بوڑھے باپ نے سبق سکھایا

ایک ضعیف العمر شخص جس کے 5 بیٹے تھے جب وہ بوڑھا ہوگیا تو اس نے اپنی ساری دولت بیٹوں میں تقسیم کردی اس نے سوچا ’’اب مجھے روپے پیسے کی کیا ضرورت ہے بقیہ ایام اپنے کے ہاں گزار لوں گا‘‘۔ پہلے وہ اپنے بڑے بیٹے کے گھر گیا اور اس کے پاس رہنے لگا۔ ابتدائی ایام میں تو بڑے بیٹے نے اس کی بہت خدمت کی اور آؤ بھگت کی اور کہا۔ آپ کا خیال رکھنا تو میرا فرض ہے مگر تھوڑے دنوں بعد وہ اپنے باپ سے بے زار ہوگیا۔ اب وہ اس کا ادب بھی نہ کرتا تھا بلکہ کبھی کبھی اپنے والد کو ڈانٹ لیتا تھا۔ بوڑھے کو نہ وقت پر کھانا ملتا اور نہ کپڑا۔آخر بوڑھا بھی اپنے بڑے بیٹے کے سلوک سے تنگ

آگیا اور دوسرے بیٹے کے پاس چلاگیا۔ وہاں بھی ابتدائی ایام اچھے گزرے پھر منجھلا بیٹا بھی بڑے کی طرح بیزار ہوگیا اس کی بیوی تو اپنے سسر کے ساتھ بد زبانی بھی کرتی اور کہتی کہ ہم پہلے ہی مشکل سے گزر بسر کر رہے تھے اب تم نے بھی آکر اور بھی پریشان کردیا ہے ۔ بیچارا بوڑھا جلد ہی وہاں سے بھی اکتا گیا۔ پھر منجھلے بیٹے کے پاس گیا مگر اس کے سلوک سے بھی پریشان ہوکر سب سے چھوٹے اور لاڈلے بیٹے کے پاس جا پہنچا اور وہاں بھی تنگ ہوکر نکلا۔ بیچارے کو کہیں چین نہ ملا۔ سارے بیٹے اپنے والد کو ساتھ رکھنے سے بچنا چاہتے تھے۔ کوئی کہتا میرے اتنے بچے ہیں تم کو کیسے رکھ سکتا ہوں۔ کوئی کہتا میرا گھر چھوٹا ہے تو کوئی کہتا میں خود بہت غریب ہوں۔والد پانچوں بیٹوں کی خوشامد کرتا اس نے رو رو کر کہا کہ میں تمہارا باپ ہوں میرے بڑھاپے اور کمزوری پہ ترس کھاؤ مگر کوئی پرواہ نہ کرتا ایک مرتبہ پانچوں بیٹے اکھٹے ہوئے اور سب نے مل کر فیصلہ کرلیا کہ والد کو کسی اسکول بھیج دیا جائے وہ روزانہ صبح کو جائے اور شام کو آئے ’’تھوڑی روٹی اسے دے دی جائے‘‘۔ والد نے سنا تو بڑی عاجزی کے ساتھ بیٹوں سے کہنے لگا ’’مجھے پڑھنا تو آتا نہیں میں بوڑھا ہوں میری آنکھیں کمزور ہوگئی ہیں مجھے اچھی طرح دکھائی بھی نہیں دیتا۔ اب میں اسکول جاکر کیا کروں گا۔ مجھے کہیں رہنے کو تھوڑی سی جگہ اور ایک ٹکڑا روٹی دے دیا کرو میں پڑا رہوں گا‘‘۔مگر ظالم بیٹوں نے والد کی ایک نہ سنی اور گاؤں سے دور ایک اسکول میں زبردستی بھیج دیا۔ والد روتا ہوا چلا جارہا تھا کہ راستے میں ایک ضعیف العمر مگر امیر آدمی کا گھوڑا وہاں سے گزرا تو گھوڑا سے اتر کر پوچھا کہ کہاں جارہے ہو۔

’’اسکول جارہاہوں‘‘ ضعیف العمر اور مظلوم والد نے جواب دیا۔ امیر آدمی نے حیرت سے کہا بڑے میاں اس عمر میں اسکول جاؤگے یہ تو تمہارے گھر میں آرام سے بیٹھنے کے دن ہیں۔ مظلوم والد نے اپنی پوری کہانی سنائی تو امیر آدمی نے کہا بڑے میاں اسکول جانے کا خیال تو بیکار ہے مگر تم غم نہ کھاؤ میں تمہاری مدد کروں گا۔ یہ کہہ کر اس نے اپنے جیب سے ایک تھیلی نکالی اور اس میں کوئی چیز بھر دی۔ پھر تھیلی کو ایک لکڑی کے صندوق میں رکھ کر صندوق کو اچھی طرح بند کردیا۔ صندوق ضعیف العمر والد کو دیتے ہوئے اس کے کان میں کچھ کہا۔ ضعیف العمر والد صندوق لے کرخوشی خوشی گاؤں واپس پہنچا۔بیٹوں نے جو دیکھا کہ والد ایک صندوق بغل میں دبائے چلا آرہاہے تو سمجھ گئے کہ اس میں ضرور کچھ دولت ہے۔ انہوں نے اپنے والد سے یہ نہ پوچھا کہ تم اسکول کیوں نہیں گئے بلکہ سب خاطر تواضع میں لگ گئے۔ ہر ایک اسے اپنے گھر چلنے کو کہتا پھر انہوں نے والد کو خوب کھانا کھلایا۔ کھانے پینے کے بعد بوڑھے نے کہا ’’میرے بچو! اپنی جوانی میں مَیں نے کچھ دولت جمع کرکے جنگل میں دفن کردی تھی‘‘۔ مجھے اس کا خیال بھی نہیں رہا۔ آج جو ادھر سے گزرا تو یاد آیا۔ زمین کھود دی تو صندوق جوں کا توں تھا۔ اب یہ میری زندگی تک یوں ہی بند رہے گا۔ میرے مرنے کے بعد اسے کھولنا اور تم میں سے جو میری زیادہ خدمت کرے گا اور بڑھاپے میں آرام دے گا اس دولت کا زیادہ حصہ اسی کو ہی ملے گا۔

یہ سن کر پانچوں بیٹے آپس میں لڑنے لگے کہ ابا کو میں اپنے پاس رکھوں گا۔ اب بوڑھا جس بیٹے کے پاس بھی جاتا اس کی خوب آؤ بھگت ہوتی۔ سب اس کے کھانے کپڑے اور آرام کا خیال رکھتے۔ اسی طرح بوڑھے کی زندگی مزے میں گزرنے لگی۔ بہت دنوں تک آرام سے زندگی گزارنے کے بعد بوڑھا مرگیا۔ پانچوں بیٹوں نے مل کر بڑے شان سے اس کو دفن کیا شاندار فاتحہ کرائی۔ غریبوں کو خیرات دی۔ پھر سارے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد صندوق کھولنے لگے۔ مگر صندوق کھولنے سے پہلے ہی پانچوں بھائیوں میں بحث و مباحثہ ہونے لگا۔ ہر ایک کہتا میں نے ابا کی زیادہ خدمت کی ہے اس لیے بڑا حصہ مجھے ملنا چاہیے۔ آخر میں یہ طے پایا کہ چاروں میں برابر تقسیم کرلیں گے۔ صندوق کھولا گیا تو اس سے بڑی خوبصورت ریشمی تھیلی نکلی جس کا منہ بند تھا اس میں چھن چھن کی آواز آرہی تھی بڑی بے صبری سے تھیلی کھولی اور فرش پر خالی کردی مگر کیا دیکھتے ہیں کہ اس میں سے کانچ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے گر کر فرش پھیل گئے۔ اس پر پانچوں بیٹوں کو بہت غصہ آیا اور وہ آپس میں ہی لڑنے لگے۔ گاؤں کے دوسرے لوگ یہ دیکھ کر خوب ہنسے اور ان نافرمان اولاد سے کہا ’’دیکھ لی اپنے بوڑھے باپ کی عقل! اسے اسکول بھیج رہے تھے ناں تم سب مگر اس نے اسکول گئے بغیر کیسا مزیدار سبق سکھایا ہے

سعودی عرب میں ایک شخص نے خواب دیکھا

سعودی عرب کے رہائشی ایک شخص نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اس سے کہہ رہا تھا اس فون نمبر پر رابطہ کرو اور فلاں شخص کو عمرہ کراوٴ۔ فون نمبر بڑا واضح تھا۔ نیند سے بیدار ہوا تو اسے خواب اچھی طرح یاد تھا مگر اس نے وہم جانا اور خواب کو نظر انداز کردیا۔ تین دن مسلسل ایک ہی خواب نظر آنے کے بعد وہ شخص محلے کی مسجد کے امام کے پاس گیا اور اسے بتایا: امام مسجد نے کہا فون نمبر یاد ہے تو پھر اس شخص سے رابطہ کرو اور اسے عمرہ کروا دو۔اگلے روزدو۔اگلے روز اس شخص نے خواب میں بتلایا ہوا نمبر ڈائل کیا ،جس شخص نے فون اٹھایااس سے ضروری تعارف کے بعد اس نے کہا:

مجھے خواب میں کہا گیا ہے کہ میں تمہیں عمرہ کرواوٴں ، لہذا میں اس نیک کام کی تکمیل کرنا چاہتا ہوں ۔ جس آدمی کو اس نے فون کیا وہ زور سے ہنسا اور کہنے لگا کونسے عمرہ کی بات کرتے ہو؟ میں نےتو مدت ہوئی کبھی فرض نماز بھی ادا نہیں کی اور تم کہتے ہو کہ تم مجھے عمرہ کروانا چاہتے ہو….!! جس شخص نے خواب دیکھا تھا وہ اس سے اصرار کرنے لگا۔ اسے سمجھایا کہ … میرے بھائی ! میں تمہیں عمرہ کروانا چاہتا ہوں ، سارا خرچ میرا ہوگا۔ خاصی بحث اور تمہید کے بعد آدمی اس شرط پر رضامند ہوا کہ ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ عمرہ کرونگامگر تم مجھے وآپس ریاض میرے گھر لیکر آوٴ گے اور تمام تر اخرجات تمہارے ہی ذمہ ہونگے…… وقتِ مقررہ پر جب وہ ایک دوسرے کو ملے تو خواب والے شخص نے دیکھا کہ واقعی وہ شکل وصورت سے کوئی اچھا انسان نہیں دکھائی دیتا تھا۔ اس کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ شرابی ہے اور نماز کم ہی پڑھتا ہے۔ اسے بڑا تعجب ہوا کہ یہ وہ ہی شخص ہے جسے عمرہ کرنے کے لئے خواب میں تین مرتبہ کہا گیا…دونوں شخص مکہ مکرمہ عمرہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ میقات پر پہنچے تو انہوں نے غسل کرکے احرام باندھا اور حرم شریف کی طرف روانہ ہوئے ، انہوں نے بیت اللّٰہ کا طواف کیا ۔ مقامِ ابرہیم پر دو رکعت نمازادا کی، صفا و مرہ کے درمیان سعی کی ۔ اپنے سروں کو منڈوایا اور اسطرح عمرہ مکمل ہوگیا۔اب انھوں نے واپسی کی تیاری شروع کردی ۔ حرم سے نکلنے لگے تو وہ شخص جو بہت کوشش سے عمرہ کرنے پر آمادہ ہوا تھا کہنے لگا: ” دوست حرم چھوڑنے سے پہلے میں دو رکعت نفل ادا کرنا چاہتا ہوں ، نجانے دوبارہ عمرہ کی توفیق ہوتی بھی ہے یا نہیں ۔” اسے کیا اعتراض ہوتا اس نے کہا: ” نفل پڑھو اور بڑے شوق سے پڑھو۔

اس نے اس کے سامنے نفل ادا کرنے شروع کر دئیے۔ جب سجدہ میں گیا تو اس کا سجدہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا ….. جب کافی دیر گزرگئی تو اس کے دوست نے اسے ہلایا … جب کوئی حرکت نہیں ہوئی تو اس پر انکشاف ہوا کہ اس کے ساتھی کی روح حالتِ سجدہ ہی میں پرواز کرچکی تھی….اپنے ساتھی کی موت پر اسے بڑا رشک آیا اور وہ روپڑا کہ یہ تو حسنِ خاتمہ ہے، کاش ! ایسی موت میرے نصیب میں ہوتی، ایسی موت تو ہر کسی کونصیب ہو،وہ اپنے آپ سے ہی یہ باتیں کر رہا تھا…… اس خوش قسمت انسان کو غسل دیا گیا، اور احرام پہنا کر حرم میں ہی اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ہزاروں فرزندان اسلام نے اس کا جنازہ پڑھا اور اس کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی….. اس دوران اس کی وفات کی اطلاع ریاض اسکے گھروالوں کو دی جاچکی تھی،خواب دیکھنے والے شخص نے اپنے وعدہ کے مطابق اس کی میت کو ریاض پہنچا دیا،جہاں اسے دفن کر دیا گیا…. چند ایام گزرنے کے بعد خواب دیکھنے والے شخص نے اس فوت ہونے والے کی بیوہ کو فون کیا۔ تعزیت کے بعد اس نے کہا : ” میں جاننا چاہتا ہوں کہ تمہارے شوہر کی ایسی کونسی نیکی یا عادت تھی کہ اس کا انجام اسقدر عمدہ ہوا۔ اسے حرمِ کعبہ میں سجدہ کی حالت میں موت آئی…..بیوہ نے کہا: بھائی تم درست کہتے ہو میرا خاوند کوئی اچھا آدمی نہ تھا۔ اس نے ایک

لمبی مدت سے نماز روزہ بھی چھوڑ رکھا تھا۔ اور شراب پینے کا عادی تھا، میں اسکی کوئی خاص خوبی بیان تو نہیں کرسکتی …. ہاں ! مگر اس کی ایک عادت یہ تھی کہ ”وہ ہمارے ہمسایہ میں ایک غریب بیوہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کیساتھ رہتی ہے، ”میرا شوہر روزانہ بازار جاتا تو جہاں اپنے بچوں کے لئے کھانے پینے کی چیزیں لاتا وہ اس بیوہ اور اس کے یتیم بچوں کیلئے بھی لے آتا، اور اس کے دروازے پر رکھ کر اسے آواز دیتا کہ میں نے کھاناباہر رکھ دیا ہے، اسے اٹھا لو۔ ” یہ بیوہ عورت کھانا اٹھاتی اور ساتھ میرے خاوند کے لئے دعا کرتی: ” اللّٰہ تمہارا خاتمہ بالخیر کرے” قارئینِ کرام اسطرح اس بیوہ کی دعا اللّٰہ تعالٰی نے قبول فرمالی۔ اور اس شرابی کا اتنے عمدہ طریقے پر خاتمہ ہوا کہ اس پر ہر مسلمان کو رشک آتا ہے۔ قارئینِ کرام اس بات کو ہمیشہ یاد رکھئے کہ اللّٰہ کے رسول ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ….. ” بھلائی کے کام آدمی کو بری موت سے بچاتے ہیں۔’ .

عیسائی نے مسلمان عالم کو عیسائیت کی دعوت دی

ایک عیسائی مبلغ روزانہ ایک مسلمان عالم دین کے پاس جاتا اور اُسے دین اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے کی دعوت دیتا۔ یہ عیسائی مبلغ روزانہ لگ بھگ ایک جیسی باتوں کو اس مسلمان عالم کے سامنے دہراتا۔عیسائی مبلغ کہتا: کیا اپنے وقت کو ضائع کرتے پھر رہے ہو۔ دن میں پانچ پانچ بار نمازیں پڑھتے ہو اور وہ بھی رکوع، قیام اور سجدوں کی مشقت کے ساتھ۔ مہینہ بھر روزے رکھتے ہو، خنزیر کے گوشت کے پاس نہیں جاتے، زندگی کی لذتوں کو اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ تقویٰ کے یہ معیار تو نہیں ہوا کرتے۔ وغیرہ یہ عیسائی مبلغ یہ بھی کہتا کہ جب اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت میں آنے کا رادہ کرو تو بس اتنا سا

عقیدہ بنا لینا کہ اللہ نے اپنا اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا اور پھر خود اللہ اسی بیٹے کے روپ میں زمین پر تشریف لائے اور تیری خطاؤں کیلئے جان دیکر تم کو بچا گئے۔ بس اسی پر ایمان لاؤ اور جنت تیری ہو گئی۔عیسائی مبلغ کا روز آ کر ایک جیسی باتیں کرنا اس مسلمان عالم کیلئے اچھا خاصا تکلیف کا باعث بنتا تھا، مروت میں برداشت کرنا تو علیحدہ بات تھی مگر اب اس تکرار سے کیسے جان چھڑائی جائے پر سوچتے رہنامسلمان عالم دین کا مسئلہ بن چکا تھا، اور پھر ایک دن اللہ تعالیٰ نے اس مسلمان عالم کو اس مصیبت سے جان چھڑانے کیلئے ہدایت دیدی۔مسلمان عالم نے اپنے ماتحت ملازم کو بلایا اور اسے سمجھایا کہ کل جب یہ عیسائی میرے پاس آئے تو تم غمگین سی شکل بنا کر میرے پاس آنا اور میرے کان میں کچھ کہہ کر چلے جانا۔دوسرے دن ایسا ہی ہوا کہ جب یہ عیسائی مبلغ آیا اور حسب معمول اپنی لگی بندھی گفتگو شروع کی تو وہ ملازم اداس اور رونی سی شکل بنائےآیا اور مسلمان عالم کے کان میں جیسے ہی کچھ کہا تو عالم نے بے تحاشہ رونا شروع کر دیا۔اس عجیب و غریب صورتحال سے گھبرا کر عیسائی نے جاننا چاہا کہ آخر کیا ماجرا ہے۔ اس نے ہمت کر کے مسلمان سے پوچھا؛ اے شیخ کیا ہوا ہے۔ مسلمان نے کہا؛ میں فی الحال بات نہیں کرنا چاہتا۔عیسائی نے کہا؛ حضرت صبر کیجیئے اور کچھ تو بتائیے ماجرا کیا ہے۔ مسلمان نے کہا؛ میں نہیں بتا سکتا کہ اتنی بڑی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔ (اور شیخ صاحب واقعی رو رو کر بے حال ہوتے جا رہے تھے)بالآخر عیسائی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے کہا؛ شیخ جی، مجھے کچھ

تو بتائیے، اس طرح تو میرے اعصاب بھی جواب دیتے جا رہے ہیں، مجھے کچھ تو پتہ چلے!۔شیخ صاحب گویا ہوئے؛ ابھی ابھی میرے پاس یہ اندوہناک خبر پہنچی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام انتقال کر گئے ہیں۔عیسائی عالم نے ایک زور دارقہقہہ لگاتے ہوئے مسلمان عالم کی طرف تسخر اڑاتی نظروں سے دیکھا اور کہا؛ کیا احمق انسان ہو تم۔ کیا فرشتے بھی کبھی مرا کرتے ہیں؟ مسلمان شیخ نے عیسائی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر فرشتے نہیں مرا کرتے تو تم فرشتوں کے رب کے بارے میں کیسے کہہ دیتے ہو ہو کہ وہ مر گیا ہے۔ (کہتے ہو کہ وہ ہمارا رب ہے مگر عقیدہ یہ رکھتے ہو کہ یہود نے اس کو قتل کردیا تھا اور صلیب پر چڑھا دیا تھا۔ )بس اتنا سنا تھا کہ عیسائی کی بولتی بند ہوگئ۔(ڈاکٹر ذاکر نائیک کے استاد شیخ احمد دیدات کے بیانات میں سے اقتباسدن کی

بال پین کا ڈھکن

آپ کے پاس بال پوائنٹ پین ہے ذرااس کا ڈھکن دیکھیں کیا اس میں سوراخ ہے بال پین بنانے والی مشہور کمپنی بک کے پینوں کے ڈھکنوں میں سوراخ ہوتا ہے کیا آپ سمھتے ہیں کہ یہ ہوا کے کسی خاص دبائو کو برقرار رکھنے کیلئے ہے یا پھر سیاہی خشک ہونے سے بچانے کیلئے ویسے اوپر جو سوراخ ہوتا ہے وہ اس لئے ہوتا ہے کہ ڈھکن بند کرتے ہوئے اس کا اضافی دبائو نکل جائے لیکن اس سوراخ اہم ترین مقصد ہے آپ کو مرنے سے بچانا ہےجی ہاں مذاق نہیں کررہے آپ کے کوئی دوست عزیز خاص طور پر بچپن کے دوستوں میں کچھ ایسے ضرور ہوں گے جن کو پین چبانے کی عادت ہوگی دنیا میں ایسے بہت سے لوگ پائے جاتے ہیں جنہیں یہ بد عادت ہے پین بنانے والی کمپنی کو یہ خطر ہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ حلق میں جاکر سانس کی نالی میں نہ پھنس جائے کیونکہ اس سے جان بھی جاسکتی ہے۔

آپ کے پاس بال پوائنٹ پین ہے ذرااس کا ڈھکن دیکھیں کیا اس میں سوراخ ہے بال پین بنانے والی مشہور کمپنی بک کے پینوں کے ڈھکنوں میں سوراخ ہوتا ہے کیا آپ سمھتے ہیں کہ یہ ہوا کے کسی خاص دبائو کو برقرار رکھنے کیلئے ہے یا پھر سیاہی خشک ہونے سے بچانے کیلئے ویسے اوپر جو سوراخ ہوتا ہے وہ اس لئے ہوتا ہے کہ ڈھکن بند کرتے ہوئے اس کا اضافی دبائو نکل جائے لیکن اس سوراخ اہم ترین مقصد ہے آپ کو مرنے سے بچانا ہےجی ہاں مذاق نہیں کررہے آپ کے کوئی دوست عزیز خاص طور پر بچپن کے دوستوں میں کچھ ایسے ضرور ہوں گے جن کو پین چبانے کی عادت ہوگی دنیا میں ایسے بہت سے لوگ پائے جاتے ہیں جنہیں یہ بد عادت ہے پین بنانے والی کمپنی کو یہ خطر ہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ حلق میں جاکر سانس کی نالی میں نہ پھنس جائے کیونکہ اس سے جان بھی جاسکتی ہے .

رزق میں کشادگی کی دعا

تنگی رزق سے ہر کوئی عاجز ہوتا ہے .اگر کوئی مسلمان یہ چاہے کہ اسکو کثیر رزق عطا ہوتو اسکو دعائے جبرائیل ؑ پڑھنی چاہئے .یہ دعااللہ کریم نے اپنے محبوب نبیﷺ کو حضرت جبرائیل کے ذریعہ سے سکھائی تھی اور سب سے پہلے سرکار دوجہاں ﷺ نے اپنی لاڈلی بیٹیحضرت فاطمہؓ کو عطا کی تھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث میں اس دعا کا ذکر موجود ہے.ایک روز آپؓ نے شدید فقر و فاقہ کی وجہ سے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ایک ماہ ہو گیا گھر میں چولہا جلانے کی نوبت تک نہیں آئی.آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو تو پانچ بکریاں دے دوں اور چاہو تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی ایک دعا سکھائی ہے بتا دوں۔

یہ دعا پڑھو

. یَااَوَّلَ الاَوَّلِینَ یَااٰخِرَ الاٰخِرِینَ‘ ذَاالقُوَّةِ المَتِینِ‘ وَ یَارَاحِمَ المَسَاکِینَ‘ وَیَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ

جنت میں خاوند کون ایک خاتون کا سوال

اگر ميں اپنے خاوند كو ناپسند كرتى ہوں اور صرف اللہ كے ليے اپنے بچوں كى خاطر اس كى اذيت و تكليف پر صبر كروں تو كيا وہ جنت ميں بھى ميرا خاوند ہوگا ؟ كيونكہ دنيا فانى اور تھوڑے سے ايام اور زائل ہونے والى ہے، چاہے اس ميں جتنى بھى تبديلى ہو جائے ميں اسے جنت ميں اپنا خاوند نہيں بنانا چاہتى، برائے مہربانى يہ مت كہيں كہ وہ شخص جنت بھى ضرور ميرا خاوند بنےگا! برائے مہربانى ميرے سوال كا جواب ضرور ديں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے۔ الحمد للہ:اول:ہمارى دعا ہے كہ اللہ تعالى آپ كو خاوند كى جانب سے اذيت و تكليف پر صبر كرنے كا اجروثواب عطا فرمائے، اور يہ صبر و تحمل اخلاق عاليہ اور اچھى اصل كى دليل ہے.ہمارى يہ بھى دعا ہے كہ اللہ تعالى آپ كے خاوند كو ہدايت دے اور اس كى اصلاح فرمائے، اور آپ كے ساتھ حسن معاشرت اور حسن سلوك ميں ممد و معاون ہو، اور اسے حسن سلوك كى جانب چلائے۔

دوم:اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:{ جن لوگوں نے اللہ تعالى كا چہرہ طلب كرنے كے ليے صبر كيا اور نماز قائم كى اور ہم نے جو رزق انہيں عطا كيا ہے اس ميں سے انہوں نے خفيہ اور اعلانيہ خرچ كيا، اور برائى كو اچھائى سے دور كرتے ہيں، انہيں لوگوں كے ليے بہتر انجام ہے، ہميشہ كى جنتوں ميں داخل ہونگے، اور ان كے آباء اور بيويوں اور اولاد ميں سے جن كے اعمال صالحہ ہوئے وہ بھى داخل ہونگے، اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہونگے، تم پر سلام ہو اس كے بدلے ميں جو تم نے صبر كيا سو اچھا ہے اس گھر كا انجام }الرعد ( 22 – 24 ).حافظ ابن كثير رحمہ اللہ اس كى تفسير ميں لكھتے ہيں:قولہ تعالى:{ اور جو ان كے آباؤ و اجداد اور بيويوں اور اولاد ميں سے صالح ہو }.يعنى اللہ تعالى انہيں اور ان كے آباء و اجداد اور اہل و عيال اور اولاد ميں سے جو بھى نيك و صالح ہونگے اورمومنين ميں سے جنت ميں داخل ہونے كے قابل ہونگے انہيں آپس ميں جمع كريگا؛ تا كہ انہيں ديكھ كر ان كى آنكھيں ٹھنڈى ہوں، حتى كہ ادنى درجہ كو اعلى درجہ ميں پہنچايا جائيگا، اور اعلى درجہ والے كو اس كے درجہ سے كم نہيں كيا جائيگا، بلكہ يہ اللہ سبحانہ و تعالى كى جانب سے بطور نعمت و احسان ہو گا.ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 4 / 451 ).مزيد آپ سوال نمبر ( 5981 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.سوم:ہمارى عزيز بہن آپ كو علم ہونا چاہيے كہ جنت ميں جب كوئى داخل ہوگا تو وہ اسى دنيا والى حالت ميں ہى داخل نہيں ہوگا، واضح اور بين نصوص سے ثابت ہے كہ جنت ميں وہ شخص داخل نہيں ہوگا جس كے دل ميں ذرا برابر بھى كھوٹ ہوگى، جنت ميں داخل ہونے والے ہر شخص كو ہر برائى اور شر سے پاك كر ديا جائيگا۔ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:{ اور ان كے سينوں ميں جو بھى كينہ ہے نكال ديں گے، بھائى بھائى بن كر تختوں ميں آمنے سامنے بيٹھے ہوں گے }الحجر ( 47 ).امام ابن جرير طبرى رحمہ اللہ كہتے ہيں:” جن كى صفات بيان ہوئى ہيں ہم ان كے سينوں سے كينہ و حسد نكال ديں گے، اور اللہ نے بتايا ہے كہ وہ جنتى ہيں، دنيا ميں انكى جو آپس ميں دشمنى و عداوت تھى اسے ختم كر ديا جائيگا تو جب وہ جنت ميں داخل ہونگے تو ايك دوسرے كے سامنے تختوں پر بيٹھيں گے، ان ميں سے كوئى بھى كسى چيز ميں كسى سے حسد نہيں كريگا، اللہ تعالى نے كسى ايك كو جو خاص نعمت اور كرامت سے نوازا ہے اس ميں حسد نہيں ہوگا، ان كے نيچے سے نہريں جارى ہونگى۔

ديكھيں: تفسير طبرى ( 12 / 437 – 438 ).ابو سعيد خدرى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:” جب مومن آگ سے چھٹكارا حاصل كر ليں گے ت وانہيں جنت اور جہنم كے مابين قنطرہ پر روك ليا جائيگا، اور دنيا ميں ان كے آپس ميں جو ظلم ہونگے ان كا ايك دوسرے سے بدلہ ليا جائيگا، جب وہ صاف شفاف ہو جائيں گے تو انہيں جنت ميں داخل ہونے كى اجازت ملےگى، اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں محمد ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كى جان ہےصحيح بخارى حديث نمبر (2308 ).حافظ ابن حجر عسقلانى رحمہ اللہ فتح البارى ميں اس حديث كى شرح كرتے ہوئے لكھتے ہيں:” بقنطرۃ “ظاہر يہى ہوتا ہے كہ يہ پل صراط پر جنت والى سائڈ ہے، اور يہ بھى احتمال ہے كہ پل صرات اور جنت كے مابين كوئى اور جگہ ہو.قولہ: ” قيتقاصون ” صاد پر شد ہے جو يفاعلون كے وزن پر قصاص سے ہے، اس سے مراد يہ ہے كہ ايك دوسرے پر جو ظلم كيا تھا اسے تلاش كر كے ايك دوسرے كو معاف كر ديں گے.قولہ: حتى اذا نقوا ” نون پر پيش ہے، اور اس كے بعد قاف ہے اور يہ تنقيۃ سے مشتق ہے، اور مستملى ميں يہاں ” تقصوا ” يعنى تا پر زبر كے ساتھ ، اور قاف مشددہ ہے، يعنى ايك دوسرے سے قصاص مكمل كرليں گے.قولہ: ھذبوا ” يعنى جب ايك دوسرے سے قصاص لے كر گناہوں سے چھٹكارا حاصل كر ليں گے.ديكھيں: فتح البارى ( 5 / 96 ).اس ليے عزيز بہن آپ مطمئن رہيں، آپ كے خاوند كا وہ اخلاق نہيں رہےگا جو دنيا ميں تھا، اور نہ ہى تمہارى وہ حالت ہو گى جو آج آپ كى ہے، جس طرح آپ كا خاوند پاك صاف ہو كر مہذب بن جائيگا، اسى طرح آپ كے ساتھ بھى وہى كچھ ہو گا جب اللہ كا فيصلہ ہوا اور تم دونوں جنت ميں اكٹھے ہو گئے تو جنت ميں آپ لوگوں كا جمع ہونا دنيا ميں جمع ہونے جيسا نہيں ہوگا، بلكہ آپ ايسے اكٹھے ہونگے جس طرح آپ كا دل چاہےگا، اور آپ كو راحت حاصل ہوگى، اور جس سے آپ كى آنكھيں ٹھنڈى ہونگى۔

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:{ ان پر سونے كى پليٹيں اور گلاس گھمائے جائيں گے، اور اس جنت ميں ان كے ليے وہ كچھ ہوگا جو نفس چاہےگا، اور آنكھوں كى لذت ہوگى، اور تم اس ميں ہميشہ رہوگے } الزخرف ( 71 ).اور ايك دوسرے مقام پر فرمايا:{ ہم دنيا كى زندگى ميں تمہارے ولى ہيں اور آخرت ميں بھى، اور تمہارے ليے اس ميں وہ كچھ ہوگا جو تمہارے دل چاہيں گے، اور تمہارے ليے اس ميں وہ ہوگا جو مانگو گے }فصلت ( 31 ).اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:{ چنانچہ كوئى بھى نفس نہيں جانتا كہ اس كے ليے آنكھوں كى ٹھنڈك ميں سے كيا چھپايا گيا ہے، جو وہ عمل كرتے رہيں ہيں اس كا بدلہ }السجدہ ( 17 ).اس ليے اللہ كى بندى آپ ايسے اور اعمال كريں جو آپ كو جنت تك پہنچائيں اور جن اعمال سے جنت ميں آپ كے درجات بلند ہوں، اور يہ يقين كر ليں كہ جنت ميں نہ تو كوئى تكليف ہو گى اور نہ ہى كوئى تھكاوٹ، اور نہ ہى اس ميں غم و پريشانى ہو گى

چند دنوں میں دانت موتیوں سے بھی زیادہ سفید

فید و چمکدار دانت ہر شخص کا خواب ہوتے ہیں ، ہماری مسکراہٹ دوسروں کے لئے بیحد ضروری ہے اور مسکراہٹ اگر خوبصورت اور چمکتی ہو تو لوگوں کو بیحد لبھاتی ہے. دانت ہمارے چہرے کا ایک اہم حصہ ہیں ان کی تھوڑی سی حفاظت ہمارے دانتوں کو نئی زندگی دے سکتی ہے آج ہم آپ کو ایک ایسا نایاب ٹوٹکہ بتائیں گے جس پر عمل کر کے نا صرف آپ اپنے دانت سفید اور چمکدار کر سکیں گےبلکہ انہیں مضبوط اور چمکدار بھی بنا سکیں گے.
ہلدی ہمارے گھر کے مصالحوں کا ایک اہم حصہ ہے ہم اپنے روز مرہ کھانوں میں ہلدی کا استعمال لازمی کرتے ہیں ،

لیکن صرف یہ ہی نہیں ہلدی کو ہم بہت سی دوسری چیزوں کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں جیسا کہ آج ہم آپ کو ہلدی سے اپنے دانت چمکدار بنانے کا اہم ٹوٹکہ بتائیں گے جس پر عمل کر کہ آپ اپنے دانت چند دنوں میں سفید اور چمکدار بنا سکیں گے.
ہلدی : آدھا چائے کا چمچ
بیکنگ سوڈا : ایک چٹکی
ناریل کا تیل : حسب ضرورت

ترکیب اور طریقہ استعمال
ٹوٹکے میں بتائی گئی تمام چیزوں کو اچھی طرح مکس کریں اور دانتوں پر لگا لیں. شروع میں آپ کو یہ احساس ہو گا کہ آپ کے دانت انتہائی پیلے ہو رہے ہیں لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں یہ آپ کے دانتوں کی پیلاہٹ کو ختم کر رہے ہیں. اس پیسٹ کو چند منٹوں تک دانتوں پر لگا رہنے دیں اور پھر پانی سے قُلی کر لیں. چند منٹوں بعد آنے والے نتائج سے آپ خود حیران رہ جائیں گے.

وہ غلطی جو خواتین اکثر وضو میں کرتی ہے

اعضائے وضو پر اگر کسی چیز کی تہہ جمی ہو اور پانی جِلد تک نہ پہنچ پائے تو وضو نہیں ہوگا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز کیلئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت (مجامعت) کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو (اندریں صورت) پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔

پس (تیمم یہ ہے کہ) اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔اگر میک اپ میں صرف رنگ ہوں اور وہ اعضائے وضو تک پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ نہ ہوں تو میک اپ پر وضو ہو جائے گا۔ لیکن اگر میک اپ کی تہہ جمی ہو جو پانی کو اعضائے وضو کی جلد تک نہ پہنچنے دے تو میک اپ پر وضو نہیں ہوگا۔

باباجی قبر بنانی ہے

آج سے پندرہ سال پہلے کی بات ہے ہمارے محلے میں ایک گورکن رہتا تھا جو فوت ہوچکا ہے‘ نام محمد یوسف تھا۔ مضبوط جسم اور بڑی بڑی آنکھیں جن میں نور ہی نور بھرا ہوا تھا۔ ایمان اس کے چہرے سے چھلکتا تھا۔ باریش چہرہ‘ اس کی ایک ہی روٹین تھی صبح گھر سے نکلتا اور شام کو قبرستان سے واپس آتا تھا۔ ہمیشہ راستے کے ایک طرف ہوکر چلتا تھا اور کسی کی طرف بری نظر سے نہیں دیکھتا تھا۔ ایک دن محلے کے پڑھے لکھے لڑکے اکٹھے ہوئے اور یوسف سے کہنے لگے کہ آپ کی ساری قبرستان میں گزر گئی ہے ہمیں کوئی واقعہ سنائیں۔ یہ سن کر یوسف سنجیدہ ہوا اور لمبی سانس لی اور کہنے لگا۔ آج مجھے 27 سال ہوگئے ہیں میں قبریں بنارہا ہوں‘ میرے ساتھ ایک ہی واقعہ گزرا ہے گرمیوں

گزرا ہے گرمیوں کی دوپہر تھی‘ کچھ لوگ میرے پاس آئے کہ باباجی قبر بنانی ہے۔ میں نے پوچھا کہ آدمی ہے یاعورت ہے۔ تو انہوں نے بتایا کہ عورت۔۔۔ کرنٹ لگنے کی وجہ سے فوت ہوگئی ہے۔وہ لوگ یہ کہہ کرچلے گئے۔ میں عموماً اکیلا ہی قبر بناتا ہوں میں نے سخت گرمی میں قبر بنانا شروع کردی۔ دوپہر دو ڈھائی بجے تک قبر مکمل ہوگئی۔ قبر کو فائنل ٹچ دینے کیلئے میں نے قبر کے اندرکدال ماری تو مجھے ایسےآواز آئی جیسے کوئی شیشے کی چیز ٹوٹ گئی ہے اور بس پھر خوشبو ہی خوشبو پھیل گئی اور قبر ٹھنڈی ہوگئی میں قبر میں ہی لیٹ گیا‘ باہر سخت گرمی تھی اندر قبر ٹھنڈک اور خوشبو سے بھری ہوئی تھی۔ اس سے میری روح تک خوش ہوگئی۔ میں حیرانی اور دہشت سے خاموش رہا۔ مغرب کے بعد جنازہ آگیا‘ عورت کے ورثاء نے اسے دفنا دیا اور چلے گئے مگر میرے اندر تجسس بھرا ہوا تھاکہ اس عورت کی کون سی نیکی ہے جو اس کو اتنا بڑا انعام ملا ہے۔ باتوں ہی باتوں میں میں نے معلوم کرلیا تھا کہ یہ عورت فرید گیٹ بہاولپور کے اندر رہنے والی تھی اور بجلی کےکرنٹ لگنے سے فوت ہوگئی ہے۔ آباؤ اجداد یہیں کے رہنے والے تھے میں پوچھتا ہوا فرید گیٹ پہنچ گیا اور عورت کے بارے میں معلوم ہواکہ اس عورت کا خاوند کچھ عرصہ پہلے فوت ہوگیا تھا وہ بیچارہ چھ سات سال بیمار رہا اس عورت نے دن رات اس کی خدمت کی۔

خاوند کی شدید بیماری کے باوجود اس کے ساتھ بے وفائی نہیں کی اور دل و جان سے اس کی تیمارداری کرتی رہی۔ باوجود غربت کے اس کو محنت مزدوری کرکے کھانا کھلاتی رہی اور اپنے جذبات کو اپنے بیمار خاوند پر قربان کردیا جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر بے لوث انسانیت کی خدمت کرتے ہیںاور اپنی راتیں بھی اللہ کی راہ میں جاگتے ہیں۔ انہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں ایسے ایسے انعامات دوں گا کہ جس کو کسی آنکھ نے دیکھا اور کسی نے تصور بھی نہیں کیا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی قبریں خوشبو اور ٹھنڈک سے بھری ہوئیں ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور سب مسلمانوں کو بخش دے اور آخرت میں ٹھنڈک عطا فرمائے

لیلیٰ مجنوں کی کہانی

کہا جاتا ھے لیلی سعودیہ اور مجنوں یمن کا تھا، حضرت امام حسن ؓ کےدور میں تھے۔انکو مجنوں کا لقب بھی حضرت امام حسن ؓ نےدیا تھا، فقظ تاریخی حوالے لیلیٰ مجنوں بنیادی طورپرایک عربی الاصل داستان ہے۔اس میں بیان کردا کردارتاريخی طور پر ثابت مانےجاتے ہیں کہ لیلیٰ مجنوں دو حقیقی شخصیات تھیں۔مجنوں کااصل نام یا جس نام کواصل تصورکیا جاتا ہے،قیس ابن الملوح ابن مزاحم ہے۔اوروہ ایک مالدارنجدی قبیلے بنوعامر کےسردارکا بیٹا تھا۔لیلی کانام لیلیٰ بنت مہدی ابن سعد بیان کیاجاتا ہے۔ نظامی گنجوی کےقصےلیلیٰ مجنوں کےمطابق لیلیٰ اورمجنوں بچپن میں ایک ہی مدرسےمیں پڑھنےجاتےتھے۔تب ہی ان میں باہمی الفت پیدا

ہوئی۔ بچپن میں قیس اورلیلیٰ دونوں اپنےقبیلےکی بکریاں چراتے تھےوہ ساتھ بیٹھتے اورآپس میں باتیں کرتے۔مجنوں کی توجہ تعلیم کی بجائے لیلیٰ کی طرف رہتی،۔ جس پراستاد سے اسے سزا ملتی مگراستاد کی چھڑی مجنوں کے ہاتھوں پرپڑتی کے ہاتھوں پرپڑتی اوردرد ہاتھوں پرپڑتی اوردرد لیلیٰ کو ہوتا۔استاد نے یہ بات لیلیٰ و مجنوں کے گھر والوں کو بتادی۔جس پرلیلیٰ کےمدرسےجانے اور گھر سے نکلنے پر پابندی لگ گی۔ایک دن پھرمجنوں کی نظرلیلیٰ پر پڑ گی۔اوربچپن کا عشق تازہ ہو گيا۔مجنوں نے لیلیٰ کا ہاتھ مانگامگر لیلیٰ کے باپ نے انکار کردیا۔لیلیٰ کا بھائی تبریزمجنوں کومارنےکی کوشش کرتا ہےمگرمجنوں اسکو قتل کردیتا ہے جس پرمجنوں کوسرےعام محبت کا اظہارکرنےاورلیلی کے بھائی کو مارنےپرسنگسارکرنےکی سزا سنائی گئی۔کچھ کہانیوں میں تبریزکے قتل کا قصہ نہیں ہے بلکہ رشتہ دینےسےانکار کیا جاتا ہےاورکچھ عرصہ بعد لیلیٰ کی شادی کسی دوسرے کے ساتھ کردی جاتی ہے۔جس پر قیس،پاگل سا ہوجاتا ہے۔جامعہ ازہر شعبہ اردو کےسربراہ ڈاکٹرابراہیم محمد ابراہیم المصری لکھتے ہیں کہ لیلیٰ مجنوں کی شدید عشق و محبت کی کہانی کوئی فرضی داستان نہیں ہے۔جیسا کہ ڈاکٹر طحہٰ حسین نےخیال ظاہرکیا ہےیہ پہلی صدی ہجری کا سچا واقعہ ہے۔جوعرب کےنجد کےعلاقےمیں رونما ہوا اورلازوال بن گیا۔

مجنوں ایک مالدار نجدی قبیلےبنو عامر کے سردار کا بیٹا تھا۔ وہاں ایک گوراچٹا، خوب صورت اور خوش گفتار نوجوان تھا شاعرتھاقیس نےلیلی کےاوپر شاعری کرتے ھوے ایک جگہ لکھا ھےترجمہ’وہ ایک چاند ہےجو ایک سرد رات میں آسمان کے وسط میں چمک رہا ہےوہ نہایت حسین ہےاسکی آنکھیں اس قدرسیاہ ہیں کہ انھیں سرمےکی ضرورت نہیںقیس کے والدیں اپنے خاندان کے ساتھ لیلیٰ کے والد کے پاس گئے۔اور لیلیٰ کا رشتہ مانگا لیلیٰ کےماں باپ کو داغ بدنامی گوارا نہ ہوا اورانھوں نےرشتہ دینےسےانکارکردیا۔

دوران قبیلہ ثقیف کے ایک نوجوان نے بھی جس کا نام ورد تھا۔لیلیٰ کو شادی کا پیغام دیا،لیلیٰ کے والدین نے یہ رشتہ قبول کر لیاقیس اس قدرمضطرب ھوا کہ وہ بیمارہوگیااس کے والدین نے چاہا کہ وہ اپنے قبیلے کی کسی اور خوبصورت لڑکی سے شادی کر لے مگر اب قیس لیلیٰ کی محبت میں اتنی دور نگل گیا تھاکہ واپسی ممکن نہ تھیرفتہ رفتہ قیس کی حالت ایسی ہو گئی کہ اسے اپنے تن بدن کا ہوش نہ رہا۔لوگوں نے قیس کے باپ کو مشورہ دیا کہ وہ اسے مکہ لے جائےاور بیت اللہ کی پناہ میں دعامانگے۔

قیس کا باپ الملوح اسے لے کر مکہ گیا اور حرم شریف میں اس سے کہا کہ غلاف کعبہ سے لپٹ کر لیلیٰاور اس کی محبت سے نجات کی دعا مانگے۔اس کے جواب میں جب قیس نے یہ دعا مانگی کہاے اللہ! مجھے لیلیٰ اور اس کی قربت عطا فرما تو الملوح قیس کو واپس لے آئے۔راستے میں اس نے ایک جگہ پہاڑی پر اپنے آپ کو گرانے کی بھی کوشش کی مگر لوگوں نے پکڑ لیا۔اپنے قبیلے میں واپس پہنچ کر قیس کا باپ ایک بار پھر لیلیٰ کے باپ کے پاس گیا تا کہ اسے لیلیٰ کی اپنے بیٹے سے شادیپر آمادہ کرنے کی کوشش کرے،

مگر پھر انکار ھو گیا۔لیلیٰ کی شادی اس دوسرے لڑکے سے کر دی گئی جس کا پیام آیا تھا۔ لیلیٰ خود بھی قیس کی محبت میں گرفتار تھی مگر خاندان کی نیک نامی اور والدین کی اطاعت سے مجبور تھی۔قیس کو یہ معلوم ہوا کہ لیلیٰ کی شادی ہو گئی ہے تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی۔اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔ وہ اپنے وجود کو بھول گیا۔گوشہ نشین ہو گیا اور پھر ایک دن صحرا میں نکل گیا۔لیلیٰ کو آوازیں دیتا، پہاڑوں، درختوں، جنگلی جانوروں سے پوچھتا لیلیٰ کہاں ہے۔اسی حال میں ایک دن اس کی نظرایک ہرنی پر پڑی۔

وہ اس کے پیچھے ہو لیا اور نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔اس کے گھر والے صحرا میں اسے ڈھونڈتے رہے۔چوتھے دن وہ انھیں ایک پتھریلی وادی میں ریت پر مردہ پڑا ملا.روایات کے مطابق لیلیٰ بھی شاعرہ تھی اور یہی چیز ہے جس نے اس محبت بھرے قصے کو ایک المیہ بنا دیا جس کے لیے دل اور آنکھیں روتے ھیں۔یہ ممکن تھا کہ یہ محبت شادی کے ذریعے ان کے اجتماع پر منتجہوتی اور خوشیوں بھری زندگی انھیں حاصل ہوتی۔مگر تقدیر کے آگے تدبیر کا کہاں بس چلتا ھے۔