بالغ ہونے کی نشانی

حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں ،میرے بچپن کی بات ہے ایک دن میں نے ایک عالم سے پوچھا کہ انسان کے بالغ ہوجانے کی نشانی کیا ہے ؟اس ے جواب دیا پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جانا ۔اس کے بعد اس دانا شخص نے کچھ اور نشانیاں بھی بتائیں ۔مثلاََ شادی کرنے کی ٰخواہش پیدا ہونا وغیر ہ اور یہ ساری باتیں بتانے کے بعد بولاان سب باتوں کے علاوہ انسان کے

بالغ ہوجانے کی حقیقی علامت یہ ہے کہ وہ خدا کو راضی کرنے کے لئے اس سے زیادہ کوشش کرے جتنی کوشش دنیاوی مال ودولت حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے کیونکہ یہی سمجھ عقل کے پختہ اور اس کے صاحب فہم ہونے کی نشانی ہے ۔اگر کسی میں یہ نشانی نہ ہو پائے تو خواہ وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہو اسے بالغ خیالاسے بالغ خیال نہ کرنا

غریب درزی کا جنازہ ۔ ضرور پڑھیں

لکھنو بازار میں ایک غریب درزی کی دکان تھی جو ہر جنازے کے لۓ دکان بند کرتے تھے لوگوں نے کہا کہ اس سے آپ کے کاروبار کا نقصان ہوگا کہنے لگا کہ علماء سے سنا ہے کہ جو کسی مسلمان کے جنازے پر جاتا ھے کل اس کے جنازے پر لوگوں کا ہجوم ہوگا میں غریب ہوں نہ زیادہ لوگ مجھے جانتے ہیں تو میرے جنازے پر کون آۓ گا اس لیے ایک تو مسلمان کا حق سمجھ کر پڑھتا ہوں اور دوسرا یہ کہ شاید اس سے ہی اللہ پاک راضی ہو جائیں اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902ء میں مولانا عبدالحئ لکھنوی صاحب کا انتقال ہوا ریڈیو پر بتلایا گیا اخبارات میں جنازے کی خبر آگئی.. جنازے کے

وقت لاکھوں کا مجمع تھا. پھر بھی بہت سے لوگ انکا جنازہ پڑھے سے محروم رہ گئے جب جنازہ گاہ میں ان کا جنازہ ختم ہوا تو اسی وقت جنازہ گاہ میں ایک دوسرا جنازہ داخل ہوا اور اعلان ہوا کہ ایک اور عاجز مسلمان کا بھی جنازہ پڑھ کر جائیں یہ دوسرا جنازہ اس درزی کا تھا… مولانا کے جنازے کے سب لوگ بڑے بڑے اللہ والے ، علماء کرام سب نے اس درزی کا جنازہ پڑھا اور پہلے جنازے سے جو لوگ رہ گئے تھے وہ بھی اس میں شامل ہوگئے اس غریب کا جنازہ تو مولانا کے جنازہ سے بھی بڑھ کر نکلا اللہ پاک نے اس درزی کی بات پوری کرکے اس کی لاج رکھی سچ کہا ھے کہ اخلاص بہت بڑی نعمت ہے ۔ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا مردانہ کمزوری کا علاج ثواب بھی علاج بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کریم فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے شکایت کی کہ میرے گھر میں اولاد پیدا نہیں ہوتی رسول اللہ ﷺنے اس کیلئے علاج تجویز فرمایا کہ تم انڈے کھایا کرو۔۔۔ حضرت ابو ہریزہ رضی اللا عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے اپنی وقت باہ کی شکایت فرمائی حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ ہریستہ تناول فرمایا کریں۔۔۔ کیونکہ اس میں چالیس مردوں کی طاقت ہے حضرت انس ابن مالک

رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ بدن سے بالوں کا جلد دور کرنا قوت باہ کر بڑھاتاہے رسول اللہ ﷺ کھجور کو مکھن کے ساتھ کھانا بہت پسند فرماتے ۔ فائدہ علماء بیان فرماتے ہیں کہ اس کے کھانے سے قوت باہ زیادہ ہوتی ہے اور بدن بڑھتا ہے ۔ آواز صاف ہوتی ہے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پشت کا گوشت تمام گوشتوں میں بہتر ہے۔ فائدہ : علماء فرماتے ہیں کہ حکمت اس میں یہ ہے کہ اس گوشت میں قوت باہ زیادہ ہوتی ہے اور زورد ہضم ہوتا ہے ۔ سینے میں طاقت پیداکرتا ہے اور کمر کے درد کیلئے فائدے مند ہے۔ بعض روایات میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنوسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حیس بہت پسند تھا۔ فائدہ: حیس تین چیزوں سے مل کر بنتاہے۔ کھجور، مسکہ(مکھن) جما ہوادہی اس غذاسے بدن قوی ہوتاہے اور قوت باہ میں اضافہ ہوتا ہے خاموش سبق. ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﻗﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻃﻼﻕ ﺩﮮ ﺩﯼ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ سبب ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﺋﮯ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﻃﻼﻕ ﮐﯿﻮﮞ ﺩﯼ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ : ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﻋﺪﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﯿﺐ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﻭﮞﮔﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﺪﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺭﺟﻮﻉ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻟﻮﮒ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﻣﺴﺦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ

ﻣﺘﺮﺍﺩﻑ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺣﺘٰﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﮕﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ لوگ ﭘﮭﺮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻃﻼﻕ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﺱ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺍﺏ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻭﺕ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﻨﺪ ﺭﮐﮭﻮﮞ۔ ختم شد شکر کرنا ایک رکشے والے نے سکھایا .“صاحب جی جس دن میری دیہاڑی نہیں لگتی میں اس روز اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں -” اس گزرے اتوار کو صبح صبح گاڑی نے سٹارٹ ہونے سے انکار کیا تو میں نے رکشہ پکڑا ، بہت ہی باتونی تھا یار وہ بندہ ، لیکن جب اس نے یہ بات کہی تو میں جو اس کے بولنے سے الجھ رہا تھا ، چونک سا گیا – اب میں اس کی طرف مکمل متوجہ تھا – ” جس روز میرا کام مندا رہتا ہے ، میں شام ڈھلے خالی جیب گھر جاتا ہوں تو میں اپنے ایک بازو پر ہاتھ رکھتا ہوں ، خود کو مخاطب کرتا ہوں ، اور پوچھتا ہوں کہ میری صحت اچھی ہے نا ؟ مجھے الله نے بیماری سے محفوظ رکھا ہے ، عمدہ صحت دی ہے ، کل کو نکلوں گا تو آج کا نقصان بھی پورا ہو جائے گا ، اور یقین کیجئے ایسا ہی ہوتا ہے میں حیران سا اسے دیکھے جا رہا تھا – بات سنی اور بھول گیا – کچھ دن سے ایک معاملے میں بہت پریشانی چل رہی تھی ، آج دوپہر اسی رکشے والے کا خیال آیا اور جی ٹھہر گیا

اللہ کی مخلوق

ایک جج نے اپنا واقعہ سنایا : ” میں ایک جگہ سیشن جج لگا ہوا تھا ۔ ایک کیس آیا ،ایک ملزم میرے سامنے پیش کیا گیا جس پر قتل کا الزام تھا‘ سارے ثبوت اس کے خلاف تھے ۔مگر وہ تھا بہت معصوم شکل ،اور روتا اور چیختا بھی تھا کہ میں نے یہ قتل نہیں کیا۔ اس کی معصومیت سے یہ پتہ چلتا تھا کہ اس نے قتل نہیں کیا لیکن ثبوت یہ بتاتے تھے کہ اس نے قتل کیا ہے۔میری زندگی کا تجربہ تھا ،میرے تجربات اور اس کی معصومیت یہ بتا تی تھی کہ اس نے قتل نہیں کیا۔ اس لیے میری کوشش یہ شروع ہوگئی کہ اس کو بچالوں۔ اسی کوشش میں تقریباً تین مہینے میں نے اس فیصلے کو لمبا کیا لیکن میری کوشش ناکام رہی۔

میں سارا دن اسی کے بارے میں سوچتا میں سوچتا رہتا تھا۔ میری زندگی کا کوئی یہ عجیب فیصلہ تھا۔ آخر کار میں نے اس کو سزائے موت لکھ دی۔دوسرے دن اس کو سزائے موت ہونی تھی میں اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ سچ سچ بتاؤ تم نے قتل کیا ہے؟کہنے لگا ،جج صاحب میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے قتل نہیں کیا۔ میں نے کہا ،تم نے کونسا ایسا جرم کیا ہے جس کی تمہیں یہ سزا مل رہی ہے ؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگا ، صاحب جی میں نے ایک گناہ کیا ہے، مجھے یاد آگیا ہے، وہ یہ کہ میں نے ایک کتیا کو بڑی بے دردی سے مارا تھا اور وہ مرگئی تھی، بس وہ قتل میں نے کیا ہے۔ میں فوراً چونک پڑا، اور اسے کہا، تبھی تو جب سے تمہارا کیس میرے پاس آیا ہے، آج تین مہینے ہوگئے ہیں، روزانہ جب میں گھر جاتا ہوں تو ایک کتیا میرے دروازے پر بیٹھی ہوتی ہے، اور چیاؤں چیاؤں کرتی ہے اور اپنی زبان میں مجھ سے انصاف کا کہتی ہے۔” جج صاحب نے بتایا کہ دوسرے دن اس شخص کو پھانسی ہوگئی اور مجھے سبق ملا ،وہ یہ کہ اللہ کی مخلوق پر ظلم کرنے والے کو اللہ ضرور سزا دیتا ہے، اس کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ہماری نظر میں جو مخلوق حقیر اور نجس ہے لیکن بنانے والے کو وہ مخلوق کتنی پیاری ہے۔

کھانے کے فوراً بعد پانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک، موت بھی واقعہ ہوسکتی ہے۔ کھانے کے کتنی دیر بعد پانی پینا چاہیے؟ پڑھیں

جب بھی آپ کو پیاس محسوس ہوتی ہے تو آپ فوراً پانی پیتے ہیں۔ اگر آپ پانی کی کم مقدار پیئں تو آپ کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہوسکتا ہے اور پانی کی کمی کے باعث گردوں کی بیماریاں ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لہذا پانی کا استعمال پورے دن میں زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیئے تاکہ آپ کا جسم ہائیڈریٹ رہے اور آپ کو پانی کی کمی نہ ہونے پائے۔ لیکن کھانے کے دوران پانی پینے سے بالکل گریز کرنا چاہیئے اور کوشش کرنی چاہیئے کہ کھانے سے پہلے اور فوری بعد پانی ہرگز نہیں پیئں کیونکہ اس سے آپ کے جسم کو کئی نقصانات کا سامنا پڑ سکتا ہے۔

کھانا کھانے کے بعد پانی پینے سے معدہ ناکارہ ہو جاتا ہےاور انسان بہت سی انوکھی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے، کھانے کے بعد پانی جتنا صحت کو نقصان دیتا ہے اتنا اگر کھانے کے بعد ایک چمچ زہر استعمال کیا جائے تو وہ بھی شایدکم نقصان دے۔الغرض کھانا کھانے کے بعد کم ازکم آدھے گھنٹے تک پانی بالکل نہیں پیناچاہیے۔اگر آپ کھانا کھانے سے قبل پانی پی لیتے ہیں تو اس عمل سے آپ کا نظام ہاضمہ بہت سست ہوجاتا ہے ۔ وہ افراد جو کھانا کھانے سے قبل دوائیں کھاتے ہیں ان کو چاہیئے کہ وہ آدھا یا ایک گھنٹہ قبل دواکھالیں تاکہ ایک گھنٹے میں دوا ہضم ہوجائے اور کھانا آرام سے کھالیا جائے

خدا کی جانب کبھی پشت مت کرنا

امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں: ایک بار راہ چلتے ہوئے میں نے دیکھا، ایک ڈاکو لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ کچھ دنوں بعد مجھے وہی شخص مسجد میں نماز پڑھتا نظر آیا۔ میں اس کے پاس گیا اور اسے سمجھایا کہ تمہاری یہ کیا نماز ہے۔ خدا کے ساتھ معاملہ یوں نہیں کیا جاتا کہ ایک طرف تم لوگوں کو لوٹو اور دوسری طرف تمہاری نماز خدا کو قبول اور پسند آتی رہے۔ ڈاکو بولا: امام صاحب! میرے اور خدا کے مابین تقریباً سب دروازے بند ہیں۔ میں چاہتا ہوں کوئی ایک دروازہ میرے اور خدا کے مابین کھلا رہے۔ کچھ عرصہ بعد میں حج پر گیا۔ طواف کے دوران دیکھتا ہوں ایک شخص کعبہ کے غلاف سے چمٹ کر کھڑا کہتا جا

رہا ہے: میری توبہ، مجھے معاف کردے۔ میں اس نافرمانی کی طرف کبھی پلٹنے والا نہیں۔ پلٹنے والا نہیں۔ میں نے دیکھنا چاہا اس بےخودی کے عالم میں آہیں بھر بھر کر رونے والا کون خوش قسمت ہے۔ کیا دیکھتا ہوں، یہ وہی شخص ہے جسے میں نے بغداد میں ڈاکے ڈالتے دیکھا تھا!!! تب میں نے دل میں کہا: خوش قسمت تھا، جس نے خدا کی طرف جانے والے سب دروازے بند نہیں کر ڈالے؛ خدا مہربان تھا جس نے وہ سبھی دروازے آخر کھول ڈالے! تو کیسے بھی برے حال میں ہو، کتنے ہی گناہگار ہو… خدا کے ساتھ اپنے سب دروازے بند مت کر لینا۔ جتنے دروازے کھلے رکھ سکتے ہو انہیں کھلے رکھنے کےلیے شیطان کے مقابلے پر مسلسل زور مارتے رہنا… اور کبھی ہار مت ماننا۔ کوئی ایک بھی دروازہ یہاں کھلا مل گیا تو کچھ بعید نہیں وہ سب دوروازے ہی کھل جائیں، جن کے بارے میں تمہیں کبھی آس نہ تھی کہ خدا کی جانب سفر میں ان سب خوبصورت راہوں سے تمہارا کبھی گزر ہو گا!!! قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ (الزمر:) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔ رجوع کر لو اپنے پروردگار سے اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو… خیال رکھنا… خدا کی جانب کبھی پشت مت کرنا!

کیا خود لذتی کبیرہ گناہ ہے

سوال: میں نے علماء کرام سے یہ سنا ہے کہ دین کے کسی بھی مسئلہ کو سمجھنے کے لئے انسان کو شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے، میں آپ کی خدمت میں کچھ ایسا ہی مسئلہ پیش کر رہا ہوں۔ مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میں شادی شدہ ہوں بال بچے دار ہوں مگر میری اہلیہ چند سال پہلے فوت ہو چکی ہے، میں عقد ثانی کرنا چاہتا ہوں مگر میری اس جائز خواہش میں کچھ معاشرتی مسائل حائل ہیں۔ ہماری برادری میں
دوسری شادی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اسی لئے ہمارے خاندان میں بہت سی جوان لڑکیاں اور عورتیں جو بیوہ ہو چکی ہیں اور مرد جو رنڈوے ہو چکے ہیں وہ دوسری شادی کرنے کی ہمت نہیں کرتےاور اپنی بقیہ

زندگی اسی طرح گزار دیتے ہیں، اس کے علاوہ میرے بچے بھی یہ بات برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ کوئی دوسری عورت ان کی ماں کی جگہ لے، اس صورت حال میں ،میں کشمکش میں مبتلا ہوں اور میں نے اپنی فطری خواہش کو دبا رکھا ہے، لیکن کب تک؟!مجھے اندیشہ ہے کہ مجھ سے کہیں کوئی گناہ نہ سرزد ہو جائے۔ میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ! کیا میں اپنی اس فطری خواہش کو مصنوعی طریقہ (خودلذتی) سے پورا کرسکتا ہوں؟کیا یہ عمل کرنے سے کوئی گناہ تو نہیں ہوگا؟ اگر ہو گا تو کیا یہ گناہ صغیرہ ہوگا یا گناہ کبیرہ؟ اور اگر یہ کسی بھی طرح کا گناہ ہے تو کیوں؟ جبکہ اس میں کسی کی عزت کو پامال نہیں کیا جاتا۔ جواب: اگر زنا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو نکاح کرنا فرض ہے، لہٰذا آپ فوراً نکاح کر لیں لوگوں کو نہ دیکھیں ، کیونکہ اگر آپ سے گناہ ہو گیا تو اس کی جواب طلبی آپ سے ہونی ہے نہ کہ لوگون سے یا آپ کے خاندان والوں سےاور اس کی سزا بھی آپ ہی کو بھگتنا ہوگی نہ کہ آپ کے بچوں اور معاشرہ کے افراد کو۔ جہاں تک سوال رہا خودلذتی یعنی مشت زنی کا تو یہ ایک گناہ کبیرہ ہے، تاہم اگر کسی کو زنا کا اندیشہ ہو تو بعض آئمہ کے ہاں اس کی بقدر ضرورت گنجائش ہے مگر اس کو مستقل ذریعہ تسکین نہ بنایا جائے، کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ جو لوگ مشت زنی کرتے ہیں کل قیامت کے دن ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے۔ (بحوالہ: ختم نبوتﷺ) اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے بچنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے اور انجانے میں یا جان بوجھ کر جو گناہ اور غلطیاں ہم سے سرزد ہو گئی ہیں اللہ پاک اپنی رحمت سے ان کو معاف فرمائے۔(آمین۔ یا رب العالٰمین)

اسلامی قوانین کے تحت میاں بیوی کے درمیان مباشرت کے احکامات جانیۓ

میاں بیوی کی حقیقت اسلام میں ایک دوسرے کے لباس کی طرح بیان کی گئی ہے ۔ان دونوں کے تعلق کے بہت سارے پہلوؤں میں سے سب سے اہم پہلو ان کا جنسی تعلق ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے شادی کے موقعے پر اس بارے مین رہنمائی مفقود نظر آتی ہے ۔شرم و حیا کے سبب کوئی بھی بزرگ نوبیاہتا جوڑے کو اس حوالے سے کسی بھی رہنمائی سے گریز کرتا ہے ۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شادی شدہ جوڑے کی جنسی زندگی آغاز ہی سے مخمصے کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اللہ تعالی نے عورت کو مرد کی کھیتی قرار دیا ہے ۔اور اس سے حاصل ہونے والی لزت کو جنت کی لزتوں میں سے ایک قرار دیا ہے ۔ساتھ ہی

فرمان الہی ہے کہ تم جیسے چاہو اپنی کھیتی میں جاؤ یعنی اس تعلق کے حوالے سے آزادی بھی فراہم کر دی مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ شرعی حدود و عیود کا بھی تعین کر دیا جس کا جاننا میاں بیوی کے لیۓ ضروری ہے ۔ مباشرت کے عمل سے قبل باوضو ہو کر بسم اللہ پڑھنا ایک ایسا عمل ہے کہ اس سے شیطان اس عمل سے قبل میاں بیوی کے درمیان سے رخصت ہو جاتا ہے ۔اگر بسم اللہ نہ پڑھی جاۓ تو میاں بیوی کی قربت کے اس عمل میں شیطان ایک تیسرے فریق کی صورت ان دونوں کے درمیان موجود رہتا ہے ۔ قرآن نے عورت کو مرد کی کھیتی اس لیے قرار دیا ہے کہ مباشرت کا یہ عمل نئی نسل کی پیدائش کا وسیلہ ہوتا ہے لہذا اس موقع پر احکام خداوندی کو مد نظر رہنا مقصود ہونا چاہیۓ تاکہ پیدا ہونے والی نسل بہترین انسان کی صورت میں پیدا ہو اسی سبب جماع کے وقت گفتگو سے منع فرمایا گیا ہے کیونکہ اگر اس دوران بات چیت کی جاۓ تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کے توتلے ہونے کے امکانات ہوتے ہیں ۔ اسی طرح جماع کے وقت شرم گاہ کو دیکھنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے کیوںکہ اس صورت میں پیدا ہونے والے بچے کے پیدائشی اندھے ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اسی طرح اگرچے عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے مگر ایک

دوسرے کے سامنے مکمل برہنہ ہونے سے بھی اجتناب برتنے کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔برہنگی کی حالت میں مباشرت کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والا بچہ بھی بے حیا ہو گا ۔ احکام الہی کی بجا آوری ہم سب پر واجب ہے اور جب معاملہ اگلی نسل کی پیدائش کا ہو تو اس کی نزاکت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔لہذا اس بات کا اہتمام لازمی کرنا چاہیۓ کہ اس بارے میں تعلیم عام کی جاۓ ۔اور میاں بیوی کو اس امر سے آگاہ کیا جاۓ کہ مباشرت کے عمل کے قواعد و ضوابط کیا ہیں

حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی وصیت

جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ہوئی تو کہرام مچ گیا۔ جنازہ تیار ہوا، ایک بڑے میدان میں لایا گیا۔ بے پناہ لوگ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انسانوں کا ایک سمندر تھا جو حد نگاہ تک نظر آتا تھا۔ جب نمازجنازہ پڑھنے کا وقت آیا، ایک آدمی آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کا وکیل ہوں۔ حضرت نے ایک وصیت کی تھی۔میں اس مجمعےتک وہ وصیت پہنچانا چاہتا ہوں۔ مجمعے پر سناٹا چھاگیا۔ وکیل نے پکار کر کہا۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ وصیت کی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کے اندر چار

خوبیاں ہوں۔زندگی میں اس کی تکبیر اولیٰ کبھی قضا نہ ہوئی ہواس کی تہجد کی نماز کبھی قضا نہ ہوئی قضا نہ ہوئی ہو۔اس نے غیر محرم پر کبھی بھی بری نظر نہ ڈالی ہو۔اتنا عبادت گزار ہو کہ اس نے عصر کی سنتیں بھی کبھی نہ چھوڑی ہوں۔جس شخص میں یہ چار خوبیاں ہوں وہ میرا جنازہ پڑھائے۔ جب یہ بات سنائی گئی تو مجمعے پر ایسا سناٹا چھایا کہ جیسے مجمعے کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ کافی دیر گزر گئی، کوئی نہ آگے بڑھا۔ آخر کار ایک شخص روتے ہوئے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے جنازے کے قریب آئے۔ جنازہ سے چادر اٹھائی اور کہا۔ حضرت! آپ خود تو فوت ہوگئے مگر میرا راز فاش کردیا۔اس کے بعد بھرے مجمعے کے سامنے قسم اٹھائی کہ میرے اندر یہ چاروں خوبیاں موجود ہیں۔ یہ شخص وقت کا بادشاہ شمس الدین التمش تھے۔حوالہ :حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے اقوال

حضورِ والا! جس گھوڑے کو طلب فرمائیں لاکھ گھوڑوں سے نکال لاؤں

کہتے ہیں ایران کا بادشاہ دارا ایک دن شکار کھیلتے ہوے چراگاہ پہنچ گیا جہاں اس کے گھوڑے چرا کرتے تھے۔ بادشاہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے اپنے لشکر سے بہت آگے نکل آیا۔شاہی گھوڑوں کے چرواہے نے بادشاہ کی صورت دیکھی تو قدم بوسی کے لیے جلدی سے آگے بڑھا۔ بادشاہ نے اسے اپنا کوئی دشمن سمجھا اور فوراً ترکش سے تیر کھینچا۔ بادشاہ جب کمان میں جوڑ کر تیر چلانے لگا تو چرواہا چلایا۔ عالم پناہ! میں دشمن نہیں ۔ شاہی گھوڑوں کی نگرانی کرنے والا گلہ بان ہوں۔ شاہی چراگاہ کاچرواہا ہوں۔بادشاہ نے کمان سے ہاتھ کھینچ لیا اور تیر ترکش میں رکھتے ہوئے کہا؛تُو خوش قسمت ہے کہ بچ گیا ہے۔ ہم نے تو کمان کاچلہ

چڑھا لیا تھا۔ اگر تو ایک پل اور خاموش رہتا تو تیرا کام تمام ہوچکا ہوتا۔خاک اور خون میں تیری لاش تڑپ تڑپ رہی ہوتی۔چرواہے نے ادب سے جھکتے ہوئے عرض کیا؛عالم پناہ! اچنبھے کی بات ہے کہ اعلی حضرت نے اپنے غلام کو نہ پہچاناجب کہ میں کئی بار قدم بوسی کے لیے شاہی دربار میں حاضر ہوچکا ہوں۔ میں ایک معمولی چرواہا ہوں مگر اپنے گلے کے ایک ایک گھوڑے کو پہچانتا ہوں۔ حضورِ والا! جس گھوڑے کو طلب فرمائیں لاکھ گھوڑوں سے نکال لاؤں۔ بادشاہ کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ہر بندے کو جانتا پہچانتا ہو۔حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ حکمران اور رعایا،رہنما اور کارکن کے درمیان گہرا رابطہ ہونا چاہئے۔کسی بھی ذمہ دار کو اپنی ذمہ داری سے آشنا ہونا چاہیے۔ اگر راعی رعایا کو نہ جانے پہچا

اصحاب کہف کے کتے پہ جنت واجب کیوں ہے؟

ﻗﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﮯﮐﻮ ﻧﺠﺲ ﺍﻟﻌﯿﻦ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺘﮯﮐﯽ ﻭﮦ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺗﯿﻦ ﻓﻄﺮﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻧﺠﺲ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻗﺮﺍﺭ ﭘﺎﯾﺎ؟ ﭘﮩﻠﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﺰﻭﻝ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ﻭﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﻨﮧ ﺍﻭﻧﺪﮬﮯ ﭘﮍ ﮐﺮ ﺳﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺟﺎﮔﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺰﻭﻝ ﺭﺣﻤﺖ ِ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﺎ ﻏﻠﺒﮧ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻓﻄﺮﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻢ ﺟﻨﺲ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺑﮭﻮﻧﮑﮯ ﮔﺎ۔ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻓﻄﺮﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﭽﯽ ﮐﭽﮭﯽ ﻏﺬ ﺍ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﮍﮬﺎ ﮐﮭﻮﺩ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ

ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﻧﮧ ﺁ ﺳﮑﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﮮ ﺫﮨﻦ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﮮ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﺠﺲ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮐﺘﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﮐﮩﻒ ﮐﺎ ﮐﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻨﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﮐﯿﻮﮞ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ؟ ‏( ﺍﺱ ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻨﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ‏) ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﮩﻒ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﺳﮯ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯﮨﻤﺮﺍﮦ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﮐﺘﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ،ﮐﯿﺎ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﮐﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﺎ ﺍﺱ ﭼﺮﻭﺍﮬﮯ ﮐﺎ ﮐﺘﺎﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﭼﺮﻭﺍﮬﮯ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮐﺮﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﭘﺎﮐﺒﺎﺯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﻟﯿﺎﺗﮭﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺣﻖ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﺍﻟٰﮩﯽ ﮐﺎ ﻃﺎﻟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﺘﺎ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﻟﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺩﺷﻤﻦ ﻏﺎﺭ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺘﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺑﮭﻮﻧﮑﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺭﮎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ﺩﺷﻤﻦ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺿﺮﻭﺭ ﺑﮭﻮﻧﮑﺘﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺘﮯ ﻧﮯﺍﭘﻨﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﯾﮩﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺘﮯ ﭘﺮ ﺟﻨﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺑﺤﺚ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﺗﮭﯽ۔ﻣﺠﮭﮯ ﺭﻭﻧﺎ ﺁﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻣﯿﮟ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ ﮔﮭﺒﺮﺍﮨﭧ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﮔیا۔ﺑﺤﺚ ﭼﻠﯽ

ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﯽ۔ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻤﺎ ﻡ ﻓﻄﺮﺗﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺘﮯ ﮐﻮ ﻧﺠﺲ ﺍﻟﻌﯿﻦ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﻓﻄﺮﺗﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻭﺍﺿﺢ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﭼﺮﺍﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭہا ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﺗﻨﯽ ﻭﺍﺿﺢ ﻋﻼﻣﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺍ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺳﻮﭼﻨﺎ ﭘﮍﺍ۔ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﮨﻢ ﺟﺴﮯ ﺍﺷﺮﻑ ﺍﻟﻤﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﺱ ﻋﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﯾﺎ ﺍﺱ ﻓﻄﺮﺕ ﮐﺎ ﺷﮑﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮯ ﺟﺎ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮒ ﮐﺮ ﻃﻠﻮﻉِ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺳﻮ ﺟﺎﻧﺎ۔ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﻔﺮﺕ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ۔ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﺍﭘﻨﯽ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻘﯿﮧ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻓﺮﯾﺞ ﺟﯿﺴﯽ ﻣﺸﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮧ ﭘﮍﻧﮯ ﭘﺮ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ،ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟ ﺍﻥ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﺏ ۔ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ۔ﺗﻤﺎﻡ ﺟﮩﺎﻧﻮ ﮞ ﮐﺎ ﭘﺎﻟﻨﮯ ﻭﺍﻻ ۔ﺳﺘﺮ ﻣﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ۔ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﻣﺜﺎﻝ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ۔ ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﮐﮩﻒ ﮐﮯ ﮐﺘﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻓﻄﺮﺕ ﭼﮭﻮﮌﯼ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻨﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﺟﺴﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻧﮯ ﺍﺷﺮﻑ ﺍﻟﻤﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻓﻄﺮﺕ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ، ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ، ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻮﮨﻨﺎ ﺭﺏ ﺟﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺐ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﺨﺸﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﺎ..؟؟