سردیوں میں دودھ کے ساتھ انجیر کھانےکے فوائد

انجیروہ پھل ہےجسے جنت کا پھل کہا جاتا ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انجیر کی قسم یا د فرمائی ہے کہ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طورسینا کی ( سورہ التین) ۔ یہ کمزور اور دبلے لوگوں کے لئے بیش بہا نعمت ہے ۔ا نجیر جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے ۔ چہرے کو سرخ و سفید رنگت عطاکرتا ہے ۔ انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں ہوتا ہے ۔ماہرین کے مطابق پھگوڑی انجیر کو بنگالی میں آنجیر ، عربی میں تین اور انگلش میں فِگ ، یمنی میں بلس ، سنسکرت ، ہندی ، مرہٹی اور گجراتی میں انجیر اور پنجابی میں ہنجیر کہتے ہیں ۔ اس کا نباتاتی نام فیک کیریکا ہے ۔ عام پھلوں میں یہ سب سے نازک پھل ہے اور پکنے کے بعد خود بخودہی گرجاتا ہے اور دوسرے دن تک محفوظ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا ۔ فریج میں رکھنے سے یہ شام تک پھٹ جاتا ہے ۔اس کے استعمال کی بہترین صورت اسے خشک کرنا ہے ۔

اسے خشک کرنے کے دوران جراثیم سے پاک کرنے کے لئے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور آخر میں نمک کے پانی میں ڈبوتے ہیں تاکہ سوکھنے کے بعد نرم و ملائم انجیر کھانے میں خوش ذائقہ ہو ۔ اس لئے ہر عمر کے لوگوں میں اسے پسند کیا جاتا ہے ۔ عرب ممالک میں خاص طور پر اسے پسند کیا جاتا ہے ۔ انجیر پاکستان میں بھی بکثرت دستیاب ہے اور اسے ڈوری میں ہار کی شکل میں پروکرمارکیٹ میں لاتے ہیں ۔ یہ بنیادی طور پر مشرقی وسطی اور ایشیائے کو چک کاپھل ہے ۔ اگرچہ یہ برصغیر پاک و ہند میں بھی پایا جاتا ہے ۔ مگر اس علاقے میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس کا سراغ نہیں ملتا ۔ اس لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عرب سے آنے والے مسلمان اطباء یا ایشیائے کو چک سے منگول اور مغل اسے یہاں لائے ۔ انجیر کے اندر پروٹین ، معدنی اجزاء شکر ، کیلشیم ، فاسفورس پائے جاتے ہیں ۔دونوں انجیر یعنی خشک اور تر میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میں ہوتے ہیں ۔ وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں ۔ ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے عام کمزوری اور بخار میں اس کا استعمال اچھے نتائج کا حامل ہوگا ۔ انجیر کو بطور میوہ بھی استعمال کیا جاتا ہے اور بطور دوا بھی استعمال کیا جاتاہے ۔ یہ قابل ہضم ہے اور فضلات کو خارج کرتا ہے ۔ مواد کو باہر نکال کر شدت حرارت میں کمی کرتا ہے ۔ جگر اور تلی کے سدوں کو کھولتاہے ۔ انجیر کی بہترین قسم سفید ہے ۔ یہ گردہ اور مثانہ سے پتھری کو تحلیل کرکے نکال دیتا ہے ۔ زہر کے مضر اثرات سے بچاتا ہے ۔ انجیر کو مغر بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملا کر استعمال کریں تو یہ خطرناک زہروں سے محفوظ رکھتا ہے اگر بخار کی حالت میں مریض کا منہ بار بار خشک ہوجاتاہوتو اس کا گود ہ منہ میں رکھنے سے یہ تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔

اس کو نہار منہ کھانا بہت فوائد کا حامل ہے ۔اس کے علاوہ اس کے بے شمار فوائد ہیں ۔ * انجیر کو دودھ میں پکا کر پھوڑوں پر باندھنے سے پھوڑے جلدی پھٹ جاتے ہیں ۔ * انجیر کو پانی میں بھگو کر رکھیں ۔ چند گھنٹے بعد پھول جانے پر دن میں دوبار کھائیں ، دائمی قبض دور ہو جاتی ہے ۔ * خشک انجیر کو رات بھر پا نی میں رکھ دیا جائے تو وہ تازہ انجیر کی طرح پھول جائے گا ۔ اسے کھانے سے گلہ بیٹھ جانا یا بند ہوجانے کے امراض پیدا نہیں ہوتے ۔ * سردی کے ایام میں بچوں کو خشک انجیردی جائے تو ان کی نشوونما کے لئے بے حد مفید ہے ۔ * انجیر زودہضم ہے اور دانتوں کے لئے بہترین ہے ۔ * کم وزن والوں اور دماغی کام کرنے والوں کے لئے انجیر بہترین تحفہ ہے ۔ * انجیر کھانے سے آدمی مرض قولنج سے محفوظ رہتا ہے ۔ * کھانے کے بعد چند دانے انجیر کھانے سے غذائیت حاصل ہونے کے علاوہ قبض کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ * کھانسی ، دمہ اور بلغم کے لئے بھی مفید ہے ۔ * انجیر کھانے سے منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے ۔ * انجیر کا باقاعدہ استعمال سر کے بالوں کو دراز کرتا ہے ۔ * انجیر کو سرکہ میں ڈال کر رکھ دیں۔ ایک ہفتہ بعد دو تین انجیرکھانے کے بعد کھانے سے تلی کے ورم کو آرام آجاتا ہے ۔ * انجیر کو دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے رنگت نکھر آتی ہے اور جسم فربہ ہوجاتا ہے ۔ * تازہ انجیر توڑنے سے جو دودھ نکلتا ہے اس کے دو چار قطرے برص پر ملنے سے داغ ختم ہو جاتے ہیں ۔ * انجیر پیاز کی شدت کو کم کرتا ہے ۔ * جن لوگوں کو پسینہ نہ آتا ہو ، ان کے لئے انجیر کا استعمال مفید ہے ۔

انجیر خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتا ہے اور زہریلے مادے ختم کرکے خون کو صاف کرتا ہے ۔ * جن لوگوں کی ضعف دماغ ( دماغ کی کمزوری) کی شکایت ہو ، وہ اس طرح ناشتہ کریں کہ پہلے تین چار انجیر کھائیں ، پھر سات دانے بادام ، ایک اخروٹ کا مغز ، ایک چھوٹی الائچی کے دانے پیس کر پانی میں چینی ملا کر پی لیں ۔ * کمر میں درد ہوتو انجیر کے تین چار دانے روزانہ کھانے سے درد سے نجات مل جاتی ہے ۔ * بواسیر کی شکایت ہوتو انجیر کا استعمال نہایت مفید ہے ۔ اس کے استعمال سے پرانی سے پرانی بواسیر کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ * میتھی کے بیج اور انجیر کو پانی میں پکا کر شہد میں ملاکر کھانے سے کھانسی کی شدت کم ہوجاتی ہے ۔ * انجیر تازہ اور نرم لینی چاہیے ۔ کالی اور سوکھی انجیر میں بعض اوقات سفید کیڑے نظر آتے ہیں ۔ ایسی انجیر بہت نقصان دہ وہوتی ہے،یقیناً یہ معلومات آپ کیلئے فائدہ مند ثابت ہونگی۔

صرف 2 دن کھاؤ جوڑوں کا درد ہمیشہ کیلئے ختم

آج ہم جس نسخے کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں وہ جوڑوں کے درد کے متعلق ہے خاص کر ان افراد کیلئے جو عمر رسیدہ ہوچکے ہیں

آپ اسے استعمال کریں آپ کو اسے بہت فائدہ ہوگا۔

اکثر عمر رسیدہ حضرات کے گھٹنوں میں اور کمر میں ہوتا ہے اُس درد کو دور کرنے کیلئے یہ بہترین نسخہ ہے۔

یہ نسخہ اُن نوجوانوں کیلئے بھی ہے جن کو غلط کاری کی وجہ سےان کے گھٹنوں میں اور کمر میں درد ہونے لگتاہے یا جن افراد کا وزن زیادہ ہوتا ہےاُن کے ساتھ بھی یہ مسئلہ درپیش ہوتاہے۔آئیں آج کے اس نسخےکےانگریڈینٹ کے بارے میں جانتے ہیں۔

:اجزاء

ایلوویرا

:ترکیب اور استعمال

ایلوویرا بہت کڑوی ہوتی ہے لیکن اس میں قدرت نے بیشمار فوائد رکھے ہیں اس کو احتیاط کے ساتھ استعمال کریں اس کو کیسے استعمال کرنا ہے ۔

ایلوویرا کا پودہ کسی بھی پھولوں والی نرسری سے مل جاتا ہےاس کا ایک پتہ لے اُسے کاٹ کراُس میں سے جیل نکال لیں۔اور اس کو فریج میں رکھ دیں اور  صبح اس کے اوپرپیلے رنگ کی جھلی بنی ہوگی اس کو اُتار کر پھینگ دیں اور اس جیل میں سے تھوڑی جیل کھالیں تقریباََ چٹکی برابریہ تھوڑا کڑوا ہوتا ہے آپ اس کو پانی کے ساتھ بھی کھا سکتے ہیں۔

اس کو آپ 2 سے 3  دن استعمال کریں اس سے آپ کو گھٹنے کے درد میں فرق محسوس ہوگا کہ کم ہوگیا ہے۔

یہ ایک قدرتی علاج ہے اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ۔

اگر پیسوں کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں تو۔۔

اگر آپ پیسوں کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں تو اب نا ہوں فجر کی نماز پڑھ کر 41 مرتب قرآن پاک کی اس سورت کا ورد کیجیے
تو سورت مزمل کا ہر فجر کی نماز کے بعد ورد کرے ، اللہ نے چاہا تو انشاء اللہ ، پیسوں کے بند دروازے خود ہی کھول دے گا۔ موجودہ دور میں زند ہ رہنے کے لیے پیسوں کی ہر فرد کو ضرورت پڑتی ہے لیکن اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس کے پاس پیسوں کی کمی ہے تو سورت مزمل کا ورد کرے انشااللہ پیسوں کے بند دروازے کھل جائیں گے

معاشی تنگی سے نجات:۔معاشی تنگی کیلئے سورت مزمل فجر کی نماز کے بعد اکتالیس مرتبہ پڑھنے سے تنگدستی دور ہوجائے گی۔ دکھ درد سےنجات کیلئےاکتیس مرتبہ پڑھیں۔ اگر کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو 101 بار پڑھیں۔ لڑکے یا لڑکی کا رشتہ درکار ہو تو تین تسبیح اس سورہ پاک کی پڑھیں۔۔

اگر کسی شخص کی بیوی نافرمان ہو تو اس کیلئے 7 بار پڑھ کر کسی چیز پر دم کرکے اسے کھلادے۔ جسم درد کرتا ہو اور کام کاج میں جی نہ لگتا ہو تو سات مرتب پڑھ کر خود پر دم کرے۔ بچہ نافرمان ہوتو 3بار کسی چیز پر دم کرکے بچے کو کھلادے۔امراض چشم کا علاج:۔اگر کوئی امراض چشم میں مبتلا ہو اور اس کی دیکنے کی طاقت کمزور ہورہی ہو،آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہو تو ایسی صورت حال میں اکتالیس مرتبہ یہ سورہ مبارک پڑھ کر پانی پر دم کرے اور آنکھوں پر لگائے جو پانی بچ جائے اس کو یقین و عقیدت کے ساتھ پی لے تو حق تعالیٰ نے چاہا تو سات دنوں کے اندر ہی رب تعالیٰ اپنے فضل و کرم کی بدولت اپنے اسم مبارک کی برکت سے شفا عطا فرمائے گا۔،اور انشاالہ بہماری دور ہو جائے گی ہر نماز کے بعد تین مرتبہ اس سورہ پاک کا لثرت سے ذکر کرنے سے اللہ پاک صاحب کشف کے مرتبہ سے سرفراز فرماتا ہے۔ دین و دنیا میں اس کیلئے بھلائی کے سامان پیدا فرماتا ہے۔ اگر کوئی گھریلو قسم کی پریشانیوں میں مبتلا ہو اور سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ہر نماز کے بعد اول و آخر تین تین مرتبہ درود پاک پڑھے۔

انشااللہ شفا حاصل ہو گی

اچھے رشتوں کیلئے وظیفہ

دوران عمل کھانا‘ پینا‘ بولنا نہیں چاہیے ورنہ عمل باطل ہوجائے گا۔ روزانہ لباس‘ جگہ اور جائے نماز بھی ایک ہو۔ انشاء اللہ نکاح کے پیغام کے علاوہ شادی کے اخراجات کا بھی بندوبست ہوجائیگا۔یہ عمل میں نے جس کو بھی بتایا اور اس نے یقین سے کیا تو اس کا کام بن گیا ہر قسم کی حاجت کیلئے عمل(سید نور عالم شاہ‘ شویکی شریف)یہ عمل ہر قسم کی حاجت کیلئے ہے‘ عمل کچھ یوں ہے کہ اگر کوئی حاجت اہم ہو تو نصف شب کو وضو کرے اور تین بار سجدہ کرے اور ہر سجدے میں سو بار یَاوَھَّابُ کا ورد کرے اس طرح کہ ہاتھ کی ہتھیلیاں مثل دعا کےاوپر کورہیں۔ انشاء اللہ پہلی شب میں ہی حاجت پوری ہوگی۔

ورنہ تین دن میں ضرور حاجت پوری ہوگی۔ یہ عمل میرا بہت زیادہ آزمودہ ہے۔جلد شادی کرنے کا مجرب عملاگر کسی لڑکی کے نکاح کا پیغام نہ آتا ہو یا لڑکے والے لڑکی کو دیکھ کر چلے جاتے ہوں اور رشتہ طے نہیں پاتا ہو تو اس عمل کو ضرور آزمائیں۔ یہ میرا مجرب عمل ہے۔ اگر سچے دل اور سچی لگن سے کیا جائے تو انشاء اللہ کبھی ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑے گا۔ مدت عمل 11 دن ہے‘ بدھ کو نماز عشاء کے بعد گیارہ ہزار بار روزانہ اسم الٰہی یَامُعْطِیُ کا ورد کریں۔ اول و آخر درود شریف 11 بار پڑھیں۔ دوران عمل کھانا‘ پینا‘ بولنا نہیں چاہیے ورنہ عمل باطل ہوجائے گا۔ روزانہ لباس‘ جگہ اور جائے نماز بھی ایک ہو۔ انشاء اللہ نکاح کے پیغام کے علاوہ شادی کے اخراجات کا بھی بندوبست ہوجائیگا۔یہ عمل میں نے جس کو بھی بتایا اور اس نے یقین سے کیا تو اس کا کام بن گیا۔

ایک جوان بیوہ کی کہانی

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ ہے۔ آپ کی ایک شاگردہ جو باقاعدہ آپ کا درس سننے آتی تھی۔ نہایت عبادت گزار تھی۔ اس بے چاری کا جوانی میں خاوند چل بسا۔ اس نے دل میں سوچا! ایک بیٹا ہے اگر میں دوسرا نکاح کرلوں گی تو مجھے دوسرا خاوند تو مل جائے گا‘ لیکن میرے بچے کی زندگی برباد ہوجائے گی۔ اب وہ بچہ جوان ہونے کے قریب ہے۔ ”یہی میرا سہارا سہی“ لہٰذا اس عظیم ماں نے یہی سوچ کر اپنے جذبات کی قربانی دی۔وہ ماں گھر میں بچے کا پورا خیال رکھتیلیکن جب وہ بچہ گھر سے باہر نکل جاتا تو ماں سے نگرانی نہ ہوپاتی۔اب اس بچے کے پاس مال کی کمی نہ تھی۔ اٹھتی ہوئی جوانی بھی تھی یہ جوانی دیوانی مستانی ہوجاتی ہے چنانچہ وہ بچہ بری صحبت میں گرفتار ہوگیا۔

شباب اور شراب کے کاموں میں مصروف ہوگیا، ماں برابر سمجھاتی لیکن بچے پر کچھ اثر نہ ہوتا‘ چکنا گھڑا بن گیا‘ وہ اس کو حضرت حسن بصری کے پاس لے کر آتی‘ حضرت بھی اس کو کئی کئی گھنٹے سمجھاتے لیکن اس بچے کا نیکی کی طرف رجحان ہی نہیں تھا۔ حضرت کے دل میں بھی یہ بات آئی کہ شاید اس کا دل پتھر بن گیا ہے‘ مہر لگ گئی ہے بہرحال ماں تو ماں ہوتی ہے۔ ماںاسے پیار سے سمجھاتی رہی، میرے بیٹے نیک بن جاو ‘تمہاری زندگی اچھی ہوجائے گی۔کئی سال برے کاموں میں لگ کر اس نے اپنی دولت کے ساتھ اپنی صحت بھی تباہ کرلیاور اس کے جسم میں لاعلاج بیماریاں پیدا ہوگئیں‘معاملہ یہاں تک آپہنچا کہ اٹھنے کی بھی سکت نہ رہی اور بستر پر پڑگیا۔ اب اس کو آخرت کا سفر سامنے نظر آنے لگا‘ ماں نے پھر سمجھایا‘ بیٹا! تو نے اپنی زندگی توخراب کرلی‘ اب آخرت بنالے اور توبہ کرلے ‘اللہ بڑا غفور الرحیم ہے وہ تمہارے تمام گناہوں کومعاف کر دیگا۔جب ماں نے سمجھایا اس کے دل پر کچھ اثر ہوا ۔کہنے لگا! ماں میں کیسے توبہ کروں؟میں نے بہت بڑے بڑے گناہ کیے ہیں‘ ماں نے کہا بیٹا حضرت سے پوچھ لیتے ہیں‘ بیٹے نے کہا ماں اگر میں فوت ہوجاوں تو میرا جنازہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ پڑھائیں۔

ماں حضرت کے پاس گئی حضرت کھانے سے فارغ ہوئے تھے اور تھکے ہوئے تھے اور درس بھی دینا تھا۔ اس لیے قیلولہ کیلئے لیٹنا چاہتے تھے۔ ماں نے دروازہ کھٹکھٹایا‘ پوچھا کون؟ عرض کیا حضرت میں آپ کی شاگردہ ہوں۔ میرا بچہ اب آخری حالت میں ہے وہ توبہ کرنا چاہتا ہے لہٰذا آپ گھر تشریف لے چلیں۔حضرت نے سوچا یہ پھر دھوکا دے رہا ہے اور میرا وقت ضائع کرے گا اور اپنا بھی کرے گا۔ سالوں گزرگئے اب تک کوئی بات اثر نہ کرسکی اب کیا کرے گی۔ کہنے لگے!میں اپنا وقت ضائع کیوں کروں؟ میں نہیں آتا۔ ماں نے کہا حضرت اس نے تو یہ بھی کہا کہ اگر میرا انتقال ہوجائے تو میرا جنازہ حضرت حسن بصری پڑھائیں۔ حضرت نے کہا میں اس کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھاوں گا۔ اس نے تو کبھی نماز ہی نہیں پڑھی۔ اب وہ شاگردہ تھی چپ کرگئی‘ روتی ہوئی گھر آگئی۔بیٹے نے پوچھا کیا ہوا؟ ماں نے کہا ایک طرف تیری حالت دوسری طرف حضرت نے انکار کردیا۔ اب یہ بات بچے نے سنی تو اس کے دل پر چوٹ لگی اور کہا ماں میری ایک وصیت سن لیجئے ماں نے پوچھا بیٹا وہ کیا؟ عجیب وصیت :کہا امی میری وصیت یہ ہے کہ جب میری جان نکل جائے تو سب سے پہلے اپنا دوپٹا میرے گلے میں ڈالنا‘ میری لاش کو کتے کی طرح صحن میں گھسیٹنا‘ جس طرح مرے ہوئے کتے کی لاش گھسیٹی جاتی ہے۔ ماں نے پوچھا بیٹا وہ کیوں؟ کہا امی اس لیے کہ دنیا والوں کو پتہ چل جائے کہ جو اپنے رب کا نافرمان اور ماں باپ کا نافرمان ہوتا ہے اس کا انجام یہ ہوا کرتا ہے۔

میری پیاری ماں مجھے قبرستان میں دفن نہ کرنا‘ ماں نے کہا وہ کیوں؟ کہا ماں مجھے اسی صحن میں دفن کردینا ایسا نہ ہو کہ میرے گناہوں کی وجہ سے قبرستان کے مردوں کو تکلیف پہنچے جس وقت نوجوان نے ٹوٹے دل سے عاجزی کی یہ بات کہی تو پروردگار کو اس کی یہ بات اچھی لگی‘ روح قبض ہوگئی‘ابھی روح نکلی ہی تھی ماں آنکھیں بند کررہی تھی تو دروازے پر دستک ہوئی پوچھا کون؟ جواب آیا حسن بصری ہوں۔ کہا حضرت آپ کیسے؟ فرمایا جب میں نے تمہیں جواب دے دیا اور سوگیا۔ خواب میں اللہ رب العزت کا دیدار نصیب ہوا‘ پروردگار نے فرمایا حسن بصری تو میرا کیسا ولی ہے؟ میرے ایک ولی کا جنازہ پڑھنے سے انکار کرتا ہے۔ میں سمجھ گیا کہ اللہ نے تیرے بیٹے کی توبہ قبول کرلی ہے۔ تیرے بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے حسن بصری کھڑا ہے۔اے اللہ! تو کتنا کریم ہے کہ مرنے سے چند لمحہ پہلے اگر کوئی بندہ شرمندہ ہوتا ہے تو اس کی زندگی کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔

رات کو جب بھی آنکھ کھل جائے تو یہ دعا پڑھ کر دعا کرنا

دعا کی قبولیت کیلئے متعدد اوقات اور جگہیں ہیں، جن میں سے ہم کچھ یہاں بیان کرتے ہیں مصیبت آنے سے پہلے ہمیں کیا کرنا چاہیے عبداللہ بن عبید فرماتے ہیںکہ میں نے اللہ کے رسولۖ سے عر ض کیا ۔کہ میں کیا پڑھا کروں اپنی حفاظت کے لیے مصیبتوں کو ٹالنے کے لیے پڑیشانیوں سے بچنے کے لیے میں کیا پڑھوں نبی اکرم ۖ نے ان کو حل بتا رہے ہیں کیا پڑھنا ہے تم نے اپنی مصیبت پریشانی اور غم کو دور کرنے کے لیے اور اتنی چھوٹی چھوٹی دعائیں ہیں ہم یہ نہیں کرتے اگر ہم کسی بیماری میں جائیں تو ہم ڈاکٹر کے کہنے پے بہت ساری میڈیسن کھاتے ہیں دل بھی نہیں ہے کرتا میڈیسن کھانے کو لیکن ہم کھاتے ہیں کیوں کے بیماری کو کنڑول کرنا ہے ۔

لیکن اگر ہم وہی کریں مصیبت غم نہ آئے کسی آفت کو دور کرنا ہے تو کنڑول کے لیے ازکار ہے نہ پیسہ جاتا ہے لیکن وہ ہم سے نہیں ہے ہوتا۔ عبداللہ بن عبید نے کہا اللہ کے رسول اپنی حفاظت کے لیے میں صبح اور شام کے معاملے میں کیا پڑھوں تو نبی اکرم ۖ فرماتے ہیں ہر صبح اور شام تین تین مرتبہ تم سورة اخلاص پڑھو پھر تین مرتبہ سورة فلک پڑھیں پھر فرمایا تین مرتبہ سورة الناس پڑھومطلب تینوں سورة ایک ساتھ پڑھیں ہر وقت پریشانی والی چیز سے اللہ پاک محفوظ رکھے گا صحابی فرما رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ۖ نے فرما اگر کوئی پریشانی مصیبت آجائے تو صبح شام تین تین مرتبہ سورة اخلاص سورة فلک اور سورة الناس کو تین تین بار پڑھا کرویہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا مصیبتوں کے لیے پریشانیوں کے لیے ۔ اگر آپ رات کو دوران نیند جاگ جائیں تو آپ ۖ نے فرمایا تو اس وقت دعا پڑھ کر اللہ سے جو بھی دعا کریں گے وہ پوری ہو گی انشا ء اللہ جو دعا پڑھنی ہے اگر بات اچھی لگے تو لازمی شیئر کریں شکریہ

آپ کس موضوع پر بات کرنا چاہیں گے۔؟

ایک فلائٹ پر پاس بیٹھی با پردہ لڑکی سے ایک لبرل خیالات کا حامل شخص بولا‘ آئیں کیوں نہ کچھ بات چیت کرلیں‘سنا ہے اس طرح سفر با آسانی کٹ جاتا ہے۔ لڑکی نے کتاب سے نظر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا اور کہا کہ ضرورمگر آپ کس موضوع پر بات کرنا چاہیں گے؟اس شخص نے کہا کہ ہم بات کرسکتے ہیں کہ اسلام عورت کو پردے میں کیوں قید کرتا ہے؟ یا اسلام عورت کو مرد کے جتنا وراثت کا حقدار کیوں نہیں مانتا؟لڑکی نے دلچسپی سے کہا کہ ضرور لیکن پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیجئے۔ اس شخص نے پوچھا کیا؟

لڑکی نے کہا کہ گائے‘ گھوڑا اور بکری ایک سا چارہ یعنی گھاس کھاتے ہیں لیکن گائے گوبر کرتی ہے‘ گھوڑا لید کرتا ہے اور بکری مینگنی کرتی ہے‘ اسکی وجہ کیا ہے؟وہ شخص اس سوال سے چکرا گیا اور کھسیا کر بولا کہ مجھے اسکا پتہ نہیں۔ اس پر لڑکی بولی کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ خدا کے بنائے قوانین‘پردہ‘وراثت اور حلال و حرام پر بات کے اہل ہیں جبکہ خبر آپ کو جانوروں کی غلاظت کی بھی نہیں ؟یہ کہہ کر لڑکی اپنی کتاب کی طرف متوجہ ہوگئی۔

خانہ کعبہ کی چابیاں جب آقا کریم ﷺ کو دی گئیں اور آپ ﷺ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو اس وقت کیا منظر دیکھا ؟

اس آیت کی شان نزول میں مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا اور اطمینان کے ساتھ بیت اللہ شریف میں آئے تو اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف کیا۔ حجرا سود کو اپنی لکڑی سے چھوتے تھے اس کے بعد عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو جو کعبہ کی کنجی برادر تھے بلایا ان سے کنجی طلب کی انہوں نے دینا چاہی اتنے میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب یہ مجھے سونپئے تاکہ میرے گھرانے میں زمزم کا پانی پلانا اور کعبہ کی کنجی رکھنا دونوں ہی باتیں رہیں یہ سنتے ہی سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ روک لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ طلب کی

پھر وہی واقعہ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہ بارہ طلب کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر دے دی کہ اللہ کی امانت آپ کو دیتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا دروازہ کھول اندر گئے وہاں جتنے بت اور تصویریں تھیں سب توڑ کر پھینک دیں، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا بت بھی تھا جس کے ہاتھ فال کے تیر تھی آپ نے فرمایا اللہ ان مشرکین کو غارت کرے بھلا خلیل اللہ کو ان سیروں سے کیا سروکار؟ پھر ان تمام چیزوں کو برباد کر کے ان کی جگہ پانی ڈال کر ان کے نام و نشان مٹا کر آپ باہر آئے کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کوئی معبود نہیں بجز اللہ کے وہ اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اس نے اپنے وعدے کو سچا کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تام لشکروں کو اسی اکیلے نے شکست دی پھر آپ نے ایک لمبا خطبہ دیا جس میں یہ بھی فرمایا کہ جاہلیت کے تمام جھگڑے اب میرے پاؤں تلے کچل دئیے گئے خواہ مالی ہوں خواہ جانی ہوںبیت اللہ کی چوکیداری کا اور حاجیوں کو پانی پلانے کا منصب جوں کا توں باقی رہے گا

اس خطبہ کو پورا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہی تھے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر کہا حضور چابی مجھے عنایت فرمائی جائے تاکہ بیت اللہ کی چوکیداری کا اور حاجیوں کو زمزم پلانے کا منصب دونوں یکجا ہو جائیں لیکن آپ نے انہیں نہ دی مقام ابراہیم کو کعبہ کے اندر سے نکال کر آپ نے کعبہ کی دیوار سے ملا کر رکھ دیا اور اوروں سے کہہ دیا کہ تمہارا قبلہ یہی ہے پھر آپ طواف میں مشغول ہوگئے ابھی وہ چند پھیرے ہی پھرے تھے جو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوے اور آپ نے اپنی زبان مبارک سے اس آیت کی تلاوت شروع کی، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایامیرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں میں نے تو اس سے پہلے آپ کو اس آیت کی تلاوت کرتے نہیں سنا اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں کنجی سونپ دی اور فرمایا آج کا دن وفا کا نیکی اور سلوک کا دن ہےیہ عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ وہی ہیں جن کی نسل میں آج تک کعبۃ اللہ کی کنجی چلی آتی ہے۔

جمعہ کے دن کا خاص وظیفہ

ایسے لوگ جن کےپیسوں میں یا رزق میں برکت نہیں تو پریشان نہ ہوں بلکہ اس مسئلے میں مبتلا افراد روزانہ نماز فجر اور عشا کی نماز کے بعد گیارہ ،گیارہ سو مرتبہ ’’یا غنی ‘‘ کا ورد کریں ۔ اللہ تعالی کے فضل کرم سے ان کے رزق میں بے پناہ اضافہ اور برکت آجائے گی ۔

یہ مجرب وظیفہ رزق اور بندش کے خاتمہ کیلئے نہایت بہترین ہے ، کوئی بھی دکاندار اور تاجر دفتر کھولنے سے پہلے ستر مرتبہ ’’یا غنی‘‘ پڑھے گا تو انشااللہ اللہ پاک کاروبار میں برکت اور رزق میں اضافہ ہو گا اور کبھی بھی کسی نقصان کا خوف نہیں رہے گا ۔جمعرات اور جمعہ کی شب اس اسم شب اس اسم مبارک ’’یا غنی ‘‘ کو انیس ہزار مرتبہ پڑھنے اور عمل کو جاری رکھنے سے انسان کو غیب سے دولت ملتی ہے ۔اوربہت جلد کاروبار میں ترقی ہوگی اور رزق حلال کہاں کہاں سے آئے گا کہ عقل دنگ رہ جائے۔

نہ عقل ہے نہ شکل ہے

ہمارے قریب کے دیہات کا ایک واقعہ ہے۔ ایک نوجوان جس کی تعلیم بھی نہیں تھی اور شکل بھی عام سی تھی۔ یعنی شکل بھی عام سی، عقل بھی عام سی اور تعلیم بھی نہیں تھی۔ اس کی ایک خوبصورت کزن تھی۔ اس نوجوان نے کہا: میں اپنی اسی کزن سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ ماں باپ نے بھی ادھر زور دیا۔ لڑکی والوں نے لڑکی سے پوچھا تو لڑکی نے تو شروع میں ہاں کر دی۔ نکاح ہو گیا۔رخصتی بھی ہو گئی لیکن جب وہ آ کر اس کے پاس رہی تو اب اسےپتہ چلا کہ  یہ تو پکا جاہل ہے۔ وہ سوچ میں پڑ گئی کہ نہ عقل ہے نہ شکل ہے، زندگی کیسے گزرے گی؟ چنانچہ اس لڑکی نے دل ہی

میں اس نوجوان کو ناپسند کرنا شروع کر دیا مگر خاموش رہی۔شادی کے تین چار دن بعد عام طور پر دلہنیں اپنے ماں باپ کے گھر جاتی ہیں۔ یہ لڑکی بھی گھر گئی، اس کے دل میں یہ بات تھی کہ اب میں دوبارہ اس گھر میں کبھی نہ آؤں تو زیادہ اچھی بات ہو گی مگر اسے ماں باپ کے سامنے بات کرنے کی جرأت نہیں ہو رہی تھی، کیونکہ ایک تو قریب کا رشتہ تھا اوردوسرا شروع میں ہاں بھی کر چکی تھی۔دو چار دن بعد خاوند لینے کے لیے آ گیا۔ ماں باپ نے کہا کہ بیٹی! تیاری کرو، تمہارا میاں تمہیں لینے آیا ہے، جاؤ اس کے ساتھ۔ چنانچہ اس نے اپنا سامان باندھا اور اس کے ساتھ چل پڑی۔انہیں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جانا تھا۔ راستے میں اس نے خاوند سے کہا: مجھے پیاس لگی ہے۔ قریب ہی ایک کنواں تھا۔ خاوند نے جا کر ایک طرف گٹھڑی رکھی اور کنوئیں کے ڈول کے ذریعے پانی بھرنے لگا۔ بیوی کے دل میں شیطان نے ایک ایسی بات ڈالی کہ اس نے پیچھے سے اپنے خاوند کو کنوئیں میں دھکا دے دیا۔ جب دھکا دیا تو خاوند کنوئیں میں جا گرا۔ اس نے دل میں سوچا کہ اب یہ مر کھپ جائے گا اور ہمیشہ کے لیے اس سے جان چھوٹ جائے گی۔اب وہ واپس ماں باپ کے گھر چلی گئی اور اس نے ان کے پاس جا کر عورتوں والا مکر کیا۔ عورتیں مکرمیں تو مشہور ہوتی ہیں۔ ’’وجاء وا اباھم عشاء یبکون‘‘ جیسے اخوان یوسف نے مکر کیاتھا ویسے ہی اس نے بھی مکر کیا۔

وہ روتی ہوئی گھر پہنچی۔ ماں باپ نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ خاوند مجھے بٹھا کر کہیں چلا گیا۔ میں اتنی دیر تک اس کا انتظار کرتی رہی۔ میں اکیلی تھی، مجھے ڈر لگنے لگا، کوئی غیر مرد آ جاتا تو میرا کیا ہوتا؟مجھے جان کا بھی خطرہ تھا اور عزت کا بھی خطرہ تھا، وہ تو بڑا بے پروا سا آدمی ہے۔ اس لیے میں واپس آ گئی ہوں۔ یہ سن کر ماں باپ کو بھی بڑا غصہ آیا کہ اس نے ہماری بیٹی کو اس طرح لاوارث چھوڑ دیا اور خودکہیں چلا گیا، یہ ایسا بے وقوف انسان ہے۔اب ادھر کی بات سنیں، جب خاوند پانی میں گرا تو جان بچانے کے لیے اس نے ہاتھ پاؤں مارے تو اس کا ہاتھ اس رسے پر پڑ گیا جس کے ساتھ ڈول بندھے ہوتے تھے۔اس نے اس رسے کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور ڈوبنے سے بچ گیا، کافی دیر کے بعد اس نے ہمت کی اور آہستہ آہستہ رسے پر چڑھتے چڑھتے باہر نکل آیا۔ باہر نکل کر اس نے سوچا کہ میں کیا کروں؟ اس نے دل ہی دل میں کہا کہ مجھے توقع نہیں تھی کہ میری بیوی میرے ساتھ ایسا معاملہ کرے گی، کوئی بات نہیں، میں دوبارہ چلا جاتا ہوں۔چنانچہ اب وہ دوبارہ سسرال کے گھر آیا۔ اتنے میں کپڑے بھی خشک ہو گئے تھے۔

جیسے ہی وہ سسرال کے گھر میں داخل ہوا تو لڑکی کے والدین نے اس کو بہت جلی کٹی سنائیں۔ کہنے لگے: تو کیسا بے عقل انسان ہے کہ تو ہماری بیٹی کو اکیلے چھوڑ کر چلا گیا! تو بڑا بے پروا ہے، تجھے اس کا ذرا خیال نہیں۔ انہوں نے جو کچھ کہا، اس نے خاموشی سے سنا اور آخر میں صرف اتنا کہا کہ ہاں مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔ بہرحال آپ اپنی بیٹی کو بھیج دیں، ہمیں گھر جانے میں دیر ہو رہی ہے۔جب انہوں نے دیکھا کہ یہ بہت شرمندگی کا اظہار کر رہا ہے تو انہوں نے پھر بیٹی سے کہا، کوئی بات نہیں اب تم چلی جاؤ۔اب بیٹی تو چل پڑی لیکن اس کے دل میں ایک بات بار بار آنے لگی کہ اگرچہ یہ ان پڑھ تھا، اگرچہ یہ بے عقل تھا، شکل اچھی نہیں تھی، مگر اس نے میرے ماں باپ کے سامنے میرا عیب تو چھپایا ہے، اس کا دل بڑا ہے نا! اگر یہ میرے ماں باپ کے سامنے میری حرکت کھول دیتا تو میں تو ماں باپ کو چہرہ دکھانے کے قابل نہ رہتی۔ اس ایک بات پر اس لڑکی کے دل میں خاوند کی ایسی محبت پیدا ہوئی کہ اس نے اپنی بقیہ پوری زندگی اپنے خاوند کی محبت میں گزار دی۔