نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے سے پہلے 3 مرتبہ بستر جھاڑنے کا حکم کیوں دیا۔۔۔؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے سے پہلے 3 مرتبہ بستر جھاڑنے کا حکم کیوں دیا۔۔۔؟ سائنسدانوں نے تحقیق کی تو نتائج نے سب کو دنگ کر دیا، ایسی بات کہہ دی کہ آپ بھی بے اختیار سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو سے متعلق رہنمائی موجود ہے اور ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے 14 سو سال قبل جو سنت اختیار کی تھی اور ان پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا تھا آج سائنس بھی ان احکامات کو درست تسلیم کر رہی ہے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں سونے سے قبل باوضو ہونے کا حکم دیا تو وہیں نماز سے قبل دانتوں کو صاف

کرنے کا حکم بھی موجود ہے اور سائنس کہتی ہے کہ ایسا کرنے کہ ایسا کرنے سے انسان دانتوں کی بیماریوں کیساتھ ساتھ دل اور معدے کی مہلک بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور سنت سے یہ ثابت ہے کہ سونے سے قبل اپنے بستر کو تین بار جھاڑ لینا چاہئے۔ بظاہر تو ایسا نظر آتا ہے کہ اس حکم کا مقصد بستر پر کیڑے مکوڑوں یا کسی اور نقصان دہ چیز سے صاف کرنا ہے لیکن سائنسی تحقیق میں ایسا ہوشربا انکشاف ہوا ہے کہ آپ بھی دنگ رہ جائیں گے اور بے اختیار سبحان الله کہہ اٹھیں گے کہ کس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کریم نے 14 سو سال پہلے ہی اپنی امت کو بچاﺅ کی تدابیر بتا دیں۔ سائنس کے مطابق انسانی جسم میں میٹابولزم کا عمل 24 گھنٹے جاری رہتا ہے جس کے باعث ہر پل سینکڑوں نئے سیل بنتے اور پرانے ٹوٹتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سونے کے دوران جسم میں ٹوٹنے والے سیل بستر ہی پر گر جاتے ہیں جو انتہائی چھوٹے ہونے کے سبب نظر نہیں آتے۔ اگر بستر کو بغیر جھاڑے اس پرسونے کیلئے لیٹ جائیں تو یہ مردہ سیل جسم میں داخل ہو کر کئی مہلک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں اور سائنس نے بھی یہ ہی ثابت کیا ہے کہ ان مردہ سیلوں کو صاف کرنے کیلئے بستر کو کم از کم تین بار جھاڑنا لازمی ہوتا ہے اور ایسا کرنے سے خطرہ ٹل جاتا ہے۔

مرنے والے کی آنکھیں کیوں کھلی رہ جاتی ہیں؟ ایسا راز جس کا جواب اللہ کے رسولﷺ نے اپنی زندگی میں ہی دیدیا تھا

عموماََ مشاہدے میں آیا ہے کہ مرنے کے بعد میت کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں ۔ اس حوالے سے سائنسی توجیہات بھی پیش کی جاتی ہیں تاہم اس سوال کہ مرنے کے بعد میت کی آنکھیں کیوں کھلی رہ جاتی ہیں؟کا جواب خود سرور کونین ، والی دو جہان حضرت محمدﷺ نے دیتے ہوئے رب تعالیٰ کے اس راز سے قیامت تک آنے والے انسانوں کو آگاہ فرما دیا تھا ۔آپؐ نے فرمایا تھا کہ جب کوئی فوت ہوتا ہے تواسکی آنکھیں ایک ایسا منظر دیکھ رہی ہوتی ہیں جو زندوں کو نظر نہیں آتا۔ احادیث کی مستند کتابوں ابو مسلم اور ابن ماجہ کی روایات کے مطابق جب صحابی رسولؐ حضرت ابو سلمہؓ کا آخری وقت آیا تو رسول کریمؐ ان کی

عیادت کیلئے تشریف لائے وہ اس وقت نزع کے عالم میں تھے ، گھر میں ، گھر میں افسردگی کا ماحول تھا اور گھر کے ایک گوشے میں خواتین رو رہی تھیں۔ اس موقع پر آپؐ نے فرمایا میت کی جان نکل رہی ہوتی ہے تو اس کی نگاہیں پرواز کرنے والی روح کا پیچھا کرتی ہیں، تم دیکھتے نہیں کہ آدمی مر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں‘‘جب حضرت ابوسلمہؓ کا دم نکل گیا تو آپﷺ نے دست مبارک سے ان کی آنکھیں بند کر دیں۔ اس موقع پر آپ نے ابو سلمہؓ کے گھر کی خواتین جو رو رہی تھیں ان کو تلقین فرمائی کہ آپﷺ نے عورتوں کو تلقین کی کہ (میت پربین کرتے ہوئے) اپنے لیے بددعا نہیں، بلکہ بھلائی کی دعا ہی مانگیں، کیونکہ فرشتے میت اور اس کے اہل خانہ کی دعا یا بددعا پر آمین کہتے ہیں۔حضرت ابو سلمہؓ کی وفات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسلمہؓ کے لیے یوں دعا فرمائی’’ اے اللہ، ابوسلمہ کی مغفرت کر دے۔ ہدایت یافتہ افراد (اہل جنت) میں ان کا درجہ بلند کر دے۔ پس ماندگان میں ان کا قائم مقام ہو جا۔ اے رب العٰلمین، ہماری اور ان کی مغفرت کردے۔ قبر میں ان کے لیے کشادگی کر دے اور اسے منور کر دے ‘‘۔روایت میں آتا ہے کہ یہ حضرت ابو سلمہ ؓ ہی تھے کہ جن کی نماز جنازہ کے دوران رسول اللہﷺ نے پہلی بار 9تکبریں فرمائیں۔

زنا ایک قرض ہے

ایک بادشاہ کے سامنے کسی عالم نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ زانی کے عمل کا قرض اس کی اولاد یا اس کے اہل خانہ میں سے کسی نہ کسی کو چکانا پڑتا ہے اس بادشاہ نے سوچا کہ میں اس کا تجربہ کرتاہوں اس کی بیٹی حسن و جمال میں بے مثال تھی اس نے شہزادی کو بلا کر کہا کہ عام سادہ کپڑا پہن کر اکیلی بازار میں جاؤ اپنے چہرے کو کھلا رکهو اور لوگ تمہارے ساتھ جو معاملہ کریں وہ ہوبہو آکر مجھے بتاؤ شہزای نے بازار کا چکر لگا یا مگر جو غیر محرم شخص اس کی طرف دیکهتا وہ شرم و حیا سے نگاہیں جھکا لیتا کسی مرد نے اس شہزادی کے حسن و جمال کی طرف دھیان ہی نہیں دیا سارے شہر کا چکر لگا

کر جب شہزادی اپنے محل میں داخل ہو میں داخل ہو نے لگی تو راہداری میں کسی ملازم نے محل کی خادمہ سمجھ کر روکا گلے لگا یا بوسہ لیا اور بهاگ گیا شہزادی نے بادشاہ کو سارا قصہ سنایا تو بادشاہ روپڑا اور کہنے لگا کہ میں نے ساری زندگی غیر محرم سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کی ہے البتہ ایک مرتبہ میں غلطی کر بیٹها اور ایک غیر محرم لڑکی کو گلے لگا کر اس کا بوسہ لیا تھا میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو میں نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا. سچ ہے کہ زنا ایک قصاص والا عمل ہے جس کا بدلہ اداہوکر رہتا ہے. ( تفسیر روح المعاني )ہمیں اس واقعے سے عبرت حاصل کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ ہماری کوتاہی کا بدلہ ہماری اولادیں چکاتی پھریں جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی عورتیں پاکدامن بن کر رہیں اسے چاہئے کہ وہ غیر محرم عورتوں سے بے طمع ہوجائے اسی طرح جو عورتیں چاہتی ہیں کہ ہمارے خاوند نیکو کاری کی زندگی گذاریں بے حیائی والے کاموں کو چھوڑ دیں انہیں چاہئے کہ وہ غیر محرم مردوں کی طرف نظر اٹهانا بهی چھوڑ دیں تا کہ “پاکدامنی کا بدلہ پاکدامنی” کی صورت میں مل جائے..

.رہ گئی بات کہ اگر کسی نے پہلے یہ کبیرہ گناہ کیا ہے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے سچی توبہ کے ذریعے اپنے رب کو منائیں تاکہ دنیا میں قصاص سے بچ جائیں اور آخرت میں ذلت و رسوائی سے چھٹکارا پائیں… اللہ ہمیں شرم و حیا کی دولت سے مالا مال فرمائے آمیندن

اللہ کی آواز سننے کی پریکٹس کرنی چاہئے

ہمارے بابا سائیں نور والے فرماتے ہیں کہ اللہ کی آواز سننے کی پریکٹس کرنی چاہئے، جو شخض اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملا لیتا ہے، اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔ کسی نے بابا جی سے پوچھا کہ ”اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملانا بھلا کیسے ممکن ہے؟“ تو جواب ملا کہ ”انار کلی بازار جاؤ، جس وقت وہاں خوب رش ہو اس وقت جیب سے ایک روپے کا بڑا سکہ (جسے اس زمانے میں ٹھیپہ کہا جاتا تھا) نکالو اور اسے ہوا میں اچھال کر زمین پر گراؤ۔ جونہی سکہ زمین پر گرے گا، تم دیکھنا کہ اس کی چھن کی آواز سے پاس سے گزرنے والے تمام لوگ متوجہ ہوں گے اور پلٹ کر زمین کی طرف

دیکھیں گے، کیوں؟ اس لئے کہ ان سب کے دل اس سکے کی چھن کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ ہوئے ہیں۔ لہٰذا اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ یا تو تم بھی اپنا دل اس سکے کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کر لو یا پھر اپنے خدا کی آواز کے ساتھ ملا لو“ بابا جی کا بیان ختم ہوا تو نوجوانوں کے گروہ نے ان کو گھیر لیا اور سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ کسی نے پوچھا ” سر! ہمیں سمجھائیں کہ ہم کیسے اپنا دل خدا کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کریں کیونکہ ہمیں یہ کام نہیں آتا؟“ اشفاق صاحب نے اس بات کا بھی بے حد خوبصورت جواب دیا، فرمانے لگے”یار ایک بات تو بتاؤ، تم سب جوان لوگ ہو، جب تمہیں کوئی لڑکی پسند آ جائے تو تم کیا کرتے ہو؟ کیا اس وقت تم کسی سے پوچھتے ہو کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے؟ نہیں، اس وقت تمہیں سارے آئیڈیاز خود ہی سوجھتے ہیں، ان سب باتوں کے لئے تمہیں کسی گائڈینس کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ اس میں تمہاری اپنی مرضی شامل ہوتی ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ جب خدا کی بات آتی ہے تو تمہیں وہاں رہنمائی بھی چاہئے اور تمہیں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ خدا کے ساتھ اپنے آپ کو” ٹیون اپ “کیسے کرنا ہے؟

ابلیس کا خاندان

ابلیس کے والد کا نام چلیپا تھا اور کنیت ابو الغوی تھی۔ اس کے باپ چلیپا کاچہرہ ببر شیر جیسا تھا وہ نہایت قد آور اور بہادر تھا اور اس کا لقب شاشین تھا اسکی قوم اسے شاشین کے نام سے مخاطب کرتی تھی(جس کے معنی دل ہلادینے کے ہیں)۔شاشین کی تمام قوم پر دھاک بیٹھی ہوئی تھی اور قوم کا بچہ بچہ شاشین کا احترام کرتا تھا کیونکہ اس نے جنات کی بے تحاشہ قومیں مختلف فتوحات سےاپنے زیر کی تھیں۔ابلیس لعین کی والدہ کا نام تبلیث تھا اور اس کی والدہ کا چہرہ بھیڑیئے کی مادہ کی طرح تھا اور اسکا لقب زبی تھا وہ بھی اپنے شوہر کی طرح نہایت دلیر اور طاقت ور تھی اس نے بھی اپنے خاوند

کے ہمراہ بے تحاشہ جنگیں جیتی تھیں۔ اس حد تک بہادر تھی کہ ساری قوم جنات کے بچے بچے کی زبان پر تھا کہ تبلیث کے ہوتے ہوئے دنیا کی کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کرسکتی ہے۔ جنات قوم کی سرکشی جب حد سے بڑھ گئی جب جھگڑے فساد سے زمین لرز اٹھی تو آسمانوں سے فرشتوں کو حکم آگیا کہ جاو ان سرکش جنات کو مار پھینکو۔ بقول ابلیس کے کہ میری ماں تبلیث نے فرشتوں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے بہادری کے وہ جوہر دکھائے کے دیکھنے والے عش عش کراٹھے لیکن مشکل یہ تھی کے جن اور فرشتوں کا کوئی جوڑ نہیں تھا ۔اور خود میرا یعنی ابلیس لعین کا بھی یہ خیال تھا کہ اماں جان کی بعید از قیاس بہادری کے مقابلہ میں فرشتوں نے آکر سخت غلطی کی ہے اور انھیں بڑی عبرت ناک شکست ہوگی ۔لیکن اللہ جانے کیا ہوا کہ ہم کمزور پڑ گئے اور فرشتے ہم پر غالب آتے گئے ۔اس عجیب و غریب جنگ کا سماں کچھ ایسا ناقابل فہم تھا کہ ساری قوم حیرت میں تھی فرشتوں کا وار ہم پر خوب پڑرہا تھا لیکن ہمارا وار کچھ ایسا اوچھا اور بزدلانہ پڑ رہا تھا کہ ہمیں خود حیرت ہوتی تھی ۔ قوم جنات کا جو بچہ بچہ میری ماں اور باپ کی بہادری کے گن گاتا تھا آج انہی کو فرشتے دردناک طریقیوں سے مار رہے تھے۔اسی دوران میری والدہ اور میرے والد جنگ میں مارے گئے میں اس وقت شادی شدہ تھا میری ملکہ اور بیٹا مرّہ بھی مارے گئے ۔‘ چونکہ ابلیس کے والد کا چہرہ شیر کی طرح اور والدہ کا چہرہ بھیڑیئے کی طرح تھا لہٰذا علم قیافہ کی رُو سے ابلیس میں دونوں خصوصیات

ہیں یعنی وہ نہایت خود دارو سرکش اور مکار ہے ۔اور ساتھ ہی نہایت ،خود غرض،فریبی اور دھوکہ باز بھی ہے۔ فرشتوں اور قوم ابلیس جنات کے درمیان جو جنگ ہوئی تھی اس میں جو جنات قیدی بنائے گئے ان قیدیوں میں شہزادہ ابلیس بھی موجود تھا. فرشتے جب بار گاہ تعالی میں حاضر ہوئے تو ان کو حکم ہوا ا عزازیل کی بہترین تربیت کرو چناچہ فرشتوں نے ابلیس کی تربیت بہترین انداز سے کی۔ اللہ جل جلالہ کے کے رتبہ اور جاہ وجلال سے آشنا کیا گیا ۔عبادت اور ریاضت کے طریقے و آداب سمجھائے گئے۔(یہاں تک کہ پہلے آسمان والوں نے اس کو عابد کا کہا۔دوسرے آسمان والوں نے زاہد۔تیسرے آسمان والوں نے عارف ۔چوتھے آسمان والوں نے ولی۔پانچویں آسمان والوں نے تقی۔چھٹے آسمان والوں نے خاشع اور ساتویں آسمان والوں نے عزازیل کے لقب سے ملقب کیا) چند ہی عرصے میں یہ اپنی فطری تیزی و طراری کے سبب سب کچھ سیکھ گیا اور وہی فرشتے جو کبھی اس کے معلم و اتالیق تھے بحکم خداوندی علوم عالیہ میں امداد لینے لگے گے۔رفتہ رفتہ عزازیل اپنی قابلیت کے باعث فرشتوں کا استاد بن گیا۔(سبحان اللہ ۔قدرت بھی کیسے کیسے عجوبے پیش کرتی ہے )۔ ابلیس اپنی عبادت و زاہد میں اتنا مقرب ہوا کہ مختلف آسمانوں میں اسکے مختلف رتبے بنے اللہ تبارک تعالیٰ کا ہمیشہ سے ایک دستور ہے کہ وہ اپنی رائے کو سب سے الگ تھلگ رکھتے ہیں اور کسی کو بھی اس امر کی خبر نہیں ہو پاتی ۔اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’ میں جسے چاہتا ہوں عزت دیتا ہوں اور جسے چاہتا ہوں ذلت دیتا ہوں ۔ ‘‘ پیدائش آدم علیہ السلام اور خلافت الٰہی کا بیان ایک روز عزازیل اللہ تبارک تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوا جب ہفت افلاک کی سیر کرتا ہوا لوح محفوظ تک پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ لوح

محفوظ پر ایک عبارت لکھی ہوئی ہے۔ ’’ ہمارا ایک بندہ ایسا ہے جسے ہم انواع واقسام کی نعمتوں سے مالامال کریں گے اور زمین سے اس کو آسمان پر پہنچا دیں گے اور آسمان سے پھر اس کو جنت میں لے جائیں گے ۔اس کے بعد ہم ایک خاص کام پر اس کو مامور کریں گے لیکن وہ انکار کرے گا اور بغاوت پر آمادہ ہوجائے گا ۔ ‘‘ عزازیل اس عبارت کو پڑھ کر حیرت زدہ ہوا اور اپنے دل میں خیال کرنے لگا کہ ایسا احسان فراموش بھلا کون ہوگا۔دوبارہ عبارت پر غور کیا تو عبارت کے قریب ہی نہایت واضح لکھا ہوا نظر آیااعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم ۔ یہ پڑھ کر وہہ تقریبا دو ہزار سال تک روتا رہا اور خود پر ہی لعن طعن کرتا رہا کہ ایسا بد بخت کون ہو سکتا ہے جو رب کریم کا نافرمان نے؟ گھبرا کر بارگاہِ الٰہی میں حاضری دی اور بولا اے رب العالمین ! یہ شیطان الرجیم کون ہے کہ جس سے پناہ مانگنی چاہیئے ہے۔اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارے ایک بندہ ہے جوانواع واقسام کی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا لیکن ہمارے ایک حکم کو نہ ماننے کے باعث مردود بارگاہ ہوجائے گا ۔عزازیل نے عرض کی۔ بار الٰہا! میں اس ملعون کو دیکھنا چاہتا ہوں ۔اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا !سَوُفَ تَرَاہُ (تو جلد اسے دیکھے گا) عزازیل اسی سوچ و بچار میں ہزار ہا سال مبتلا تھا کہ اسے معلوم ہوا کے آدم علیہ السلام کا پتلہ تیار کیا جارہا ہے ۔اس پتلے کا سر مکہ معظمہ کی خاک ،گردن بیت المقدس کی مٹی۔سینہ عدن کی خاک سے اور پشت و شکم ہندوستان کی سرزمین کی مٹی سے،ہاتھ مشرق کی خاک اور پیر مغرب کی زمین سے تیار ہوں گے اور باقی گوشت پوست وغیرہ تمام زمین کی مجموعی خاک سے بنیں گے۔اور اس کے علاوہ اس میں آگ،پانی اور ہوا کو بھی شامل کیا جائے گا ۔(مختلف جگہوں کی مٹی

شامل کرنے کی حکمت یہ ہے کے اس پتلہ کی نسل مختلف شکلوں میں نمودار ہوسکے گی۔اور عناصر کے شامل کرنے کی حکمت یہ ہے کے اس اس پتلے کی نسل چہار طبائع کا حسین امتزاج ہوگی ۔کیونکہ ہرچہار عناصر میں سے ایک عنصر دوسرے عنصر کی مؤجودگی میں قائم رہ ہی نہیں سکتا مثلاً آگ اور پانی یکجا نہیں رہ سکتے اور مٹی اور ہوا یکجا نہیں رہ سکتے اور یہ قادرمطلق کا ہی کمال ہے جس نے ان چہار عناصر کو یکجا کر رکھا ہے ) اور یہ جامع العجائب والغرائب پتلہ صانع مطلق نے اپنے ہاتھ(جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) سے بنائے گا۔ پھر جب پتلے کو تیار کرلیا گیا تو پتلے کو زمین پر بھیج دیا گیا ۔عزازیل فوراً اس پتلے کو دیکھنے کے لیئے زمین پر پہنچا تاکہ دیکھ سکے کہ اس کی(External and Enternal Shape) اندرونی اور بیرونی ساخت کیسی ہے اور اس کے اندر کس قسم کیMechanism,Machineryیعنی نظام رکھا گیا ۔ سب سے پہلے عزازیل نے پتلے کو ٹھونک بجا کر دیکھا تو پتلے سے ایک بڑی ہی عجیب و غریب آواز پیدا ہوئی ۔جب بیرونی مشاہدے کے بعد عزازیل کسی بھی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکا تو اپنی مخصوص طاقتوں کے ذریعے پتلے کے اندر داخل ہوگیا۔ (شاید اسی لیئے کہا گیا ہے شیطان تمہاری رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے) تاکہ پتلے کا اندرونی مطالعہ کرسکے دوران سیر اس کو بہت ساری تیں معلوم ہوئیں اور عزازیل نے اپنی طویل عمر میں جو کچھ دیکھا تھا وہ سب اس پتلے میں مؤجود تھا چنانچہ جب وہ رگ رگ کی سیر کرتا ہوا قلب تک پہنچا تو قلب کچھ اس طرح بند کیا گیا تھا کہ اپنی مخصوص طاقتوں اور مخفی علوم جاننے کے باؤجود قلب کو نہ کھول سکا (شاید اسی لیئے کہا گیا ہے کہ لَا یَسَعُنِی اَرْضِی وَلَا سَمَائِی وَ یَسَعُنِی

قَلْبُ عَبْدِی الْمُؤمِنِ التَّقِیِّ ۔ ’’ میں کسی چیز میں نہیں سماتا لیکن مؤمن کا قلب ایسی جگہ ہے جہاں میں سما جاتا ہوں ‘‘ )اور نہ اس کے اندرونی حالات معلوم کرسکا کیونکہ خالق نے اسے سَر بہ مُہر(Sealed) کردیا تھا ۔پس عزازیل سمجھ گیا کہ اس پراسرار ڈبیہ میں کوئی خاص خزانہ چھپایا گیا ہے جسے مجھ سے پوشیدہ رکھنے کا مکمل انتظام کیا گیا ہے۔ ابلیس کو انسان پر کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ زبردستی اسے کھینچ کر اپنی راہ پر لے جائے۔ وہ صرف بہلانے پھسلانے سے کام لے سکتا ہے۔شیطان کے پانچ اہم ساتھی ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں 1۔ثبر:- اس کے اختیار میں مصیبتوں کا کاروبار ہے۔ جس میں لوگ ہائے واویلا کرتے ہیں۔ اور گریباں پھارتے ہیں منہ پر طمانچے مارتے ہیں اور جاہلیت کے نعرے لگاتے ہیں 2۔اعور:- یہ لوگوں کو بدی کا مرتک کرتا ہے اور اسے ان پر اچھا اور پسندیدہ کر کے دکھاتا ہے۔ 3۔مسوط :- یہ کزب اور دروغ پر مامور ہے۔جسے لوگ کان لگا کر سنں. تجسس کریں اور ادھی سن کر مزید اضافہ خود کر لیں.۔ یہ انسانوں کی شکل اپنا کر ان سے ملتا ہے۔ اور انہیں فساد برپا کرنے کی جھوٹی خبریں سناتا ہے۔ 4۔ داسم:- یہ آدمی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر والوں کے عیب دکھاتا ہے۔اور ان پر غضب ناک کرتا ہے۔ 5۔ زکنیور:- یہ بازاروں کا مختار ہے۔ بازاروں میں آکر یہ قسم قعم کیبدی اور بددیانتی کے جھنڈے گاڑتا ہے۔ غرض شیطان مردود نے کل مختار مالک سے دشمنی نبھائی اور یوں وہ مردود ٹھہرا۔ عزازیل_سے_شیطان_ابلیس_تک

نوجوان کی توبہ

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ ہے۔ آپ کی ایک شاگردہ جو باقاعدہ آپ کا درس سننے آتی تھی۔ نہایت عبادت گزار تھی۔ اس بے چاری کا جوانی میں خاوند چل بسا۔ اس نے دل میں سوچا! ایک بیٹا ہے اگر میں دوسرا نکاح کرلوں گی تو مجھے دوسرا خاوند تو مل جائے گا‘ لیکن میرے بچے کی زندگی برباد ہوجائے گی۔ اب وہ بچہ جوان ہونے کے قریب ہے۔ ’’یہی میرا سہارا سہی‘‘ لہٰذا اس عظیم ماں نے یہی سوچ کر اپنے جذبات کی قربانی دی۔وہ ماں گھر میں بچے کا پورا خیال رکھتی لیکن جب وہ گھر سے باہر نکل جاتا تو ماں سے نگرانی نہ ہوپاتی۔اب اس بچے کے پاس مال کی کمی نہ تھی۔

اٹھتی ہوئی جوانی بھی تھی یہ جوانی دیوانی مستانی ہوجاتی ہے چنانچہ وہ بچہ بری صحبت میں گرفتار ہوگیا۔ شباب اور شراب کے کاموں میں مصروف ہوگیا، ماں برابر سمجھاتی لیکن بچے پر کچھ اثر نہ ہوتا‘ چکنا گھڑا بن گیا‘ وہ اس کو حضرت حسن بصری کے پاس لے کر آتی‘ حضرت بھی اس کو کئی کئی گھنٹے سمجھاتے لیکن اس بچے کا نیکی کی طرف رجحان ہی نہیں تھا۔ حضرت کے دل میں بھی یہ بات آئی کہ شاید اس کا دل پتھر بن گیا ہے‘ مہر لگ گئی ہے بہرحال ماں تو ماں ہوتی ہے۔ ماں اسے پیار سے سمجھاتی رہی، میرے بیٹے نیک بن جاو ‘تمہاری زندگی اچھی ہوجائے گی۔کئی سال برے کاموں میں لگ کر اس نے اپنی دولت کے ساتھ اپنی صحت بھی تباہ کرلی اور اس کے جسم میں لاعلاج بیماریاں پیدا ہوگئیں‘معاملہ یہاں تک آپہنچا کہ اٹھنے کی بھی سکت نہ رہی اور بستر پر پڑگیا۔ اب اس کو آخرت کا سفر سامنے نظر آنے لگا‘ ماں نے پھر سمجھایا‘ بیٹا! تو نے اپنی زندگی توخراب کرلی‘ اب آخرت بنالے اور توبہ کرلے ‘اللہ بڑا غفور الرحیم ہے وہ تمہارے تمام گناہوں کومعاف کر دیگا۔ جب ماں نے سمجھایا اس کے دل پر کچھ اثر ہوا۔کہنے لگا! ماں میں کیسے توبہ کروں؟ میں نے بہت بڑے بڑے گناہ کیے ہیں‘ ماں نے کہا بیٹا حضرت سے پوچھ لیتے ہیں‘ بیٹے نے کہا ماں اگر میں فوت ہوجاوں تو میرا جنازہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ پڑھائیں۔ماں حضرت کے پاس گئی حضرت کھانے سے فارغ ہوئے تھے اور تھکے ہوئے تھے اور درس بھی دینا تھا۔اس لیے قیلولہ کیلئے لیٹنا چاہتے

تھے۔ ماں نے دروازہ کھٹکھٹایا‘ پوچھا کون؟ عرض کیا حضرت میں آپ کی شاگردہ ہوں۔ میرا بچہ اب آخری حالت میں ہے وہ توبہ کرنا چاہتا ہے لہٰذا آپ گھر تشریف لے چلیں۔حضرت نے سوچا یہ پھر دھوکا دے رہا ہے اور میرا وقت ضائع کرے گا اور اپنا بھی کرے گا۔ سالوں گزرگئے اب تک کوئی بات اثر نہ کرسکی اب کیا کرے گی۔ کہنے لگے!میں اپنا وقت ضائع کیوں کروں؟ میں نہیں آتا۔ ماں نے کہا حضرت اس نے تو یہ بھی کہا کہ اگر میرا انتقال ہوجائے تو میرا جنازہ حضرت حسن بصری پڑھائیں۔ حضرت نے کہا میں اس کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھاؤں گا۔ اس نے تو کبھی نماز ہی نہیں پڑھی۔ اب وہ شاگردہ بھی چپ کرگئی‘ روتی ہوئی گھر آگئی۔بیٹے نے پوچھا کیا ہوا؟ ماں نے کہا ایک طرف تیری حالت دوسری طرف حضرت نے انکار کردیا۔ اب یہ بات بچے نے سنی تو اس کے دل پر چوٹ لگی اور کہا ماں میری ایک وصیت سن لیجئے ماں نے پوچھا بیٹا وہ کیا؟عجیب وصیت :کہا امی میری وصیت یہ ہے کہ جب میری جان نکل جائے تو سب سے پہلے اپنا دوپٹا میرے گلے میں ڈالنا‘ میری لاش کو کتے کی طرح صحن میں گھسیٹنا‘ جس طرح مرے ہوئے کتے کی لاش گھسیٹی جاتی ہے۔ ماں نے پوچھا بیٹا وہ کیوں؟ کہا امی اس لیے کہ دنیا والوں کوپتہ چل جائے کہ جو اپنے رب کا نافرمان اور ماں باپ کا نافرمان ہوتا ہے اس کا انجام یہ ہوا کرتا ہے۔ میری پیاری ماں مجھے قبرستان میں دفن نہ کرنا‘ ماں نے کہا وہ کیوں؟ کہا ماں مجھے اسی صحن میں دفن کردینا ایسا نہ ہو کہ میرے گناہوں کی وجہ سے

قبرستان کے مردوں کو تکلیف پہنچے جس وقت نوجوان نے ٹوٹے دل سے عاجزی کی یہ بات کہی تو پروردگار کو اس کی یہ بات اچھی لگی‘ روح قبض ہوگئی‘ابھی روح نکلی ہی تھیماں آنکھیں بند کررہی تھی تو دروازے پر دستک ہوئی پوچھا کون؟ جواب آیا حسن بصری ہوں۔ کہا حضرت آپ کیسے؟ فرمایا جب میں نے تمہیں جواب دے دیا اور سوگیا۔ خواب میں اللہ رب العزت کا دیدار نصیب ہوا‘ پروردگار نے فرمایا حسن بصری تو میرا کیسا ولی ہے؟ میرے ایک ولی کا جنازہ پڑھنے سے انکار کرتا ہے۔ میں سمجھ گیا کہ اللہ نے تیرے بیٹے کی توبہ قبول کرلی ہے۔ تیرے بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے حسن بصری کھڑا ہے۔اے اللہ! تو کتنا کریم ہے کہ مرنے س

غلط کام کرنے والوں کی پکڑ کیسے ہوتی ہے؟

جوانی کا جوش چڑھا تو محبوبہ کا پیٹ بڑھا مگر یہ اُس کے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی، کاریگر بندہ تھا بس میڈیکل سٹور سے مطلوبہ دوائی لی اور محبوبہ تک پہنچا دی، بس دو چار اُلٹیاں ہی تو آنی تھیں اور اس کے بعد مسئلہ حل اب اتنی سی بات پر بھلا وہ کیوں پریشان ہو، گانے گاتا گھر میں داخل ہوا تو اماں نے کہا بیٹا بہن کو ہسپتال لے جا طبیعت بڑی خراب ہے کیا ہوا ہے اسکو اس نے ماں سے پوچھا ماں نے صحن میں پڑی آدھ موئی بیٹی کی طرف دیکھا اور بولی،، پتہ نہیں صبح سے بس اُلٹیاں کیے جا رہی ہے ۔۔۔ زنا ایک ادھار ہے جس کی ادئیگی تمہارے گھر سے ہو گی ۔۔۔۔۔ کسی کو برا لگے معافی چاہتا ہو لیکن

ایک حقیقت جس سے کوئی مکر نہیں سکتا! محبت کرو لیکن اگر کسی کی زندگی آباد نہیں کر سکتے تو برباد بھی مت کرو! کیونکہ آج جو زندگی تم برباد کر رہے ہو حقیقت میں بہن بیٹی کی زندگی برباد کر رہے ہو!! طبرستان میں ایک طالم بادشاہ تھا۔ شہر کی دوشیزہ لڑکیوں کی آبروریزی کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک بڑھیا حضرت شیخ ابو سعید قصاب علیہ الرحمة کی خدمت میں گریہ وزاری کرتی ہوئی آئی اورفریاد کی کہ:”حضور! میری دستگیری فرمائیں۔ بادشاہ نے مجھے کہلوایا ہے کہ آج وہ میری بیٹی کی عزت لوٹنے والا ہے۔ یہ منحوس خبر سن کر آپ کی خدمت میں بھاگ آئی ہوں کہ شاید آپ کی دعا سے اس بلا کو ٹالا جاسکے۔“ شیخ ابوسعید قصابؒ نے ضعیفہ کی بات سن کر کچھ دیر کے لئے سرجھکائے رکھا۔ اس کے بعد سراٹھاکر فرمایا:”بوڑھی ماں! زندوں کے اندر تو ایسا کوئی مستجاب الدعوات نہیں رہا، تو فلاں قبرستان جا، وہاں تجھے ایسا ایسا شخص ملے گا، وہ تیری حاجت پوری کرے گا۔“ ضعیفہ قبرستان میں پہنچی تو وہاں ایک شکیل ورعنا خوش پوش نوجوان سے اس کی ملاقات ہوئی، جس کے لباس سے خوشبوﺅں کے فوارے ابل رہے تھے۔ضعیفہ نے سلام کیا اور جواب کے بعد نوجوان نے ضعیفہ کے احوال پوچھے۔ اس نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔نوجوان نے ضعیفہ کی پوری بات غور سے سننے کے بعد اس سے کہا:”تو پھر شیخ ابوسعید کی خدمت میں جااور ان سے دعا کے لئے کہہ، ان کی دعا قبول ہوگی۔“ ضعیفہ نے جھنجھلا کر کہا:”عجیب بات ہے زندہ مجھے مردوں کے پاس بھیجتا ہے

اور مردہ مجھے پھر زندہ کے پاس لوٹاتا ہے اور میری حاجت روائی کوئی نہیں کرتا، بھلا اب میں کہاں جاﺅں؟“ نوجوان نے پھر ضعیفہ سے کہا:”تو شیخ ابوسعید کی خدمت میں جا، ان کی دعا سے تیرا مقصد پورا ہوگا۔“ضعیفہ پھر شیخ ابوسعیدؒ کے پاس آئی اور سارا واقعہ عرض کیا شیخ ابوسعید نے سرجھکایا اور ان کا جسم پسینہ سے شرابور ہوگیا۔ پھر ایک چیخ ماری اور منہ کے بل گرپڑے۔ اسی لمحہ شہر میں شوروہنگامہ کی آواز بلند ہوئی۔ لوگ کہہ رہے تھے: ”بادشاہ فلاح ضعیفہ کی بیٹی کی آبروریزی کی نیت سے جارہا تھا، راستہ میں اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گھوڑے سے گراتو اس کی گردن ٹوٹ گئی اور فوراً مرگیا۔ اس طرح شیخ کی دعا سے اہل شہر سے یہ بلا ٹل گئی۔“ بعد میں لوگوں نے شیخ سے دریافت کیا کہ:”آپ نے ضعیفہ کو قبرستان کیوں بھیجا اور پہلے ہی آپ نے دعا کیوں نہ فرمادی؟“ شیخ نے کہا:”میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں کہ میری دعا سے وہ ہلاک ہو۔ اس لئے میں ے بڑھیا کو خضر علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ انہوں نے اسے پھر میرے پاس بھیجا کہ ایسے پلید انسان کے لئے بددعا کرنا جائز ہے

بادشاہ کی سات بیٹیاں

ایک بادشاہ کی سات بیٹاں تھی ایک دن بادشاہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنی ساتوں بیٹوں کو بلا کر پوچھتا ہے کہ میں تم سب سے ایک سوال پوچھوں گا اور اگر جواب اچھا لگا تو تمہارا من چاہا انعام بھی دوں گا ۔ سب ایک قطار میں کھڑی ہو جاو اور ایک ایک کر کے بتاو کہ تم کس کا دیا کھاتی ہو ؟ کس کا دیا پہنتی ہو ؟ سات میں سے چھ بیٹوں نے کہا ابا حضور آپ کا دیا کھاتے ہیں اور آپ کا دیا پہنتے ہیں آپ ہی کی وجہ سے ہماری یہ شان شوکت ہے یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور سب کو اس کی من پسند چیز دے دی۔ جب سب سے چھوٹی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ میں اللہ کا دیا کھاتی ہوں اور اپنی

قسمت کا پہنتی ہوں اور یہ میرا نصیب ہے ۔ بادشاہ یہ سنتے ہی آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا اے کمبخت تو نے میری ناشکری کی ہے تجھے اس کی سزا ضرور ملی گئی شہزادی نے کہا جو حکم ابا حضور بادشاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ جاو اسے جنگل میں چھوڑ آو میں بھی دیکھوں کہ یہ میرے بغیر کیسے اللہ کا دیا کھاتی ہے اور اپنے نصیب کا پہنتی ہے شہزادی سے تمام زیورات واپس لے لیے گیے اور خستہ حال کپڑوں میں بغیر کسی ساز و سامان کے بادشاہ کے حکم۔ کے مطابق جنگل میں تنہا چھوڑ دیا گیا ۔لیکن شہزادی بہت پرسکون مطمئن تھی اور توکل اللہ تھی کہ جو اس نے رزق اور عیش و عشرت میرے نصیب لکھی ہے وہ مجھے ضرور ملے گئی۔ سب سپاہی شہزادی کو چھوڑ کر واپس چلے گے ۔شہزادی جنگل کو دیکھنے لگی چاروں طرف درخت ہی درخت تھے اور دوپہر سے شام ہونی والی تھی کہ شہزادی نے سوچا کیوں نہ کچھ لکڑیاں جمع کر لو تاکہ رات کو آگ جلاو پھر کوئی جنگلی جانور پاس نہیں آئے گا ۔اور رات بھی گزر جائے گی۔ شہزادی جنگل میں لکڑیاں ڈھونڈے چل پڑی ۔اس کی نظر ایک جھونپڑی پر پڑی جہاں باہر ایک بکری بندی ہوئی تھی اور اندر سے کھانسے کی آواز آ رہی تھی پہلے تو شہزادی بہت حیران ہوئی کہ اتنی ویران جگہ پر جھونپڑی ؟ جب وہ جھونپڑی کے اندر داخل ہوتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ ایک بوڑھا ضیعف ایک چارپائی پر لیٹا ہے اور کھانستے ، کھانستے پانی ، پانی پکار کر رہا ہے شہزادی ادھر ُادھر دیکھتی ہے تو کونے میں ایک پانی کا گھڑا پڑا ہوتا ہے وہ گلاس میں پانی بھر کر بوڑھے ضعیف کو پلاتی ہے ۔اور جھونپڑی کی صاف صفائی کرتی ہے اتنے میں بوڑھا ضعیف شہزادی سے پوچھتا ہے کہ بیٹی تم کون ہو؟ اور اتنے بڑے جنگل میں تم اکیلی کیا کر رہی ہو ؟ تب شہزادی اسے بتاتی ہے کہ وہ یہاں

تک کیسے پہنچی ۔ بوڑھا ضعیف اسے جھونپڑی میں ہی رکنے کا بولتا ہے اور کہتا ہے کہ میں شہر میں کام کرتا ہوں صبح شہر چلا جاؤں گا اور آٹھ دن کے بعد آؤ گا تم یہی رہو اور جھونپڑی میں کھانے کا سامان ہے اور ندی پاس ہی ہے تم وہاں سے گھڑا بھر لیا کرنا ۔ صبح کو بوڑھا ضعیف شہر چلا جاتا یے اور شہزادی یہاں اکیلی جھونپڑی میں سب صفائی کر کے بکری کا دودھ نکلاتی ہے آدھا اپنے لیے رکھ لیتی ہے اور آدھا باہر ایک کونے میں برتن میں ڈال کر رکھ دیتی ہے کہ رات کو کوئی جانور بھوکا یا پیاسا ہو گا توپی لے گا ۔اور خود اندر آ کر سو جاتی ہے صبح سویرائے جب شہزادی اٹھتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ دودھ کا برتن خالی اور پاس ایک لال پڑا ہے جو دیکھنے میں بہت ہی نایاب اور قیمتی معلوم ہوتا ہے اور پاس ہی سانپ کے نشان بھی نظر آتے ہیں تب شہزادی کو یاد آتا ہے کہ بچپن میں اس نے سنا تھا کہ جب کوئی نایاب سانپ بہت خوش ہوتا ہے تو ایک ایسا لال اگلتا ہے کہ جس کی قیمت ہیرے جواہرات سے بھی مہنگی ہوتی ہے شہزادی بہت حیران ہوتی ہے اور دل میں سوچتی ہے کہ شاید سانپ بھوکا تھا۔ اس لیے وہ دودھ پی کر خوشی میں لال چھوڑ گیا پھر وہ لال اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیتی ہے ۔اور پھر اگلی رات شہزادی برتن میں دودھ رکھ دیتی ہے اور اگلی صبح جب دیکھتی ہے تو پھر ایک لال ہوتا ہے ایسے ہی کرتے سات دن گزر جاتے ہیں اور شہزادی کے پاس سات لال جمع ہو جاتے ہیں اور اس دن بوڑھا ضعیف بھی آ جاتا ہے تب شہزادی اسے لال دیکھاتی ہے اور سارا واقع بتاتی ہے اور بوڑھے ضعیف کو تین لال دیتی ہے اور کہتی ہے کہ شہر جا کر یہ لال بیچ دو اور آتے وقت اپنے ساتھ محل بنانے والے مزدور لے کر آنا ۔ باقی چار لال شہزادی اپنے گلے میں مالا کے طور پر پہن لیتی ہے اور کچھ ہی مہینوں میں جنگل میں ایک عالی شان محل تیار ہو جاتا ہے جس میں بوڑھا ضعیف اور شہزادی رہنے لگتے ہیں ایسا خوبصورت محل جس میں ہر آرائش نوکر چاکر ، دنیا کی تمام نعمتیں ماجود ہوتی ہے شہزادی جنگل میں لکاڑئ کی

فیکٹری لگا دیتی ہے جس میں غریب کام کرتے ہیں اور ان کے روٹی بھی چلتی رہتی ہے دیکھتے ہی دیکھتے جنگل شہر نما بن جاتا ہے اور دور دور تک دھوم مچ جاتی ہے کہ شہزادی بہت رحم دل ہےیہ خبر ایسے ہی بادشاہ تک پہنچتی ہے تو بادشاہ کے دل میں اشتیاق ہوتا ہے کہ دیکھو تو سہی کون سے ملک کی شہزادی ہے جس کی اتنی تعریف ہے بادشاہ سپاہیوں کے ہاتھ پیغام بھجتا ہے شہزادی سے ملنے یہاں شہزادی کے سپاہی جب شہزادی کو بتاتے ہیں تو شہزادی یہ حکم دیتی ہے کہ بادشاہ سلامت ایک کی شرط پر ہم۔سے مل سکتے ہیں کہ وہ اپنی تمام بیٹوں کے ساتھ آئے۔ سپاہی جا کر بادشاہ کو پیغام دے دیتے ہیں ۔ ایک دن بادشاہ اپنی تمام بیٹوں کے ساتھ شہزادی کے محل جاتا ہے شہزادی ان سب سے ملتی ہے چہرے پر نقاب کر کے اور ان کے لیے سات رنگ کے کھانے پیش کرتی ہے اور ہر کھانے کے ساتھ اسی رنگ کا جوڑا زیورات پہن کر آتی ہے ۔ محل کی شان و شوکت خوبصورتی اور شہزادی کا انداز بادشاہ اور باقی تمام شہزادیوں کو بہت حیران اور متاثر کرتا ہے آخر میں بادشاہ شہزادی سے کہہ ہی دیتا ہے کہ تم میری بیٹی کی جگہ پر ہو اور میں بھی تمہارے کہنے پر اپنی تمام بیٹوں کے ساتھ آیا ہوں پھر ہم سے یہ پردہ کس لیے بہت اصرار پر شہزادی کہتی ہے ٹھیک ہے میں تیار ہو کر آتی ہوں ۔ سب شہزادیاں آپس میں سرگوشی کرنے لگتی ہے کہ اتنی تو تیار ہے اتنے مہنگے زیورات پہنے ہے اب اور کتنا تیار ہو کر آئی گئی اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ دور سے ایک خستہ حال کپڑوں میں کوئی آ رہا ہے اور غور کرنے پر بادشاہ کو یاد آتا ہے کہ یہ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ابھی تک زندہ ہے میں تو سوچتا تھا کہ اسے جنگل کے جانور کھا گئے اور جب میں نے اپنے سپاہیوں کو اس کی خبر لینے بھجا تھا تب انہوں نے ہی بتایا تھا کہ وہاں شہزادی کا کوئی نام و

نشان نہیں ہے تو یہ کیسے ممکن ہے۔۔ ۔بادشاہ خوشی سے جھوم اٹھتا ہے اور کہتا ہے شہزادی کو بلاو میں تمہیں شہزادی سے آزاد کروا کے لے جاو گا چاہے وہ تمہاری قیمت میں میری ساری بادشاہت مانگ لے ۔۔۔۔۔ یہ سنتے ہی شہزادی بولتی ہے نہیں ابا حضور میں ہی وہی شہزادی ہوں اور میں نا کہتی تھی کہ میں اللہ کا دیا کھاتی اور اپنے نصیب کا پہنتی ہوں بس اسی اللہ نے مجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے کہ آج میں آپ سے بھی زیادہ امیر ہوں پھر شہزادی اپنا تمام حال بیان کرتی ہے کہ وہ اس مقام تک کیسے آئی اور دیکھاتی ہے اپنے گلے کی مالا جس میں ابھی بھی چار لال ماجود ہوتے ہے۔ یہ بات سنتے ہی باقی تمام شہزادیاں دل میں رشک کرنے لگتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ اے کاش ہم۔نے بھی تب یہی کہا ہوتا کہ اللہ کا دیا کھاتی ہے اور اپنے نصیب کا پہنتی ہے

امام زین العابدین رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے بیٹے امام باقرؒ کو نصیت کرتے ہوئے فرمایا

امام زین العابدین رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے بیٹےامام باقرؒ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا بیٹا! چار آدمیوں کے پاس نہ رہنا‘ راستہ چلتے ہوئے ان کے ساتھ تھوڑی دیر کیلئے بھی نہ چلنا‘ کہنے لگے کہ میں بڑا حیران ہوں کہ وہ اتنے خطرناک ہیں!پوچھا کہ وہ کون سے آدمی ہیں؟فرمایا ایک بخیل آدمی اس سے کبھی دوستی نہ کرنا اس لئے کہ وہ تجھے ایسے وقت میں دھوکہ دے گا جب تجھے اس کی بہت ضرورت ہو گی‘ دوسرا جھوٹا آدمی ‘ کہ وہ دور کو قریب ظاہر کرے گا اور قریب کو دور اور تیسرا فاسق آدمی کیونکہ وہ تجھے ایک لقمہ کے بدلے یا ایک لقمہ سے بھی کم میں بیچ دے گا‘ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا ابو!

ایک لقمہ میں بیچنا تو سمجھ میں آتا ہے ایک لقمہ سے بھی کم بیچنے کا کیا مطب ہے؟ فرمایا کہ وہ تمہیں ایک لقمہ کی امید پر بیچ دے گا او رچوتھا قطع رحمی کرنے والا آدمی کیونجکہ میں نے قرآن پاک میں کئی جگہ اس پر لعنت دیکھی ہے۔ یہ باپ کی صحبت کے انمول موتی تھے جو بیٹے کو مل رہے تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ایک مجوسی کا واقعہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عادت مبارکہ تھی کہ رات کا کھانا کبھی اکیلے نہیں کھاتے تھے کسی نہ کسی کو ضرور مدعو فرماکر کھانا نوش فرماتے تھے ایک رات حسب عادت آپ کسی مہمان کا انتظار کر رھے تھے کہ کسی نے دروازے پر دستک دی آپ نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ایک 80 سال کا بوڑھا تھا اس نے فورا کہا کہ کچھ کھانے کو ھے تو مجھے دیں مجھے بہت بھوک لگی ھے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خوش ہو کر فرمایا ۔۔۔ مرحبا مرحبا اور اس کے سامنے کھانا رکھا ، اس کے ہاتھ دھلائے اور کہا چلیں جی بسمہ اللہ کیجیئے وہ بوڑھا بولا کہ میں بسمہ اللہ نہیں پڑھوں گا میں مجوسی ھوں حضرت ابراہیم علیہ

السلام نے غصے میں کہا کہ کھڑے ھو جاو میں مجوسی کے ساتھ کھانا پسند نہیں کرتا ھوں وہ بوڑھا بڑبڑاتا ھوا چلا گیا ادھر پلک جھپکتے ہی حضرت جبرائیل علیہ السلام آ گئیے اور بولے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا ھے کہ اے ابراہیم ! منکر تو وہ میرا ھے میں نے تو 80 سال میں کبھی اس کا رزق نہیں روکا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ سنتے ہی اس بوڑھے مجوسی کے پیچھے دوڑے تھوڑی دور ہی وہ مل گیا آپ نے اس سے کہا کہ ۔۔۔اے اللہ کے بندے مجھے معاف کر دے اور میرے ساتھ چل کر کھابا کھا لیں آپ کی وجہ سے مجھے اللہ سے بہت ڈانٹ پڑی ھے مجوسی بولا کہ کون اللہ ؟ آپ نے فرمایا وہ ذات جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا اللہ وہ ھے جس نے ھر شئے کو تخلیق کیا اور خوبصورت شکل میں ڈھالا اللہ وہ ذات ھے جو تمام مخلوق کو رزق دیتا ھے اللہ وہ ذات ھے جس نے تجھے اور مجھے اب تک زندہ رکھا ھوا ھے مجوسی یہ سن کر رونے لگا اور بولا ! کیا کہنے تیرے رب کے اے اللہ کے بندے ! تیرے رب کے تو اخلاق بہت اعلی اور عظیم ھیں میں اتنے پیار کرنے والے عظیم بالا و برتر رب پر ایمان لاتا ھوں۔