رات سوتے وقت نافرمان بچے پر یہ پڑھیں

نافرمان اولاد ساری زندگی کا روگ ہوتی ہے۔والدین کے حکم کی تعمیل نہ کرنے والی اولاد کے رنج سے اچھا بھلا انسان پریشان ہوکر بہت سے غلط اقدامات اٹھاتا ہے۔ جس سے بعد ازاں اولاد بھی تکلیف اٹھاسکتی ہے۔نافرمان اولاد گمراہ ہوجاتی ہے،بہت سے والدین ایسی اولاد کے ہاتھوں مارے بھی جاتے ہیں،وہ جرائم میں ملوث ہوجاتی اور نشے بھی کرتی ہے تو ان کی وجہ سے انہیں عدالتوں میں خوار ہونا پڑتا ہے۔ جاری ہے

ایسی اولادتعلیم سے بھی محروم ہوجاتی ہے۔لیکن کئی صورتوں میں پڑھی لکھی اولاد کے ہاتھوں بھی والدین کو تکالیف اٹھانی پڑی ہیں۔ یہ کتنی ظلم اور شرم کی بات ہے۔ کہ وہ والدین جنہوں نے پال پوس کر اپنے منہ کا لقمہ اولاد کے منہ میں ڈال کر اسے پالا ہوتا ہے وہی ان کے بڑھاپے کا سہارا نہیں بن پاتی۔ والدین کو چاہئے کہ وہ خود ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیں،اگر اولاد میں گستاخی اور نافرمانی کا رویہ دیکھیں تو فوری اللہ سے رجوع کریں اور یہ عمل شروع کردیں۔ ۔بعد از نماز عشا اول آخر اسم ربی یا نافع اکیالیس سو بار اکیس دن تک پڑھیں اور اللہ کے حضور اسکے راہ راست پر آنے کی دعا کریں ،انشا ء اللہ بگڑے ہوئے بچوں کی اصلاح ہوگی۔

رات سوتے وقت نافرمان بچے پر یہ پڑھیں

نافرمان اولاد ساری زندگی کا روگ ہوتی ہے۔والدین کے حکم کی تعمیل نہ کرنے والی اولاد کے رنج سے اچھا بھلا انسان پریشان ہوکر بہت سے غلط اقدامات اٹھاتا ہے۔ جس سے بعد ازاں اولاد بھی تکلیف اٹھاسکتی ہے۔نافرمان اولاد گمراہ ہوجاتی ہے،بہت سے والدین ایسی اولاد کے ہاتھوں مارے بھی جاتے ہیں،وہ جرائم میں ملوث ہوجاتی اور نشے بھی کرتی ہے تو ان کی وجہ سے انہیں عدالتوں میں خوار ہونا پڑتا ہے۔ جاری ہے

ایسی اولادتعلیم سے بھی محروم ہوجاتی ہے۔لیکن کئی صورتوں میں پڑھی لکھی اولاد کے ہاتھوں بھی والدین کو تکالیف اٹھانی پڑی ہیں۔ یہ کتنی ظلم اور شرم کی بات ہے۔ کہ وہ والدین جنہوں نے پال پوس کر اپنے منہ کا لقمہ اولاد کے منہ میں ڈال کر اسے پالا ہوتا ہے وہی ان کے بڑھاپے کا سہارا نہیں بن پاتی۔ والدین کو چاہئے کہ وہ خود ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیں،اگر اولاد میں گستاخی اور نافرمانی کا رویہ دیکھیں تو فوری اللہ سے رجوع کریں اور یہ عمل شروع کردیں۔ ۔بعد از نماز عشا اول آخر اسم ربی یا نافع اکیالیس سو بار اکیس دن تک پڑھیں اور اللہ کے حضور اسکے راہ راست پر آنے کی دعا کریں ،انشا ء اللہ بگڑے ہوئے بچوں کی اصلاح ہوگی۔

کہ جب کوئی آدمی جمعہ کی رات یاجمعہ کے دن فوت ہوجائے

کہا جاتا ہےکہ جب کوئی آدمی جمعہ کی رات یاجمعہ کے دن فوت ہوجائے تو اللہ عزوجل اس سے قیامت تک کا عذاب ہٹا لیتا ہے۔یہ مسئلہ کیا درست ہے؟ الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال​ وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته! الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! جمعہ کی رات یا دن موت کی فضیلت کے بار ے میں وارد روایات ضعیف ہیں۔حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری کے ”کتاب الجنائز” کے اختتام پرحضرت عبدا للہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث: «ما من مسلم يموت يوم الجمعة او ليلة الجمعة الا وقاه الله فتنة القبر »حسنه البانی بشواهده المشکاة (1367) یعنی ” جومسلمان جمعہ کے دن یاجمعہ کی ر ات فوت ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عذاب قبر سے محفوظ فرما لیتا ہے۔” نقل کرنے کے بعد رقم طراز ہیں: في اسناده ضعف واخرجه ابو يعلي من حديث انس نحوه واسناده اضعف ’’ یعنی ”اس کی سند میں ضعف ہے۔

اور اس کی مانند حدیث ابو یعلیٰ نے بھی حضرت انس سے بیان کی ہے لیکن اس کی سند اس سے بھی زیادہ کمزور ہے۔” مذکورہ حدیث کے بارے میں امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: هذا حديث غريب وليس اسناده بمتصل وبيعة بن سيف انما يروي عن ابي عبد الرحمٰن الحبلي عن عبدا لله بن عمر و ولا تعرف لربعة من سيف سماعا من عبدالله بن عمرو ’’ ”یعنی یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند متصل نہیں ربیعہ بن سیف کی روایت تو عبد اللہ بن عمرو سےابو عبد الرحمٰن حبلی کے واسطہ سے ہے۔ ربیعہ بن سیف کا سماع عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے معلوم نہیں ہوسکا۔۔ باب ما جاء فيمن يموت يوم الجمعة شارح ترمذی علامہ مبارک پوری فرماتے ہیں: فالحديث ضعيف لانقطاعه لكن له شواهد ”پس انقطاع کی بنا پر حدیث ضعیف ہے لیکن اس کے کچھ شواہد ہیں۔” پھرعلامہ سیوطی سے بحوالہ ”مرقاۃ” کچھ آثار وشواہد نقل کئے ہیں۔(تحفہ الاحوذی :4/ 188) بہرصورت ان آثار کی صحت یاقابل صحت ہونا مشکوک ہی نظر آتا ہے جب کہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت بھی رطب ویابس جمع کرنے میں معروف ہے۔

مجھے اس وقت سخت تعجب ہوا جب میں نے استاد محترم مفتی محمد عبدہ صاحب مدظلہ العالی کی کتاب ”احکام الجنائز” کا مراجعہ کیا تو اس کے حواشی میں بحوالہ تحفہ فرماتے ہیں: مسند احمد وترمذي وله شواهد فالحديث بمجموع طرقه حسن او صحيح ’’ یعنی”عبدا للہ بن عمرو کی روایت مسنداحمد اور ترمذی میں ہے اور اس کے کچھ شواہد بھی ہیں۔پس حدیث مجموع طرق کے اعتبار سے حسن یاصحیح ہے۔” دراں حالیکہ مذکور عبارت محل مقصود میں قطعاً نہیں ہے۔البتہ ایک دوسرے مقام پر علامہ موصوف فرماتے ہیں: یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے۔لیکن اس کی تائید متعدد حدیثوں سے ہوتی ہے۔”(فتاویٰ ثنائیہ:2/25) گویا کہ موصوف کا رجحان اثبات مسئلہ رفع عذاب کی طرح ہے لیکن اس بارے میں درجہ حجت واستدلال کاحصول ایک مشکل امر ہے۔اور یہ بات مسلمہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال سوموار کے روز ہوا تھا۔ اورحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرض الموت میں اسی تمنا کا اظہار کیا تھا۔ اس پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں تبویب یوں قائم کی ہے :”باب موت یوم الاثنین ” صحيح البخاري كتاب الجنائز رقم الباب (٩٤) شارحین حدیث نے لکھا ہے :

اس سے مصنف کا مقصود جمعہ کی فضیلت کے بارے میں وار حدیث کی تضعیف ہے۔ واقعاتی طور پر وفات کا جو دن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے منتخب اور پسند فرمایا وہی افضل اور بہتر ہونا چاہیے۔ اسی بناء پر خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس دن موت کی چاہت کی تھی۔

کالا جادو : شیطانی عمل کیسے کیسے ہوتا ہے؟

اس روز میں اپنے دوست کے ساتھ ان کے پیر صاحب کو سلام کرنے گیا تھا ۔ایک خاتون اپنی جواں سال بیٹی کے ساتھ وہاں رنجیدہ صورت بنائے بیٹھی تھیں۔لڑکی آنکھوں سے لگتا تھا کہ وہ سو نہیں پاتی۔معلوم ہوا کہ لڑکی کے ساتھ ایک عجیب معاملہ درپیش ہے ۔کوئی چیز اسکے نئے کپڑے کتر دیتی ہے ۔ہزاروں روپے کے قیمتی کپڑے تباہ ہوچکے تھےجاری ہے۔ اور اسے روزانہ نیا سوٹ خریدنا پڑ رہاہے۔ایسا لگتا ہے کوئی قیمنچی سے باقاعدہ کترتا ہے ۔ایسا معاملہ میں نے پہلے بھی سن رکھا تھا ۔ بہت سی خواتین کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ الماری میں استری اور تہہ کئے ہوئے کپڑے بھی کترے جاتے ہیں ،جبکہ الماری میں اس خدشہ سے سپرے بھی متواتر کیا جاتا تھا کہ کوئی ایسا کیڑا یہ حرکت نہ کرتا ہو کہ جسے کپڑے کترنے کی عادت ہو ۔پھر گھر والوں نے اس الماری پر نگرانی بھی کرائی کہ کوئی ملازم شرارت سے یہ کام نہ کرجاتا ہو۔

جب خاتون خانہ اس روز روز کی مشقت سے عاجز آگئی تو اسے کسی نے بتایا کہ یہ شیطانی عمل ہوتا ہے جس کی وجہ سے کئی خواتین کے ساتھ کپڑے کترنے کی شیطانی وارداتیں ہونے لگ جاتی ہیں۔مجھے یہ بات ہضم نہیں ہوتی تھی کہ کیا کوئی شیطانی قوت قینچی لیکر آتی ہے یا پھر وہ اپنے دانتوں اور انگلی کے ناخنوں سے اتنی نفاست کے ساتھ کپڑے کتر جاتی ہے کہ کوئی پتہ ہی نہیں چلتا ۔یہ محض اتفاقات کا تسلسل لگتا تھا ۔جاری ہے۔ لیکن اس دن تو عجیب بات ہوگئی ۔ پیر صاحب نے پہلے لڑکی اور اسکی والدہ سے ہر طرح کا سوال کرکے تسلی کرلی کہ کوئی انسان تو یہ کام نہیں کرتا ۔اتمام حجت کے بعد انہوں نے استخارہ کیا اور کچھ دیر بعد بتایا کہ یہ کام بچی کا رشتہ باندھنے کے لئے کیا گیا ہے اور جان بوجھ کر جناتی شرارت کرائی جارہی ہے ۔یہ بات سن کر لڑکی کی والدہ بولیں’’ رشتے تو کئی آچکے ہیں لیکن ابھی ہم شادی کرنے پر تیار نہیں کیونکہ ابھی یہ فارمیسی میں ایم فل کرنا چاہتی ہے ۔اسلئے کئی لوگوں کو انکار کرچکے ہیں ۔ہوسکتا ہے کوئی ایسا ہو جو ۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ چونک سی گئیں اور بولیں ’’ میری بھاوج بہت زور دیتی ہے کہ اسکے بیٹے سے بیاہ کردوں ۔لیکن وہ لوگ ہمیں پسند نہیں کیونکہ عجیب فسادی اور خرانٹ لوگ ہیں۔ان کی ہماری دولت پر نظر ہے ‘‘’’ میں یہ نہیں بتاسکتا کہ وہ کون لوگ ہیں ۔تاہم اسکا علاج کئے دیتا ہوں کہ آئیندہ کوئی بھی یہ شیطانی عمل نہ کرے ،علاج کرنا اس لئے ضروری ہے میری بہن کہ اگرکسی پر کیاہوا کالا علم پرانا ہوجائے تو یہ بہت برا ثابت ہوتا ہے ۔

مریض کو ایسی بیماری بھی لگ جاتی ہے جس کا ڈاکٹر علاج نہیں کرسکتے بلکہ کہتے ہیں کہ اسکو کوئی مرض نہیں۔بندہ پوچھے جب مرض نہیں تو دوا کس چیز کی کھلاتے ہو۔وہ وہم کا علاج کرتے رہتے ہیںجاری ہے۔ ۔شیطانی مخلوق کی یہی واردات ہوتی ہے ۔وہ مسخرکئے گئے انسان کواسقدر خوار کردیتی ہے کہ بندہ کسی ایک علاج کے قابل نہیں رہتا ۔میرے اللہ کے کلام سے جب کسی ایسے مریض کا علاج کردیا جائے اور بندہ خود بھی ذکر الٰہی کی عادت اپنا لے توکسی جادو کرانے والے کو زیادہ کامیابی نہیں ہوپاتی ‘‘ پیر صاحب نے روحانی علاج کا تفصیلی ذکر کیا اور انہیں کچھ تعویذات دے کر پندرہ دن بعداسی وقت آنے کی ہدایت کی۔میں بغور اس صورتحال کو دیکھ رہا تھا ۔ماں بیٹی کے چلے جانے کے بعد میں نے بھی ٹھان لی کہ میں بھی پندرہ دن بعد آوں گا اور دیکھوں گا کہ ماں بیٹی کے کپڑوں کو کترنے کی وارداتوں کا کیا بنا ہے ۔

پندرہ دن بعد جب ان لوگوں سے ملاقات ہوئی تو دونوں ماں بیٹی کو انتہائی پرجوش دیکھا۔ماں نے بتایا کہ جب سے انہوں نے تعویذات گھر میں جلائے اور ان کا پانی پیا ہے ،سوائے ایک بار کے ،پھر کوئی کپڑا کترا نہیں گیا اور انکی بیٹی کو اب نیند بھی ٹھیک آرہی ہےجاری ہے۔ ۔شیطانی واردات کے متاثرہ فریق کی یہ بات اس کے منہ سے سن کر میں حیران رہ گیا کہ کیا واقعی آج کی دنیا میں جادو کراکے شیطان یا جنات کوانسانوں کی زندگیوں میں خرابی پیدا کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے ۔ممکن ہے آپ میں سے کسی کے ساتھ یا جاننے والے کے ساتھ ایسا واقعہ رونما ہوا ہو۔۔۔

بعض لوگوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے

بعض لوگوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ نہار منہ پانی پینا صحت کے لئے مضر ہے ۔ دراصل اس بات کی بنیاد چند ضعیف روایت ہیں ۔ (1) پہلی روایت : ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا :مَن شرِب الماءَ علیَ الرِیقِ اَنتقصَت قُوتہُ (المعجم الأوسط للطبرانی :4646) ترجمہ : جس نے نہار مُنہ پانی پیا اس کی طاقت کم ہو گئی۔ روایت کا حکم :٭اس روایت کی سند میں محمد بن مخلد الرعيني ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے

٭امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔٭علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے (السلسلۃ الضعیفہ : 6032) (2) دوسری روایت : ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی روایت میں بھی یہ ہی الفاظ ہیں :من شرب الماء على الريق انتقضت (المعجم الأوسط للطبرانی:6557) ترجمہ :جس نے نہار مُنہ پانی پیا اس کی طاقت کم ہو گئی ۔ روایت کا حکم : ٭اس روایت کی سند میں عبدالاول المعلم نامی راوی کے بارے میں امام طبرانی نے اس روایت کے بعد لکھا کہ “یہ روایت صرف عبدالاول المعلم نے ہی بیان کی ہے “۔ ٭امام ہیثمی نے کہا کہ اس میں ایک جماعت ہے جنہیں میں نہیں جانتا ہوں۔(مجمع الزوائد10/305) (3)ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرب الماء على الريق يفقد الشحم (الکامل فی ضعفاء الرجال) ترجمہ : نہار مُنہ پانی پینے سے چربی ختم ہوتی ہے۔ روایت کا حکم : ٭یہ روایت ضعیف ہونے کی وجہ سے ہی الکافل فی ضعفاء الرجال میں درج کی گئی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عاصم بن

سلیمان الکوزی ہے جس کو أئمہ حدیث نے جھوٹا،روایات گھڑنے والا قرار دیا ہے ۔ ٭ ابن الجوزی وغیرہ محدثین نے یفقد کی جگہ یعقد کا لفظ ذکر کیا ہے اور اس روایت کو موضوع میں شمار کیا ہے ۔ (موضوعات ابن الجوزی 3/204) رسول اکرم ﷺ صبح نہار منہ پانی نہیں تھے پیا کرتے وہ پانی میں ایک چمچ شہد کا ملا کر پیا کرتے تھے اور لوگوں کو بھی چاہئے کہ ایسا ہی کرنا جب وہ صبح اٹھے تو، پانی بھی پینا کوئی منا نہیں کیا گیا لیکن اپنی نبی کی سنت پوری کرنی چاہئے

”کاجو“ میں چھپاہے ایسی بیماری کا علاج جس میں آج کل ہردوسراپاکستانی مبتلا ہے

اگر آپ ڈپریشن کا شکار ہیں اور علاج سے تنگ آچکے ہیں تو ہم آج آپکواس کا قدرتی علاج بتائیں گے۔یہ قدرتی علاج آسان ہونے کے ساتھ ساتھ مزیدار بھی ہے۔ ماہرین غذائیات کی رائے کے مطابق ”کاجو“ کے نام سے جانا جانے والا خشک میوہ ڈپریشن سے بچاﺅ کا بہترین علاج ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کاجو میں وٹامن، فائبر، منرلزاور دیگر کئی قسم کے اجزاءپائے جاتے ہیں جو کئی خطرناک بیماریوںسے بچاﺅ کا زریعہ ہیں۔ علاوہ ازیں کاجو میں کئی منرلز جیسے پوٹاشیم ، میگنیز، کاپر، سیلینیم، زنک اور آئرن بھی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ پس ان تمام اجزاءکی موجودگی سے کاجو کی

تھوڑی سے مقدار کے استعمال سے ہی ہمارے جسم میں واقع ہونے والی کمی پوری ہو سکتی ہے۔ کاجو میں پایا جانے والا ایک اہم جز ٹریپٹو فان قدرتی طور پر انسانی مزاج کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین صحت کی رپورٹ کے مطابق ٹریپٹو فان ذہنی دباﺅ کو کم کرنے کے ساتھ نیند میں پیدا ہونے والے خلل کا خاتمہ کرتا ہے،اوربڑھتے بچوں کی بہتر نشو نما میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔واضح رہے ڈیپریشن سے بچاﺅ کیلئے بنائی جانے والی بیشتر ادویات میں کاجو لازماً شامل کیا جاتا ہے۔مزید برآں کاجو میں کچھ ایسے فیٹی ایسڈز بھی پائے جاتے ہیں جو کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے اور دل کی بیماریوں سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

“صاحب اب میرا کام ہو جائے گا نا ”

“صاحب اب میرا کام ہو جائے گا نا ”

اس نے دیوار کی طرف رُخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی۔
“ہاں ہاں بھئی ” ۔۔۔

میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں ۔
پھر میں پیسے لینے کب آؤں ؟”

دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اور پھر جھٹک کر لپیٹ لیا ۔ “پیسے ملنے تک تمہیں ایک دو چکر تو اور لگانے ہی پڑیں گے ۔کل ہی میں مالکان سے تمہارے شوہر کا زکر کرتا ہوں ” میں نے شرٹ کے بٹن لگائے ،ہاتھوں سے بال سنوارے اور دفتر کے پیچھے ریٹائرنگ روم کے دروازے سے باہر جھانک کر آس پاس احتیاتاً ایک طائرانہ نظر دوڑانے لگا ۔ ویسے تو نیا چوکیدار وقتا فوقتا چائے پانی کے نام پر میری طرف سے ملنے والی چھوٹی موٹی رقم کے بدلے میں میرا خیر خواہ تھا مگر پھر بھی میں کسی مشکل میں گرفتار نہیں ہونا چاہتا تھا ۔ ” پھر میں کل ہی آجاؤں ” وہ میرے پختہ جواب کی منتظر تھی ۔

” کل نہیں ! ! ! ”

میں روز اس طرح یہاں آنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا اس لئیے بس آہ بھر کر رہ گیا ۔۔۔۔۔
ہائے غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل مل جاتے ہیں ۔۔۔ میں نے نظروں سے اسکے جسم کے پیچ و خم کو تولتے ہوئے سوچا

” ارے سنو ! ! تم نے شلوار اُلٹی پہنی ہے ۔”
وہ چونک کر اپنی ٹانگوں کی طرف جھکی اور خجل ہوگئی ۔

” اسے اتار کر سیدھی کرلو ۔ میں چلتا ہوں پانچ منٹ بعد تم بھی پچھلے دروازے سے نکل جانا۔ ۔ ۔ اور ہاں احتیاط سے کوئی دیکھ نہ لے تمہیں ۔

زیمل خان چار سال سے ہماری فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا تین ہفتے پہلے فیکٹری میں داخل ہونے والے ڈاکوؤں کے ساتھ مزاحمت میں ٹانگ پر گولی کھا کر گھر میں لاچار پڑا ہوا تھا ۔ مالکان اسکے علاج کے لئیے پچاس ہزار دینے کا اعلان کر کے بھول گئے تھے ۔ سو اسکی بیوی اسی سلسلے میں بار بار چکر لگا رہی تھی ۔ میں نے اسکی مدد کا فیصلہ کیا اور چھٹی کے بعد شام میں اسے فیکٹری آنے کا اشارہ دے دیا ۔

عمر ! عمر!

اپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے عقب سے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی ۔ اسکے اور میرے گھر لوٹنے کا وقت تقریبا ایک ہی تھا اور کبھی کبھار تو ہم اسی طرح اکھٹے گھر میں داخل ہوتے تھے ۔ وہ ایک چھوٹے بینک میں کلرک تھی ۔
“ایک خوشخبری ہے ” قدرے فربہی مائل وجود کو سنبھالے وہ تیزی سے اوپر آرہی تھی

خوشی سیے اسکی بانچھیں کھلی جا رہی تھیں

” مینیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں اور آج ہی انہوں میرے پرونوشن کی بات ہے ”
دروازے کے سامنے رک کر اس نے ہینڈ بیگ ٹٹولااور چابی نکالی
۔”انہوں نے کہا ہے تھوڑا وقت لگے گا مگر کام ہوجائے گا

“ارے واہ مبارک ہو ” ” میں نے خوشدلی سے اسے مبارکباد دی
” تمہیں پتا ہے مجھ سمیت پانچ امیدوار ہیں ، اور وہ آصفہ ہے نا وہ بھی میرے حق میں نہیں مگر ڈائیریکٹر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں ۔۔ کیوں نہ ہوں میں اتنی محنت جو کرتی ہوں اور ویسے بھی ۔ ۔ ۔ ۔

۔وہ گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے بھی مسلسل بولے چلی گئی
۔میں اسکی پیروی کرتے ہوئے اسکی فتح کی داستان سے محظوظ ہورہا تھا کہ اچانک میری نظر اسکی الٹی شلوار کے ریشمی دھاگوں میں الجھ گئیں۔

حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ایک نوجوان کو زنا کے جرم میں سزا کیلئے لے جارہا تھا

ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمرؓ کے عہد خلافت میں ایک لڑکے کو زنا کے جرم میں سزا دینے کیلئے لے جایا جارہا تھا(واضح رہے کہ اسلام میں شادی شدہ زانی کیلئے سنگسار اور غیر شادی شدہ کیلئے اسی کوڑے بطور سزا ہیں) وہ لڑکا اونچی اونچی آواز سے پکار رہا تھا کہ میں بے گناہ ہوں مجھے سزا نہ دی جائے ۔ حضرت علی ؓکا وہاں سےگزر ہوا تو حضرت علیؓ نے اس لڑکے کی پکار سن کر سرکاری اہلکاروں کو روکنے کا حکم فرمایااور لڑکے سے پوچھا کیا معاملہ ہے؟لڑکے نے حضرت علیؓ سے کہا کہ جناب! جس جرم نسبت میری طرف کی جارہی ہے وہ میں نے نہیں کیا ،دعویٰ کرنے والی میری ماں ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا اس کی سزا کو روک دیا جائے میں اس کیس کو دوبارہ سن لوں ۔

اگر یہ لڑکا گناہ گار ہوا تو تب سزا دینا۔دوسرے دن حضرت علیؓ نے عورت اور لڑکے کوعدالت میں طلب فرمایا لیا،عورت سے پوچھا کیا اس نے تیرے ساتھ غلط کام کیا ہے ؟ اس نے کہا ہاں، پھرحضرت علیؓ نےلڑکے سے پوچھا یہ عورت تیری کیا لگتی ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ میری ماں ہے،عورت نے اسے بیٹا ماننے سے انکار کردیا ، فیصلہ سننے کیلئے لوگوں کا بہت زیادہ ہجوم جمع تھا،حضرت علیؓ نے فرمایا تو اچھا پھر اے عورت!میں اس لڑکے کا تیرے ساتھ اتنے حق مہر کے بدلے نکاح کرتا ہوں تو عورت چیخ اٹھی کہ اے علی ؓ!کیا کسی بیٹے کا ماں کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے؟ حضرت علیؓ نے استفسار فرمایا کہ کیا مطلب ؟تو اس عورت نے جواب دیا کہ اے علیؓ ! یہ لڑکا تو واقعی میرا بیٹا ہے اس پر حضرت سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ کیا کوئی بیٹا اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کر سکتا ہے ؟ عورت نے کہا کہ نہیں ۔حضرت سیدنا علیؓ نے فرمایا تو پھر تونے اس اپنے بیٹے پر ایسا الزام کیوں لگایا؟ تو عورت نے جواب دیا ۔اے علیؓ! میری شادی ایک امیر کبیر شخص سے ہوئی تھی۔ اس کی بہت زیادہ جائیداد تھی یہ بچہ ابھی کمسن ،دودھ پیتا ہی تھا کہ میرا خاوند مر گیا،تو میرےبھائیوں نے مجھے کہا کہ یہ لڑکا تو اپنے باپ کی جائیداد کا وارث ہے۔

اس کو کہیں چھوڑ آؤ میں اسے کسی آبادی میں چھوڑ آئی ،ساری جائیداد میری اور میرے بھائیوں کی ہوگئی ،یہ لڑکا بڑا ہوا تو ماں کی محبت نے اس کے دل میں انگڑائی لی ،یہ ماں کو تلاش کرتا کرتا میرے تک پہنچ گیا میرے بھائیوں نے مجھے پھر ورغلایا کہ اس پر جھوٹا الزام لگا کر اس کی زندگی کا سانس ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے تو میں نے اپنے ہی بیٹے پر جھوٹا الزام اپنے بھائیوں کی باتوں میں آکر لگا دیا ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے اور بالکل بے گناہ ہے۔جب اس قضیٔے کا علم امیر المومنین،خلیفتہ المسلمین،خلیفۂ دوئم سیدنا عمر ابن خطاب ؓکو ہوا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ اگر آج علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ ہلاک ہوجاتا۔

رات سوتے وقت نافرمان بچے پر یہ پڑھیں

نافرمان اولاد ساری زندگی کا روگ ہوتی ہے۔والدین کے حکم کی تعمیل نہ کرنے والی اولاد کے رنج سے اچھا بھلا انسان پریشان ہوکر بہت سے غلط اقدامات اٹھاتا ہے۔ جس سے بعد ازاں اولاد بھی تکلیف اٹھاسکتی ہے۔نافرمان اولاد گمراہ ہوجاتی ہے،بہت سے والدین ایسی اولاد کے ہاتھوں مارے بھی جاتے ہیں،وہ جرائم میں ملوث ہوجاتی اور نشے بھی کرتی ہے تو ان کی وجہ سے انہیں عدالتوں میں خوار ہونا پڑتا ہے۔ جاری ہے

ایسی اولادتعلیم سے بھی محروم ہوجاتی ہے۔لیکن کئی صورتوں میں پڑھی لکھی اولاد کے ہاتھوں بھی والدین کو تکالیف اٹھانی پڑی ہیں۔ یہ کتنی ظلم اور شرم کی بات ہے۔ کہ وہ والدین جنہوں نے پال پوس کر اپنے منہ کا لقمہ اولاد کے منہ میں ڈال کر اسے پالا ہوتا ہے وہی ان کے بڑھاپے کا سہارا نہیں بن پاتی۔ والدین کو چاہئے کہ وہ خود ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیں،اگر اولاد میں گستاخی اور نافرمانی کا رویہ دیکھیں تو فوری اللہ سے رجوع کریں اور یہ عمل شروع کردیں۔ ۔بعد از نماز عشا اول آخر اسم ربی یا نافع اکیالیس سو بار اکیس دن تک پڑھیں اور اللہ کے حضور اسکے راہ راست پر آنے کی دعا کریں ،انشا ء اللہ بگڑے ہوئے بچوں کی اصلاح ہوگی۔

اگر تم میرے ساتھ ہمبستری کرلیں تو تیری ہر ضرورت پوری کردونگا

ایک نیک وپرہیزگار شخص مصرپہنچا ، وہاں اس نے ایک لوہار کودیکھا وہ اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر سرخ اور دہکتا ہوا لوہا آگ کی بھٹی سے باہر نکال رہا ہے مگرآگ کی حرارت وگرمی کا اس پرکوئی اثرنہيں تھا ۔ اس شخص نے اپنے دل میں کہا کہ :یہ توکوئی بہت ہی پہنچا ہوا اورپرہیزگارآدمی معلوم ہوتا ہے ۔ اس لوہار کے پاس گيا سلام کیا اورکہنے لگا :تمہيں قسم ہے اس خداکی جس نے تمہیں یہ کرامت عطا کی ہے میرے حق میں کوئی دعا کردو ۔ لوہار نے جیسے ہی یہ باتیں سنیں اس پرگریہ طاری ہوگیا اورکہنے لگا : میرے بارے میں جوتم سوچ رہے ہو ویسا نہيں ہے میں نہ توکوئی متقی ہوں اورنہ ہی صالحین میں میرا شمار ہوتا ہے ۔ آنے والے شخص نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ اس طرح کا کام اللہ کے نیک بندوں کے سوا سے کوئی اورنہیں کرسکتا ؟ اس نے جواب دیا۔

ٹھیک کہتے ہو مگرمیرا ہاتھ ایسا اس کی کچھ اوروجہ ہے آنے والے شخص نے جب زیادہ اصرارکیا تولوہار نے کہا : ایک دن میں اسی دوکان میں کام کررہا تھا ، ایک بہت ہی حسین وخوش اندام عورت کہ اس سے پہلے اتنی خوبصورت عورت کہیں نہیں دیکھی تھی میرے پاس آئي اورکہنے لگی کہ میں بہت ہی غریب ومفلس ہوں ۔ میں اس کودیکھتے ہی اس کا عاشق ہوگیا اوراس کے حسن میں گرفتار ہوگیا میں نے اس سے کہا کہ اگرتومیرے ساتھ ہم بستر ہوجائے تومیں تیری ہرضرورت پوری کردوں گا ۔یہ سن کراس عورت کا پورا جسم لرزاٹھا اوراس پرایک بہت ہی عجیب وغریب کیفیت طاری ہوگئی کہنے لگی : اے مرد خداسے ڈر میں اس قماش کی عورت نہیں ہوں ۔ اس کے جواب میں میں نے کہا توٹھیک ہے اٹھ اوریہاں سے کہیں اورکا راستہ دیکھ ۔ وہ عورت چلی گئی مگرتھوڑی ہی دیر کے بعد وہ دوبارہ واپس آئی اورکہنے لگی غربت تنگدستی مجھے مارے ڈال رہی ہے اوراسی چیزنے مجھے مجبورکردیا ہے کہ تیری خواہش پرہاں ، بھرلوں ۔ میں نے دوکان بند کی اوراس کولے کراپنے گھر پہنچا جب میں گھرکے کمرے میں داخل ہوا تومیں کمرے کےدروازے کواندر سے۔

تالا لگانے لگا عورت نے پوچھا : کیوں تالا لگارہے ہویہاں توکو‏ئی بھی نہيں ہے ؟ میں نے جواب دیا کہيں کوئي آ نہ جائے اورپھر میری عزت چلی جائے عورت نے کہا : اگرایسا ہے توخدا سے کیوں نہيں ڈرتے ؟ جب میں اس کے جسم کے قریب ہوا تودیکھا کہ اس کا جسم اس طرح سے لرزرہا تھا جیسے باد بہاری کی زد میں آکر بید کے خشک پتے ہلتے رہتے ہیں ۔اوراس کی آنکھوں سے آنسوؤ کی جھڑی لگي ہوئي تھی ، میں نے اس سے کہا کہ تویہاں کس سے ڈر رہی ہے ؟ اس نے کہا اس وقت خدا ہم دونوں کودیکھ رہا ہے تومیں کیونکرخوف نہ کھاؤں۔