میاں بیوی کے تعلقات میں وہ گناہ جسے ہم گناہ نہیں سمجھتے۔۔

میاں بیوی کے تعلقات میں کچھ ایسے اعمال ہیں جن کو ہم معمولی سمجھتے ہیں۔جو شریعت میں سنگین جرم ہیں۔کبھی کبھار لگتا ہے کہ یہ بے حیائی کی باتیں ہیں یہ بے حیائی نہیں ہے یہ شریعت کا علم ہے ہاں اگر ہم اس طرح کی باتیں اپنی خواہش کے مطابق کریں تو یہ بے حیائی ہے۔خیر ہم واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ پہلا گناہ جس کو میاں بیوی کے تعلقات میں معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ بیوی کا اپنے شوہر کو ہمبستری سے انکار کرنا اپنے شوہر کو اپنے نزدیک آنے سے انکار کرنا۔نبی اکرم ﷺ جامع صغیر میں یہ روایت ہے،آپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو بلائے (ہمبستری کے لئے)تو عورت پر واجب ہے کہ وہ فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے”ما سوائے شرعی عذر کے ،شرعی عذر کی وجہ سے بیوی انکار کر سکتی ہے۔

یعنی ایسی کوئی شرعی مجبوری (مثلاً حیض،ماہواری وغیرہ)ہو تو وہ الگ بات ہے۔لیکن اگر شرعی عذر نہیں ہے تو آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ!”وہ (عورت)فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے خواہ وہ انٹ کے کجاوے(اونٹ کی وہ سیٹ جس پر بیٹھ کر سواری کی جاتی ہے) پر ہی بیٹھا کیوں نہ بلا رہا ہو۔” اس معاملے کو خواتین جو بیویاں ہیں جو اپنے شوہر کو حق دینا چاہتی ہیں وہ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ جب اس معاملے میں کوتاہی ہوتی ہے تو انسان دوسری جگہ اپنی خواہشات تو پوری کرنے جاتا ہے اور یہ بات بھر بیوی برداشت نہیں کرسکتی اس لئے شریعت نے اس معاملے کی اہمیت بیان کی ہے۔ دوسر ی روایت صحیح بخاری کی ہے،آپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری کے لئے بلائےاور بیوی انکار کر دےاور شوہر اپنی بیوی سے ناراضگی کی حالت میں سو جائے تو جب تک وہ ناراضگی کی حالت میں سوتا رہے گا فرشتے بیوی پر لعنت بھیجتے “رہیں گے۔دوسراگناہ میاں بیوی کے تعلقات میں جس کو معمولی سمجھا جاتا ہے جب کہ شریعت میں اس کا اتنا سخت گناہ ہے وہ یہ ہے کہ عورت کا بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا۔

صحیح جامع صغیر کی روایت ہے،آپﷺ نے فرمایا!”بغیر عذر کے خلع لینے والیاں اور اپنے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے والیاں، گھر اجاڑنے والیاں یہ اس امت کی منافق ہیں ۔دوسری روایت میں فرمایا! جس عورت نے بغیر کسی سبب کے اپنے خاوند سے طلاق طلب کی اس پر جہنم واجب اور یہ جنت کی خوشبو نہیں “سونگھیں گی۔ اس لئے میری پیاری بہنو !یہ کہنا یا یہ عذر پیش کرنا کہ میرا خاوند مجھے پسند نہیں ہے یا اس کی انکم بہت کم ہے میرا گزارہ نہیں ہوتا اس لئے مجھے طلاق چاہیے تو یہ کو ئی شرعی عذر نہیں ہےمزید پڑھیں:میاں بیوی کا اکٹھے غسل کرنااس لئے اس سنگین جرم اور گناہ سے بچنا چاہیے اور والدین کو چاہیے کہ وہ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی بیٹیوں کو گھر نہ بٹھا لیں ۔طلاق شوہر کا حق ہے اور یہ کتنی بری بات ہے کہ طلاق بیٹی ڈیمانڈ کر رہی ہے۔ تیسرا گناہ جو میاں بیوی کے تعلقات میں عام طور ہر ہوتا ہے اور اس کو معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ کہ ، حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرنا یا ایسی جگہ سے(پچھلے حصے سے) ہمبستری کرنا جو کہ غیر فطری ہے ،آپ ﷺ نے فرمایا! جامع ترمذی کی یہ روایت ہے،”جس شخص نے حیض والی عورت سے ہمبستری کی یا عورت کے پیچھے جماع کیا یا نجومی کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی (سچ مانا) تو اس نے اس چیز کا انکار کیا۔

جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔” یعنی وہ شریعت کا منکر ہے اس نے شریعت کا انکار کیا جس نے یہ عمل کیا۔اس کے لئے شریعت نے کفارا کا حکم دیا ہے اور یہ بہت سنگین جرم ہے لیکن اس کو لوگ سمجھ ہی نہیں پا رہے اور اس بات کو کوئی سیریس لینے کو ہی تیار نہیں ہے کہ نکاح سے پہلے اس کے آداب اور ازدواجی زندگی کے متعلق سیکھا جائے۔دنیا جہان میں ہر چیز کی ٹرینینگ ہوتی ہے وہ ہم لوگ بڑے فخر سے کرتے ہیں مزید پڑھیں: جنابت(ہم بستری) کے بعد سونے سے قبل وضو یا غسل لیکن جب بات شریعت سیکھنے کی آتی ہے تو وہاں کیا ہے جی کہ ہمیں شرم آرہی ہے۔دنیا کی بے حیائی میں شرم نہیں آتی لیکن شریعت سیکھتے ہوئے یا شریعت کی بات کرتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے۔ چوتھا گناہ میاں بیوی کے تعلقات میں جس کو معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہےکہ کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت(اکیلے)میں ملاقات کرنااور کسی غیر محرم عورت سے ہاتھ ملانا یہ بہت سخت گناہ ہے ،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا!جامع ترمذی کی روایت ہے ،”جب بھی کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں ملتا ہےتو وہ دو نہیں ہوتے تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے” اور آپ ﷺ نے فرمایا! “تم میں سے کسی شخص کے لئے کیل لے کر اپنے سر میں ٹھونک لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ وہ کسی غیر محرم کو چھوئے” (جامع صغیر)۔۔۔۔اور ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ چھونا تو ایک معمولی بات ہے یہاں تو پورا ہاتھ ملا لیا جاتا ہے۔ایک بار ایک خاتو ن جس کو شریعت کا علم نہیں تھا وہ مدینہ آپ ﷺ سے بیعت لینے آئی اور آپﷺ کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا آپ ﷺ نے فوراً اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے اور فرمایا!”محمد ﷺ کسی عورت کے ہاتھ کو چھونا تو دورکسی عورت کے ننگے ہاتھ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔اور آپﷺ نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا۔”اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آللہ ہمیں دین اور شریعت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

(آمین ۔ یا رب العالمین)

ایک شخص اپنی بیوی سے بڑا تنگ تھا

امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے مبارک دور کی بات ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی سے بڑا تنگ تھا اور اسے ہر حالت میں طلاق دینا چاہتا تھا‘ ایک دن اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی سیڑھیاں چڑھ رہی ہے‘ اس نے بیوی کو مخاطب کیا اور کہنے لگا: سنو ! اگر تو اوپر چڑھی تو تجھے طلاق‘ نیچے اتری تو طلاق اور اپنی جگہ کھڑی رہی تو پھر بھی طلاق۔ اس عورت نے اپنے خاوند کی طرف دیکھا‘ لمحہ بھر کیلئے رکی‘ ذرا سوچا اور پھر اس کے خاوند نے دیکھا کہ اس نے سیڑھی سے چھلانگ سیڑھی سے چھلانگ لگا دی اور خاوند کی حسرتوں پر پانی پھر گیا‘ اپنی بیوی سے مخاطب ہوا‘ میر ے ماں باپ تجھ پر قربان ! تو کتنی بڑی فقیہہ ہے۔ امام مالک رحمتہ اللہ تعالیٰ وفات پا جائیں تو ممکن ہے اہل مدینہ فتویٰ کیلئے تیرے ہی پاس آئیں۔

ایک مرتبہ جگر مراد آبادی بیٹھے ہوئے تھے کہ دل میں خیال آیا کہ شراب نہ پیؤں گا تو کیا ہو گا؟ اگر میں اللہ کو ناراض کر بیٹھا اور نفس کو خوش کر لیا تو کیا فائدہ ہو گا‘ چنانچہ ایسے ہی بیٹھے بیٹھے پینے سے توبہ کر لی‘ چونکہ بہت عرصہ سے پی رہا تھا اس لئے بیمار ہو گیا۔ ہسپتال گئے‘ ڈاکٹروں نے کہا کہ ایک دم چھوڑنا تو ٹھیک نہیں‘ تھوڑی سی پی لیں وگرنہ موت آ جائے گی‘ پوچھنے لگے تھوڑی سی پی لوں تو زندگی کتنی لمبی ہو جائے گی؟انہوں نے کہا کہ دس پندرہ سال‘ کہنے لگے دس پندرہ سال کے بعد بھی تو مرنا ہے بہتر ہے کہ ابھی مر جاؤں تاکہ مجھے توبہ کا ثواب مل جائے‘ چنانچہ پینے سے انکار کر دیا‘ اسی دوران ایک مرتبہ عبدالرب نشتر سے ملنے گئے‘ ماشاء اللہ وہ اس وقت وزیر تھے ان کا تو بڑا پروٹوکول تھا یہ جب ان سے ملنے گئے تو چوکیدار نے سمجھا کہ کوئی مانگنے والا فریاد لے کر آیا ہو گا‘ چنانچہ اس نے کہا جاؤ میاں! وہ مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھا اپنے پاس سے کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکالا اور اس پر ایک مصرعہ لکھ کر عبدالرب نشتر کو بھیجا کیونکہ وہ بھی صاحب ذوق تھے عجیب مصرعہ لکھا۔نشتر کو ملنے آیا ہوں میرا جگر تو دیکھ۔۔۔جب کاغذ کا پرزہ وہاں گیا تو عبدالرب نشتر اس پرزہ کو لے کر باہر نکل آئے‘ کہاں جناب!

آپ تشریف لائے ہیں اور اندر لے گئے‘ بٹھایا اور حال پوچھا‘ چنانچہ بتایا کہ زندگی کا رخ بدل لیا ہے‘ تھوڑے عرصے کے بعد چہرے پر سنت سجا لی‘ لوگ ان کو دیکھنے کیلئے آتے تو انہوں نے اس حالت پر بھی شعر لکھ دیا‘ اب چونکہ طبیعت سے تکلفات ختم ہو گئے تھے‘ سادگی تھی اس لئے سیدھی سیدھی بات لکھ دی فرمایا:چلو دیکھ آئیں تماشا جگر کاسنا ہے وہ کافر مسلمان ہوا ہےشیخ کامل کی صحبت سے جگر پر پھر ایسی واردات ہوتی تھیں کہ عارفانہ اشعار کہنا شروع کر دیئے۔ چنانچہ ایک وہ وقت بھی آیا کہ اللہ رب العزت نے ان کو باطنی بصیرت عطا فرما دی‘ ایک ایسا شعر کہا جو لاکھ روپے سے بھی زیادہ قیمتی ہے اس ساری تفصیل کے سنانے کا اصل مقصد بھی یہی شعر سنانا ہے :میرا کمال عشق میں اتنا ہے بس جگر وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا

طب نبوی کا کمال صرف ایک سبزی سے 100 بیماریوں کا علاج

قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کے ذکر میں لکھا ہے کہ جب آپ مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر بیل دار پودے (بعض روایات کے مطابق کدو) کا سایہ کردیا۔ کدو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ ترکاری تھی۔ یہ موسم گرما کا خاص تحفہ ہے۔ عوام اور خواص اسے پکا کر بڑی رغبت سے کھاتے ہیں۔ اسے سکھا کر اس کے خول سے ایک ساز بھی بنایا جاتا ہے جسے تو نبا کہتے ہیں۔ کدو سے علاج کدو ایک مسکن‘ سرد مزاج‘ دافع صفرا اور پیشاب آور غذائی اور دوائی اثرات رکھنے والی سبزی ہے۔ لہٰذا اس کی افادیت کے پیش نظر اسے معدے کے امراض کیلئے خاص طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔کدو کا جوس پینے سے نہ صرف پیشاب کی جلن ختم ہوجاتی ہے بلکہ یہ آنتوں سے اور معدے سے تیزابیت اور انفیکشن بھی ختم کرتا ہے۔ اس کا جوس حاصل کرنے کیلئے ایک پودے کو کدوکش کرنے کے بعد نچوڑ لیا جائے تو خاصی مقدار میں جوس حاصل ہوجاتا ہے۔

بعض لوگوں کو گرمیوں میں نیند نہیں آتی اور ان کا سر چکراتا رہتا ہے ایسے لوگ کدو کاٹ کر پائوں کے تلوئوں کی مالش کریں۔ کدو کا جوس تلوں کے تیل میں ملا کر روزانہ رات کو سر پر مالش کرکے لگایا جائے تو گہری نیند آتی ہے۔ کدو کا ایک پائو کا سالن اور چپاتیوں کے ساتھ کھا لینے سے بدن کو ایک وقت کی ضروری غذا حاصل ہوجاتی ہے۔ گرم مزاج لوگوں‘ جوانوں اور گرمی‘ خشکی اور قبض کے مریضوں کیلئے یہ غذا بھی ہے اور دوا بھی۔پرانے حکیموں نے گھیا میں چنے کی دال شامل کرکے ایک سستی اور مکمل غذا ہمارے لیے تجویز کردی ہے۔ عام زندگی میں ہم کدو کو صرف خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے اور بہت سے فائدے ہیں۔ حکما نے اس کے استعمال سے بہت سی لاعلاج اور خطرناک بیماریوں کا علاج کیا ہے۔ یہاں چند بیماریوں کے نسخے دئیے گئے ہیں جن میں کدو کو دوا کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ سردرد سے فوری نجات تازہ کدو کا گودا حسب منشا لے کر کھرل میں باریک کرکے پیشانی پر ضماد (لیپ) کردیں انشاءاللہ تھوڑی دیر میں سردر د رفع ہوجائے گا۔ کدو کا پانی روغن گل برابر وزن لے کر آپس میں ملا لیں بس دوا تیار ہے۔ اسے شیشی میں محفوظ کرلیں اور بوقت ضرورت دو سے تین قطرے کان میں ٹپکائیں‘ درد سے فوراً نجات ملے گی۔

دانتوں کے امراض سے نجات ذیل کا نسخہ دانت کے درد کیلئے آسان اور مجرب نسخہ ہے۔ کدو کا گُودا پانچ تولے لہسن ایک تولہ‘ دونوں کو ملا کر ایک سیر پانی میں خوب پکائیں۔ جب پانی آدھا رہ جائے تو نیم گرم پانی سے کلیاں کریں۔ آنکھوں کی بیماریاں ختم کدو کا چھلکا سائے میں خشک کرکے جلالیں اور کھرل میں باریک پیس کر شیشی میں بھرلیں۔ صبح و شام تین تین سلائی دونوں آنکھوں میں لگایا کریں انشاءاللہ چند روز کے استعمال سے آنکھوں کی بیشتر بیماریاں ختم ہوجائینگی۔ ہونٹوں کے امراض کیلئے مغز تخم کدو شیریں‘ گوند کتیرا برابر وزن لے کر خوب باریک کرلیں اور شب کو سوتے وقت ہونٹوں پر لیپ کرکے سوجائیں۔ صبح گرم پانی سے صاف کردیں۔ اپنے ہونٹ طبعی حالت میں پائیں گے۔ پھنسیوں سے نجات کیلئے کدو کا پانی پھنسیوں پر لگانے سے پھنسیاں معدوم ہوجاتی ہیں۔ اس کے گودے کا لیپ کرنے سے بھی یہی فائدہ ہوتا ہے۔ بواسیر اور خونی اسہال کیلئے کدو کا چھلکا حسب ضرورت لے کر سائے میں خشک کریں اور باریک پیس کر محفوظ رکھیں‘ بس دوا تیار ہے۔ صبح و شام چھ ماشے سے ایک تولے تک تازہ پانی کیساتھ پھانک لیا کریں۔ دو تین دن کے استعمال سے بواسیر کا خون آنا بند ہوجائیگا۔ یہ خونی اسہال کی بھی لاجواب دوا ہے۔

پیاس کی شدت میں مفید کدو کا گودا باریک پیس کر ایک چھٹانک پانی نچوڑ لیں۔ اسے دو تولہ مصری کیساتھ ایک پائو سادہ پانی میں حل کرلیں۔ دو تولے تھوڑے تھوڑے وقفے سے پینا پیاس کی شدت میں مفید رہتا ہے۔ یرقان سے نجات کدو ایک عدد لے کر نرم آگ میں دبا کر بھرتا بنائیں اور اس کا پانی نچوڑ لیں۔ اس پانی میں تھوڑی سی مصری ملا کر پینے سے دل کی گرمی اور یرقان سے نجات ملتی ہے۔ کدو کا رس ایک تولہ‘ قلمی شورہ ایک ماشہ‘ مصری دو تولہ‘ سادہ پانی دس تولہ یہ سب ملا کر پیشاب بند کے مریض کو پلائیں‘ اگر ایک بار پلانے سے پیشاب نہ کھلے تو ایک خوراک اور

میاں بیوی کے تعلقات میں وہ گناہ جسے ہم گناہ نہیں سمجھتے۔۔

میاں بیوی کے تعلقات میں کچھ ایسے اعمال ہیں جن کو ہم معمولی سمجھتے ہیں۔جو شریعت میں سنگین جرم ہیں۔کبھی کبھار لگتا ہے کہ یہ بے حیائی کی باتیں ہیں یہ بے حیائی نہیں ہے یہ شریعت کا علم ہے ہاں اگر ہم اس طرح کی باتیں اپنی خواہش کے مطابق کریں تو یہ بے حیائی ہے۔خیر ہم واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ پہلا گناہ جس کو میاں بیوی کے تعلقات میں معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ بیوی کا اپنے شوہر کو ہمبستری سے انکار کرنا اپنے شوہر کو اپنے نزدیک آنے سے انکار کرنا۔نبی اکرم ﷺ جامع صغیر میں یہ روایت ہے،آپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو بلائے (ہمبستری کے لئے)تو عورت پر واجب ہے کہ وہ فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے”ما سوائے شرعی عذر کے ،شرعی عذر کی وجہ سے بیوی انکار کر سکتی ہے۔

یعنی ایسی کوئی شرعی مجبوری (مثلاً حیض،ماہواری وغیرہ)ہو تو وہ الگ بات ہے۔لیکن اگر شرعی عذر نہیں ہے تو آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ!”وہ (عورت)فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے خواہ وہ انٹ کے کجاوے(اونٹ کی وہ سیٹ جس پر بیٹھ کر سواری کی جاتی ہے) پر ہی بیٹھا کیوں نہ بلا رہا ہو۔” اس معاملے کو خواتین جو بیویاں ہیں جو اپنے شوہر کو حق دینا چاہتی ہیں وہ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ جب اس معاملے میں کوتاہی ہوتی ہے تو انسان دوسری جگہ اپنی خواہشات تو پوری کرنے جاتا ہے اور یہ بات بھر بیوی برداشت نہیں کرسکتی اس لئے شریعت نے اس معاملے کی اہمیت بیان کی ہے۔ دوسر ی روایت صحیح بخاری کی ہے،آپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری کے لئے بلائےاور بیوی انکار کر دےاور شوہر اپنی بیوی سے ناراضگی کی حالت میں سو جائے تو جب تک وہ ناراضگی کی حالت میں سوتا رہے گا فرشتے بیوی پر لعنت بھیجتے “رہیں گے۔دوسراگناہ میاں بیوی کے تعلقات میں جس کو معمولی سمجھا جاتا ہے جب کہ شریعت میں اس کا اتنا سخت گناہ ہے وہ یہ ہے کہ عورت کا بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا۔

صحیح جامع صغیر کی روایت ہے،آپﷺ نے فرمایا!”بغیر عذر کے خلع لینے والیاں اور اپنے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے والیاں، گھر اجاڑنے والیاں یہ اس امت کی منافق ہیں ۔دوسری روایت میں فرمایا! جس عورت نے بغیر کسی سبب کے اپنے خاوند سے طلاق طلب کی اس پر جہنم واجب اور یہ جنت کی خوشبو نہیں “سونگھیں گی۔ اس لئے میری پیاری بہنو !یہ کہنا یا یہ عذر پیش کرنا کہ میرا خاوند مجھے پسند نہیں ہے یا اس کی انکم بہت کم ہے میرا گزارہ نہیں ہوتا اس لئے مجھے طلاق چاہیے تو یہ کو ئی شرعی عذر نہیں ہےمزید پڑھیں:میاں بیوی کا اکٹھے غسل کرنااس لئے اس سنگین جرم اور گناہ سے بچنا چاہیے اور والدین کو چاہیے کہ وہ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی بیٹیوں کو گھر نہ بٹھا لیں ۔طلاق شوہر کا حق ہے اور یہ کتنی بری بات ہے کہ طلاق بیٹی ڈیمانڈ کر رہی ہے۔ تیسرا گناہ جو میاں بیوی کے تعلقات میں عام طور ہر ہوتا ہے اور اس کو معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ کہ ، حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرنا یا ایسی جگہ سے(پچھلے حصے سے) ہمبستری کرنا جو کہ غیر فطری ہے ،آپ ﷺ نے فرمایا! جامع ترمذی کی یہ روایت ہے،”جس شخص نے حیض والی عورت سے ہمبستری کی یا عورت کے پیچھے جماع کیا یا نجومی کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی (سچ مانا) تو اس نے اس چیز کا انکار کیا۔

جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔” یعنی وہ شریعت کا منکر ہے اس نے شریعت کا انکار کیا جس نے یہ عمل کیا۔اس کے لئے شریعت نے کفارا کا حکم دیا ہے اور یہ بہت سنگین جرم ہے لیکن اس کو لوگ سمجھ ہی نہیں پا رہے اور اس بات کو کوئی سیریس لینے کو ہی تیار نہیں ہے کہ نکاح سے پہلے اس کے آداب اور ازدواجی زندگی کے متعلق سیکھا جائے۔دنیا جہان میں ہر چیز کی ٹرینینگ ہوتی ہے وہ ہم لوگ بڑے فخر سے کرتے ہیں مزید پڑھیں: جنابت(ہم بستری) کے بعد سونے سے قبل وضو یا غسل لیکن جب بات شریعت سیکھنے کی آتی ہے تو وہاں کیا ہے جی کہ ہمیں شرم آرہی ہے۔دنیا کی بے حیائی میں شرم نہیں آتی لیکن شریعت سیکھتے ہوئے یا شریعت کی بات کرتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے۔ چوتھا گناہ میاں بیوی کے تعلقات میں جس کو معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہےکہ کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت(اکیلے)میں ملاقات کرنااور کسی غیر محرم عورت سے ہاتھ ملانا یہ بہت سخت گناہ ہے ،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا!جامع ترمذی کی روایت ہے ،”جب بھی کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں ملتا ہےتو وہ دو نہیں ہوتے تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے” اور آپ ﷺ نے فرمایا! “تم میں سے کسی شخص کے لئے کیل لے کر اپنے سر میں ٹھونک لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ وہ کسی غیر محرم کو چھوئے” (جامع صغیر)۔۔۔۔اور ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ چھونا تو ایک معمولی بات ہے یہاں تو پورا ہاتھ ملا لیا جاتا ہے۔

ایک بار ایک خاتو ن جس کو شریعت کا علم نہیں تھا وہ مدینہ آپ ﷺ سے بیعت لینے آئی اور آپﷺ کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا آپ ﷺ نے فوراً اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے اور فرمایا!”محمد ﷺ کسی عورت کے ہاتھ کو چھونا تو دورکسی عورت کے ننگے ہاتھ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔اور آپﷺ نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا۔”اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آللہ ہمیں دین اور شریعت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

(آمین ۔ یا رب العالمین)

ایک واقعہ جو دو بھائیوں کی شادی ایک ہی دن ہوئی

کوفہ کے ایک شخص نے بڑے دھوم دھام سے ایک ساتھ اپنے دو بیٹوں کی شادی کی، ولیمہ کی دعوت میں تمام اعیان واکابر موجود تھے مسعر بن کدام، حسن بن صالح، سفیان ثوری، امام اعظم بھی شریک دعوت تھے، لوگ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک صاحب خانہ بدحواس گھر سے نکلااور کہا ”غضب ہوگیا “زفاف کی رات عورتوں کی غلطی سے بیویاں بدل گئی جس عورت نے جس کے پاس رات گزاری وہ اس کا شوہر نہیں تھا سفیان ثوری نے کہا امیر معاویہ کے زمانے میں ایسا واقعہ پیش آیا تھا، اس سے نکاح پر کچھ فرق نہیں پڑتا ہے۔

البتہ دونوں کو مہر لازم ہوگا،مسعر بن کدام،امام صاحب کی طرف متوجہ ہوئے کہ آپ کی کیا رائے ہے، امام صاحب نے فرمایا پہلے دونوں لڑکے کو بلایا جائے تب جواب دوں گا، دونوں شوہر کو بلایا گیا اما م صاحب نے دونوں سے الگ الگ پوچھا کہ رات تم نے جس عورت کے ساتھ رات گزاری ہے، اگر وہی تمہارے نکاح میں رہے کیا تمہیں پسندہے ؟دونوں نے کہا: ہاں! تب امام صاحب نے فرمایا: تم دونوں اپنی بیویوں کو جن سے تمہارا نکاح پڑھایا گیا تھا اسے طلاق دے دو اورہر شخص اس سے نکاح کر لے جو اس کے ساتھ ہم بستر رہ چکی ہے۔ (عقود الجمان ص:۲۵۵)حضرت سفیان ثوری نے جو جواب دیا تھا مسئلہ کے لحاظ سے وہ بھی صحیح تھا،وطی بالشبہ کی وجہ سے نکاح نہیں ٹوٹتا ہے۔

مگر امام صاحب نے جس مصلحت کو پیش نظر رکھا، وہ ان ہی کا حصہ تھا؛ اس لیے کہ وطی بالشبہ کی وجہ سے عدت تک انتظار کرنا پڑتا جو اس وقت ایک مشکل امر تھا پھر عدت کے زمانے ہر ایک کو یہ خیال گزرتا کہ میری بیوی دوسرے کے پاس رات گزار چکی ہے، اور اس کے ساتھ رہنے پر غیرت گوارہ نہ کرتی اور نکاح کا اصل مقصد الفت ومحبت، اتحاد واعتماد بڑی مشکل سے قائم ہوپاتا ۔

ایک شخص اپنی بیوی سے بڑا تنگ تھا

امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے مبارک دور کی بات ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی سے بڑا تنگ تھا اور اسے ہر حالت میں طلاق دینا چاہتا تھا‘ ایک دن اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی سیڑھیاں چڑھ رہی ہے‘ اس نے بیوی کو مخاطب کیا اور کہنے لگا: سنو ! اگر تو اوپر چڑھی تو تجھے طلاق‘ نیچے اتری تو طلاق اور اپنی جگہ کھڑی رہی تو پھر بھی طلاق۔ اس عورت نے اپنے خاوند کی طرف دیکھا‘ لمحہ بھر کیلئے رکی‘ ذرا سوچا اور پھر اس کے خاوند نے دیکھا کہ اس نے سیڑھی سے چھلانگ سیڑھی سے چھلانگ لگا دی اور خاوند کی حسرتوں پر پانی پھر گیا‘ اپنی بیوی سے مخاطب ہوا‘ میر ے ماں باپ تجھ پر قربان ! تو کتنی بڑی فقیہہ ہے۔ امام مالک رحمتہ اللہ تعالیٰ وفات پا جائیں تو ممکن ہے اہل مدینہ فتویٰ کیلئے تیرے ہی پاس آئیں۔

ایک مرتبہ جگر مراد آبادی بیٹھے ہوئے تھے کہ دل میں خیال آیا کہ شراب نہ پیؤں گا تو کیا ہو گا؟ اگر میں اللہ کو ناراض کر بیٹھا اور نفس کو خوش کر لیا تو کیا فائدہ ہو گا‘ چنانچہ ایسے ہی بیٹھے بیٹھے پینے سے توبہ کر لی‘ چونکہ بہت عرصہ سے پی رہا تھا اس لئے بیمار ہو گیا۔ ہسپتال گئے‘ ڈاکٹروں نے کہا کہ ایک دم چھوڑنا تو ٹھیک نہیں‘ تھوڑی سی پی لیں وگرنہ موت آ جائے گی‘ پوچھنے لگے تھوڑی سی پی لوں تو زندگی کتنی لمبی ہو جائے گی؟انہوں نے کہا کہ دس پندرہ سال‘ کہنے لگے دس پندرہ سال کے بعد بھی تو مرنا ہے بہتر ہے کہ ابھی مر جاؤں تاکہ مجھے توبہ کا ثواب مل جائے‘ چنانچہ پینے سے انکار کر دیا‘ اسی دوران ایک مرتبہ عبدالرب نشتر سے ملنے گئے‘ ماشاء اللہ وہ اس وقت وزیر تھے ان کا تو بڑا پروٹوکول تھا یہ جب ان سے ملنے گئے تو چوکیدار نے سمجھا کہ کوئی مانگنے والا فریاد لے کر آیا ہو گا‘ چنانچہ اس نے کہا جاؤ میاں! وہ مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھا اپنے پاس سے کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکالا اور اس پر ایک مصرعہ لکھ کر عبدالرب نشتر کو بھیجا کیونکہ وہ بھی صاحب ذوق تھے عجیب مصرعہ لکھا۔نشتر کو ملنے آیا ہوں میرا جگر تو دیکھ۔۔۔جب کاغذ کا پرزہ وہاں گیا تو عبدالرب نشتر اس پرزہ کو لے کر باہر نکل آئے‘ کہاں جناب!

آپ تشریف لائے ہیں اور اندر لے گئے‘ بٹھایا اور حال پوچھا‘ چنانچہ بتایا کہ زندگی کا رخ بدل لیا ہے‘ تھوڑے عرصے کے بعد چہرے پر سنت سجا لی‘ لوگ ان کو دیکھنے کیلئے آتے تو انہوں نے اس حالت پر بھی شعر لکھ دیا‘ اب چونکہ طبیعت سے تکلفات ختم ہو گئے تھے‘ سادگی تھی اس لئے سیدھی سیدھی بات لکھ دی فرمایا:چلو دیکھ آئیں تماشا جگر کاسنا ہے وہ کافر مسلمان ہوا ہےشیخ کامل کی صحبت سے جگر پر پھر ایسی واردات ہوتی تھیں کہ عارفانہ اشعار کہنا شروع کر دیئے۔ چنانچہ ایک وہ وقت بھی آیا کہ اللہ رب العزت نے ان کو باطنی بصیرت عطا فرما دی‘ ایک ایسا شعر کہا جو لاکھ روپے سے بھی زیادہ قیمتی ہے اس ساری تفصیل کے سنانے کا اصل مقصد بھی یہی شعر سنانا ہے :میرا کمال عشق میں اتنا ہے بس جگر وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا۔

جمعہ کے دن یا رات ہمبستری کرنا

بالغ خواتین اور بلحصوس شادی شدہ خواتین ضرور وڈیو دیکھیں ایک دن صبح سویرے حضور اکرم صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ساتھ تشریف فرما تھےکہ صحابہ کرام رضوانﷲعلیہم نے ایک طاقتور اور مضبوط جسم والے نوجوان کو روزگار کے لئے بھاگ دوڑ کرتے دیکھ کر کہا کاش اس کی جوانی اور طاقت اللہ کی راہ میں خرچ ہوتی تو رحمت عالم صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاایسا مت کہو ۔کیونکہ اگر وہ محنت و کوشش اس لئے کرتا ہے

کہ خود کو سوال کرنے (مانگنے) سے بچائے اور لوگوں سے بےپرواہ ہوجائے تو یقینا وہ ﷲ کی راہ میں ہے۔اور اگر وہ اپنے ضعیف والدین اور کمزور اولاد کے لئے محنت کرتا ہے تاکہ انہیں لوگوں سے بےپرواہ کردے اور انہیں کافی ہوجائے تو بھی وہ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر وہ فخر کرنے اور مال کی زیادہ طلبی کے لئے بھاگ دوڑ کرتا ہےدوڑ کرتا ہے تو وہ شیطان کی راہ میں ہے۔

”(المعجم الاوسط جلد 5 حدیث نمبر 6835)(المعجم الصغیر باب المیم)صادق..

بغیر وضو کے نماز پڑھتا ہوں

ایک ہلکی داڑھی والاشخص حضرت عمر بن الخطابؓ اورحضرت علیؓ کے پاس بیٹھا تھا اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں اور زبان ذکر و تسبیح میں مشغول تھی۔ حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا کہ آپ نے صبح کس حال میں کی؟ اس آدمی نے عجیب انداز سے جواب دیا کہ میں نے اس حال میں صبح کی کہ فتنہ کو پسند کرتا ہوں اور حق بات سے کراہت کرتا ہوں۔ اور بغیر وضو کے نماز پڑھتا ہوں اور میرے لیے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے! (یہسن کر) حضرت عمرؓ طیش میں آ گئے اور اللہ کے دین کی خاطر انتقام لینے پر آمادہ ہو گئے اور اس آدمی کو پکڑ کر سخت سزا

دینے لگے تو حضرت علیؓ نے ہنستے ہوئے کہا: اے امیر المومنین! یہ شخص جو یہ کہتاہے کہ وہ فتنہ کو پسند کرتاہے اس سے اس کی مراد مال و اولاد ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مال و اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے: ’’اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃ’‘‘‘ (الانفال:28) اور حق کو ناپسند کرتا ہے اس سے مراد موت کی ناپسندیدگی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَجَآئتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ‘‘ (ق:19) اور بغیر وضو کے نماز پڑھتاہے اس سے مراد نبی کریمؐ پر صلوٰۃ (درود) بھیجنا ہے، ظاہر ہے کہ صلوٰۃ کے لیے وضو ضروری نہیں ہے۔ اور اس نے جو یہ کہا ہے کہ اس کے لیے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے اس سے اس کی مراد بیوی بچے ہیں، ظاہر ہے کہ اللہ کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد، وہ ذات تو یکتا بے نیاز ہے، نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ حضرت عمر بن الخطابؓ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اورہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور خوشی سے جھومتے ہوئے فرمایا: وہ جگہ بری ہے جہاں ابوالحسنؓ نہ ہو یعنی علی بن ابی طالبؓ۔‘‘

نبی کریم ﷺ کے زمانے کے ایک میاں بیوی

نبی کریمؐ کے مبارک زمانے میں ایک میاں بیوی اوپر کی منزل پر رہتے تھے اور نیچے کی منزل پر بیوی کے ماں باپ رہتے تھے، خاوند کہیں سفرپر گیا اور اس نے بیوی کو کہہ دیا کہ تمہارے پاس ضرورت کی ہر چیز ہے، تم نے نیچے نہیں اترنا، چنانچہ یہ کہہ کر خاوند چلا گیا، اللہ کی شان دیکھیں کہ والد صاحب بیمار ہو گئے، وہ صحابیہ عورت سمجھتی تھی کہ خاوند کی اجازت کی شریعت میں کتنی اہمیت ہے،اب یہ نہیں کہ اس نے سنا کہ والد بیمار ہیں تو وہ نیچے آگئی، نہیں، اس نے اپنے خاوند کی بات کی قدر کی، اور نبی کریمؐ کی خدمت میں پیغام بھجوایا کہ میرے خاوند نے مجھے گھر سے نکلتے ہوئے منع کر دیا تھا تو اے اللہ کے نبیؐ! کیا اب مجھے نیچے جانا چاہیے؟ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ نہیں، آپ کے خاوند نے چونکہ آپ کو منع کر دیا تو آپ نیچے نہ آئیں،

اب ذرا غور کیجئے، نبی کریمؐ خود یہ بات فرما رہے ہیں کہ آپ خاوند کی اجازت کے بغیر نیچے مت آئیں، چنانچہ وہ نیچے نہ آئیں، جب والد کی وفات ہو گئی تو اس صحابیہ نے پھر پیغام بھجوایا،اے اللہ کے نبیؐ! کیا میں اپنے باپ کا چہرہ آخری مرتبہ دیکھ سکتی ہوں،میرے والد دنیا سے چلے گئے، میرے لیے کتنا بڑا صدمہ ہے، نبی کریمؐ نے پھر فرمایا: چونکہ تمہارے خاوند نے تمہیں روک دیا تھا، اس لیے تم اوپر ہی رہو اور اپنے والد کا چہرہ دیکھنے کے لیے نیچے آنا ضروری نہیں، وہ صحابیہ اوپر ہی رہی، سوچئے اس کے دل پر کیا گزری ہو گی، کتنا صدمہ اس کے دل پر ہوا ہو گا!اس کے والدکا جنازہ پڑھایا گیا، اس کو دفن کر دیا گیا، نبی کریمؐ نے اس بیٹی کی طرف پیغام پہنچایا کہ ’’اللہ رب العزت نے تمہارا اپنے خاوند کا لحاظ کرنے کی وجہ سے تمہارے باپ کے سب گناہوں کو معاف فرما دیا۔‘‘تو معلوم ہوا کہ آپ اپنے گھر میں جو کام بھی کریں خاوند سے اجازت لے لیں۔

پیاز سے اپنے اہم مسائل حل کیجیئے

کھانے میں پیاز ایک اہم جزو ہے چاہے وہ سلاد ہو سالن ہو یا کوئی بریانی پیاز کا استعمال لازمی کیا جاتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں اگر اسے صحت بخش ترین غذاؤں میں سے ایک کہا جائے تو یہ بھی بے جا نہ ہوگا۔ یہ قدرت کی جانب سے عطاءکیا گیا اینٹی بائیوٹک ہے جو کئی طرح کی بیماریوں کے خلاف انسانی جسم میں مدافعت پیدا کرتا ہے۔ اس میں پائی جانے والی سلفر اس کے جراثیم کش اور اینٹی بائیوٹک فوائد کی بنیادی وجہ ہے ۔ کویرے سیٹن جیسے اینٹی آکسیڈنٹ بھی اس میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہ سانس کی بیماریوں، ذیابیطس، جوڑوں کے درد، دل کی بیماری اور کولیسٹرول جیسی بیماریوں میں بھی مفید ہے۔

پیاز کا ایک اہم فائدہ اس وقت دیکھا جا سکتا ہے جب بدقسمتی سے آپ کو شہد کی مکھی یا بھڑ کاٹ لے۔ اس کا درد ناقابل برداشت محسوس ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں سب سے پہلے تو ڈنک نکالیں اور اس کے بعد متاثرہ جگہ پر پیاز کا ٹکڑا رگڑیں۔ جلد ہی درد اور سوجن دونوں غائب ہوجائیں گی۔ اگر بخار کی شدت ہو تو جرابیں پہن کر ان میں کٹے ہوئے پیاز کے ٹکڑے ڈال لیں۔ بخار کی شدت میں افاقہ محسوس ہوگا۔ انسانی جسم میں بہت سے فاسد مادے پیدا ہوجاتے ہیں جو کئی طرح کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ پیاز کا باقاعدگی سے استعمال جسم کو ان فاسد اور زہریلے مادوں سے قدرتی طور پر پاک کرتا رہتا ہے۔ اگر کانوں میں میل جمع ہونے کی وجہ سے یہ بند محسوس ہونے لگیں تو پیاز کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا کاٹ کر اسے کپڑے میں لپیٹ کر سوتے وقت کان کے اندر رکھیں اور صبح اسے نکال لیں۔ یہ کان میں جمی ہوئی میل کو نرم کرکے خارج ہونے میں مدد دے گا۔اگر آپ کو ہماری پوسٹ پسند آئی تو اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر کیجئیے ۔