انڈے کی زردی صحت کیلئے کتنی فائدہ مند ہے؟

انڈے صحت کے لیے بہت فائدہ مند قرار دیئے جاتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ اس کی زردی کی رنگت سے بھی جان سکتے ہیں کہ وہ صحت کے لیے کتنے فائدہ مند ہیں؟ جی ہاں واقعی زردی کی رنگت سے بتایا جاسکتا ہے کہ وہ صحت مند مرغی سے ہیں اور ان میں مناسب مقدار میں وٹامن اے سی اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز موجود ہیں۔ دیسی انڈے مفید یا سفید انڈے اسی طرح زردی کی رنگت سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ان میں صحت بخش اجزاءکی کمی ہوسکتی ہے گہرے اورنج رنگ کی زردی اگر انڈے کی زردی گہرے اورنج رنگ کی ہو تو عام طور پر یہ اس کے بہت زیادہ صحت بخش۔جاری ہے

ہونے کی علامت ہوتی ہے، اور ممکنہ طور پر ایسے فارم سے اس کا تعلق ہوسکتا ہے جہاں مرغیوں کو دن کی روشنی میں گھومنے کا موقع ملتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ تاریک جگہوں پر قید نہیں رہتیں۔ ان مرغیوں کو قدرتی غذا کھانے کا موقع ملتا ہے اور اسی وجہ سے انڈے صحت بخش اجزاءسے بھرپور ہوتے ہیں جیسے وٹامن اے، ای اور فیٹی یسڈز بھرپور مقدار میں ہوتے ہیں۔ ہلکے اورنج رنگ کی زردی اس طرح کے انڈے یاسے فارمز سے تعلق رکھتے ہیں جہاں مرغیوں کے لیے حالات تو زیادہ خراب نہ ہو مگر پھر بھی بہت زیادہ موزوں نہ ہوں۔ آسان الفاظ میں ان فارمز میں مرغیوں کو گھومنے کی زیادہ آزادی نہیں ہوتی بلکہ وہ جنگلے کے اندر مصنوعی روشنیوں میں پرورش پاتی ہیں۔جاری ہے

انہیں قدرتی غذا کھانے کا موقع بھی نہیں ملتا بلکہ پولٹری فیڈ استعمال کرائی جاتی ہے۔ انڈوں کے جسم پر مرتب ہونے والے 11 اثرات پیلے یا زرد رنگ کی زردی ایسے انڈے عام طور پر سپر مارکیٹس میں دستیاب ہوتے ہیں اور فیکٹری چکن سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی ایسے بڑی فیکٹریاں، جہاں ان پرندوں کی حالت کسی بھیانک خواب سے کم نہیں ہوتی، انہیں سورج کی روشنی کبھی میسر نہیں آتی، رہنے کی جگہ بہت کم ہوتی ہے اور اکثر غلیظ جگہیں ہوتی ہیں۔ ان مرغیوں کی غذا بھی صحت بخش نہیں ہوتی اور ان میں صحت بخش اجزاءکی واضح کمی ہوتی ہے۔

ایک انوکھے ہار کی برکت

ایک دن نماز عصر کے بعد رسول خدا ﷺ،اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک بوڑھا، بوسیدہ کپڑا پہنے ہوئے کمزوری کی حالت میں وارد ہوااس کے آثار سے لگ رہا تھا کہ وہ بھوک کی حالت میں کافی طولانی راستہ طے کر کے آیا ہے.اس نے عرض کیا:میں ایک پریشان حال انسان ہوں آپ مجھے بھوک،عریانی اور مشکلات سے نجات دلائیے.رسول خدا نے فرمایا: فی الحال میرے پاس کچھ نہیں ہے لیکن میں تجھے ایک ایسے شخص کی رہنمائی کرتا ہوں جو تیری حاجتوں کو پورا کردے گا اور نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا اس شخصکے مانندکہ شخصکے مانندکہ جس نے خوداس کام کو انجام دیاہو۔

اس کے بعدآنحضرت ﷺنے جناب بلالؓ کو حکم دیا کہ اس بوڑھے کو درِ فاطمہؓ پر لے جائیں.جب وہ بوڑھا حضرت علیؓ کے بیت الشرف پرپہنچا تو اس نے اس طرح سلام کیا: ’’السلام علیکم یا اہل بیت النبوۃ‘‘اے خاندان نبوت آپ پر سلام ہو.آپ نے سلام کا جواب دیاا وردریافت فرمایا: تم کون ہو؟اس نے کہا: میں ایک مرد عرب ہوں ،رسول خدا ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور ان سے مدد کا تقاضا کیا تھا. انہوں نے مجھے آپؓکے دروازہ پر بھیج دیا.وہ تیسرا دن تھا جسے حضرت علیؓبھوک کی حالت میں گزار رہے تھے اور رسول خدا ﷺبھی اس سے آگاہ تھے،بنت رسول ﷺنے جب کوئی چیز نہ پائی توآپؓ نے گوسفند کی کھال جس پر حسن وحسین علیھما السلام سوتے تھے: اس مرد عرب کو دے دیا اور فرمایا: خداوندعالم تمہیں آسودگی عنایت فرمائے.بوڑھے نے کہا:اے بنت رسولؐ! میں بھوک سے بے حال ہوں اور آپ مجھے گوسفند کی کھال عطا کر رہی ہیں.جیسے ہی جناب فاطمہ نے یہ سنا اپنا ہار جسے عبد المطلب کی صاحبزادی نے آپ کو ہدیہ کیا تھا، اس مرد عرب کو دے دیا۔

وہ بوڑھا ہار لے کر مسجد میں آتا ہے.اس نے دیکھا کہ رسول خداﷺ، اصحاب کے درمیان تشریف فرما ہیں اس نے عرض کیا:یا رسول اللہﷺ!آپؐ کی بیٹی نے مجھے یہ ہار عطا کیا ہے اور فرمایا ہے کہ میں اسے بیچ دوں ممکن ہے خداوند عالم میرے کاموں میں وسعت عطا فرمائے.آنحضرت ﷺرونے لگے اور فرمایا:کیونکر خدا وسعت اور راحت نہ دے جبکہ اولین وآخرین کی عورتوں میں سب سے بہتر خاتون نے تجھے اپنا ہار عطا کیا ہے! عما ر یاسرؓ نے عرض کیا: کیا ٰآپ اجازت دیتے ہیں کہ میں اس ہار کو خرید لوں؟ آنحضرت ﷺنے فرمایا:اس ہار کو خریدنے والے کو خدا وندعالم جہنم سے دور رکھے گا۔ جناب عمار یاسرؓ نے مرد عرب سے کہاکہ اس ہار کو کتنے میں بیچوگے.اس نے کہا: اتنی قیمت میں بیچوں گا کہ کھانا کھا کر سیر ہوسکوں ، پہننے کے لئے ایک یمانی ردا ء خرید سکوں اور کچھ دینار جسے میں واپسی پر خرچ کر سکوں.جناب عمارؓ نے کہا:میں اس ہار کو دوسو درہم میں خریدوں گا اور تجھے روٹی اور گوشت سے سیر کروں گا ،اوڑھنے کے لئے یمانی رداء بھی دوں گا اور اپنے اونٹ سے تجھے تیرے گھر تک پہنچا ؤں گا.جناب عمارؓ کے پاس جنگ خیبر کے مال غنیمت میں سے جو کچھ بچاتھا،بوڑھے کو اپنے گھر لے گئے اور جو وعدہ کیا تھا وفا کردیا۔

مرد عرب دوبارہ آنحضرت ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا آپﷺ نے فرمایاکہ کیاتونے لباس لے لیا اور سیر ہوگیا؟اس نے عرض کیاہاں رسول اللہ ﷺاورمیں بے نیاز بھی ہوگیا.جناب عمارؓ نے ہار ایک چادریمانی میں رکھ کر’’سہم‘‘نامی غلام کو دیا اور کہاکہ اسے رسول خدا ﷺکی خدمت میں لے جاؤ اور میں نے تم کو بھی رسول خدا کو بخشا.آنحضرتﷺ نے اسے جناب فاطمہ زہراؓ کے پاس بھیج دیا.بنت رسول نے ہار کو لیا اور غلام کو آزاد کردیا.یہ ماجرا دیکھ کر غلام ہنسا.جناب فاطمہؓ نے اس کی ہنسی کا سبب دریافت فرمایا تو اس غلام نے کہا: میں اس ہار کی برکتوں پر ہنس رہاہوں کہ اس نے ایک بھوکے کو سیر کردیا. ایک فقیر کو بے نیاز بنادیا. ایک برہنہ کو لباس عطا کیا. ایک غلام کو آزاد کرایا اور دوبارہ اپنے اصل مالک کے پاس واپس آگیا۔

بے اولاد افراد کےلیے

ہر وظیفہ پورے دل سے کیا کریں اور پورے دھیان سے تبھی آپکو اس میں اچھے نتائج ملیں گے ۔ وظیفہ میں نماز کی پانچ وقت کی پابندی کا خا ص خیال رکھیں آج ہم آپکو جو وظیفہ بتا رہے ہیں اس سے آپکو فائد ہ ہوگا۔ وظیفہ کو ناجائز کاموں کے لیے استعمال مت کریں ۔ غلط مقاصد کے لیے استعمال کریں گے تو اس کے غلط نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے ۔ وظیفہ کیلئے نماز کی پابندی لازمی ہوتی ہے ۔

اگر آپ پانچ وقت کی نماز ادا نہیں کریں گے تو وظیفہ کر نے کاکچھ اثر نہیں ہوگا۔ ، اگر کوئی شخص اولاد سے محروم ہو تو سورۃ ا لکوثر کو باوضو پانچ سو بار روزانہ پڑھا کرے اور پابندی کے ساتھ یہ عمل مکمل تین ماہ تک کرے انشاء اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہو جائے گا۔ اگر ہزاربار اول وآخر درود شریف گیارہ گیارہ بار پڑھا کرے اس نیت سے کہ حضورﷺ کی زیارت نصیب ہو تو انشاء اللہ تعالیٰ زیارت فیض بشارت سے کامیاب ہوگا ۔ نزول باراں رحمت کے وقت ایک سو بار پڑھیں جو دعا مانگے قبول ہوگی ۔ اگر کسی دشمن نے گھر میں جادو دفن کر دیا ہو، اس سورۃ کا ورد کرنے سے جادو دفن کر نے کی جگہ معلوم ہوجائیگی اور جادو کا اثر دور ہو جائے گا۔ وظیفہ یا عمل پورے یقین سے کریں ، شک عمل کو ضائع کر دیتا ہے ، پوری توجہ کے ساتھ وظیفہ پڑھا جائے اور دعا پورے دل اور خشوع و خضوع سے مانگیں ، رزق حلال کا اہتمام کریں ، حرام غذا عمل کے اثر کو ختم کر دیتی ہے ، ہر عمل اللہ کی رضا کیلئے کریں ، مالک راضی ہوگا تو کام بنے گا۔ ان افراد کے وظائف اور عمل بے اثر رہتے ہیں جو نماز اور دیگر فرائض ادا نہیں کرتے ۔ حرام کاموں سے بچیں ، حرام کاموں سے روحانیت کو نقصان پہنچتا ہے تب عمل اثر نہیں کرتا ۔ الفاظ کی تصیح کا اہتمام کر یں الفاظ غلط پڑھنے سے معنی بدل جاتے ہیں ،

صفائی اور پاکیزگی کا اہتمام کریں

ان چار فرشتوں کا واقعہ جو زمین پر آئے

دوفرشتوں ہاروت اورماروت کواللہ تعالی ٰ نے زمین پرانسان بناکربھیجا۔اوران فرشتوں کاذکرسورۃ بقرۃ میں بھی آیاہے ۔اللہ تعالی ٰ نے آسمانی دنیاکے پردے ہٹادئیے اورفرشتوں نے زمین پردیکھا۔فرشتے کیادیکھتے ہیں کہ اہل زمین گناہوں میں مبتلاہیں ان میں شراب نوشی ہے زناہے جھوٹ اورقتل وغارت گری ان میں عام ہے۔

توفرشتوں نے یہ نظارہ دیکھ کراللہ تبارکوتعالیٰ سے شکایت کی کہ ان لوگوں کوتوزمین پرعبادت واطاعت کے لیے بھیجا گیا تھا اوران کی حالت یہ ہے کہ یہ گناہوں میں مبتلا ہیں اورآپ ان کی پکڑ بھی نہیں کرتےفرشتو ں کوانسانوں کے اعمال سے بیزاری ہوئی اورانہوں نے انسانوں کے حق میں بدعاکی۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایاکہ میری ذات اہل زمین سے پردے میں ہےاس لیے ان پرمیراخوف کم ہے اورچونکہ تم ہروقت میرے پاس رہتے ہواس لیے تم پرجس درجے کی ہیبت ،خوف اورخشیت طاری ہے اس درجے کی انسانوں پرنہیں ہے۔لہٰذااس لیے انسانوں سے گناہ ہوجا تے ہیں ۔ملائکہ کواس بات پراطمینان نہ ہواتواللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایاکہ ٹھیک ہے توفرشتوں میں سے پارسافرشتوں کوچن لومیں ان زمین پربھیجوں گاتودیکھوں گاکہ جب وہ میرے حجاب میں جائیں گے توان کے اعمال کیاہوں گے۔احادیث میں روایت ہے کہ ملائکہ نے تین فرشتے پیش کیے ان کواللہ تعالی ٰ نے فرمایاکہ تم نے 4کام زمین پرنہیں کرنے،ایک شراب نہیں پینا،دوسرازنانہیں کرنا،تیسراقتل نہیں کرنااورچوتھابتوں کوسجدہ نہیں کرنایہ چارشرائط ان پرلگائیں اوران کوزمین پراتارناچاہاتوایک فرشتے نے کہاکہ یہ مجھ سے نہیں ہوگامیں تونہیں جاتا۔وہ ہٹ گیااورہاروت۔

اورماروت یہ دوفرشتے تیارہوگئےیہ دونوں فرشتے ملائکہ میں بھی سب سے زیادہ عابداورزاہدفرشتے تھے۔اللہ تعالی ٰ نے ان کوزمین پراتاردیا۔حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت ادریس ؑ کازمانہ تھایہ فرشتے زمین پرآگئے ان میں اللہ تعالیٰ نے نفسانی خواہشات پیداکردیںاوران کولوگوں کے فیصلوں کے لیے مقررکردیالوگ ان کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لیے آتے تھےایک طویل زمانہ اس میں گزرگیایہاں تک کہ ایک دن ایک خاتون آئی وہ بہت حسین وجمیل تھی ،حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے حسن وجمال کایہ عالم تھاکہ جیساکہ زہرہ ستارہ تمام ستارو ں میں سب سے زیادہ خوبصورت ستارہ ہےوہ آئی اوراس نے اپنامسئلہ بیان کیاتوان فرشتوں میں اللہ تعالی ٰ نے جوشہوات ،نفسانی خواہشات رکھی تھیں ا س حسین وجمیل عورت کودیکھتے ہیں بھڑ ک اٹھیں اورخاتون کوبرائی کی دعوت دی اوراسے کہاکہ تم اپنابدن ہمیںپیش کروتواس خاتون نے کہاکہ میری ایک شرط ہے میرے پاس ایک بت ہے تم پہلے اس بت کوسجدہ کرو۔تم جب تم میرے دین کے ہمنواہوجائوگے تومیں تمہاری بات پوری کردوں گی انہوں نے کہاکہ ہماری توبہ یہ شرک ہم سے نہیں ہوگا۔وہ خاتون اتنی بات کہہ کرچلی

گئی توایک طویل عرصہ جتنااللہ تعالیٰ کومنظورتھاخاموشی رہی اورا س کے بعدخاتون پھرآئی انہوں نے پھروہی بات کہی توخاتون نے کہاکہ میری ایک شرط ہےتم میرے شوہرکوقتل کروتومیں تمہاری خواہش پوری کروں گی۔توانہوں نے کہاکہ قتل توگناہ کبیرہ ہے یہ تونہیں ہوسکتا۔تواس خاتون نے کہاکہ اچھامیرےپاس شراب ہے تم لوگ شراب پی لو۔توانہوں نے آپس میں مشورہ کیاکہ شراب توچھوٹی چیز ہے شراب پی لیتے ہیں اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ایک روایت میں آتاہے کہ یہ فرشتے اس کے گھرمیں پہنچ گئے۔وہاں جاکرانہوں نے شراب پی اورجب شراب پی تووہ مدہوش ہوگئے اوراسی دوران انہوں نے اس عورت سے صحبت بھی کی اوراس کوشوہرکواس ڈرسے قتل کردیاکہ کہیں اس کاشوہرمنہ نہ کھول دے اورلوگوں کومطلع نہ کردےاوراس بت کوسجدہ بھی کیا۔اللہ تعالی ٰ نے آسمان کے پردے کھول دئیے اورسارے ملائکہ یہ نظارہ دیکھ رہے تھےتووہ بڑے ششدررہ گئے اورکہاکہ یہ کیاہوگیاتوسارے فرشتے استغفارکرنے لگے اورکہاکہ یہ توخواہشات کانتیجہ ہے اورجب کوئی حجاب میں چلاجائے توایساہوتاہے۔ تواس خاتون نے ان فرشتوں سے کہاکہ تم لوگ جوآسمانوں پرآتے جاتے ہویہ کس وجہ سے جاتے ہوکیاچیز تمہارے پا س ہےتوانہوں نے کہا۔

کہ ہمارے پاس اسم اعظم ہے تواس عورت نے کہاکہ مجھے بھی اسم اعظم دواورمجھے بھی آسمانوں پرلے چلو،فرشتے اس خاتون کوبھی ساتھ لے کرچلے گئےجب آسمان پر پہنچے توزہرہ کوتواچک لیاگیااوران فرشتوں کے پرکاٹ کرانہیں زمین پرپھینک دیاگیا۔ایک عرصے تک یہ پھرتے رہے اورانہیں پتاچلاایک نبی ہے جوجمعے کے جمعے دعاکرتے ہیں وہ قبو ل ہوتی ہےانہو ں نے سوچاکہ اس نبی کے پاس جاکرہم دعاکراتے ہیں شایدہماری توبہ قبول ہوجائےتوجب یہ نبی کے پاس پہنچے توانہوں نے کہاکہ اللہ تعالی ٰ کی طرف سے تمہیں دواختیاردئیے گئے ہیں کہ تم لوگ دنیاکاعذاب برداشت کرویاآخرت کا۔توانہوں نے آپس میں مشورہ کیااورکہاکہ دنیاتوفانی ہے ہم دنیاکاعذاب برداشت کرلیں گے ۔ایک روایت میں آتاہے کہ بابل کاعلاقہ جوکہ عراق میں ہےوہاں ایک کنوئیں کے اندرانہیں الٹالٹکادیاگیاہےتوقیامت تک اسی میں لٹکے رہیں گے جبکہ بعض روایات میں آتاہے کہ آسمان اورزمین کے درمیان ایک مقام ہے وہاں ان کوبطورسزاکے الٹا لٹکا دیا گیا ہے۔

روزانہ صرف 13 بار پڑھ لیں!

اللہ کریم کے فضل سے ہم سب نے اپنی ذہنی اور جسمانی بیماریوں سے شفا یاب ہو نے کے لئے “ یا سلام “ کی سوا لاکھ کی تسبیح کر لی ہے مالک اسے ہم سب کے حق میں قبول فرمائے اب ہم سب اللہ پاک کی توفیق و اجازت سے آیت کریمہ کا ورد کریں گے اور بلکل یا سلام کی تسبیح کی طرح ہم میں سے سب اپنے اپنے حصے کا آیت کریمہ گیارہ گیارہ بار درود شریف کے ساتھ 25 بار تسبیح پڑھیں گے بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم ۃلا الہ الا انت سبحانک انیکنت من الظالمین ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ : ﺟﺎﺅ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﮯ ﺁﺅ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﯿﺎ، ﻟﮍﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ، ﻭﮦ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺗﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ، ﺁﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ، ﺳﻮﺭﺝ ﻏﺮﻭﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔

ﺍﺭﮮ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﻛﻲ ؟ ﺑﺎﭖ ﺑﮩﺖ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮍﺍ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻠﺪﯼ ﺁﻧﺎ ﺗﻢ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﯿﻨﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻢ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﺌﮯ ﮨﻮ، ﺳﻮﺩﺍ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻮﻻ : ﺳﻮﺩﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﺎﭖ : ﮐﯿﺎ ﭘﺎﮔﻞ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﯿﻨﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ، ﺳﻮﺩﺍ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﺮﯾﺪ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﺑﺎﺑﺎ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ، ﺳﻮﺩﺍ ﺧﺮﯾﺪ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﺎﭖ ﺑﻮﻻ : ﺗﻮ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﺎﺵ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮫ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﺑﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﺧﺮﯾﺪ ﻻﯾﺎ ﮨﻮﮞ؟ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺑﻮﻻ : ﭼﻞ ﭼﮭﻮﮌ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﮮ، ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﺭﻭﺯ ﻧﺒﯽ ﺍﮮ ﺭﺣﻤﺖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮧ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﺎ ﺍﮐﻠﻮﺗﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﮩﺎ ، ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻥ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺭﮨﺎ، ﺍﺗﻨﺎ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﺮﻭﭦ ﻟﯿﻨﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﻟﻤﺮﮒ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ، ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﺎ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﮔﯿﺎ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ، ﺁﭖ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺗﺘﻔﺎﻕ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﮍﮐﺎ ﺁﭖ ﺩﻝ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﻟﻤﺮﮒ ﮨﮯ ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺍﺕ ﺩﻥ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ، ﮐﯿﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺁﺭﺯﻭ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮ ﻟﮯ ؟ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ ، ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺍﭨﮭﻮ ، ﻋﻤﺮ ﺍﭨﮭﻮ، ﻋﻠﯽ ﭼﻠﻮ، ﭼﻠﯿﮟ ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺁﺅ، ﺑﺎﻗﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮨﯿﮟ ﭼﻠﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮟ ، ﺍﭘﻨﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺁﺧﺮﯼ ﻟﻤﺤﮧ ﮨﮯ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻢ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﭼﻠﻮ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﺗﮭﯿﮟ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﺎ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﮐﺮﻡ ﮨﯽ ﮐﺮﻡ ﮨﮯ، ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺳﺖ ﺍﻗﺪﺱ ﺭﮐﮭﺎ، ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯿﮟ، ﺟﯿﺴﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﯽ ﮨﻮ، ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻃﺎﻗﺖ ﺁ ﮔﺌﯽ، ﻧﺎﺗﻮﺍﻧﻲ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺁﺋﯽ ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ، ﺭﺥ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﷺ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ، ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﺋﯽ، ﻟﺐ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﮯ، ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﺲ ﺍﺏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﻮ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﺗﮑﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﻮﻻ : ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻨﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻜﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺑﻮﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ( ﻣﺤﻤﺪ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﷺ ) ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﺮﻟﻮ۔ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﻮﻻ : ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﺲ ﺗﻢ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﺟﺎﻧﮯ، ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮ، ﺟﺎﺅ ﺟﻨﺖ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﮯ، ﺟﻨﺖ ﻣﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ، ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ” ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ” ﺭﻭﺡ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ، ﻛﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﻟﺐ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺋﮯ، ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﻮﻻ : ﻣﺤﻤﺪ ( ﷺ ) ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ، ﺍﺏ ﯾﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺱ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﮨﮯ، ﻛﺎﺷﺎﻧﮧ ﺍﮮ ﻧﺒﻮﺕ ﷺ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﭨﮭﮯ ، ﺗﺐ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮨﮯ، ﻟﮯ ﺟﺎﺅ ﺍﺱ ﮐﻮ۔ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺻﺪﯾﻖ ﺍﭨﮭﺎﻭ، ﻋﻤﺮ ﺍﭨﮭﺎﻭ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻮ ، ﺑﻼﻝ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺳﮩﯽ، ﻋﻠﯽ ﭼﻠﻮ ﺩﻭ ﮐﻨﺪﮬﺎ ، ﺳﺐ ﺍﭨﮭﺎﻭ ﺍﺳﮯ ، ﺁﻗﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺟﺐ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ : ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﺪﻗﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ، ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﺪﻗﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ، ( ﺍﻟﻠﮧ ﻫﻮ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﯿﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﺱ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﯽ ﻣﻴﺖ ﮐﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻋﻠﯽ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ، ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ، ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ، ﺑﻼﻝ ﺣﺒﺸﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮭﮩﻤﺎ ﺟﯿﺴﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﮐﻨﺪﮬﺎ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ، ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮯ ﺁﮔﮯ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﷺ ﮨﻮﮞ ) ﻗﺒﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺋﯽ، ﮐﻔﻦ ﭘﮩﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ، ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﻫﻮﮮ ، ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﯽ ﻣﻴﺖ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺗﺎﺭﺍ ۔ﺁﭖ ﷺ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭘﻨﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻞ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻣﮑﻤﻞ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﷺ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﭼﮩﺮﮦ ﭘﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺯﺭﺩﯼ ﭼﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺗﮭﻜﻦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ ، ( ﺍﻟﻠﮧ ﮬﻮ ﻏﻨﯽ ) ﺻﺤﺎﺑﮧ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﮨﮯ؟ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ؟ ﺁﭖ ﷺ ﭘﻨﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻞ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮨﮯ؟

ﺗﻮ ﮐﺮﯾﻢ ﺁﻗﺎ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﮕﮧ ﻣﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ ، ﻣﯿﮟ ﭘﻨﺠﮧ ﮨﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﭘﺎﺅﮞ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ، ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺎﺅﮞ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ . ﭘﮭﺮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﺁﭖ ﷺ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﺌﮯ؟ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ، ﮨﻢ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ( ﺗﻮ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ) ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﻧﺎ ﺗﯿﺮﯼ ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﺟﻨﺖ ﺑﻨﺎﻭﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺍﺳﯽ ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﺟﻨﺖ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ

ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺍﺗﻨﮯ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﯿﮟ؟ ﺗﮭﮑﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﯿﮯ ﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻮﺭﯾﮟ ﺍﺱ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﮯﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺟﻮﺩ ﺳﮯ ﻟﮓ ﻟﮓ ﮐﺮ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ :1 ﺳﻨﻦ ﺍﺑﻮ ﺩﺍﺅﺩ : ﺟﻠﺪ : 3 ، / ﺻﻔﺤﮧ : 185 ، / ﺣﺪﯾﺚ : 3095 ، :2 ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ : ﺟﻠﺪ : 3 ، / ﺻﻔﺤﻪ : 175 ، /

ﺣﺪﯾﺚ  12815 ، ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ : ﻓﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ

چلتے پھرتے یہ اسم مبارک پڑھتے جاؤ

آج کے اس دور میں انسان کو ناجانے کتنی مشکلات آتی ہیں۔ کتنی ہی تکلیفوں سے اسے گزر کر جانا ہوتا ہے۔ کبھی اس کو بیٹی کے سسرال پراس پے جو ظلم ہورہا ہوتا ہے اس پر تکلیف ہوتی ہے تو کبھی بیٹے کی نافرمانی پر کبھی کسی شوہر کی نافرمانی پر کبھی کسی کو مال کے کم ہونے پرگھر میں فیملی بری ہے اور تنخوا انتی کم ہے کہ ایک وقت کا کھانا بھی نہیں کھلا سکتے۔ جو بھی انسان اس دنیا میں آتا ہے چاہے وہ مال دارہو یاغریب ہو اگر یہ دنیا عیشوعشرت کی جگہ ہوتی تو میرے بھائیوآج ہم کسی پرکوئی پریشانی نہ آتی ہرایک خوش باش ہوتامیرے دوستو یہاں پر کس نے بھی آنا ہے اس کو مشکلات سے گزر کرہی جاناہے۔ اگرہم میں سے کوئی چاہتا ہے کہ مشکل وقت آنے پراللہ دل کو تھام لے دل کو حوصلہ ملے اورجو پریشانی ہواورجو مصیبت آن پری ہے اللہ ہم کواس میں سے نکال دے تو میرے دوستو میری بہنوں مصیبت آنے کا انتظار مت کریں۔

جب مصیبت آتی ہے تو انسان اپنے اللہ کی طرف ظرورمتواجہ ہوتا ہے۔ ایک چھوٹا سا زکر ہے اللہ کا چلتے پھرتے اگر آپ ورد کرنا شروع کردیں انشاءاللہ وہ مشکلات سے ایسے نکالے گا جیسے ایک بال اگر آٹے میں گر جاتا ہے تو خواتین جب آٹا گوندتے وقت اسے نکال دیتی ہیں اسی طریقے سے اللہ پاک آپ کو مشکلات سے نکال دیں گے جب بھی کبھی آپ فری ہیں آپ کا جسم کام کررہا ہے لیکن زبان تو خاموش ہے اس زبان کو حرکت میں لائیں اورپڑھنا شروع کریں زبان سے اللہ کا یہ پیارا نام يَا سَلَامْ کا ورد کرنا شروع کردیں اورجتنا ہو سکے اس اللہ کے پیارے نام کو پڑھیں اگر دن مین سو بار بھی اس کی تسبیح آپ کر دیں تو میرے دوستو یقیننا اللہ پاک آپ کو ہرمشکل سے نکال دیں گے ہر پریشانی سے نکال دیں گے۔ کسی کو اپنے دل کے دکھڑے مت سنائیں صرف اللہ کو ہی سنائیں جو آپ کی پریشانی میں مدد کرتا ہے اور اللہ ظرور مدد کرتا ہے یہ ورد کرنے سے دل کو سکون محسوس ہو گا آپ کا دل تھم جائے گا اور سکون والا ہو جائے گا آپ سب یہ وعدہ کریں کہ اس عمل کو ظرور کریں گے اوراپنے دوستوں رشتے داروں سے بھی اس عمل کو شیئرکریں گے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جب ان پرپریشانی آتی ہے تو وہ کفریہ الفاظ بول دیتے ہیں کہ یہ مصیبت ہم پر ہی آنی تھی انسان پل بھر میں نا آمید ہو جاتا ہے اور اللہ پاک نے جو اسے نعمتیں دی ہوتی ہیں اس پر ناشکری کرتا ہے کبھی مشکلات کو برداشت نہیں کر پاتا اور نہ کبھی تکلیف پرصبر کرتاہے اور نہ ہی اس مسئلے میں اللہ سے دعا مانگتا ہے جب اللہ انسان کو نعمت دیتے ہیں تو وہ زوال کے بارے میں نہیں ہے سوچتا اور مغرور بن کر آکرتا ہے۔

اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جنہوں نے اپنے نفس کی تربیت صبراورنیک اعمال پرکی ہومشکلات کو برداشت کیا ہواوراللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں پر شکر ادا کیا ہو آپ اللہ کی رحمت سے کبھی بھی مایوس نہ ہوں صرف وہی زات ہے جو ہر مشکل سے ہر تکلیف سے نجاد دالا سکتی ہے اس لیے ہر مشکل میں صبر سے کام لیں اور اللہ تعالی کا ہمیشہ شکر ادا کرتے رہیں اللہ جس حال میں بھی رکھے خوش رہیں۔ یہ جو عمل آپ کو بتایا ہے یہ بہت ہی پیارا اللہ کا نام ہے اور بہت آسان ہے یہ ایک چھوٹا سا اسم مبارک ہے اس کو آپ نے چلتے پھرتے پڑھتے جانا ہے اور پھر آپ نے اپنی مشکل سے مشکل پریشانی حل ہوتے دیکھتے چلے جانا ہے۔ اس وظیفے کو کرنے سے اللہ پاک کے فضل سے ہر مصیبت ہر پریشانی آپ کی حل ہو جائے گی اور آپ نے پورے یقین اوراعتبارکے ساتھ یہ عمل کرنا ہے۔ آپ نے کوئی شک اپنے زہن میں نہیں ہے لانا آج کے اس عمل کو صدقہ جاریا سمجھ کردوسروں کے ساتھ شیئرکردیں۔ ناظرین اگر کوئی انسان کسی مصیبت میں پھنسا ہو اورکوئی مصیبت آن پری ہواور اس مصیبت سے نکلنے کا کوئی راستہ نظرنہ آرہا ہو تو انسان کوچاہیے کہ اللہ پاک کا یہ اسم مبارک ہے ایسے آپ نے چلتے پھرتے پڑھنا ہے جتنا آپ اس کا ورد کر سکیں آپ نے کرنا ہے آپ جس مشکل یا پریشانی میں مبتلا ہوں اس کا زہن میں خیال رکھنا ہےاوروہ اسم مبارک ہے يَاسَلَامْ یہ اس مبارک آپ نے چلتے پھرتے پڑھتے جانا ہے۔

اور اپنی مشکل کو اپنے زہن میں رکھنا ہے انشاء اللہ اس عمل کی برقت سے اللہ پاک آپ کی جو بھی مشکل ہو گی اس کو دور فرما دیں گے

کونسی چیزیں کب کھائیں کب نہ کھائیں

چاول، دودھ، پھل، ڈرائی فروٹ اور گوشت وغیرہ ہماری غذا کا حصہ ہیں، لیکن کیاہم اس بات سے واقف ہیں کہ ان میں کونسی چیز کب اور کس وقت کھانا انسانی جسم کو فائدہ پہنچتا ہے اور کس وقت کھانے صحت کے لئے مضر –> ثابت ہوسکتا ہے۔آپ کے جسم کو کس چیز کی ضرورت ہے اور وہ کس وقت لینے سے فائدہ ہوگا جبکہ کسی اور وقت کھانے سے کیا کیا نقصانات ہوسکتے ہیں، آیئے جانتے ہیں۔چاولچاول ہماری روزمرہ کی غذا میں شامل ہے، لیکن ہم میں بہت سے ہیں جو نہیں جانتے کہ انہیں رات میں کھانے سے بڑھتا ہے جبکہ دوپہر میں یہ انسانی صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں کیونکہ اس دوران ہمارا میٹابولزم بہتر طور پر کام کرتا ہے اور کاربوہائیڈریٹ کو استعمال کےلئے کافی دورانیہ مل جاتا ہے۔

دودھ کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیںدودھ پینے کا بہترین وقت رات کا ہے، گرم دودھ انسانی جسم کےلئے سکون بخش ہے اور نیند کےلئے بہترین ثابت ہوتا ہے، زیادہ جسمانی حرکت رکھنے والوں کے سوا صبح سویرے دودھ ہضم کرنا مشکل کام ہے، جس سے کھانے کی اوقات بھی بدل جاتی ہیں۔دہیکونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیںدہی رات کے بجائے دن کے اوقات میں کھانا چاہیے، یہ دن کے اوقات میں نظام ہضم درست رکھنے کا سبب بنتی ہے، جبکہ رات میں دہی کھانا خاص طور پر وہ جنہیں پرانی کھانسی ہے ان کے لئے بلغم کی افزائش کا سبب بن سکتاہے۔سیب کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیںسیب کھانے کا بہترین وقت صبح ہے، شام یا رات میں اسے کھانا صحت کےلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے، سیب کا چھلکا صبح میں فائبرپیکٹن ہوتا ہے جو قبض کشا ہے، سیب ایک طرف رات میں نظام ہضم پر بوجھ ڈالتا ہے اور ساتھ ہی پیٹ میں تیزابیت پیدا کرتا ہے جو بے چینی کا سبب بنتی ہے۔کیلاکونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیں کیلا دوپہر میں کھانے سے نظام ہضم کو تقویت پہنچاتا ہے، کیلا قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ ہےاور سینے کی جلن میں راحت بخشتا ہے جبکہ رات میں کیلا کھانے سے بلغم کی افزائش ہوتی ہے اور خالی پیٹ کھانے سے پیٹ کا نظام بگڑسکتا ہے۔

شوگر( چینی)کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیں چینی رات کے مقابلے میں دن میں لینا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس دوران ہمارا لبلبہ موثر کارکردگی دکھاتا ہےجبکہ رات میں چینی کااستعمال موٹا پے اور نیند میں بے آرامی کا سبب بنتا ہے۔اخروٹ کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیں اخروٹ فائدہ مند مرکبات جو اومیگا تھری ،چربی اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپورہے ، یہ دماغی صلاحیت کو پروان چڑھاتا ہے اس لئے اسے صبح ، دوپہر یا رات کے بجائے شام کو کھایا جائے یہ جسم کےلئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہےجبکہ دیگر اوقات میں کھانے سے اس کی افادیت انتہائی کم رہتی ہے ۔دالیں اور لوبیا کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیںدالیں اور لوبیا فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں،یہ نظام ہضم میں مددگار ثابت ہوتے ہیںاور کولیسٹرول لیول کم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے نیند بہتر ہوتی ہے جبکہ صبح میں لینے سے یہ دن کے اوقات میں شدید بھوک کا باعث بنتی ہیں۔پنیر کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیں پنیر رات کے بجائے صبح سویرے کھانا صحت کے لئے بہترین ہے ،سبزی خور افراد کےلئے پنیر گوشت کا متبادل ہے،جس سے وزن بڑھتا ہے جبکہ رات میں کھانےسے نظام ہضم پر بوجھ پڑتا ہے جس کی وجہ سے بدہضمی اورچربی میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔گوشت کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیںگوشت دوپہر میں کھانا ،رات میں کھانے سے بہتر ہے ،گوشت ہاضمے کےلئے سخت غذا ہے،اس میں پروٹین بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

اگر انہیں دن کے اوقات میں کھایا جائے تویہ عام طور پر جسم کی مضبوطی اور کنسنٹریشن (توجہ ) کی سطح بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں جبکہ رات میں کھانے سے نظام ہضم پر بوجھ پڑتا ہے ،جس سے رات میں بے آرامی کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔

مجھ سے نکاح جائز نہیں

خیزران بنت عطا، خلیفہ مہدی کی لونڈیوں میں سے ایک تھی۔ اس کا تعلق یمن سے تھا۔ یہ بہت عقلمند کنیز تھی، فقہی مسائل کے استنباط میں اسے دسترس حاصل تھی کیونکہ امام اوزاعی سے اس نے فقہ کا علم حاصل کر رکھا تھا۔ اس کی ذہانت و فطانت کو دیکھ خلیفہ مہدی نے اسے آزاد کرکے اپنی زوجیت میں شامل کرلینا چاہا مگر خیز ران نے اس سے کہا: آپ مجھ سے شادی نہ ہی کریں تو بہتر ہے، کیونکہ آپ کے لیے مجھ سے شادی کرنا جائز نہیں! خلیفہ کو اس کے جواب پر بڑا تعحب ہوا۔ایک حاکم وقت ایک لونڈی کو پیغام نکاح دے اور وہ اس پر چون و چرا سے کام لے۔ خلیفہ مہدی نے خیوران سے پوچھا: آخر تم میری بیوی کیوں نہیں بن سکتی، جبکہ تم پہلے سی ہی میری لونڈی ہو؟خیزران نے جواب دیا : (( لا یحلّ لک ان تتزوج عليّ)) ” آپ کے لیے مجھے کسی کی سوکن بننا جائز نہیں۔

” خلیفہ مہدی نے جب خيزران سے شادی کے لیے اصرار کیا تو اس نے کہا: کسی عامل دین سے پوچھ لیں کہ آپ کے لیے مجھے سے شادی کرنا کیوں جائز نہیں؟ خلیفہ مہدی نے کہا: کیا تم سفیان ثوری کے فتوای سے راضی ہو؟ خیزران نے کہا: کیوں نہیں، میں ان کے فتوای سے مطمعن ہو جاؤں گی۔ خلیفہ مہدی نے امام سفیان ثوری سے اس سلسلہ میں گفتگو کی اور انہیں بتایا آخر میرے لیے اپنی ایک لونڈی کو اپنی ازواج کی فہرست میں شامل کرنا کیوں جائز نہیں، جبکہ خود اللہ کا ارشاد گرامی ہے: “عورتوں میں جو بھی تمہیں اچھی لگيں تم ان سے شادی کرلو؛ دو دو، تین تین، چار چار سے”۔ یہ کہ کر خلیفہ مہدی خاموش ہوگیا تو امام سفیان ثوری کہنے لگے: آپ نے آیت کا ایک ٹکڑا تو پڑھ ڈالا ” یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کئی بیویوں میں برابری کا برتاؤ نہیں کرسکتے تو پھر ایک بیوی کافی ہے، یا تمہاری ملکیت کی لونڈی”۔ (النساء:3) امام ثوری نے خلیفہ کو سمجھادیا کہ آپ خیزران کو اپنی بیوی بن کر اس کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے اس لیےاس کو بحیثیت لونڈی رکھنا ہی بہتر ہے۔خلیفہ نے انہیں دس ہزار درہم بطور عطیہ دینے کا حکم دیا مگر امام سفیان ثوری نے لینے سے انکار کردیا۔

خیزران کی فقاہت کو اچھی طرح ذہن نشین ہوگئی کہ وہ اگر خيزران کو بیوی بنائے گا تو تو اس کے ساتھ پورا انصاف کرنا ہوگا، اس کے ساتھ دوسری بیویوں کی طرح یکساں سلوک کرنا ہوگا اور اسے تمام ازدواجی حقوق مہیا کرنا ہوں گے چنانچہ کچھ عرصے بعد 159ھ میں خلیفہ نے خيزران کو آزاد کرکے اس سے شادی کرلی۔ اس کے بطن سے دو لڑکے پیدا ہوئے:ایک ہادی اور دوسرا ہارون رشید۔ مہدی کی وفات کے بعد ہادی خلیفہ بنا اور ہادی کے بعد ہارون رشید۔ خيزران نے اپنے بیٹے ہارون کے عہد خلافت میں بیت اللہ کا حج کیا اور نیکی کے کاموں میں اور حاجت مندوں کی مدد میں ایک خطیر رقم اللہ کی راہ میں اپنے ہاتھوں سے تقسیم کی۔خيزران کی وفات بغداد میں 173ھ میں ہوئی۔

یہ وہ پھل ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں متعدد بار آیا ہے.

یہ وہ پھل ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں متعدد بار آیا ہے. حضرت مریم کو دوران حمل کھجوریں کھانے کی ہدایت کی گئی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پھل انتہائی مقوی غذا ہے. حکماء اسے کئی اعتبار سے دیگر پھلوں پر فوقیت دیتے ہیں. شہد اور کھجور کا مزاج گرم ہے اس وجہ سے یہ موسم سرما میں بہت مفید ہے. یہ دمے کے مریضوں کیلئے بہترین غذا کا درجہ رکھتی ہے اور ساتھ ہی ہاضمہ بھی درست رکھتی ہے خون صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ جسم میں تازہ خون بھی پیدا کرتی اس اردو کے نیچے ویڈیو پر کلک کرکے دیکھیں ویڈیو میں کیسے نسخہ کیسے استعمال کرنا ہے دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں

شہد اور کھجور بلغم کا خاتمہ اور پھیپھڑوں کو بھی طاقت بخشتی ہے. جسم کے ساتھ ساتھ دماغ‘ اعصاب‘ قلب ‘معدے اورجسم کے پٹھوں کیلئے بھی بے حد مفید ہے.جن لوگوں کا وزن کم ہو یا خون کی کمی ہو انہیں پابندی کے ساتھ کھجور اور شہد کا استعمال کرناچاہئے. یہ امراض قلب میں بھی فائدہ مند ہے اس کے معدنی نمکیات دل کی دھڑکن کو منظم کرتے ہیں اور اس کے بعض اجزاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خون بننے میں مدد دیتے ہیں کھجور کے ریشے‘ میگنیشم‘ کیلشیم کے حصول کا عمدہ ذریعہ ہے اور ان میں پوٹاشیم کی بھی وافر مقدار موجود ہوتی ہے. کھجور‘ فیٹ‘ سوڈیم اور کولسٹرول فری ہے اور صحت کے بارے میں حساس افراد کیلئے بہترین معیاری غذا ہے. طب نبویﷺ کے مطابق عجوہ کھجور کی خاص ادویائی اہمیت ہے. یہ خون میں کولیسٹرول کی سطح گھٹاتی اور انجائنا کے مریضوں کو فائدہ پہنچاتی ہے. خصوصاً مدینہ منورہ کی عجوہ کھجوریں کولیسٹرول لیول گھٹانے میں انتہائی مفید ثابت ہوتی ہیں.کولیسٹرول کی سطح گھٹانے کا ایک نسخہ یہ ہے کہ 42 عجوہ کھجوروں کی گٹھلیاں پیس کر اور باریک سفوف بنا کر ایک مرتبان میں رکھ لیں روزانہ نہار

منہ استعمال کریں . ایک اور طریقہ یہ بھی ہے کہ ایک چائے کا چمچہ خالص شہد بھر کے اب اس میں کھجور کی 2 گٹھلیوں کا سفوف ملالیں اور 21 دن تک صبح نہار منہ استعمال کریں اور آدھے گھنٹے بعد ناشتہ کرلیں. شہد اور کھجور کے استعمال سے انجائنا سے بچاؤ بھی ممکن ہے. عجوہ کھجور کے 21 دانے لیں اور اس سے گٹھلیاں نکالنے کے بعد پیس کر باریک سفوف بنالیں. پھر اس سفوف کو دوبارہ اسی خالی جگہ میں بھردیں جہاں سے گٹھلیاں نکالی گئی تھیں ان میں سفوف بھر دیں اور سفوف کی ذرا سی بھی مقدار باقی نہ بچے اب انہیں 21 روز تک باقاعدگی سے استعمال کریں انشاء اﷲ تعالیٰ افاقہ ہوگا.اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے شہد میں بھی اتنی افادیت رکھی ہے جسے بیان نہیں کیا جاسکتا. شہد کمزور لوگوں کیلئے اﷲ تعالیٰ کا بہت بڑا تحفہ ہے جس کا سردیوں میں مستقل استعمال انسان کو چار چاند لگا دیتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مردانہ کمزوری دور کرنے کیلئے رات کو سونے سے قبل دو چمچ شہد کے گرم دودھ میں ملا کر پینے سے مردانہ کمزوری دور ہوجاتی ہے اور اگر اس کے ساتھ کھجور کا استعمال کیا جائے تو سونے پر سہاگہ ہوگا.

معدہ ،جگر ‘ مثانہ میں گرمی ‘ ورم اور سوزش پیدا ہو ہوجائے تو آپ صبح نہار منہ ایک گلاس میں 2شہد کے چمچ ملا کر پئیں انشاء اﷲ تعالیٰ فائدہ ہوگا. بچوں اور بڑوں کو اکثر دائمی نزلہ و زکام اور کھانسی کی شکایت رہتی ہے جوکہ بظاہر ایک چھوٹی سی بیماری نظر آتی ہے جسے اکثر چھوٹے بڑے نظرانداز کردیتے ہیں اور یہ مرض بعد میں

شدت اختیار کرجاتا ہے جس کے نتیجے میں انسان کو سر درد‘ جسم میں کمزوری‘ آنکھوں سے پانی کا بہنا‘ حلق میں خراش اور ہلکا ہلکا بخار اور تھکاوٹ بھی شروع ہوجاتی ہے جس سے ہر وقت بدن سست روی کا شکار ہوتا ہے. ایسے مریضوں کو چاہئے کہ وہ یہ نسخہ بنا کر استعمال کریں ان سب تکالیف کو دور کرنے کیلئے ایک مفید نسخہ آپ کی نظر پیش کرتا ہوں. آدھا تولہ ملٹھی‘ آدھا تولہ لونگ‘ آدھا تولہ دارچینی‘ آدھا تولہ فلفل دراز اور آدھا تولہ الائچی کلاں لے کر اس کو باریک پیس لیں اور شہد میں حسب مقدار ملا کر اس کی معجون بنالیں اور رات کو سونے سے قبل آدھی چمچ کھانے سے انشاء اﷲ تعالیٰ کھانسی ‘ نزلہ و زکام اور بخار کی حدت میں کمی واقع ہوگی.

اگر 4 نشانیاں ظاہر ہوجائیں تو سمجھ لینا کہ اللہ تعالیٰ نے آپکی دعا قبول فرمالیاہے

انسان ہونے کے ناطے ہم سب سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اور جب ہم اپنے گناہوں پر نادم ہوتے ہیں تو توبہ کے لیے اپنے خالق کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں۔ وہی خالق بہتر جانتا ہے کہ ہماری توبہ قبول ہوئی کہ نہیں البتہ اپنی زندگی میں نظر آنے والی کچھ تبدیلیوں سے ہمیں کسی حد تک اندازہ ضرور ہو سکتا ہے کہ توبہ کے بعد ہم کس قدر فلاح کے راستے کی جانب گامزن ہوئے قرآن وحدیث کی ہدایت کی روشنی میں کچھ ایسی نشانیاں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب تمہارے اچھے اعمال سے تمہیں مسرت محسوس ہونے لگے اور برے اعمال سے تکلیف اور غم محسوس ہو تو یہ ایمان کی نشانی ہے اسی طرح جب انسان اپنے گناہوں سے سچے دل کے ساتھ توبہ کرلے اور یہ عہد کرے کہ وہ دوبارہ گناہ کی جانب مائل نہیں ہوگا تو اسے اپنے خالق سے رحم اور مغفرت کی پوری امید رکھنی چاہیے۔

توبہ دراصل اپنے گناہوں پر گہرا دکھ اور ندامت محسوس کرنے کا ہی دوسرا نام ہے۔ جب انسان اپنے طرز عمل کو بدلنے کے لیے بے قرار ہو جاتا ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ پروردگار نے اس پر کرم کر دیا ہے اور اسے ہدایت کا راستہ دکھادیاہے۔ علماء کہتے ہیں کہ دل کی اس بے قراری کا خاتمہ صرف اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے حصول سے ممکن ہے۔ اگر احساس ندامت اور توبہ کے بعد آپ کے دل کو قرار نصیب ہوجاتا ہے تو علماء کے نزدیک یہ اس بات کی علامت ہے کہ پروردگار نے آپ کی توبہ قبول فرمائی اور آپ کے دل کو اطمینان بخش دیا ہے۔ اکثر لوگ دعا کرتے اور اسکے قبول نہ ہونے پر پریشان بھی ہوتے ہیں حالانکہ کسی کی دعا رد نہیں ہوتی ۔اسکی قبولیت کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ۔سورہ البقرہ میں اللہ تعالٰی کا فرمان ہے”جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔

احادیث مبارکہ میں دعا کی قبولیت کے کئی اوقات کا ذکر کیا گیا ہے کہ مسلمان ان اوقات میں دعا کریں تو قبول ہوتی ہے ،ان میں سے چند اوقات کا یہاں ذکر کررہا ہوں۔ حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ انسان اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے (سجدے میں ) دعاء کثرت سے کیا کرو۔ حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں۔ ایک اذان کے وقت ،دوسرے بارش کے وقت۔ حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہﷺ ! پھر ہم اس وقت کیا دعا کریں؟ آپ ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی عافیت مانگا کرو۔ حضرت ابوہریرہ ہے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے گی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ جب امام غیر المغضوب علیھم و لا الضالین کہے تو تم آمین کہو اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا۔ حضرت ابوامامہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسے پوچھا گیا کہ کونسی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایاکہ رات کے آخری حصے میں اور فرض نمازوں کے بعد مانگی جانے والی (دعا)۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اس وقت جو مسلمان بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرمائیں گے۔ حضرت جابر ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہ پوری ہوتی ہے۔