دن اس نے خود کو جوڑا لیکن مجھے ہمیشہ کے لئے توڑ گیا خود توآزادہوا لیکن مجھے ہمیشہ کے لئے قید کرگیا۔ میری ساس، نندیں سسرال والے بات بے بات مجھے رلانے تڑپانے لگے اور میرا شوہر بے بسی کی آگ میں جھلستا رہ لیکن ایک دن ماں کے پاس آکے کہنے لگااماں آج تمھاری گود میں سررکھنے کوجی چاہتا ہے رکھ لوں- ماں کی گود میں اس نے ماں سے پوچھا ماں میری بیوی کوکیوں ستاتی ہیں آپ اورماں نے میری برائیاں شروع کردی تو اس نے کہا اگر میں مرجاؤں تو آپ میری بیوی کی جان چھوڑدینگی ؟اور اتنے میں جیب میں چھپائے پسٹل کونکال کر ماں کی گود میں رکھی اپنی کنپٹی پرگولی چلا دی- جس گود نے زندگی دی تھی میری خاطر اسی گود میں زندگی دے دی اس کا یہ

فیصلہ غلط تھا یا صحیح یہ تو بعد کی بات ہے لیکن مجھےآنسوؤں سے نجات دینے کے لئے شاید اس کے پاس یہی ایک راستہ تھاآج اس کو مرے ہوئے پانچ سال ہوچکے ہیں لیکن میں اس کی تصویروں کے سہارے آج بھی اس کے ساتھ ہی جی رہی ہوں میں۔ اب بھی اس کے گھر جاتی ہوں اس کی محبت کی خوشبو کو قید کرنے، اس کی یادوں کو سمیٹنے اور جہاں جہاں ہم ساتھ بیٹھے تھے وہاں بیٹھنےان پانچ سالوں میں بابا نے دوسری شادی کے لئے ان گنت اصرارکیا بے شماررشتے آئے لیکن میں اس کے حصار سے نکل نہ سکی آج میرے کزن اور بابا کی بے حد ناراضگی اور اصرارپر اپنے کزن سے کہہ رہی تھی مجھے شادی کا کوئی شوق نہیں لیکن بابا اور آپ کا اصرار ہے تو ایک شرط پر راضی ہوں اور میرے کزن نے شرط منظور کرلی یہ کوئی افسانہ یا فرضی کہانی نہیں حقیقت اورسچ ہے جس کا ایک کردار آج بھی دوسرے کردار کی تصویروں کے سہارے زندگی جی رہا ہے۔

ایک عورت تھی جس کا خاوند اُس سے بہت پیار کرتا تھا۔

ایک عورت تھی جس کا خاوند اُس سے بہت پیار کرتا تھا۔ اس عورت سے اُس کی خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیا کہ.. آیا وہ بہت لذیز کھانا پکاتی ہے؟ یا اس کا خاوند اس کے حسن و جمال پر فریفتہ ہے؟ یا وہ بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی خاتون رہی ہے؟ یا پھر اس کی محبت کا کوئی اور راز ہے؟ عورت نے یوں جواب دیا: خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔ عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہےاور اگر چاہے تو جہنم بنا دے۔ مت سوچیئے کہ مال و دولت خوشیوں کا سبب ہے۔ تاریخ میں کتنی ہی مالدار عورتیں ایسی

ہیں جن کے خاوند اُن سے کنارہ کش ہو گئے۔ نہ ہی بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی بہت بڑی خوبی ہے۔ کئی عورتوں نے دس دس بچے جنے مگر وہ اپنے شوہروں سے کوئی خصوصی التفات و محبت نہ پا سکیں بلکہ نوبت طلاق تک جا پہنچی. اچھا کھانا پکانا بھی کوئی خوبی نہیں ہے، سارا دن کچن میں کھانے پکانے کے باوجود بھی عورتیں خاوند کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں. تو پھر آپ ہی بتا دیں اس پُرسعادت اور مسرت بھری زندگی کا راز؟ اور آپ اپنے اورخاوند کے درمیان درپیش مسائل و مشکلات سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں؟ اُس نے جواب دیا: جس وقت میرا خاوند غصے میں آتا اور بلا شبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اُن لمحات میں (نہایت ہی احترام کیساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ احترام کےساتھ خاموشی یعنی آنکھوں سے حقارت اور طنزیہ پن نہ جھلکے۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال کو بھانپ لیتا ہے۔ تو آپ ایسے میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟ اُس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا، تم اُس سے فرار چاہتی ہو اور اُسکا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی. خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اُسے ناصرف سُننا بلکہ اُس سے اتفاق کرنا بھی اُتنا ہی اشد ضروری ہے۔

میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جاتی تھی، کیونکہ اس سارے شور، شرابے کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اُسے آرام کی ضرورت ہے۔ میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کاموں میں لگ جاتی، اور اپنے دماغ کو اُس جنگ سے دور رکھنے کی کوشش کرتی. تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اور بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟ اُس نے کہا: ہرگز نہیں، بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا اور خاوند سے تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دورُخی تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع میں اُس کیلئے یہ تکلیف دہ ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنے کی کوشش بھی کریگا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو اُس میں تم سے دو ہفتوں تک نہ بولنے کی استعداد پیدا ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔ خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اُس کیلئے ہوا کی مانند ہو. گویا تم وہ پانی ہو جس کو پی کر وہ زندہ رہ رہا ہو۔ باد صبا بنو باد صرصر نہیں..

اُس کے بعد آپ کیا کرتی تھیں؟ اُس عورت نے کہا: میں دو یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس یا پھر گرم چائے لے کر اُس کے پاس جاتی، اور اُسے نہایت سلیقے سے کہتی، لیجیئے چائے پیجیئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہو گا. میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھ رہا ہوتا تھا کہ کیا میں اُس سے ناراض تو نہیں ہوں۔ میرا ہر بار اُسے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔ اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویے کی معذرت کرتا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔ تو کیا آپ اُس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟ ہاں، بالکل. میں جاہل نہیں ہوں۔ کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھے غصے میں کہہ ڈالتا ہے اور اُن باتوں کا یقین نہ کروں جو وہ مجھے محبت اور پرسکون حالت میں کہتا ہے؟

تو پھر آپکی عزت نفس کہاں گئی؟ کیا عزت اسی کا نام ہے کہ تم غصے میں آئے ہوئے ایک شخص کی تلخ باتوں پر تو یقین کرکے اُسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنا لومگر اُس کی اُن باتوں کو کوئی اہمیت نہ دو جو وہ تمہیں پیار بھرے اور پرسکون ماحول میں کہہ رہا ہو! میں فوراً ہی اس غصے کی حالت میں دی ہوئی گالیوں اور تلخ و ترش باتوں کو بھلا کر اُنکی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی۔ جی ہاں، خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل میں موجود ہے مگر یہ راز اُسکی زبان سے بندھا ہوا ہے.

اِخلاص کسے کہتے ہیں۔۔۔

جُنید بغدادی کہتے تھے کہ میں نے اِخلاص ایک حجام سے سِیکھا۔ایک میرے اُستاد نے کہا کہ تُمہارے بال بہت بڑھ گئے ہیں اب کٹوا کے آنا۔پیسے کوئی تھے نہیں پاس میں، حجام کی دُکان کے سامنے پہنچے تو وہ گاہک کے بال کاٹ رھا تھا۔اُنہوں نے عرض کی چاچا اللہ کے نام پہ بال کاٹ دو گے۔یہ سنتے ہی حجام نے گاہک کوسائیڈ پر کیا اور کہنے لگا۔ پیسوں کے لیے توروز کاٹتا ھوں۔اللہ کے لیے آج کوئی آیا ھے۔ اب انُکا سر چُوم کے کُرسی پہ بٹھایا روتے جاتے اور بال کاٹتے جاتے۔حضرت جنید بغدادی نے سوچا کہ زندگی میں جب کبھی پیسے ھوئے توان کو ضرور کچھ دوں گا۔عرصہ گزر گیا یہ

بڑے صوفی بزرگ بن گئے۔ ایک دن ملنے کے لیے گئے واقعہ یاد دلایا اور کچھ رقم پیش کی۔تو حجام کہنے لگا جُنید تو اتنا بڑاصوفی ھوگیا تجھےاتنا نہیں پتا چلا کہ جو کام اللہ کے لیے کیا جائے اس کا بدلہ مخلوق سے نہیں لیتے۔۔!

کمبل سے پاﺅں باہرنکال کر سونے کے حیرت انگیز اثرات، ماہرین کی نئی تحقیق

کچھ افراد کی عادت ہوتی ہے کہ وہ دوران نیند اپنا ایک پاوں بستر سے باہر نکالے رکھتے ہیں جبکہ کچھ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہ دونوں پاوں ہی لحاف یا کمبل سے باہر رکھتے ہیں۔ یہ افراد ایسا کیوں کرتے ہیں، اس بارے میں تو خود ان کو بھی نہیں معلوم ہوتا ہے، البتہ وہ یہ ضرور جانتے ہیں کہ اس طریقے سے وہ زیادہ اچھی نیند سوتے ہیں اور اگر کوئی شخص ان کے پاوں پر کمبل یا لحاف ڈالے دے تو ان کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ سائنس نے اس کی وجہ ڈھونڈ نکالی ہے جو کہ خاصی دلچسپ ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ دراصل ایک پاوں بستر سے باہر رکھنے کی صورت میں جلد کے نیچے موجود خاص طرح کی خون کی

نالیاں متحرک ہوجاتی ہیں۔ یہ خون کی نالیاں جلد کی انتہائی اوپری سطح پر ہی ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ کمبل کے اندر موجود پاوں اور کمبل سے باہر موجود پاوں کے درجہ حرارت کو آسانی سے محسوس بھی کرسکتی ہیں۔ اسی درجہ حرارت کو محسوس کرتے ہوئے یہ متحرک ہوتی ہیں۔ جس وقت پاوں سے کمرے کی ٹھنڈی ہوا ٹکراتی ہے تو یہ نالیاں جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اچھی اور پرسکون نیند سونے کیلئے جسم کا درجہ حرارت کم ہونا بے حد ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوں ہی پاوں کے ذریعے جسم کو موصول ہونے والے سگنلز کی بدولت جسم کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے، ویسے ہی نیند آنا شروع ہوجاتی ہے۔اسی مرحلے کو ماہرین یوں بھی بیان کرتے ہیں کہ جس وقت دماغ تھک جاتا ہے اور آرام کا طلبگار ہوتا ہے تو یہ جسمانی افعال کو سست کرنے لگتا ہے، ساتھ ہی جسم کا درجہ حرارت بھی گرنے لگتا ہے اور نیند کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر آپ بھی نیند کی کمی کا شکار ہیں تو رات سونے سے قبل بستر سے اپنا ایک پاوں باہر رکھ کے سونے کی کوشش کیجئے گا، غالب امکان یہی ہے کہ آپ اچھی اور پرسکون نیند سوجائیں گے۔

میں جنازہ نہیں پڑھنے دوں گا جب تک میرے پیسے نہیں دے دیتے

ایک علاقہ میں ایک بابا جی کا انتقال ہو گیا ، جنازہ تیار ہوا اور جب اٹھا کر قبرستان لے جانے لگے تو ایک آدمی آگے آیا اور چارپائی کا ایک پاوں پکڑ لیا اور بولا کہ مرنے والے نے میرے 15 لاکھ دینے ہیں۔ پہلے مجھے پیسے دو پھر اس کو دفن کرنے دوں گا۔ اب تمام لوگ کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں، بیٹوں نے کہا کہ مرنے والے نے ہمیں تو کوئئ ایسی بات نہیں کی کہ وہ مقروض ہے، اس لیے ہم نہیں دے سکتے، متوفی کے بھائیوں نے کہا کہ جب بیٹے ذمہ دار نہیں تو ہم کیوں دیں۔ اب سارے کھڑے ہیں اور اس نے چارپائی پکڑی ہوئی ہے۔ جب کافی دیر گزر گئی تو بات گھر کی عورتون تک بھی پہنچ گئی۔ مرنے والے کی

اکلوتی بیٹی نے جب بات سنی تو فورا اپنا سارا زیور اتارا اور اپنی ساری نقد دقم جمع کر کے اس آدمی کے لیے بھجوا دی اور کہا کہ اللہ کے لیے یہ رقم اور زیود بیچ کے اس کی رقم رکھو اور میرے ابو جان کا جنازہ نہ روکو۔ میں مرنے سے پہلے سارا قرض ادا کر دوں گی۔ اور باقی رقم کا جلد بندوبست کر دوں گی۔ اب وہ چارپائی پکڑنے والا شخص کھڑا ہوا اور سارے مجمع کو مخاطب ہو کے بولا۔۔ اصل بات یہ ہے کہ میں نے مرنے والے سے 15 لاکھ لینا نہیں بلکہ اسکا دینا ہے اور اس کے کسی وارث کو میں جانتا نہ تھا تو میں نے یہ کھیل کیا۔ اب مجھے پتہ چل چکا ہے کہ اس کی وارث ایک بیٹی ہے اور اسکا کوئی بیٹا یا بھائی نہیں ہے۔ اب بھائی منہ اٹھا کے اسے دیکھ رہے ہیں اور بیٹے بھی۔ اس کہانی میں ایک سبق یہ ہے کہ بیٹی والے خوش نصیب ہیں۔ لہذا بیٹی کی پیدائش پہ خوش ہونا چاہیے نہ کہ غمگین۔ 2۔ بیٹیوں کی شریعت میں بہت فضیلت بیان کی گئی ہے

بیٹی قیمتی یا زمین؟ بیٹے نے لاجواب کردیا

بوڑھے باپ نے اپنے سب بیٹوں کو بلایا- سارے بیٹے آس پاس بیٹھ گئے- ایک نظر سب پر ڈالی اور کہنے لگا- “ میں اپنی زندگی گزار چکا ہوں٬ اس سے پہلے کہ آنکھیں بند ہوجائیں اپنی جائیداد تم میں تقسیم کر کے جاؤں گا“-“ سب کو اچھا خاصہ ملے گا مگر یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم اپنی بہنوں کو مجبور کرو کہ وہ اپنے حق سے دستبردار ہوجائیں — ورنہ —- “- “ ورنہ کیا ہوگا ابا جان “ سب سے چھوٹا بیٹا پوچھ بیٹھا-بوڑھے باپ کے چہرے پر کئی تلخ لہریں آئیں اور گزر گئیں٬ خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولا “ ورنہ تمہارے باپ کی زمین غیروں میں چلی جائے گی“-چھوٹا ذرا خودسر سا تھا پوچھنے لگا “

ابا جان بیٹی کو جائیداد سے حق دینا کا حکم تو خدا کا ہے ٬ کیا خدا کو یہ علم نہ تھا کہ بیٹی کو حصہ دینے سے زمین غیروں میں چلی جائے گی؟“ کمرے میں خاموشی چھا گئی- کسی کے کچھ بولنے سے پہلے وہ پھر بول اٹھا “ بیٹی کو زمین دیتے ہوئے آپ کو لگا کہ زمین غیروں میں چلی جائے گی مگر داماد کو بیٹی دیتے ہوئے آپ نے کیوں نہ سوچا کہ بیٹی غیروں میں چلی جائے گی“-

پہلی رات سے قبل یہ 3 با تیں ہمیشہ یا ر کھنا ورنہ آپ کی شادی ٹوٹ بھی سکتی ہے

شادی ایک نازک بندھن ہوتا ہے اور بعض اوقات لوگ انجانے میں کچھ ایسی باتیں کرجاتے ہیں جس سے اس کے ختم ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں،آئیے آپ کو چند ایسی باتوں کے بارے میں بتاتے ہیں جن سے ہرقیمت پر بچنا چاہیے۔ تنقید:-یہ انسانی فطرت ہے کہ اسے تنقید پسند نہیں ہوتی اور اگر کوئی ایسا کرے تو اسے کافی برا لگتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ شادی شدہ افراد ایک دوسرے کو بعض اوقات معمولی باتوں پر بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں،یہ تنقید کسی بھی صنف کی جانب سے کی جائے کافی برے نتائج لاتی ہے۔ اکثر جوڑے تنقید اور شکایت کی باریک لکیر میں تمیز نہیں کرپاتے اور

اپنی شادی شدہ زندگی برباد کربیٹھتے ہیں۔آپ کو چاہیے کہ اپنے جیون ساتھی کی تعریف کریں اور اگر اس سے کوئی غلطی ہوجائے تو اسے تنقید کانشانہ بنانے کی بجائے آرام سے سمجھائیں کہ یہ بات غلط ہے اور اسے اس طرح نہیں ہونا چاہیے۔ کسی بھی انسان کو اپنی توہین بالکل بھی پسند نہیں ہوتی۔اگر آپ اپنے جیون ساتھی کے ساتھ توہین والا رویہ اپنائیں گے تو یقین جانئے کہ اسے یہ بات نہ صرف اچھی نہیں لگے گی بلکہ اس کے دل میں آپ کے لئے عزت کم ہوتی جائے گی۔اگر آپ کے جیون ساتھی سے کچھ غلط ہوجائے تو اس انداز میں بات کیجئے کہ اسے محسوس نہ ہو کہ آپ اس کی توہین کررہے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنی لڑائیوں کو رشتے داروں کے سامنے طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بات چیت کے دوران کچھ ایس باتیں کہہ جاتے ہیں جو توہین کے زمرے میں آتی ہیں۔ توجہ سے نہ سننا:-اگر آپ کی کوئی بات نہ سنے تو یقیناًآپ کو برا لگتا ہے اسی طرح اگر آپ اپنے جیون ساتھی کی بات نہیں سنیں گے تو اسے بھی یہ بات بہت بری لگے گی۔ اسے محسوس ہوگا کہ جیسے وہ آپ کی زندگی میں بالکل بے معنی ہے اور یہ رشتہ اکتاہٹ اور کمزوری کا شکار ہونے لگے گا۔ جب بھی آپ کا جیون ساتھی کسی موضوع پر بات کرنے کی کوشش کرے تو اسے اہمیت دیں،اسے یہ

لگے کہ جیسے آپ کے لئے یہ تمام باتیں بہت اہم ہیں کہ اس طرح اسے اپنے ہونے کاخوشگوار احساس ہوگا اور آپ کا رشتہ مضبوط ہوگا۔ اپنی دنیا میں قید ہوجانا:-آپ اپنے کاموں میں ضرور صروف رہتے ہوں گے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی شادی شدہ زندگی کو ہی تباہ کرڈالیں اور اپنی ہی دنیا میں قید ہوکررہ جائیں۔ دفتر کا کام دفتر میں ہی اچھا لگتا ہے کیونکہ اگر آپ گھر میں بھی دفتر کو محو گفتگو بنائیں گے تو اس کا آپ کی شادی شدہ زندگی پر منفی اثر ہوگا۔جب گھر آئیں تو اپنا تمام وقت اپنے جیون ساتھی کو دیں اور یہ محسوس کروائیں کہ آپ کے لئے دنیا کا سب سے اہم کام اسے وقت دینا ہے۔

وہ ایک سبزی جس کا جوس نکال کر پئیں تو مردانہ کمزوری مکمل طور پر ختم ہوجائے، سائنسدانوں نے مردوں کو شاندار خوشخبری سنادی

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)کام کا بوجھ، ذہنی پریشانی اور دیگر کئی وجوہات ہیں جو مردوں میں جنسی کمزوری کا باعث بنتی ہیں اور وہ اپنی شریک حیات میں دلچسپی کھو بیٹھتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ازدواجی زندگی تباہی سے دوچار ہو جاتی ہے۔ کئی طرح کے مہنگے علاج بھی ایسے مردوں کے لیے اکثراوقات ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم اب ماہرین نے جنسی کمزوری سے نجات کا ایک آسان اور سستا علاج دریافت کر لیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ٹیکساس کے ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ ”مردانہ کمزوری کو دور کرنے کے لیے چقندر کا جوس بہترین چیز ہے۔ روزانہ اس کا

ایک گلاس پینے سے مردوں کو جنسی کمزوری سے نجات حاصل کرنے میں بے حد معاونت ملے گی۔“رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کی رکن مریسا پیئرکا کہنا تھا کہ ”چقندر کا جوس مردوں میں ٹیسٹاسٹرون نامی ہارمون کی مقدار بڑھاتا ہے۔ یہ ہارمون مردوں کی جنسی قوت کا تعین کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس جوس میں خوردنی نائٹریٹ کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے جس سے خون کی وریدیں کھلتی ہیں، نظام دوران خون بہتر ہوتا ہے اور اعضاءکو خون کی فراہمی بہتر ہونے سے قوت مخصوصہ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس میں وٹامنز اور منرلز بھی وافر پائے جاتے ہیں جو لوگوں کو چاک و چوبند اور توانا رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں