چلو اندر چلی آو

بغداد میں ایک بہت ہی گنہگار انسان تھا لیکن اسکی ماں بہت صالحہ تھی۔ اس شخص سے جب بھی کبھی گناہ ہوتا تو وہ اس گناہ کو ایک کتاب میں لکھ لیتا تھا۔ ایک رات کا ذکر ہے جب وہ اپنے دن کے تمام گناہ کتاب میں لکھ رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ نکل کر باہر دیکھا تو نہایت ایک خوبصورت حسین و جمیل ماہ جبین لڑکی کھڑی تھی اس نے اس لڑکی سے پوچھا ” کیا چاہیے” اس لڑکی نے جواب دیا۔” میرے پاس یتیم بچے ہیں تین دن سے بھوکے ہیں کچھ بھی کھانے کو میسر نہیں”” اچھا اندر چلی آو ” اس شخص نے اس لڑکی کو گھر کے اندر بلایا اور دروازہ بند کردیا کیونکہ اس عورت کو دیکھ کر اس شخص کی نیت خراب ہوگئی۔ وہ عورت جان گئی کہ اس بندے کی نیت خراب ہوگئی ہے کہ اس کے جی میں اب برائی آئی ہے اس شخص نے اس عورت کو زبردستی اپنی طرف کھینچا تو اس نے زور سے کہا۔

” اے مصیبتوں کو دور کرنے والے! مجھے اس انسان سے بچا اور اے اپنی مرنے کو بھول جانے والے انسان ! مجھے تو تم موت سے غافل نظر آتا ہے کہ تم نے اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا کہ تم سے بہتر اور طاقتور لوگوں کو موت کھا گئی ان کو بھی اس دنیا سے سواۓ تھوڑی سی روزی اور کپڑے کے کچھ بھی نہ نصیب ہوا اور جو منزلیں اور بڑے بڑے گھر انہوں نے آباد کیے وہ بھی خالی رہ گیےاور تم خود بھی کل یا اگلے روز تن تنہا قبرستان میں جاگزین ہوکر ان کی ہمسائیگی میں چلا جائے گا اے میرے پرودگار میری فریاد کو سن اور اس انسان سے مجھے بچا” اس شخص نے جب یہ فریاد سنی تو بہت رویا اور اس عورت کو چھوڑ دیا۔ اس شخص نے اس عورت کو کھانے کی چیزیں دی اور کہا ” یہ اپنے بچوں کو کھلاو۔میں بہت گنہگار انسان ہوں اپنے بچوں سے کہنا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کریں کہ میرے گناہ معاف کردیں اور جو گناہ میں اپنی کتاب میں لکھتا رہا وہ گناہ معاف ہونے کے بعد مٹ جائیں” ۔اس عورت نے جاتے ہوۓ اس شخص کو بہت دعائیں دی جب وہ عورت چلی گئی تو بندے نے اپنی کتاب میں لکھا کہ میں نے ایک عورت سے آج زنا کرنا چاہا کتاب کھولنے بیٹھ گیا جیسے ہی اس نے پہلا صفحہ کھولا تواس پر کچھ لکھا ہی نہیں تھا تمام کتاب چھان ماری لکن گناہوں کا تمام ریکارڈ کتاب سے پاک ہوچکا تھا، اس شخص نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ماں کے پاس چلا گیا ماں کو کہا کہ اسکے گناہ معاف ہوگئے ہیں کیونکہ میں نے اللہ پاک سے ایک عورت کے ہاتھ پر صلح کرلی۔اس کے بعد اس نے وضو کیا اور نماز پڑھی اور دعا کی ” اے رحمان ! جیسے آپ نے میرے گناہ مٹا دیے اب مجھے اپنے پاس بلا لیں” یہ کہہ کر سجدہ کیا ، ماں نے جب دیکھا کہ سجدہ طویل ہوگیا تو اسکو حرکت دی دیکھاکہ روح پرواز کرچکی ہے اور اسکا انتقال ہوچکا ہے۔

صرف تین چھوہاروں سے مردانہ طاقت

صرف تین چھوہاروں سے مردانہ طاقت تین مردوں کے برابر

مردانہ طاقت کو بڑھانا ہر تندرست اور نوجوان وبوڑھے کی خواہش ہوتی ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں، ہمارے ہاں اس کمزوری پر بات کرنا انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ بھی عام کمزوریوں کی طرح ایک جسمانی کمزوری ہے مگر سوال یہ پیدا ہرتا ہے کہ مردانہ طاقت کو بڑھایا کیسے جائے،۔پرانے وقتوں اور موجودہ دور میں بھی جس کے پاس کوئی ایسا نسخہ ہوتا ہے۔تو وہ اس کو صرف اپنے تک ہی محدود رکھتا ہے۔اور کسی کو بتانا گناہ سمجھتا ہے۔اور اس نسخے کو اپنے ساتھ قبر میں ہی لے جاتا ہے۔ایسے علم کا کیا فائدہ جو اللہ پاک کی مخلوق کا بھلا نہ کر سکے ذیل میں جو نسخہ بتایا جارہا ہے وہ ہے تو خوراکی نسخہ مگراس کا تعلق قدیم یونان سے ہے اور اس سے مردانہ طاقت کو چار گنا تک بڑھایا جاسکتا ہے۔اس نسخہ سے بدن کی طاقت اور پھرتی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔تھکاوٹ کا پتہ بھی نہیں چلتا ہر مزاج اور ہر عمر کے مرد اس کو استعمال کر سکتے ہیں۔ مگر مرد بالغ ہوں ۔نابالغ اس کو استعمال نہ کریں۔

نسخہ تیار کرنے کی ترکیب

نرچھوہارا، پنساری سے ملے گا 3عدد لے کر باریک کتر کر1پاو دودھ میں بھگو دیں۔تقریبا 12 گھنٹے لازمی بھگوئیں 12 گھنٹوں کے بعد اس کو گرائینڈر میں ڈال کر اچھی طرح یکجان کر لیں اور چولہے پرپکائیں اس میں دارجینی ثابت آدھا انچ ملا لیں جب دودھ اچھی طرح پک جائے تو چولہے سے اتار کرنارمل ٹھنڈا کر کے شہد ملا کر پی لیں۔ انشاللہ مردانہ طاقت 4گنا تک بڑھ جائے گی

چند احتیاطیں

شوگر اور بلڈپریشروالے مریض ایک دفعہ پی کر چیک کریں کہ بلڈپریشر یا شوگر تو نہیں بڑھی، اسکے علاوہ چھوہارے اس دودھ میں ملائیں جو ایک دفعہ ابل کرٹھنڈا ہوگیا ہو کوشش کریں کہ اس کو ٹھنڈے موسم میں استعمال کریں۔ مسلسل استعمال نہ کریں وقفہ دے کر استعمال کریں۔ اسکے علاوہ اس میں میوہ جات بھی شامل کر سکتے ہیں۔اگر بکری کا دودھ استعمال کریں گے تو ٹائمنگ میں بھی بہت اضافہ ہوگا۔ یاد رہے کہ چھوہارا صرف نرچھوہارا ہی لینا ہے۔اور کوئی نہیں۔

ان 4 قسم کے مردوں سے نکاح مت کریں

اس انفارمیشن کی وجہ سے میری تمام بہنیں اپنی زندگی بتاہ ہونے سے بچا سکتی ہیں ہر بہن اپنا رشتہ ہونے سے پہلے ان باتوں کا خیاک ضرور رکھیں اور اپنی زندگی کو ایک اچھے انسان کے ہاتھوں سیونپے دولت شوہرت کو دیکھ کر رشتہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اچھے اخلاق والے انسان سے کرنی چاہئے اس بات کا دھیاں خاص طور والدین کو رکھنا چاہئے یہ انفامیشن آپ کو اچھا رشتہ ڈھونڈنے میں مددگار ثابت ہوگی ان مردوں سے نکاح کرنے سے بچیں اور اپنی ازواجی زندگی کو تباہ ہونے سے بچائیں۔

۔1۔ پہلا وہ مرد جو کے غیرعورتوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہو اور شادی شدہ ہوتب بھی اپنی بیوی کے علاوہ دوسری عورتوں سے جنسی تعلقات رکھتا ہو۔ ۔2۔دوسرا وہ شخص جو کہ سود خور ہو مطلب کو ایسیا کاروبار جو کہ شریعت کی نظر میں سود کے دائرے میں آئے اس سے بھی شادی نہ کریں کیونکہ سود ایک لعنت ہے۔  ۔3۔ تیسرا وہ شخص جوکہ لواطق ہو مطلب ہم جنسیت کا شکار ہونے والا ہم جنسیت کہتے ہیں کہ مردکا مرد سے غیراخلاقی جنسی تعلق ہے ایک انتہائی بڑا گناہ ہے اس کا عذاب حضرت لوط علیہ السلام کی پوری قوم کو کھا گیا۔  ۔4۔ چوتھا وہ شخص جو شراب پیتا ہو اس شخص سے بھی شادی نہ کریں ایسے شخص کو اپنی اور اپنے گھر کی کوئی پرواہ نہی ہوتی

حضرت عمرؓ نے کیوں فرمایا کہ اپنی بیویوں سے تین دن بعد ہمبستری کیا کرو۔

سیدنا عمرؓ کے پاس کعب اسدی تشریف فرما تھے، ایک خاتون آئی اورآ کر کہنے لگی: امیر المومنین! میرا خاوند بہت نیک ہے، ساری رات تہجد پڑھتا رہتا ہے، اور سارا دن روزہ رکھتا ہے،- اور یہ کہہ کر خاموش ہو گئی، عمرؓ بڑے حیران کہ خاتون کیا کہنے آئی ہے؟ اس نے پھر یہی بات دہرائی کہ میرا خاوند بہت نیک ہے، ساری رات تہجد میں گزار دیتا ہے اور سارا دن روزہ رکھتا ہے،اس پر کعبؒ بولے: اے امیرالمومنین! اس نے اپنے خاوند کی بڑے اچھے انداز میں شکایت کی ہے، کیسے شکایت کی؟امیرالمومنین! جب وہ ساری رات تہجد پڑھتا رہے گا اور سارا دن روزہ رکھے گا تو پھر بیوی کو وقت کب دے گا؟ تو کہنے آئی ہے کہ میرا خاوند نیک تو ہے مگر مجھے وقت نہیں دیتا۔

چنانچہ عمرؓ نے اس کے خاوند کو بلایا تو اس نے کہا: ہاں میں مجاہدہ کرتا ہوں، یہ کرتا ہوں، وہ کرتا ہوں، حضرت عمرؓ نے حضرت کعبؓ سے کہا کہ آپ فیصلہ کریں، حضرت کعبؓ نے ان صاحب سے کہا کہ دیکھو! شرعاً تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزارو، ہنسی خوشی اس کے ساتھ رہو اور کم از کم ہر تین دن کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرو، خیر وہ میاں بیوی تو چلے گئے، تو عمرؓ نے ابی بن کعب سے پوچھا: آپ نے یہ شرط کیوں لگائی کہ ہر تین دن کے بعد بیوی سے ملاپ کرو؟ انہوں نے کہا: دیکھیں! اللہ رب العزت نے مرد کو زیادہ سے زیادہ چار شادیوں کی اجازت دی، چنانچہ اگر چار شادیاں بھی کسی کی ہوں تو تین دن کے بعد پھر بیوی کا نمبر آتا ہے، تو میں نے اس سے کہا کہ تم زیادہ سے زیادہ تین دن عبادت کر سکتے ہو تین دن کے بعد ایک دن رات تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہیں گزارنا پڑے گا، تو دیکھو شریعت انسان کو کیا خوبصورت باتیں بتاتی ہے

جنازہ اور طلاق

شریک سے روایت ہے کہ ہم ایک جنازہ کے ساتھ جا رہے تھے۔ ہمارے ساتھ سفیان ثوری، ابن شبرمہ، ابن ابی لیلیٰ، ابو حنیفہؒ، ابو الاحوص، مندل اور حبان بھی تھے۔ جنازہ ایک سید زادے کا تھا۔ جنازہ میں کوفہ کے بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔ سب ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک جنازہ رک گیا۔ لوگوں نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اس لڑکے کی ماں بیتاب ہوکر نکل پڑی۔جنازہ پر اپنا کپڑا ڈال دیا اور اپنا سر کھول دیا عورت شریف خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس میت کے باپ نے چلا کر کہا واپس جاؤ مگر اس نے واپس ہونے سے انکار کر دیا۔ باپ نے قسم کھا لی کہ’’ لوٹ جاؤ ورنہ تجھے طلاق۔ ‘‘جب کہ

ماں نے بھی قسم کھا لی کہ’’ اگر میں نماز جنازہ سے پہلے لوٹوں تو میرے سارے غلام آزاد۔الغرض لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مشغولِ کلام ہو گئے اب کیا ہو گا؟ کوئی جواب دینے والا نہیں تھا۔ میت کے باپ نے امام ابو حنیفہؒ کو آواز دی کہ میری مدد کرو۔ امام صاحبؒ آئے اور عورت سے معلوم کیا کہ قسم کس طرح کھائی؟ اس نے بتلادیا۔ باپ سے پوچھا تم نے کس طرح قسم کھائی؟ اس نے بھی بتلا دیا۔امام صاحبؒ نے فرمایا میت کا سریر رکھو۔ چنانچہ رکھ دیا گیا۔ امام صاحبؒ نے باپ کو حکم دیا کہ نماز جنازہ پڑھاؤ جو لوگ آگے نکل گئے تھے، واپس ہوئے باپ کے پیچھے صف لگی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ امام صاحبؒ نے فرمایا قبر کی طرف لے جاؤ اور اس کی ماں سے کہا اب تم گھر چلی جاؤ۔ قسم پوری ہو گئی اور باپ سے کہا تمہاری بھی قسم پوری ہو گئی تم بھی گھر جاؤ۔ اس پر ابن شبرمہؒ کہنے لگے عورتیں آپ جیسا پیدا کرنے سے عاجز ہیں۔ علمی نکات بیان کرنے میں آپ کو نہ کوئی مشقت ہوتی ہے اور نہ پریشانی۔

جنت سے نکالے جانے کے بعد حضرت آدمؑ اور اماں حواؑ کی ملاقات

جبل رحمت یا رحمت کا پہاڑ میدان عرفات میں واقع ہے ‘ یہ میدان مکہ مکرمہ شہر کے مشرق میں 15کلومیٹر کے فاصلے پر ہے- یہ وہ مقام ہے جہاں جنت سے نکالے جانے کے دوسو سال بعد حضرت آدم اور حوا علیہما السلام کی دوبارہ ملاقات بھی اسی جگہ ہوئی تھی اورانہوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا تھا- اسی نسبت سے اس جگہ کا نام عرفات (پہچاننا ) ہے- یہاں واقع جبل رحمت پر انہوں نے اللہ تعالی سے توبہ کی تھی اور ان کی توبہ یہاں قبول ہوئی تھی – اسی واقعہ کی یاد تازہ کرنے کے لئے میدان عرفات میں آ کر کچھ دیر ٹھہرنے اور توبہ اور استغفار کرنے کو حج کا لازمی رکن قرار دیا گیا ہے- مسجد نمرہ

میدان عرفات میں واقع ہے – اس کا کل رقبہ ایک لاکھ 24ہزار مربع میٹر ہے اور اس میں بیک وقت تین لاکھ افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے -یہ مسجد پورے سال کے د وران صرف ایک مرتبہ ہی کھولی جاتی ہے جہاں 9ذوالحجہ کو لاکھوں افراد ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی اور قصر ادا کرتے ہیں۔

زنا کیا ہے۔؟

اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحبت ، ہم بستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کی ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلکہ چھونا بھی زنا ایک حصہ ہے اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے.ذنا کو اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے، اور اسلام نے ایسا کرنے والو کی سزا دنیا میں ہی رکھی ہے. اور مرنے کے بعد اللہ اس کی سخت سزا دے گا۔زنا کے بارے میں کچھ حدیث اور قرآن کی آیت دےكھيےحضرت محمد (صلی الله عليه وسلم) نے فرمایا مومن (مسلم) ہوتے ہوئے تو کوئی زنا کر ہی نہیں سکتا(بخاری شریف) الله قرآن میں فرماتا ہے اور (دیکھو) زنا کے قریب بھی نہ جانا، کورس وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے(القرآن)ذنا کی سزا اور عذاب: اگر زنا کرنے والے شادی شدہ ہو تو کھلے میدان میں پتھر مارمار کر مار ڈالا جائے اور اگر کنوارے ہو تو 100 کوڑے مارے مارے جائے۔ (بخاری شریف)ج کل دیکھنے میں آیا ہے کی اس گناہ میں بهت سے لوگ شامل ہیں، خاص کر کے اس بازار میں جہاں عورتیں اور مرد جاتے ہیں۔

کس کا ہاتھ کس کو لگ رہا ہے کہا لگتا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا، چاہے لڑکا ہو یا لڑكيا اور پھر اس گناہ کو کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو بڑی شان سے سناتے ہیں، بلکہ ان کو بھی ایسا کرنے کی رائے دیتے ہیں۔اگر کوئی اکیلے لڑکے یا لڑکی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا گناہ اس کے ماں باپ کو بھی ملتا ہے کیونکہ انہوں نے ان کی جلدی شادی نہیں کی جس کی وجہ سے وہ غلط کام کرنے لگے،اور شادی کی عمر ہونے کے بعد بھی ماں باپ ان کی شادی نہ کرے تو اللہ ناراض ہوجاتا ہے اور ان کے گھر کی برکت ختم ہوجاتی اور اللہ ان ماں باپ سے قیامت کے دن حساب مانگے گا۔ اور ایک جگہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کی پاک دامن لڑکیاں، پاک دامن لڑكو کے لئے ہیں،اسكا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو اچھی ہیں تو اللہ آپ کو بھی اچھی بیوی یا دولہا ديگا اور خراب ہیں تو سمجھ لیجیے۔زنا ایک ایسا عمل ہے جس سے نسیان، ایڈز ، کینسر جیسی موذی بیماریاں پھیلتی ہیں۔زنا سے انسان کا دل مردہ ہوجاتا ہے جبکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب دل مردہ ہوگیا تو پھر اس کے دل سے اسلام کی روشنی ختم ہوجاتی ہے جس سے وہ ایمان سے خالی ہوجاتا ہےانسان جو بھی غلط کام کرتا ہے اس کی قیمت اس کے بچوں، ماں یا بہن کو اس دنیا میں ہی ادا کرنی پڑتی ہے،امام شافعی رحمتہ الله کہتے ہیں کے زنا ایک قرض ہے، اگر تو اس قرض لے گا تو تیرے گھر سے یعنی تیری بہن , بیٹی سے وصول کیا جائے گا۔دوستو اس کبیرہ گناہ کی اور بھی سزائیں ہیں، لہذا خود بھی بچو اور اپنے دوستوں کو بھی بچائیں۔اگر آپ نے اپنے جنسی قصہ آپ کے دوست‘ سہیلی کو سنایا اور اس کے دل میں بھی ایسا کرنے کی بات آ گئی اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس کا گناہ آپ کو بھی ملے گا، کیونکہ آپ نے ہی اس کو غلط راستہ دکھایا ہے۔ اور آپ کے دوست آگے بھی جتنے لوگو کو غلط راستہ دکھائیں گے ان سب کا گناہ اپكےكھاتے میں آئے گا۔ سب كے گھر میں اکثر، بہن، بیٹی، ماں ہیں، اگر آپ دوسرے کی طرف تاک جھانک کرو گے تو آپ کا گھر بھی محفوظ نہیں رہے گا،الله ہم سب کو اس بڑے گناہ سے بچائے۔

اج آپ اس میسیج اگر کسی 1 کو بھی اسٹاک کردیں تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کتنے لوگ “اللہ” سے توبہ کر لیں گے الحديث: -جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو سرا فاتح اور سورہ اخلاص کو پڑھ لیا کرو، تو موت کے علاوہ ہر چیز سے بے خوف ہو جاؤ گے ۔وه دن قریب ہے جب آسمان پہ صرف ایک ستاراهوگا. توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا.قران کے حروف مٹ جائیں گے۔سورج زمین کے بالکل پاس آ جائے گا۔حضور صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا “بے نور ہو جائے اس کا چہرہ جو کوئی میری حدیث کو سن کر آگے نہ پہنچائے

سورۃ الرحمٰن پڑھنے کے فائدے

سورۃ الرحمن کی ہر آیت سننے کے ساتھ اس کے جسم کے اندر ایک حرارت پیدا ہوتی ہے اور جب سورۂ رحمن کی تلاوت سننے کے بعد وہ آدھا گلاس پانی پیتا ہے تو وہ اس طرح محسوس کرتا ہے کہ جس طرح انگاروں کے اوپر پانی ڈالا جاتا ہے۔میڈیکل سائنس ہیپاٹائٹس کے امراض سے متعلق مایوسی کا شکار ہوچکی ہے۔ دنیا میں اس وقت ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا مریضوںکی رجسٹرڈ تعداد چالیس کروڑ ہے ۔ جبکہ پاکستان میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ایسے میں میڈیکل سائنس کی بے بسی انسانی ذہن اور معاشرے کی تباہی کا پیغام دے رہی ہے مگر سورۂ رحمن کے سننے سےیہ مرض چند ہی ایام میںوجود سے ایسے غائب ہوجاتاہے جیسے کبھی اس کا نام و نشان ہی نہ تھا۔

سورۂ رحمن کے ذریعے لوگوں کی ذہنی‘ جسمانی اور روحانی بیماریوںکا یقینی علاج ہوتا ہے۔سورہ رحمن کی قرآن تھراپی کے ذریعے لاعلاج مریضوں کا کامیاب علاج ہوچکا ہے بلکہ بہت سے لوگوں نے بتایا کہ سورۂ رحمن سننے سے ان کی بہت سی پیچیدہ بیماریاں ختم ہوگئیں ہیں۔ سورۂ رحمن قاری عبدالباسط کی آواز میں بغیر ترجمہ پچاس منٹ کے دورانیے پر مشتمل ہے۔ جب کوئی مکمل طور پر اپنی توجہ سورۂ رحمٰن کی طرف کرکے تلاوت سنتا ہے اور اپنی آنکھیں بند کرتا ہے تو سورۂ رحمٰن کی ہر آیت سننے کے ساتھ اس کے جسم کے اندر ایک حرارت پیدا ہوتی ہے اور جب سورۂ رحمٰن کی تلاوت سننے کے بعد وہ آدھا گلاس پانی پیتا ہے تو وہ اس طرح محسوس کرتا ہے کہ جس طرح انگاروں کے اوپر پانی ڈالا جاتا ہے۔ سورۂ رحمٰن کے ان مشاہدوں کا جب ناروے میں پتہ چلا تو ناروے اوسلو سے پرائم ٹی وی سے یہ پروگرام پوری دنیا میں دکھایا گیا اور سورۂ رحمٰن کے پروگرام کی افادیت نے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے انہوںنے کہا کہ جو لوگ دکھی‘ الجھن یا ذہنی کرب میں مبتلا ہوں وہ سورۂ رحمٰن کی تلاوت دن میں تین مرتبہ متواتر سات دن تک سنیں۔ تمام بیماریوں کا علاج قرآن کی آیات میں موجود ہے اگر ہم ان آیات کو غور سے سنیں۔ اس کے ذریعے کینسر‘ فالج‘ شوگر‘ ہارٹ اٹیک اور

دوسرے بے شمار امراض کا علاج کیا جاچکا ہے گزشتہ سات آٹھ سال سے پاکستان کے مختلف شہروں پشاور‘لاہور‘ ملتان‘ کوئٹہ‘ اسلام آباد میں ہزاروں مریضوں کا علاج ہوچکا ہے۔ دنیا کی ہربیماری کاعلاج سورۂ رحمن کی تلاوت سننے سے ممکن ہے اس لیے لوگوںکو چاہیے کہ قاری عبدالباسط کی آواز میں سورۂ رحمٰن کی بغیر ترجمہ کی کیسٹ لے کر سات دن تک سنیں‘ ان کی بیماری ختم ہوجائے گی۔

کافر کے تین سوال اور

ايک کافر نے ايک بزرگ سے کہا اگر تم ميرے تين سوالوں کا جواب دے دوں تو ميں مسلمان ہوجاؤں گا۔ جب ہر کام اللہ کي مرضي سے ہوتا ہے تو تم لوگ انسان کو ذمہ دار کيوں ٹہراتے ہوں؟ جب شيطان آگ کا بنا ہوا ہو تو اس پر آگ کيسے اثر کرے گي؟ جب تمہيں اللہ تعالي نظر نہيں آتا تو اسے کيوں مانتےہو؟ بزرگ نے اس کے جواب ميں پاس پڑا ہو مٹی کا ڈھيلا اٹھا کر اس کو مارا، اس کو بہت غصہ آيا اور اس نے قاضي کي عدالت ميں بزرگ کے خلاف مقدمہ دائر کرديا۔ قاضي نے بزرگ کو بلايا اور ان سے پوچھا کہ تم نے کافر کے سوالوں کے جواب ميں اسے مٹي کا ڈھيلا کيوں مارا؟ بزرگ نے کہا يہ

اس کے تينوں سوالوں کا جواب ہے۔ قاضي نے کہا وہ کيسے بزرگ نے کہا اسکے پہلے سوال کا جواب يہ ہے کہ ميں نے يہ ڈھيلا اللہ کي مرضي سے اسے مارا ہے تو پھر اس کا ذمہ دار مجھے کيوں ٹہراتا ہے؟ اس کے دوسرے سوال کا جواب يہ کہ انسان تو مٹی کا بنا ہے پھر اس پر مٹي کے ڈھيلے نے کس طرح اثر کيا؟ اس کے تيسرے سوال کا جواب يہ ہےکہ اسے درد نظر نہیں آتا تو اسے محسوس کيوں ہوتا ہے۔ اپنے سوالوں کے جواب سن کر کافر فورا مسلمان ہوگيا۔ دوستوں۔۔۔۔۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی زندگی وقف کرديتے ہيں اللہ رب العزت ان کی تربيت کرتے ہيں اور کس موقع پر کيا بات کرنی ہے اللہ تعالي انہیں سمجھا ديتا ہے۔

عصر کی نماز کے بعد صرف یہ الفاظ پڑھیں

 عصر کی نماز کے بعد صرف یہ الفاظ پڑھیں پھر اللہ سے جو بھی ما نگوگے مل کر رہے گادُعا سے پہلے کے وظائف درج ذیل وظائف نماز فرض کے بعد دعا سے پہلے پڑھنے کے لئے ہیں: 1. لَا اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِيْ وَ يُمِيْتُ وَ هُوَ حَیٌّ لَّا يَمُوْتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌo برکات: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وظیفہ کے کرنے والے کے گناہ اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں بخش دیئے جاتے ہیں۔ کونسا وظیفہ پڑھنے سے ہر مشکل حل ہوجائے گی؟ (مسلم، الصحيح، کتاب المساجد و مواضع الصلاة، باب استحباب الذکر بعد الصلاة، 1: 418، رقم: 597) 2. اس کے بعد سورۃ توبہ کی آیات 128.129 کی تلاوت کریں: بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْکُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَؤُفٌ رَّحِيْمٌo فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اﷲُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ط عَلَيْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِo 3. بعد ازاں یہ تسبیح کریں: سُبْحَانَ اﷲِ: 33 بار؛ اَلْحَمْدُِﷲِ: 33 بار؛ اَﷲُ اَکْبَرُ: 34 بار 4. درج ذیل تسبیح تین بار پڑھیں: سُبْحَانَ اﷲِ بِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اﷲِ الْعَظِيْمِ. پھر دعا کریں۔

5. دعا کے اِختتام پر یہآیات پڑھیں: سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَo وَ الْحَمْدُِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَo (الصّٰفت، 37: 180.182) دُعا کے بعد کے وظائف دعا کے بعد درج ذیل وظائف حسبِ فرصت و سہولت جاری رکھیں:. سورۃ الفاتحہ ایک بار 7. آیت الکرسی ایک بار 8. لَا اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ کم از کم سو (100) مرتبہ پڑھیں۔ ایک سو چھیاسٹھ (122) مرتبہ پڑھنا افضل ہے اور آخر میں مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ پڑھیں۔ اس وظیفہ سے صفائے قلب، قبولیت اور قربِ الٰہی نصیب ہو گا۔ 9. استغفار تین بار اَسْتَغْفِرُ اﷲَ الْعَظِيْمَ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُ الْقَيُوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَيْهِo حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود یہ استغفار روزانہ سو (100) مرتبہ فرماتے تھے۔ یہ وظیفہ گناہوں کی بخشش، بلندی درجات، رزق میں وسعت، عطائے الٰہی میں اضافہ حصولِ برکات اور تنگی و مشکلات کے حل کا باعث ہے۔ 10. حَسْبُنَا اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِيْل طریقہ: تعوذ (اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ) اور تسمیہ (بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) پڑھنے کے بعد سورہ آلِ عمران کی درج ذیل دو آیات (173.174) کی تلاوت کریں: اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيْمَانًا وَّ قَالُوْاحَسْبُنَا اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِيْلُo یہاں پہنچ کر ان کلمات کو سو (100) مرتبہ پڑھیں۔ یہ تسبیح پوری کرنے کے بعد آگے یہ آیت ایک بار پڑھیں اور وظیفہ مکمل کر لیں: فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اﷲِ وَ فَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوْءٌ وَّاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اﷲِط وَاﷲُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِيْمٍO برکات: اس وظیفہ کو مستقل جاری رکھنے سے حفظ نعمت، اﷲ کے فضل و احسان میں اضافہ، دشمن سے امان، خوف و خطر سے نجات، ہدایت الٰہی، مدد و نصرت، اﷲ تعاليٰ کی رحمت اور خصوصاً رضائے الٰہی نصیب ہوتی ہے۔ یہ اکثر اولیاء و صالحین کا وظیفہ ہے۔ خاص مشکل کے اوقات میں بھی اسے کثرت کے ساتھ پڑھا جائے۔ انشاء اﷲ پریشانی دور ہوگی اور نصرت الٰہی نصیب ہوگی۔

یہ وظیفہ حضرت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کو ان کے والد گرامی حضرت علامہ ڈاکٹر فرید الدین قادری نے عطا فرمایا اور انہیں دمشق کی جامع مسجد اُموی میں مقامِ زکریا علیہ السلام پر غیب سے ظاہر ہونے والے ایک ابدال نے عطا کیا تھا۔ سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سمیت بہت سے مشائخ و اولیاء سے بھی یہ منقول ہے۔ 11. درج ذیل درود شریف سو (100) مرتبہ پڑھیں: اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِهِ وَ صَحْبِهِ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ دیگر کلمات اور صیغوں پر مبنی درود شریف بھی پڑھ سکتے ہیں۔ 12. تلاوت قرآن مجید: ان وظائف کےبعد وقت کی وسعت کے مطابق تلاوتِ قرآن مجید کریں۔ 13. دلائل الخیرات: کا یومیہ ورد کر سکتا ہے۔ 14. قصیدہ بُردہ: حسب توفیق پڑھ سکتا ہے۔ 15. قصیدہ غوثیہ: پڑھ سکتا ہے۔ اگر صبح وقت میسر نہ ہو تو دلائل الخیرات، قصیدہ بُردہ اور قصیدہ غوثیہ کے لئے بعد نمازِ مغرب یا بعد نمازِ عشاء بھی اچھا وقت ہے۔ سہولت کے مطابق آپ وقت کا تعین کر سکتے ہیں۔ نمازِ ظہر و عصر کے وظائف ظہر اور عصر کی نمازوں میں مندرجہ ذیل وظائف اور اذکار میں سے جس قدر چاہیں مقرر کر لیں: دُعا سے پہلے کے وظائف درج ذیل وظائف نماز فرض کے بعد دعا سے پہلے پڑھنے کے لئے ہیں: 1. لَا اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِيْ وَ يُمِيْتُ وَ هُوَ حَیٌّ لَّا يَمُوْتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرُo 2. اس کے بعد سورۃ توبہ کی آیات 128.129 کی تلاوت کریں۔ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِoعصر کی نماز کے بعد صرف یہ الفاظ پڑھیں پھر اللہ سے جو بھی ما نگوگے مل کر رہے