جنت کا جمعہ بازار

امام مسلم روایت کرتے ہیں : ـ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے فرمایا : جنت میں ایک بازار ہے جس میں جنتی ہر جمعہ کو آیا کریں گے ، پھر شمال کی ہوا چلے گی جس سے ان کے چہرے اور کپڑے بھر جائیں گے اور ان کا حسن اور جمال اور بڑھ جائے گا ، پھر وہ اپنے اہل کی طرف لوٹ جائیں گے تو وہ کہیں گے : اللہ کی قسم ! ہمارے ( پاس سے جانے کے ) بعد تمہارا حسن اور جمال بہت زیادہ ہو گیا ہے ، وہ کہیں گے : اللہ کی قسم ! ہمارے بعد تمارا حسن اور جمال بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے ـ ( صحیح مسلم ج 17 ص 170 ، سنن الدارمی ج ، سنن الدارمی ج 2 ص 339 ، البغوی ج 15 ص 227 ) امام ترمذی روایت کرتے ہیں : ـ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ملاقات کی ـ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا : میں اللہ تعالی سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہم دونوں کو جنت کے بازار میں اکٹھا کرے ـ حضرت سعید بن مسیب نے پوچھا : کیا اس میں بازار ہوں گے ؟ حضرت بو ہریرہ نے فرمایا : ” ہاں ” ( ہوں گے ) مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے بتایا کہ ( جنت میں بازار ہوں گے ) جنتی جب بازاروں میں داخل ہوں گے تو اپنے اعمال کی فضیلت کے مطابق اس میں اتریں گے پھر دنیاوی جمعہ کے دن کے برابر وقت میں اجازت دی جائے گی تو یہ لوگ اپنے رب کی زیارت سے مشرف ہوں گے ، ان کے لیے عرش الہی ظاہر ہو گا اور اللہ تعالی جنت کے باغات میں سے ایک باغ میں تجلی فرمائے گا ، جنتیوں کے لیے منبر بچھائیں جائیں گے جو نور ، موتی ، یاقوت ، زبرجد، سونے اور چاندی کے ہوں گے ، اس میں سے ادنی مشک اور کافور کے ٹیلے پر بیٹھیں گے اور وہاں کوئی شخص ادنی نہیں گا ـ ( وہ کرسیوں پر بیٹھنے والوں کو اپنے سے افضل نہیں سمجھیں گے ) پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ، آگے چل کر اس حدیث میں ہے : پھر ہم بازار میں آئیں گے جہاں فرشتے ہی فرشتے ہوں گے ، ایسا بازار نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا ہو گا ، جو چیز ہم چاہیں گے ہماری طرف اٹھائی جائے گی اور خرید و فروخت نہ ہو گی ، اس بازار میں جنتی ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے فرمایا : بلند مرتبے والا آگے بڑھ کر ادنی مرتبے والے سے ملے گا اور وہاں کوئی ادنی درجہ کا نہ ہو گا ، وہ اس کا لباس دیکھ کر پریشان ہو جائے گا ، ابھی انکی گفتگو ختم ہوگی کہ اپنے جسم پر اس سے بھی خوبصورت لباس دیکھے گا یہ اس لیے کہ وہاں کسی کو رنج و غم نہ ہو گا ـ

(ترمزی رقم الحدیث : 2549 ، ابن ماجہ رقم الحدیث : 4336 ، الالبانی تخریج المشکاۃ رقم الحدیث : 5647

اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کا طریقہ

میں نے ان سے ایک سوال پوچھا:اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟وہ مسکرائے، قبلہ رو ہوئے، پاؤں لپیٹے، رانیں تہہ کیں، اپنے جسم کا سارا بوجھ رانوں پر شفٹ کیا اور مجھ سے پوچھا:تمہیں اللہ سے کیا چاہیے؟ہم دونوں اس وقت جنگل میں بیٹھے تھے. حبس اور گرمی کا موسم تھا، سانس تک لینا مشکل تھا. میں نے اوپر دیکھا، اوپر درختوں کے پتے تھے اور پتوں سے پرے گرم پگھلتا ہوا سورج تھا.میں نے مسکرا کر عرض کیا:اگر بادل آ جائیں، ذرا سی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں تو موسم اچھا ہو جائے گا.

وہ ہنسے اور آہستہ سے بولے ’’لو دیکھو‘‘وہ اس کے بعد بیٹھے بیٹھے رکوع میں جھکے اور پنجابی زبان میں دعا کرنے لگے “اللہ جی! کاکے کی دعا قبول کر لے، اللہ جی! ہماری سن لے، وہ دعا کرتے جاتے تھے اور جاتے تھے اور روتے جاتے تھے. پہلے ان کی پلکیں گیلی ہوئیں، پھر ان کے منہ سے سسکیوں کی آوازیں آئیں اور پھر ان کی آنکھیں چھم چھم برسنے لگیں، وہ بری طرح رو رہے تھے.میں ان کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا، میں نے زندگی میں بے شمار لوگوں کو روتے دیکھا لیکن ان کا رونا عجیب تھا، وہ ایک خاص ردھم میں رو رہے تھے. منہ سے سسکی نکلتی تھی، پھر آنکھیں برستیں تھیں اور پھر “اللہ جی! ہماری سن لے کا راگ الاپ بنتا تھا، میں پریشانی، استعجاب اور خوف کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ انھیں دیکھ رہا تھا. وہ دعا کرتے جاتے تھے، روتے جاتے تھے اور سسکیاں بھرتے جاتے تھے، میں نے پھر وہاں ایک عجیب منظر دیکھا، مجھے ہوا ٹھنڈی ہوتی ہوئی محسوس ہوئی، آسمان پر اسی طرح گرم سورج چمک رہا تھا لیکن جنگل کی ہوا میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی. میری پیشانی، سر اور گردن کا پسینہ خشک ہو گیا، میرے سینے اور کمر پر رینگتے

ہوئے قطرے بھی غائب ہو گئے، میں ٹھنڈی ہوا کو محسوس کر رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا. میرے دیکھتے ہی دیکھتے پتوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں، شاخیں ایک دوسرے کے ساتھ الجھنے لگیں، پودے ہوا کی موسیقی پر ناچنے لگے اور پھر بادل کا ایک ٹکڑا کہیں سے آیا اور سورج اور ہمارے سر کے درمیان تن کر ٹھہر گیا، وہ رکے،دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور شکر ادا کرنے لگے.وہ دیر تک “اللہ جی! آپ کا بہت شکر ہے، اللہ جی! آپ کی بہت مہربانی ہے، کہتے رہے.وہ دعا سے فارغ ہوئے، ذرا سا اوپر اٹھے، ٹانگیں سیدھی کیں اور منہ میری طرف کر کے بیٹھ گئے، ان کی سفید داڑھی آنسوؤں سے تر تھی، انھوں نے کندھے سے رومال اتارا، داڑھی خشک کی اور پھر بولے “دیکھ لو! اللہ نے اپنے دونوں بندوں کی بات مان لی” میں نے ان کا ہاتھ پکڑا، چوما اور پھر عرض کیا “باباجی لیکن اللہ سے بات منوانے کا فارمولہ کیا ہے، اللہ کب، کیسے اور کیا کیا مانتا ہے؟ وہ مسکرائے، شہادت کی دونوں انگلیاں آنکھوں پر رکھیں اور پھر بولے ’’یہ دو آنکھیں فارمولہ ہیں‘‘ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا. وہ بولے میں نے یہ فارمولہ اپنی ماں سے سیکھا، میں بچپن میں جب بھی کوئی بات منوانا چاہتا تھا تو میں رونے لگتا تھا. ماں سے میرا رونا برداشت نہیں ہوتا تھا. وہ تڑپ اٹھتی تھی،

وہ مجھے گود میں بھی اٹھا لیتی تھی، مجھے چومتی بھی تھی، میری آنکھیں بھی صاف کرتی تھی اور میری خواہش، میری ضرورت بھی پوری کرتی تھی.میں ماں کی اس کمزوری کا جی بھر کر فائدہ اٹھاتا تھا، میں رو رو کر اس سے اپنی پسند کے کھانے بھی بنواتا تھا، اس سے نئے کپڑے اور نئے جوتے بھی لیتا تھا اور کھیلنے کے لیے گھر سے باہر بھی جاتا تھا. وہ رکے اور پھر آہستہ سے بولے “میں نے جب مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا تو مولوی صاحب نے ایک دن فرمایا “اللہ تعالیٰ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، یہ فقرہ سیدھا میرے دل میں لگا اور میں نے سوچا، میں رو کر اپنی ایک ماں سے سب کچھ منوا لیتا ہوں، اللہ اگر مجھ سے ستر ماؤں جتنی محبت کرتا ہے تو پھر میں رو رو کر اس سے کیا کیا نہیں منوا سکتا. وہ رکے اور بولے “بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، میں روتا ہوں، اللہ کی ذات میں ستر ماؤں کی محبت جگاتا ہوں اور میری ہر جائز خواہش، میری ہر جائز دعا قبول ہو جاتی ہے.

زندگی گزر جاتی ہے، اپنوں کو اپنا بنانے میں

ایک سنار کے انتقال کے بعد اس کا خاندان مصیبت میں پڑ گیا.کھانے کے بھی لالے پڑ گئے.ایک دن اس کی بیوی نے اپنے بیٹے کو نیلم کا ایک ہار دے کر کہا ‘بیٹا، اسے اپنے چچا کی دکان پر لے جاؤ.کہنا یہ بیچ کر کچھ پیسے دے دیں.بیٹا وہ ہار لے کر چچا جی کے پاس گیا.چچا نے ہار کو اچھی طرح دیکھ اور پرکھ کر کہا بیٹا، ماں سے کہنا کہ ابھی مارکیٹبہت مندا ہے.تھوڑا رک کر فروخت کرنا ، اچھے دام ملیں گے.اسے تھوڑے سے روپے دے کر کہا کہ تم کل سے دکان

پر آکر بیٹھنا.اگلے دن سے وہ لڑکا روز مرہ دکان پر جانے لگا اور وہاں ہیروں و جواہرات کی پرکھ کا کام سیکھنے لگا. ایک دن وہ بڑا ماہر بن گیا.لوگ دور دور سے اپنے ہیرے کی پرکھ کرانے آنے لگے.ایک دن اس لگے.ایک دن اس کے چچا نے کہا، بیٹا اپنی ماں سے وہ ہار لے کر آنا اور کہنا کہ اب مارکیٹ میں بہت تیزی ہے،اس کے اچھے دام مل جائیں گے.ماں سے ہار لے کر اس نے پرکھا تو پایا کہ وہ تو جعلی ہے.وہ اسے گھر پر ہی چھوڑ کر دکان لوٹ آیا.چچا نے پوچھا، ہار نہیں لائے؟اس نے کہا، وہ تو جعلی تھا.تب چچا نے کہا جب تم پہلی بار ہار لے کر آئے تھے، اسوقت اگر میں نے اسے جعلی بتا دیا ہوتا تو تم سوچتے کہ آج ہم پر برا وقت آیا تو چچا ہماری چیز کو بھی جعلی بتانے لگے.آج جب تمہیں خود علم ہو گیا تو پتہ چل گیا کہ ہار نقلی ہے.سچ یہ ہے کہ علم کے بغیر اس دنیا میں ہم جو بھی سوچتے، دیکھتے اور جانتے ہیں، سب غلط ہے.اور ایسے ہی غلط فہمی کا شکار ہو کر رشتے بگڑتے ہیں.ذرا سی رنجش پر، نہ چھوڑ کسی بھی اپنے کا دامن.زندگی گزر جاتی ہے، اپنوں کو اپنا بنانے میں

دودھ پینا کس وقت فائدہ مند ہے

قدرت نے انسان کو کھانے پینے اور ان اشیاء سے مستفید ہونے کے لئے بے شمار نعمتیں عطا کر رکھی ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کون سی چیز کو کس وقت کھانا فائدہ مند اور کس وقت کھانا نقصان دہ ہوتا ہے؟ اگر نہیں تو کوئی بات نہیں۔ آج ہم آپ کو بتانے جارہے ہیں۔

کہ قدرت کی کس نعمت کو کس وقت کھانا فائدہ مند اور کس وقت کھانا نقصاندہ ہے۔چاول کھانا کس کو پسند نہیں؟ لیکن اس بات کو دھیان میں رکھا جائے کہ انہیں دن میں کھانا فائدہ مند جبکہ رات میں نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔اکثر ہم صبح اٹھ کر دودھ کا استعمال کرتے ہیں لیکن کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟

جی نہیں! دودھ کو رات میں پینا فائدہ مند ہے جبکہ اسے صبح پینا نقصاندہ ہے۔دہی کو دن میں کھانا بے حد فائدہ مند ہے جبکہ اسے رات میں کھانا ٹھیک نہیں۔ان کو رات کے وقت کھانا سب سے اچھا جبکہ صبح کھانا ٹھیک نہیں۔سیب کو صبح کے وقت کھانا کئی

بیماریوں سے جان چھڑا دیتا ہے جبکہ اسے شام اور رات میں کھانا اتنا زیادہ اثراندوز نہیں۔کیلا دوپہر میں کھانا بہت فائدہ مند جبکہ رات میں کھانا ٹھیک نہیں۔

نبی کریمﷺ کی پسندیدہ غذائیں

سرکہ اور جو کی روٹی: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سرکہ اور جو کی روٹی بہت پسند تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان دونوں کا استعمال فرماتے  گوشت کدو اور جو کی روٹی کو پسند فرماتے اور بڑی رغبت سے تناول فرماتے۔ زیتون اور اس کا تیل: حضرت ابو رشید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم زیتون کا پھل کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو کیونکہ یہ بابرکت درخت ہے۔ثرید: ثرید اس کھانے کو کہا جاتا ہے جو شوربے یا پتلی  دال میں بھگو کر تیار کیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ترین کھانا ثرید تھا۔ کدو: کدو ایک سبزی ہے جو ذائقہ میں لذیذ اور تاثیر میں‌ زود ہضم ، صحت بخش اور دماغی صلاحیتوں کو بڑھانے والا ہے۔ کدو مفرح قلب، جگر اور اعصاب کے لیے مفید سبزی ہے۔ کدو ہمارے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ پسند تھا۔

پسندیدگی کا یہ عالم تھا کہ گوشت اور کدو کے سالن سے کدو کے قتلے اٹھا اٹھا کر پہلے کھاتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔صاحب خانہ نے جو کی روٹی اور شوربہ پیش کیا۔ شوربہ میں کدو گوشت تھا۔ پس میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کدو کے ٹکڑے اٹھا اٹھا کر نکالتے تھے۔ اس دن سے میں بھی کدو کو پسند کرنے لگا۔ شہد: شہد کے بارے میں‌ یہ بات طے شدہ ہے کہ یہ بہت سے امراض میں مفید ہے۔ اور اس کا استعمال جسم کو امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ تمام تر کاوشوں کے باوجود اب تک شہد کا متبادل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ شہد کی ایک خوبی اس کے رس کا جلد اثر کرنا اور قدرتی انٹی بایوٹک (Anti Biotic) ہونا ہے۔ یہ حلق سے نیچے اترتے ہی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ نوزائیدہ بچے سے لے کر جاں بلب مریض تک سب کے لئے غذا اور دوا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد بہت پسند تھا۔ اور اس کا بہت استعمال فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پسند فرماتےتھے۔ شہد کی شفا بخشی کا ذکر قرآن میں‌بھی آیا ہے اور اسے موت کے علاوہ ہر مرض کا علاج قرار دیا گیا ہے۔ دودھ: دودھ حضرت انسان کے لیے ایک مکمل غذا ہے اور اس سے بہتر غذا شاید ہی ہو۔ دودھ میں‌ جسم کی ضرورت کے مطابق تمام اجزا موجود ہیں جن سے جسم صحت مند رہ سکتا ہے اور اس کی نشونما صحیح ہو سکتی ہے۔ جن علاقوں کے لوگ دودھ استعمال کرتے ہیں ان کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں۔

اللہ کے فرستادہ پیغمبروں‌کی یہ پسندیدہ غذا رہی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ بہت پسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر گائے اور بکری کا دودھ استعمال فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کوئی چیز ایسی نہیں جو طعام اور مشروب دونوں کا کام دیتی ہو، سوائے دودھ کے۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ گائے کے دودھ کو اپنے لئے لازم قرار دے دو، کیونکہ یہ شفا بخش ہے اور اس کا گھی دوا ہے۔ کھجور: کھجور ایک مقوی غذا ہے۔ سب پھلوں میں سے زیادہ توانائی بخش ہے۔ جسم انسانی کو جس قدر حیاتین کی ضرورت ہوتی ہے اسی قدر کھجور میں‌ہے۔ کھجور جسم کو فربہ کرتی ہے۔ صالح خون پیدا کرتی ہے۔ سینہ اور پھیپھڑوں کو قوت بخشنے کے لیے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ کھجور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرغوب غذا رہی ہے۔ قرآن مجید میں بھی کھجور کا ذکر آیا ہے۔ کھجور کی ایک قسم عجوہ ہے جو مدینہ منورہ میں‌ ہوتی ہے۔ یہ امراض‌ قلب میں‌ مفید ہے۔ عجوہ کھجور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص روزانہ صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے اسے اس دن زہر اور جادو سے کوئی نقصان نہیں‌پہنچا سکتا۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: عجوہ جنت کا پھل ہے۔ اس میں زہر سے شفا دینے کی تاثیر ہے۔ حضرت عطیہ رضی اللہ عنہا اور عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائےتو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکھن اور کھجوریں پیش کیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پسند فرماتے تھے۔

گوشت: گوشت جسم انسانی کی صحت و توانائی کے لئے بہت مفید قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں‌ جسم کی طاقت و توانائی کے لئے اہم اجزا ہوتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حلال جانوروں کا گوشت بہت شوق سے کھاتے تھے۔ بلکہ گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرغوب غذا تھی۔ مرغ کا گوشت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے۔ حضرت ابو الدرداء سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا و جنت دونوں جگہ سب کھانوں کا سردار گوشت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گوشت دنیا و آخرت میں بہترین سالن ہے اور گوشت تمام کھانوں کا سردار ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی شخص کے ہاں کھانے پر گیا۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بکرے کا بازو بھوننے کا حکم دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں‌ سے کاٹ کاٹ کر مجھے دینے لگے۔

رزق بارش کی طرح برسے گا

سورة کوثر کا بہت ہی پاورفل وظیفہ آپ نے یہ وظیفہ صرف تین دن کرنا ہے ۔ صرف تین دنوں کے اندر اندرآپ کی جو بھی بڑی سے بڑی حاجت ہوگی جس بھی مقصد کے لیے آپ اس وظیفے کو پڑھوگے آپ کا وہ مقصد انشا اللہ تین دنوں کے اندر اندر پورا ہو جائے گا آپ کا مقصد کوئی بھی ہو آپ کی حاجت جتنی مرضی بڑی ہو آپ کی پریشانی کوئی بھی ہوآپ جس بھی مقصد کے لیے اس وظیفے کو پڑھو گے آپ کا وہ مقصد انشا ء اللہ تین دنوں کے اندر پورا ہو جائے گا آپ نے یہ وظیفہ جمعرات جمعہ ہفتہ تین دن یہ وظیفہ کرنا ہے انشا ء اللہ یہ وظیفہ کرنے سے آپ کی ہر جائز حاجت آ پ کی بڑی سے بڑی پریشانی ختم ہو جائے گی ۔آپ چاہے یہ وظیفہ اپنی شادی کے لیے کر رہے ہیں آ پ کی شادی نہیں ہے ہو رہی اس کے لیے کر رہے ہیں آپ کو اس میں بھی کامیابی ملے گی ۔آپ بے رازگار ہیں آپ کو کوئی کام نہیں ہے مل رہا آپ اس کے لیے بھی یہ وظیفہ کر سکتے ہیں ۔

آپ کے دشمن ہیں ان سے چھٹکارا پانے کے لیے بھی آپ یہ وظیفہ کر سکتے ہیں ۔کسی کے دل میں آپ اپنی محبت پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ تو اس عمل کے لیے بھی آپ یہ وظیفہ کر سکتے ہیں ۔آپ کی کوئی بھی حاجت ہو کوئی بھی مقصد ہو آپ اس وظیفے کے زریعے آپ اپنا مقصد پورا کر سکتے ہو آپ نے صر ف تین دن اس وظیفے کو کرنا ہے ۔اور انشاء اللہ تین دن کے اندر اندر آپ کا ہر مقصد پورا ہو جائے گا ۔اس وظیفہ کو شروع کرنے سے پہلے درود شریف لازم پڑھیں ۔آپ نے وظیفہ کس طرح کرنا ہے ۔ آپ نے سورة کوثر پڑھنی ہے ۔ سورة کوثر قرآن پاک کی سب سے چھوٹی سورت ہے ۔یہ سورت قرآن پاک کے تیسرے پارے میں ہے ۔آپ نے جمعرات کو یہ وظیفہ کرنا ہے ۔ اور ہفتے ہو یہ وظیفہ ختم کرنا ہے ۔تین دن آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے ۔جمعرات کے دن آپ نے نماز فجر کے بعداول اخر درود شریف پڑ ھ لیں اس کے بعد آپ 129 دفعہ سورة کو ثر کو پڑھ لیں صبح نماز فجر پڑھ کر اس وظیفے کو کریں پھر نماز عصر پڑھ کر اس وظیفے کو کریں ۔ پہلے اول آکر درود پڑھ لیں پھر درمیان میں 129 دفعہ سورة کوثر پڑھ لیں ۔اور ایسی طرح ہی آپ نے نمازعشا ء کے بعدایسی طرح روٹین سے آپ یہ وظیفہ کریں گے ۔ ایسی طرح تینوں دن آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے ۔ آپ کی کوئی بھی حاجت ہے کوئی بھی مقصد ہے اس کو زہن میں رکھ کے آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے ۔ وظیفہ کرتے وقت پورا دھیان آپ کا وظیفے پر ہونا چاہیے ۔دل میں کوئی بھی شک نہیںلے کے آنا پورا دھیان وظیفے پر رکھ کے آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے انشا ء اللہ اس وظیفے کو کرنے کے بعد آپ کی اللہ سے مانگی ہر دعا قبول ہوگی ۔اس وظیفے کو پڑھنے کی ہر بھائی بھن کو اجازت ہے ۔اس کو پڑھنے کی کیسی سے بھی اجازت لینے کی ظرورت نہیں ہے۔

ایک عرب نوجوان ایک جگہ اپنے رشتے کیلئے لڑکی

ایک عرب نوجوان ایک جگہ اپنے رشتے کیلئے لڑکی پر شرعی نظر ڈالنے کیلئے گیا۔لڑکا بیٹھک میں لڑکی کے باپ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ نقاب پہنے ہوئے ایک پردے دار لڑکی اندر آئی، لمحہ بھر کیلئے لڑکے کو بغور دیکھا اور کچھ کہے بغیر واپس چلی گئی۔نوجوان نے لڑکی کے باپ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا: اس نے تو نقاب نہیں ہٹایا اور نہ ہی میں نے دیکھا ہے ۔لڑکی کے باپ نے کہا: بیٹے، اس نے مجھے کہا تھا کہ اگر مجھے لڑکا پسند نہ آیا تو میں نے نقاب نہیں اتارنا۔

نوجوان سمجھتا تھا شریعت نے یہ رعایت نے یہ رعایت بس اْسی کیلئے رکھ چھوڑی ہے۔

صرف ایک لونگ کی روزانہ استعمال سے کیاہوتا ہے۔؟

لونگ قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جو قدیم طریقہ علاج اور جدید ہیلتھ سائنس میں برابر اہمیت اختیار کئے ہوئے ہے ۔ بر صغیر میں چند عشروں قبل لونگ کو بطور ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہوئے اس کی باقاعدہ تشہیر کی جاتی تھی اور یہ سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے ۔ پرانے وقتوں میں مختلف طبی مسائل کے حل کے لیے لونگ کے استعمال کی اہمیت کو آج جدید میڈیکل سائنس کے زریعے ثابت کیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ زیبائشی مصنوعات بنانے والی کمپنیاں بھی لونگ کو اہم ترین جزوے کے طور پراہمیت دیتی ہیں۔ جسم کو سن کرنے والی دوا انجیکشن لگانے یا کسی سرجری کے لیے جسم پر لونگ والی جیل لگادینے سے وہ حصہ سن ہو جاتا ہے جس سے درد کا احساھ نہیں ہے ہوتا ۔دانتوں کی حفاظت اور تکالیف کا علاج ۔ دانتوں کی حفاظت کے لیے آج دنیا بھر میںیو جینوں کا استعمال کیا جارہا ہے اور یہ مرکب لونگ کے تیل میں پایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ لونگ کا تیل دانتوں کی بیماریوں کے علاج میں بھی بہت موثر سمجھا جاتا ہے ۔

یاداشت کی بہتری ۔ معروف طبی ماہر سر ہالڈ ر کی تحقیق کے مطابق لونگ کے تیل کا استعمال یاداشت کو بہتر بناتا ہے ۔زہریلی خوراک ۔ فوڈپوائزننگ کی وجہ سے ہونے والی تکالیف کے علاج کے لیے لونگ کا استعمال نہایت مفید ہے ۔لونگ کا تیل فوڈپوائزننگ کا سبب بننے والے بیکڑیا کا خاتمہ کرتا ہے ۔ سانس کی تکالیف ہرنیہ اور اسہال ۔لونگ میں شامل یوجینول ان تینوں اقسام کی بیماریوں کے لیے نہایت مفید ہے اس کے استعمال سے مزکورہ امراض کا شکار ہونے پر چند منٹ میں افاقہ ہو سکتا ہے ۔جسمانی قوت کے لیے قدرتی نعم البدل ۔ سپن میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق لونگ کے اندر فربہ مائل خلیے پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔انسولین کے نظام کی مضبوطی روزانہ چند گرام لونگ کا استعمال متعدد بیماریوں سے بچائو کا سبب ہے لونگ انسولین میں تحریک پیدا کرتے ہوئے کولیسٹرول اور گلوکوزکی سطح کو دس سے تیس فیصد تک کم کر دیتا ہے اس کے علاوہ لونگ کے استعمال سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے کینسر کے بچائواور کینسر کے پھلنے کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے ۔نزلہ جب موسم سرما میں نزلہ زکام اور کھانسی ہو جائے تو بعض میں شدت کا پانی بہتا ہے چھنکوں سے برا ہال ہوتا ہے کھانسی کر کے برا حال ہو جاتا ہے یا گلہ خراب ہو جاتا ہے تو لونگ لے کر تھورا سا نمک لگا کر چوسنا بڑا فائدہ مند ہے دمہ کے مریض کے لیے لونگ بہت مفید ہے لونگ کا باریک سفوف ایک گرام دودھ کے بنا چائے کا قہوہ بنا کر اس میں ملاکر استعمال کریں۔ جسم اور جوروں کا درد جسم اور جوروں کے درد کے لئے لونگ کا قہوہ بڑا فائدہ مند ہے لونگ کے تیل کو تلوں کے تیل میں ملاکرمالش کرنا بھی مفید ہے ۔

سردرد کے لیے لونگ کے چار سے پانچ دانے پیس کر نمک میں ملاکر ماتھے پر لیپ کریں۔دانت درد دانت اور داڑھ میں اگر درد ہو تو روغن لونگ روئی سے لگا کر متاثرہ مقام پر لگائیں۔کان درد ایک لونگ کا دانہ تلوں کے تیل میں ایک چمچہ گرم کرکے تین سے پانچ قطرے کان میں ڈالنے سے کان درد ختم ہو جاتا ہے ۔کثرت پیشاب جن لوگوں کو پیشاب زیادہ آتا ہو وہ لونگ کا سفوف چٹکی برا استعمال کریں ۔پرانے زخم اگر پرانے زخم ٹھیک نہ ہوتے ہوں تو ان کے لیے روغن لونگ اور ہلدی کامر ہم بنا کر لگائیں۔ اس تحریر کو دوسروں کے ساتھ شیئر ظرور کریں شکریہ زکام اور کھانسی

عالمہ سے شادی

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻤﮧ ﮬﻮﮞ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ – ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ہوﺍ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ہوﺍ ﮐﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ کچھ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ہم ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔جاری ہے ۔ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺮ ﺳﺴﺮ ﻭ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﻟﻮ – ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮍﺍ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ہوا ﮐﮧ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ؟ ﺍﺱ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﺘﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ مدد ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ کچھ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎ ﮬﻮﮞ۔

ﻣﻔﺘﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﺗﯽ ہے  ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺱ مسئلہ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﯾﺎ ہوﮞ ﻓﺘﻮﯼ ﻟﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ – ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮑﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺟﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﮐﮧ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺭہا ہوﮞ۔ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺭﮨﯿﮕﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﺁﭖ ﻭﮨﺎﮞ ﺭہیں ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺩﮬﺮ ﺭہے گی – ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺳﭩﻤﭩﺎ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ ﭼﻠﻮ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺮﻭ ﺩﻭﺳﺮﯼﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﮬﺮ ہی ﺭہوﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﻣﺴﻠﻢ ﮬﮯ۔

شیطانی سوچ

اس دینا میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں اچھے اور برے لیکن بعض لوگ بہت برے ہوتے ہیں اور ان برے اور بد ذہن لوگوں کو شیطان نما انسان کہا جاسکتا ہے کیونکہ ان کی سوچ شیطانی ہوتی ہے اسی وجہ سے عام انسانوں کو ان سے بہت نقصان پہنچتا ہے آج ہم آپ کو شیطانی لوگوں کی سات نشانیاں بتائیں گے نمبر 7:-شیطانی سوچ کے مالک لوگ صرف اپنی خوشی سے مطلب ہوتا ہے وہ اپنی خوشی کے لئے دوسروں کی خوشیاں برباد کرنے میں کوئی گناہ نہیں سمجھتے حرف عام میں ان کا یہ کہنا ہوتا ہے میرا کام ہو جائے باقی سب بھاڑ میں جائیں نمبر6 جس طرح یہ لوگ دوسروں کو ناخوش دیکھ کر خوش ہوتے ہیں بالکل اسی طرح دوسروں کی خوشی اور کامیابی کو دیکھ کر ان کو شدید جلن اور ان سے گلٹی کا احساس ہوتا ہے آسان الفاظ میں یہ لوگ دوسرے لوگوں کی کامیابی کو اپنی ناکامی سمجھتے ہیں۔

نمبر 5 ایسے لوگ آپ کے دماغ اور سوچ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ آپ کی سیدھی سادی سوچ کو غلط راستے پر ڈال دیا اور آپ کو ناکام اور برباد ہوتے دیکھ کر خوش ہو نمبر 4 ان لوگوں کو عام انسانوں سے محبت نہیں ہوتی بلکہ نفرت ہوتی ہے یہ جب بھی کسی سے ملتے ہیں تو ہمیشہ آڑے لہجے میں بات کرتے ہیں اور لڑائی اور بدمعاشی کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے نمبر3 جب آپ کسی شیطانی دماغ کے انسان سے مل رہے ہوتے ہیں تو آپ کی چھٹی حس آپ کو بیدار کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ اس شخص کے ارادے بڑے خطرناک ہیں جب بھی آپ کو ایسا محسوس ہو تو اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیا ر کرلے نمبر2 ایسے لوگوں کو جب بھی کوئی نقصان ہوتا ہے تو وہ اسے برداشت نہیں کر پاتے اور آپے سے باہر ہوکر دوسروں پر اپنے نقصان کا الزام لگانا شروع کر دیتے ہیں ان کا کمینہ اور شیطان ذہن یہ کہتا ہے ہے کہ تمہارا نقصان تمہاری وجہ سے نہیں بلکہ دوسروں کی وجہ سے ہوا ہے نمبر1 شیطانی لوگوں کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ ان کی کوئی ایک شخصیت نہیں ہوتی یعنی منافقت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے اپنے فائدے کے لئے یہ کچھ بھی بننے کو تیار ہوتے ہیں ان کے اصل روح کو پہچاننا انتہائی مشکل ہوتا ہے اللہ تعالی ہمیں ایسے لوگوں سے بچائے اور ہمیں ایسا بننے سے بچائے اگر آپ کو یہ پوسٹ پسند آئے تو اس کو لائک اور شئیر ضرور کیجیے گا اگر ابھی تک آپ نے ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا تو سبسکرائب کر لیجئے میں ملتا ہوں خوش رہئیے آباد رہئیے ہنستے مسکراتے رہیے اسلام علیکم اور اللہ حافظ۔۔