بیٹا اپنی حثیت سے کہیں بڑی خواہش کربیٹھا

ایکد فعہ کا ذکر ھے ایک عورت کسی بادشاہ کے محل میں کام کرتی تھی ایک دفع ایسا ھوا کہ وہ بیمار ھو گیئ اور محل میں نا جا ساکی اس کا ایک جوان بیٹا تھا۔اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ مین بیمار ھوں تو کچھ دنوں کے لئے تو جا اور محل میں صفائ کر کھیں بادشا ھم سے ناراض نا ھو جاے ماں کی بات مان کر بیٹا محل میں چلا گیا اتفاق سے وہ لڑکا وہہاں صفائ کرھا تھا ک اچانک بادشاھ کی بیٹی ادھر سے گزری اس جوان کی نظر جب حسین و جمیل شھزادی پہ پڑی تو اس کا دل بے اختیار تڑپ گیا اور شہزادی ک عشق میں مبتلا ھو گیا شام کو گھر واپس ایا مگر دل کو قرار نا ملا رات جاگ کر صبح ک انتظار میں گزاری دوسرے دن جب محل میں گیا تو جسجتجو مین تھاکہ کسی طرح محبوب کی زیارت ھو جاے مگر وہ اسے کہیں نظر نا آئ اسی طرح چار دن گزر گئے۔ ادھر اس کی ماں کی صحت تھیک ھو گئ۔تو اس

نے کہا کہ بیٹا میں اب تھیک ھوں اج کہ باد تم بادشاہ ک محل میں نا جانا عشق کی جو چوٹ اسے لگی تھی۔  اسے ایک پل قرار نا انے دیتی رفتہ رفتہ اس نے کھانا پیینا بھی چھوڑ دیا اور اتنا بیمار ھوا ک چارپائ پہ آ گیا ماں نے اسے پوچھا کہ تجھے کیا گیا ھے جس نے تری حالت یہ کر دی۔اس جوان نے ہمت کر کہ ماں کو سب قصہ سنا دیا۔ماں بیٹے کی بات سن کہ پریشان ھو گئ اور اسے سمجھا نے لگی ک بیٹا تو اپنی حثیت سے کہیں بڑی خواھش کر بیٹھا ھے اسے بھول جا کہاں بادشاہ کی بیٹی اور کہاں ھم غریب لوگ اس نے کہا ماں میں سب جانتا ہون مگر میرے بس نئ ک اسے بھلا سکوں۔ اس کا عشق سچا تھا اس لئیے ادھر شہزادی کے دل میں بھی کچھ جستجو پیدا ھوئ دوسرے دن شہزادی نے لڑکے کی ماں سے پوچھ لیا ک جب تم بیمار تھی تو اک جوان جو محل کی صفائ کے لئے آتا تھا وہ کوون تھا ماں نے اسے بتایا ک وہ میرا بیٹا تھا اور اب وہ بہت بیمار ھے اور بستر مرگ پی ھے شہزادی نے پوچھ لیا کہ کیوں تو ماں نے کہا کہ اگر جان کی امان ھو تو سچ بتاوں۔شہزادی نے کہا بتا کیا ھوا اسے یہ قصہ سنا۔ماں شہزادی کو سب سچ بتایا وہ اک نظر تجھے دیکھ ک تیرا عاشق ھوا اس کی خواھش تھی ک دوبارا تجھے دےکھے مگر دیکھ نئ سکا اور اب موت کے قریب ھے شہزادی ساری بات نی اور کیا کہ۔میں چاھوں بھی تو اسے مل نئ سکتی ھاں اتنا کر سکتی ھوں کہ اسے جا کے کہہ اپنا بھیس بدل اور شھر کے دروازے پے جا ک بیٹھ جا کسی سے بات نہ کر کوئ کھانے کو دے تو کھا لے ورنہ بھوکا

پیاسا بیٹھا رہ کسی سے کچھ طلب نہ کر لوگ سمجھیں گے کہ کوئ فقیر ھے اللہ ولا ھے کچھ دنوں میں جب اس کا چرچا ھو جاے گا لوگ اس کی زیارت کو جائیں گے تو میں بھی اپنے باپ سے کھون گی ک شھر ک باھر کوئ فقیر ایا ھے مجھے اس کی زیارت کہ لئیے جانے دیں اس طرح وہ مجھے اک بار دیکھ لے گا اور شائد قرار مل جاے اور تیرا بیٹا ٹھیک ھو جاے۔میں بس یہ کر سکتی ھوں اور کچھ میرے بھی بس میں نہی اس کی ماں نے ایسا ھی کیا۔ اس کے بیٹے نے فقیروں کا بھیس بدلا اور شھر ک باھر جا کہ بیٹھ گیا چند دنوں میں شھر میں چرچا ھو گیا کہ کوئ اللہ کا بندہ شھر سے باھر ایا بیٹھا ھہ لوگ اس کی زیارت کو آنے لگے جب محل تک خبر پہچی تو شہزادی نے بھی باپ سے ارض کر دی کہ کوئ اللہ والآ ھے مجھے اس کی زیارت کو جانے کی اجازت دیں۔بادشاہ نے یہ سن کر خوشی سے اجازت دے دی کہ کل صبح چلی جانا ادھر شھزادی کو اجازت ملی اور ادھر اس عاشق ک دل میں یہ خیال گزرا ک میں نے تو جھوٹا بھیس بنایا ھے اللہ والوں کا اور اتنی عزت اور اتنی نعمتیں مل رھی ھیں ک لوگ ادب میں میرے سامنے کھڑے ھیں تو جو لوگ سچ میں اللہ کہ فقیر ھو جاتے ھیں ان کو کیا مقام ملتا ھو گا۔بس اس نے یہ سوچا اور اس رات دل سے اللہ کی عبادت کی اللہ پاک نے اس کی انکھوں کو اپنی معرفت ک نور سے سیراب کر دیا صبح تک اس کی دنیا بدل چکی تھی شھزادی جب صبح اس کی زیارت کو پہچی اس کہ سامنے آ ک بیٹھ گئ تو اس نے نگاہ اٹھا کہ بھی نا دیکھا وہ بہت حیران ھو گیئ اور اس سے پوچھا ک تو دیکھتا کیون نہیں اس جوان نے کہا کہ تجھے کیا دیکھوں تیرا حسن نجاستوں سے بھرا ھے۔ میرے سامنے جنت کی وہ حوریں بیٹھی ھیں اس دنیا میں جن کی کوئ مثال نہی جو

نجاستوں اور کثافتون سے پاک ھیں ان کا حسن دنیا کو روشن کر رھا ھے،خب شھزادی نے یہ باتیں سنی تو اگے بڑھ کر اس کے منہہ پے تماچا دے مارا میری وجہ سے تو تو یہاں تک پوہچا جو تجہے نظر آ رھا ھے اب مجھے بھی دکھا جوان نے کھا اگر تجھے بھی ایسی زندگی چاھیئے تو دنیا چھوڑ ک اور میرے ساتھ بیٹھ جا اس شھزادی نے بھی دنیا ترک کی وہ عارف بن گیا وہ عارفہ بن گئ عشق حقیقی کی حقدار بس ذات خدا ھے-

سردیوں میں لگاتار (7) دنوں تک دودھ کے ساتھ انجیر کا استعمال کرنے کے فائدے

اسلام آباد انجیروہ پھل ہےجسے جنت کا پھل کہا جاتا ہے . قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انجیر کی قسم یا د فرمائی ہے کہ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طورسینا کی ( سورہ التین) . یہ کمزور اور دبلے لوگوں کے لئے بیش بہا نعمت ہے .ا نجیر جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے . چہرے کو سرخ و سفید رنگت عطاکرتا ہے . انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں ہوتا ہے .ماہرین کے مطابق پھگوڑی انجیر کو بنگالی میں آنجیر ، عربی میں تین اور انگلش میں فِگ، یمنی میں بلس ، سنسکرت ، ہندی ، مرہٹی اور گجراتی میں انجیر اور پنجابی میں ہنجیر کہتے ہیں . اس کا نباتاتی نام فیک کیریکا ہے . عام پھلوں میں یہ سب سے نازک پھل ہےاور پکنے کے بعد خود بخودہی گرجاتا ہے اور دوسرے دن تک محفوظ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا . فریج میں رکھنے سے یہ شام تک پھٹ جاتا ہے .اس کے استعمال کی بہترین صورت اسے خشک کرنا ہے . اسے خشک کرنے کے دوران جراثیم سے پاک کرنے کے لئے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور آخر میں نمک کے پانی میں ڈبوتے ہیں تاکہ سوکھنے کے بعد نرم و ملائم انجیر کھانے میں خوش ذائقہ ہو ۔

اس لئے ہر عمر کے لوگوں میں اسے پسند کیا جاتا ہے عرب ممالک میں خاص طور پر اسے پسند کیا جاتا ہے . انجیر پاکستان میں بھی بکثرت دستیاب ہے اور اسے ڈوری میں ہار کی شکل میں پروکرمارکیٹ میں لاتے ہیں . یہ بنیادی طور پر مشرقی وسطی اور ایشیائے کو چک کاپھل ہے . اگرچہ یہ برصغیر پاک و ہند میں بھی پایا جاتا ہے . مگر اس علاقے میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس کا سراغ نہیں ملتا . اس لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عرب سے آنے والے مسلمان اطباء یا ایشیائے کو چک سے منگول اور مغل اسے یہاں لائے . انجیر کے اندر پروٹین ، معدنی اجزاء شکر ، کیلشیم ، فاسفورس پائے جاتے ہیں .دونوں انجیر یعنی خشک اور تر میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میں ہوتے ہیں . وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں . ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے عام کمزوری اور بخار میں اس کا استعمال اچھے نتائج کا حامل ہوگا . انجیر کو بطور میوہ بھی استعمال کیا جاتا ہےاور بطور دوا بھی استعمال کیا جاتاہے . یہ قابل ہضم ہے اور فضلات کو خارج کرتا ہے . مواد کو باہر نکال کر شدت حرارت میں کمی کرتا ہے . جگر اور تلی کے سدوں کو کھولتاہے . انجیر کی بہترین قسم سفید ہے . یہ گردہ اور مثانہ سے پتھری کو تحلیل کرکے نکال دیتا ہے . زہر کے مضر اثرات سے بچاتا ہے . انجیر کو مغر بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملا کر استعمال کریں تو یہ خطرناک زہروں سے محفوظ رکھتا ہےاگر بخار کی حالت میں مریض کا منہ بار بار خشک ہوجاتاہوتو اس کا گود ہ منہ میں رکھنے سے یہ تکلیف رفع ہو جاتی ہے .اس کو نہار منہ کھانا بہت فوائد کا حامل ہے .اس کے علاوہ اس کے بے شمار فوائد ہیں . * انجیر کو دودھ میں پکا کر پھوڑوں پر باندھنے سے پھوڑے جلدی پھٹ جاتے ہیں . انجیر کو پانی میں بھگو کر رکھیں . چند گھنٹے بعد پھول جانے پر دن میں دوبار کھائیں ، دائمی قبض دور ہو جاتی ہے .* خشک انجیر کو رات بھر پا نی میں رکھ دیا جائے تو وہ تازہ انجیر کی طرح پھول جائے گا۔

اسے کھانے سے گلہ بیٹھ جانا یا بند ہوجانے کے امراض پیدا نہیں ہوتے . سردی کے ایام میں بچوں کو خشک انجیردی جائے تو ان کی نشوونما کے لئے بے حد مفید ہے . * انجیر زودہضم ہے اور دانتوں کے لئے بہترین ہے . * کم وزن والوں اور دماغی کام کرنے والوں کے لئے انجیر بہترین تحفہ ہے .* انجیر کھانے سے آدمی مرض قولنج سے محفوظ رہتا ہے .   کھانے کے بعد چند دانے انجیر کھانے سے غذائیت حاصل ہونے کے علاوہ قبض کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے .   کھانسی ، دمہ اور بلغم کے لئے بھی مفید ہے . * انجیر کھانے سے منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے . انجیر کا باقاعدہ استعمال سر کے بالوں کو دراز کرتا ہے .   انجیر کو سرکہ میں ڈال کر رکھ دیں. ایک ہفتہ بعد دو تین انجیرکھانے کے بعد کھانے سے تلی کے ورم کو آرام آجاتا ہے * انجیر کو دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے رنگت نکھر آتی ہے اور جسم فربہ ہوجاتا ہے .* تازہ انجیر توڑنے سے جو دودھ نکلتا ہے اس کے دو چار قطرے برص پر ملنے سے داغ ختم ہو جاتے ہیں . * انجیر پیاز کی شدت کو کم کرتا ہے . * جن لوگوں کو پسینہ نہ آتا ہو ، ان کے لئے انجیر کا استعمال مفید ہے . * انجیر خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتا ہے اور زہریلے مادے ختم کرکے خون کو صاف کرتا ہے . * جن لوگوں کی ضعف دماغ ( دماغ کی کمزوری) کی شکایت ہو ، وہ اس طرح ناشتہ کریں کہ پہلے تین چار انجیر کھائیں ، پھر سات دانے بادام ، ایک اخروٹ کا مغز ،ایک چھوٹی الائچی کے دانے پیس کر پانی میں چینی ملا کر پی لیں۔

 کمر میں درد ہوتو انجیر کے تین چار دانے روزانہ کھانے سے درد سے نجات مل جاتی ہے . * بواسیر کی شکایت ہوتو انجیر کا استعمال نہایت مفید ہے . اس کے استعمال سے پرانی سے پرانی بواسیر کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے . * میتھی کے بیج اور انجیر کو پانی میں پکا کر شہد میں ملاکر کھانے سے کھانسی کی شدت کم ہوجاتی ہے . * انجیر تازہ اور نرم لینی چاہیے . کالی اور سوکھی انجیر میں بعض اوقات سفید کیڑے نظر آتے ہیں . ایسی انجیر بہت نقصان دہ وہوتی ہے،یقیناً یہ معلومات آپ کیلئے فائدہ مند ثابت ہونگی۔ اسلام آباد انجیروہ پھل ہےجسے جنت کا پھل کہا جاتا ہے . قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انجیر کی قسم یا د فرمائی ہے کہ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طورسینا کی ( سورہ التین) . یہ کمزور اور دبلے لوگوں کے لئے بیش بہا نعمت ہے .ا نجیر جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے . چہرے کو سرخ و سفید رنگت عطاکرتا ہے . انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں ہوتا ہے .ماہرین کے مطابق پھگوڑی انجیر کو بنگالی میں آنجیر ، عربی میں تین اور انگلش میں فِگ ، یمنی میں بلس ، سنسکرت ، ہندی ، مرہٹی اور گجراتی میں انجیر اور پنجابی میں ہنجیر کہتے ہیں . اس کا نباتاتی نام فیک کیریکا ہے . عام پھلوں میں یہ سب سے نازک پھل ہےاور پکنے کے بعد خود بخودہی گرجاتا ہے اور دوسرے دن تک محفوظ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا . فریج میں رکھنے سے یہ شام تک پھٹ جاتا ہے .اس کے استعمال کی بہترین صورت اسے خشک کرنا ہے . اسے خشک کرنے کے دوران جراثیم سے پاک کرنے کے لئے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور آخر میں نمک کے پانی میں ڈبوتے ہیں تاکہ سوکھنے کے بعد نرم و ملائم انجیر کھانے میں خوش ذائقہ ہو . اس لئے ہر عمر کے لوگوں میں اسے پسند کیا جاتا ہے ۔

عرب ممالک میں خاص طور پر اسے پسند کیا جاتا ہے . انجیر پاکستان میں بھی بکثرت دستیاب ہے اور اسے ڈوری میں ہار کی شکل میں پروکرمارکیٹ میں لاتے ہیں . یہ بنیادی طور پر مشرقی وسطی اور ایشیائے کو چک کاپھل ہے . اگرچہ یہ برصغیر پاک و ہند میں بھی پایا جاتا ہے . مگر اس علاقے میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس کا سراغ نہیں ملتا . اس لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عرب سے آنے والے مسلمان اطباء یا ایشیائے کو چک سے منگول اور مغل اسے یہاں لائے . انجیر کے اندر پروٹین ، معدنی اجزاء شکر ، کیلشیم ، فاسفورس پائے جاتے ہیں .دونوں انجیر یعنی خشک اور تر میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میں ہوتے ہیں . وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں . ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے عام کمزوری اور بخار میں اس کا استعمال اچھے نتائج کا حامل ہوگا . انجیر کو بطور میوہ بھی استعمال کیا جاتا ہےاور بطور دوا بھی استعمال کیا جاتاہے . یہ قابل ہضم ہے اور فضلات کو خارج کرتا ہے . مواد کو باہر نکال کر شدت حرارت میں کمی کرتا ہے . جگر اور تلی کے سدوں کو کھولتاہے . انجیر کی بہترین قسم سفید ہے . یہ گردہ اور مثانہ سے پتھری کو تحلیل کرکے نکال دیتا ہے . زہر کے مضر اثرات سے بچاتا ہے . انجیر کو مغر بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملا کر استعمال کریں تو یہ خطرناک زہروں سے محفوظ رکھتا ہےاگر بخار کی حالت میں مریض کا منہ بار بار خشک ہوجاتاہوتو اس کا گود ہ منہ میں رکھنے سے یہ تکلیف رفع ہو جاتی ہے .اس کو نہار منہ کھانا بہت فوائد کا حامل ہے .اس کے علاوہ اس کے بے شمار فوائد ہیں . انجیر کو دودھ میں پکا کر پھوڑوں پر باندھنے سے پھوڑے جلدی پھٹ جاتے ہیں . * انجیر کو پانی میں بھگو کر رکھیں . چند گھنٹے بعد پھول جانے پر دن میں دوبار کھائیں ، دائمی قبض دور ہو جاتی ہے .* خشک انجیر کو رات بھر پا نی میں رکھ دیا جائے تو وہ تازہ انجیر کی طرح پھول جائے گا۔

اسے کھانے سے گلہ بیٹھ جانا یا بند ہوجانے کے امراض پیدا نہیں ہوتے . * سردی کے ایام میں بچوں کو خشک انجیردی جائے تو ان کی نشوونما کے لئے بے حد مفید ہے . * انجیر زودہضم ہے اور دانتوں کے لئے بہترین ہے . * کم وزن والوں اور دماغی کام کرنے والوں کے لئے انجیر بہترین تحفہ ہے .* انجیر کھانے سے آدمی مرض قولنج سے محفوظ رہتا ہے . * کھانے کے بعد چند دانے انجیر کھانے سے غذائیت حاصل ہونے کے علاوہ قبض کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے . * کھانسی ، دمہ اور بلغم کے لئے بھی مفید ہے . * انجیر کھانے سے منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے . * انجیر کا باقاعدہ استعمال سر کے بالوں کو دراز کرتا ہے . * انجیر کو سرکہ میں ڈال کر رکھ دیں. ایک ہفتہ بعد دو تین انجیرکھانے کے بعد کھانے سے تلی کے ورم کو آرام آجاتا ہے انجیر کو دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے رنگت نکھر آتی ہے اور جسم فربہ ہوجاتا ہے .* تازہ انجیر توڑنے سے جو دودھ نکلتا ہے اس کے دو چار قطرے برص پر ملنے سے داغ ختم ہو جاتے ہیں . * انجیر پیاز کی شدت کو کم کرتا ہے . * جن لوگوں کو پسینہ نہ آتا ہو ، ان کے لئے انجیر کا استعمال مفید ہے . * انجیر خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتا ہے اور زہریلے مادے ختم کرکے خون کو صاف کرتا ہے . * جن لوگوں کی ضعف دماغ ( دماغ کی کمزوری) کی شکایت ہو ، وہ اس طرح ناشتہ کریں کہ پہلے تین چار انجیر کھائیں ، پھر سات دانے بادام ، ایک اخروٹ کا مغز ،ایک چھوٹی الائچی کے دانے پیس کر پانی میں چینی ملا کر پی لیں۔

کمر میں درد ہوتو انجیر کے تین چار دانے روزانہ کھانے سے درد سے نجات مل جاتی ہے . * بواسیر کی شکایت ہوتو انجیر کا استعمال نہایت مفید ہے . اس کے استعمال سے پرانی سے پرانی بواسیر کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے . * میتھی کے بیج اور انجیر کو پانی میں پکا کر شہد میں ملاکر کھانے سے کھانسی کی شدت کم ہوجاتی ہے . * انجیر تازہ اور نرم لینی چاہیے . کالی اور سوکھی انجیر میں بعض اوقات سفید کیڑے نظر آتے ہیں . ایسی انجیر بہت نقصان دہ وہوتی ہے،یقیناً یہ معلومات آپ کیلئے فائدہ مند ثابت ہونگی۔

ایک شخص کا بیٹا تھا جو روز رات کو دیر سے آتا تھا

ایک شخص کا ایک بیٹا تھا، روز رات کو دیر سے آتا اور جب بھی اس سے باپ پوچھتا کہ بیٹا کہاں تھے؟ تو جھٹ سے کہتا کہ دوست کے ساتھ تھا۔ ایک دن بیٹا جب بہت زیادہ دیر سے آیا تو باپ نے کہا کہ بیٹا آج ہم آپ کے دوست سے ملنا چاہتے ہیں۔ بیٹے نے فوراً کہا اباجی اس وقت؟ ابھی رات کے دوبجے ہیں کل چلتے ہیں۔نہیں ابھی چلتے ہیں. آپ کے دوست کا تو پتہ چلے. باپ نے ابھی پہ زور دیتے ہوئے کہا. جب اس کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو کافی دیر تک کوئی جواب نہ آیا. بالآخر بالکونی سے سر نکال کہ ایک بزرگ نے جو اس کے دوست کا باپ تھا آنے کی وجہ دریافت کی تو لڑکے نے

کہا کہ اپنے دوست سے ملنے آیا ہے. اس وقت، مگروہ تو سو رہا ہے بزرگ نے جواب دیا. چاچا آپ اس کو جگاؤ مجھے اس سے ضروری کام ہے، مگر بہت دیر گزرنے کے بعد بھی یہی جواب آیا کہ صبح کو آجانا۔ ابھی سونے دو، اب تو عزت کا معاملہ تھا تو اس نے ایمرجنسی اور اہم کام کا حوالہ دیا مگر آنا تودرکنار دیکھنا اور جھانکنا بھی گوارا نہ کیا. باپ نے بیٹے سے کہا کہ چلو اب میرے ایک دوست کے پاس چلتے ہیں جس کا نام خیر دین ہے. دور سفر کرتے اذانوں سے ذرا پہلے وہ اس گاؤں پہنچے اور خیردین کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، مگر جواب ندارد، بالآخر اس نے زور سے اپنا نام بتایا کہ میں اللہ ڈنو، مگر پھر بھی دروازہ ساکت اور کوئی حرکت نہیں. اب تو بیٹے کے چہرے پہ بھی فاتحانہ مسکراہٹ آگئی. لیکن اسی لمحے لاٹھی کی ٹھک ٹھک سنائی دی، اور دروازے کی زنجیر اور کنڈی کھولنے کی آواز آئی، ایک بوڑھا شخص برآمد ہوا جس نے لپٹ کر اپنے دوست کو گلے لگایا اور بولا کہ میرے دوست، بہت معذرت، مجھے دیر اس لیے ہوئی کہ جب تم نے 27 سال بعد میرا دروازہ رات گئے کھٹکھٹایا تو مجھے لگا کہ کسی مصیبت میں ہو، اس لیے جمع پیسے نکالے کہ شاید پیسوں کی ضرورت ہے، پھر بیٹےکو اٹھایا کہ شاید بندے کی ضرورت ہے، پھر سوچا شاید فیصلے کےلیے پگ کی ضرورت ہو تو اسے بھی لایا ہوں. اب سب کچھ سامنے ہے، پہلے بتاؤ کہ کس چیز.کی ضرورت ہے؟ یہ سن کر بیٹے کی آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ابا جی کتنا سمجھاتے تھے کہ بیٹا دوست وہ نہیں. ہوتا جو رت جگوں میں. ساتھ ہو بلکہ وہ ہوتا ہے جو ایک آواز پر حق دوستی نبھانے آجائے.

والد کی وفات پر جب لاش پچھلی سیٹ پر رکھی ہوئی تھی تو اس وقت والد ہ کیا کر رہی تھیں

بالی ووڈ ادا کار شاہ رخ خان نے کہا ہے کہ میں 51سال کا فلمی سٹار ہوں ٗ اپنی فلموں میں 21سال کے لڑکے کی طرح برتائو کرتا ہوں ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے وینکوورکنونشن سینٹر میں شاہ رخ نے کہا کہ میں 51 سال کا فلمی سٹار ہوں اور میں ابھی تک بوٹوکس استعمال نہیں کرتا تاہم جیسا آپ نے دیکھا ہے ٗمیں اپنی فلموں میں 21 سال کے لڑکے کی طرح برتاؤ کرتا ہوں۔انھوں نے کہا کہ میں خواب بیچتا ہوں جس سے مجھے انڈیا کے لاکھوں لوگوں کا پیار ملتا ہے انھوں نے مان لیا ہے کہ میں دنیا کا بہترین عاشق ہوں جبکہ اصل زندگی میں میں ایسا نہیں ہوں۔ شاہ رخ نے اپنے والد کی موت کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ

جب میرے والد کی موت ہوئی ٗمیں 14 سال کا تھا۔ میں نے ان کی لاش گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھی ماں میرے ساتھ تھیں اور میں گاڑی چلا کر ہسپتال سے واپس آنے لگا روتے ہوئے میری ماں نے میری طرف دیکھا اور کہا کہ تم نے گاڑی چلانا کب سیکھا ٗمیں نے کہا کہ بس ابھی ابھی ٗاس رات کے بعد سے میں نے دنیا میں سروائیو کرنے کے طریقے سیکھے

اے سمندر تو چڑیا سے ڈر گیا

پیارے بچو! آج ہم آپ کو ممتا کی ایک انوکھی کہانی سنائیں گے، جسے پڑھ کر آپ ایک ماں کی محبت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ، سمندرکِنارےایک درخت تھا جس پر ایک چڑیا نے گھونسلا بنایا ہوا تھا ایک دن تیز ہوا چلی تو چڑیا کا بچہ سمندر میں گرگیا۔ چڑیا بچے کو نکالنے لگی تو اُس کے پر گیلے ہوگئے اور وہ لڑکھڑا گئی…. اُس نے سمندر سے کہا، ’’اپنی لہروں سے میرا بچہ باہر پھینک دے‘‘، لیکن سمندر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ چڑیابولی، ’’دیکھ میں تیرا سارا پانی پی سارا پانی پی جاوُں گی، تجھے ریگستان بنا دوں گی…‘‘ سمندر اپنے غرور میں گرجا کہا، ’’اے چڑیا! میں چاہوں تو

ساری دنیا کو غرق کردوں، تو میرا کیا بگاڑ سکتی ہے؟‘‘ چڑیا نے یہ سُنا تو بولی، ’’چل پھرخشک ہونے کو تیار ہوجا‘‘، یہ کہہ کر اُس نے سمندر سے پانی کا ایک گھونٹ بھرا، اُور اڑ کر درخت پہ بیٹھ گئی پھرآئی گھونٹ بھرا، پھر درخت پر جا بیٹھی، یہی عمل اُس نے کئی بار کیا تو۔ سمندر گھبرا کے بولا، ’’پاگل ہوگئی ہے کیا، کیوں مجھےختم کرنےلگی ہے ؟‘‘، مگر چڑیا اپنی دھن میں یہ عمل دُھراتی رہی، ابھی اُس نے صرف بیس پچیس بار ہی پانی کے گھونٹ پیے ہوں گے کہ، سمندر نے ایک زور کی لہرماری اورچڑیا کے بچے کو سمندر سے باہر پھینک دیا درخت جو کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا، سمندر سے بولا، ’’اے طاقت کے بادشاہ تو جو ساری دُنیا کو پل بھر میں غرق کر سکتا ہےاس کمزور سی چڑیا سےڈرگیا یہ بات میری سمجھ نہیں آئی ؟‘‘ سمندربولا، ’’تو کیا سمجھا میں جو تجھے ایک پل میں اُکھاڑ سکتا ہوں، اک پل میں دُنیا غرق کرسکتا ہوں، اس چڑیا سے ڈروں گا؟‘‘ ایسا نہیں ہے۔ دراصل میں تو ایک ماں سے ڈرا ہوں۔ ماں کے جذبے سے ڈرا ہوں۔ اک ماں کے سامنے توعرش ہل جاتا ہے، تو میری کیا مجال، جس طرح وہ مجھے پی رہی تھی، مجھے لگا کہ وہ مجھے ریگستان بنا ہی دے گی پیارے بچو! دیکھا آپ نے ایک چڑیا کو، کیسے اپنے بچے کے لیے سمندر سے لڑ پڑی، کہنے کو چڑیا ہے، لیکن ممتا کا جذبہ اُس میں بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ سب ماؤں کو اپنے بچے عزیز ہوتے ہیں۔ آپ کی ماں بھی آپ سے بہت پیار کرتی ہوں گی۔ آپ کی ذراسی تکلیف، دکھ پر پریشان ہو جاتی ہوں گی۔ ہے ناں، یہ ہی بات، پتا ہے آپ کو، ماں دنیا کی عظیم ہستی ہے۔ اُس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ ماں اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمت ہے، اللہ سے دعا کریں کہ ماں کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے، ہم سب کو والدین کے حقوق اور اپنے فرائض سمجھنے کی توفیق دے، ہمیں اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین

قرآن پاک سے علاج کریں

اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا دنیا میں ہر امیر غریب ، نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں ، غموں اور پریشانیوں ، بیماریوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے۔ لیکن وہ انسان خوش قسمت ہے جو اس غم ، دکھ اور پریشانی کو صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔اگرچہ غم اور پریشانیوں کا علاج تو آج سے چودہ سو ۴۳ سال پہلے قرآن و حدیت میں بڑے احسن انداز کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہماری موجودہ پریشانیوں کی بنیادی وجہ قرآنی کمالات سے لا علمی اور دوری ہے۔ آئیے ہم آپ کو قرآنی شفا سے روشناس کرائیں تاکہ آپ کی مایوس کر دینے والی ۔ مشکلات فوری دور ہوں۔ یقین جانیے ان آزمودہ قرآنی شفاﺅں کو آزما کر خود کشتی تک پہنچنے والے خوشحالی کی زندگی ہنسی خوشی بسر کر رہے ہیں۔

قارئین! سورہ البقرہ سے لے کر سورہ الناس تک کے روحانی و ظائف و عملیات ملاحظہ فرمائیں۔ روحانی بیماری کی مثال:نیک کاموں میں دل کا نہ لگنا، برے کاموں میں مزہ آنا جسمانی بیماری کی مثال: ہر طرح کے جسمانی اعذار جس میں کھانسی نزلے سے لیکر فالج کینسر تک کی بیماریاں شامل ہیں سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں اور بندش سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں امن الرسول سے آخر تک رات میں سوتے وقت پڑھا کریں اس لیے کہ : سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں امن الرسول سے ختم تک ایسی ہیں۔ کہ جس گھر میں تین رات تک پڑھی جائیں شیطان اس کے قریب نہیں جاتا ۔ (ترمذی ‘نسائی‘ ان حبان‘ حاکم ‘حصن حصین) حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورئہ بقرہ کو ایسی دو آیتوں پر مکمل فرمایا جنہیں اپنے اس خزانے سے مجھے دی ہیں، جو اس کے عرش کے نیچے ہے۔ انہیں خود ہی سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاﺅ کیونکہ یہ آیتیں رحمت ہیں، قرآن اور دعا ہیں۔ (حاکم ‘حصن حصین) حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں کسی رات پڑھ لے تو یہ دونوں آیتیں اس کے لیے ہو جائیں گی۔ (ترمذی ، حدیث نمبر:۱۸۸۲)

ہر جائز حاجت پوری انشاءاللہ

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کے جو کوئی بسم الله شریف کا ورد ہر روز بکثرت کرے انیس ١٩ فرشتوں کے عذاب سے نجات پاے گا جو کے دوزخ پی مؤکل ہیں ق کے بسم الله شریف کے الفاظ بھی انیس ١٩ ہیں جب کوئی مشکل در پیش ہو تو بسم الله شریف کو با طہارت کامل سات سو چھیاسی ٧٨٦ بار سات ٧ روز تک پڑھے ہر مشکل آسان ہو اگر ہمیشہ ورد میں رکھے تو کسی اور عمل کی ضرورت ہی پیش نا آے اور اگر بعد نماز فجر پندرہ سو ١٥٠٠ مرتبہ جس مطلب کے لئے پڑھا جائے وہ کام ہو ہم چار دوستوں کا ایک گروپ تھا، نہیں بلکہ پانچ دوستوں کا، پہلے چار اسلئے کہا تھا کہ ہم چار دوست پارٹیاں اور ہلہ گلہ وغیرہ کرتے تھے لیکن پانچواں عظمت خان تھا جو کہ اکثر پارٹیوں میں شریک نہیں ہوتا تھا۔۔ اسے ہلہ گلہ اور خرچہ کرنا اچھا نہیں لگتا تھا شاید اسلئے کہ وہ بہت کنجوس تھا ہم اس کو بہت طعنے بھی دیتے تھے لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا تھا۔

پھر بھی بندہ دل کا اچھا تھا اسلئے ہمارے گروپ میں کسی نا کسی کھاتے میں شامل تھا۔ وہ ایک سردیوں کی یخ بستہ رات تھی میں اور میرا دوست عظمت بائیک پر کسی کام سے صدر کےلئے روانہ ہوئے۔ بائیک میری تھی سو میں ہی چلا رہا تھا۔ابھی ہم آدھے راستے پر ہی تھے کہ ایک دم عظمت چلایا۔۔۔ ارے بائیک روکو بائیک روکو۔۔ میں تھوڑا سا پریشان ہوا کہ اللہ خیر ہی کرے بحر حال میں نے بائیک روک دی۔ عظمت بائیک سے اترا اور جہاں سے ہم آرہے تھے وہاں واپس پیدل تیز تیز چلنے لگا۔ میں نے بھی بائیک ایک سائیڈ پر روک لی اور اس کے پیچھے چلا گیا۔۔۔

بیٹی کا حق مہر

ایک کافر جوان اپنے چچا کی بیٹی پر عاشق ہو گیا اس کا چچا حبشہ کا بادشاہ تها جوان اپنے چچا کے پاس گیا اور کہا: چچا جان مجهے آپکی بیٹی پسند ہے میں اسکی خواستگاری کے لئے آیا ہوں. بادشاہ نے کہا:کوئی بات نہیں لیکن اس کا مهر بہت بهاری ہے. جوان نے کہا جو کچھ بھی ہو مجهے قبول ہے. بادشاہ نے کہا:مدینہ شهر میں میرا ایک دشمن رہتا ہے اس کا سر میرے پاس لائو اس وقت میری بیٹی تمہاری ہو گی.جوان نے کہا : چچا جان آپکے دشمن کا نام کیا ہے ؟ کہا: لوگ اسے کہا: لوگ اسے علی ابن ابی طالب کے نام سے جانتے ہیں جوان نے فورا گهوڑے کے اوپر زین رکهی اور تیر، تلوا،ر نیزہ اور کمان کے ساتھ راہی مدینہ ہوا. جب شهر کے نزدیک ایک تپہ کے اوپر پہنچا تو دیکها کہ ایک عربی جوان نخلستان میں باغبانی و بیلچہ چلا رہا ہے. جوان کے نزدیک گیا اور کہا: اے مرد عرب کیا تم علی کو جانتے ہو؟ جوان عرب نے کہا:علی سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: اپنے چچا جو کہ حبشہ کا بادشاہ ہے اس کے لئے علی کا سر لینے آیا ہوں کیونکہ اس نے اپنی بیٹی کا حق مهر علی کا سر قرار دیا ہے۔

جوان عرب نے کہا: تم علی کا مقابلہ نہیں کرسکتے. اس نے کہا:کیا علی کو جانتے ہو؟ جوان عرب:جی ہر روز اس کے ساتھ ہوتا ہوں اور ہر روز اس کو دیکهتا ہوں. اس نے کہا:علی کیسی هیبت رکهتا ہے کہ میں اس کا سر تن سے جدا نہیں کر سکتا؟ جوان عرب:میرے قد جتنا اس کا قد ہے اور هیکل (جسامت) بهی میرے اندازہ کے مطابق ہے. اس نے کہا :اگر تہماری طرح ہے تو پهر مسئلہ کوئی نئیں. مرد عرب نے کہا: پہلے تم مجهے شکست دو پهر میں تم کو علی کا پتہ بتاؤں گا. کہا:شمشیر و تیر و کمان و سنان. کہا: آمادہ ہو جاو. جوان اونچی آواز میں ہنسا اور کہا کیا تم اس بیلچے سے مجهے شکست دو گے؟ پس تیار ہو جاو شمشیر کو نیام سے نکالا .پهر پوچها کہ تمہارا نام کیا ہے؟ مرد عرب نے جواب دیا عبد اللہ. تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا فتاح اور اسی لمحے تلوار کے ساتھ عبد اللہ پر حملہ کر دیا.عبد اللہ نے چشم زدن میں اس کو کندهے اور بازو سے پکڑا اور آسمان کی طرف بلند کیا اور زمین پر دے مارا اور اس کا خنجر اپنے ہاتھ میں لیا اور بلند کیا. اچانک دیکها کہ جوان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو رہے ہیں. مرد عرب نے کہا:کیوں رو رہے ہو؟ جوان نے کہا:میں اپنے چچا کی بیٹی کا عاشق تها آیا تها تاکہ علی کا سر اپنے چچا کے لئے لے جاو تاکہ وہ اپنی دختر مجهے دے لیکن لگتا ہے ابهی آپکے ہاتھوں سے مارا جاؤں گا. مرد عرب نے جوان کو بلند کیا اور کہا:آجاو اس تلوار سے میرا سر اپنے چچا کے لئے لے جائو اس نے پوچھا تم کون ہو؟ کہا : میں اسد اللہ الغالب ، على ابن ابی طالب ہوں. اگر میرے سر کی وجہ سے خدا کے بندوں میں سے کسی کا دل شاد ہوتا ہے تو میں حاضر ہوں کہ میرا سر تمہارے چچا کی بیٹی کا حق مهر ہو جائے.جوان زور زور سے رونے لگا اور اْپؓ کے قدموں میں گر پڑا اور کہا: میں چاہتا ہوں کہ آج سے آپ کا غلام بن جائوں. اسی طرح فتاح بنام قنبر علی ابن ابی طالب کا غلام ہو گیا۔

ہمارے شادی کو دس سال ہوگئے لیکن اولاد کی نعمت سے محرو تھے

ہر وظیفہ پورے دل سے کیا کریں اور پورے دھیان سے تبھی آپکو اس میں اچھے نتائج ملیں گے ۔ وظیفہ میں نماز کی پانچ وقت کی پابندی کا خا ص خیال رکھیں آج ہم آپکو جو وظیفہ بتا رہے ہیں اس سے آپکو فائد ہ ہوگا۔ وظیفہ کو ناجائز کاموں کے لیے استعمال مت کریں ۔ غلط مقاصد کے لیے استعمال کریں گے تو اس کے غلط نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے ۔ وظیفہ کیلئے نماز کی پابندی لازمی ہوتی ہے ۔ اگر آپ پانچ وقت کی نماز ادا نہیں کریں گے تو وظیفہ کر نے کاکچھ اثر نہیں ہوگا۔ ، اگر کوئی شخص اولاد سے محروم ہو تو سورۃ ا لکوثر کو باوضو پانچ سو بار روزانہ پڑھا کرے اور پابندی کے ساتھ یہ عمل مکمل تین ماہ تک کرے انشاء اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہو جائے گا۔

اگر ہزاربار اول وآخر درود شریف گیارہ گیارہ بار پڑھا کرے اس نیت سے کہ حضورﷺ کی زیارت نصیب ہو تو انشاء اللہ تعالیٰ زیارت فیض بشارت سے کامیاب ہوگا ۔ نزول باراں رحمت کے وقت ایک سو بار پڑھیں جو دعا مانگے قبول ہوگی ۔ اگر کسی دشمن نے گھر میں جادو دفن کر دیا ہو، اس سورۃ کا ورد کرنے سے جادو دفن کر نے کی جگہ معلوم ہوجائیگی اور جادو کا اثر دور ہو جائے گا۔ وظیفہ یا عمل پورے یقین سے کریں ، شک عمل کو ضائع کر دیتا ہے ، پوری توجہ کے ساتھ وظیفہ پڑھا جائے اور دعا پورے دل اور خشوع و خضوع سے مانگیں ، رزق حلال کا اہتمام کریں ، حرام غذا عمل کے اثر کو ختم کر دیتی ہے ، ہر عمل اللہ کی رضا کیلئے کریں ، مالک راضی ہوگا تو کام بنے گا۔ ان افراد کے وظائف اور عمل بے اثر رہتے ہیں جو نماز اور دیگر فرائض ادا نہیں کرتے ۔ حرام کاموں سے بچیں ، حرام کاموں سے روحانیت کو نقصان پہنچتا ہے تب عمل اثر نہیں کرتا ۔ الفاظ کی تصیح کا اہتمام کر یں الفاظ غلط پڑھنے سے معنی بدل جاتے ہیں ، صفائی اور پاکیزگی کا اہتمام

نیک بیویاں

ایک شوہر نے اپنی بیوی کو اس کے بچوں کے سامنے بڑی بے دردی سے مارا جس سے بچے خوف زدہ ہوکر رونے لگ گئے۔ بچوں کا یہ حال دیکھ کر ماں رنجیدہ ہوگئی، جیسے ہی اس کے شوہر نے اس کے چہرے پر مارا تو روتے ہوئے کہنے لگی میں بچوں کی وجہ سے رورہی ہوں۔اور پھر اچانک کہا  کہ میں جا کر تیری شکایت کروں گی۔ جس پر شوہر نے کہا تجھے کس نے کہہ دیا میں تجھے باہر جانے کی اجازت دوں گا؟بیوی نے جواب دیا، کیا تیرا خیال ہے تو نے دروازے اور کھڑکیوں سمیت سارے کے دروازے بند کردیے ہیں؟ کیا اسی لئے تو مجھے شکایت کرنے سے روک لےگا؟شوہر نے انتہائی تعجب کے ساتھ کہا کہ پھر تم کیا کروگی؟بیوی نے کہا میں رابطہ کروں گی شوہر نے جواب دیا کہ تیرے سارے موبائل میرے پاس ہیں اب جو تو چاہے کر۔جیسے ہی بیوی حمام کی طرف لپکی، شوہر نے سمجھا شاید یہ حمام کی کھڑکی سے بھاگنے کی کوشش کرے گی، اسی لیے بھاگ کر جلدی سے حمام کے باہر کھڑکی کے پاس کھڑا ہوکر انتظار کرنے لگا، جب اس  نے دیکھا کہ یہ عورت نکلنے کی بالکل کوشش نہیں کررہی ہے تو وہ واپس اندر آیا اور اور حمام کے دروازے کے پاس آکر کھڑا اس کے نکلنے کا انتظار کرنے لگا۔

جب وہ حمام سے باہر نکلی تو چہرہ وضو کے پانی سے تر تھا اور لبوں پر بہت ہی پیاری سی مسکراہٹ سجارکھی تھی۔اس عورت نے کہا، میں تیری صرف اس سے شکایت کروں گی جس کے نام کی تو قسم اٹھاتا ہے اس سے مجھے تیری بند کھڑکیاں تیرے مقفل دروازے اور موبائلوں کی ضبطگی سمیت کوئی بھی چیز نہیں روک سکتی، اور اس کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے ہیں۔شوہر نے اپنا رخ بدلا اور کرسی پر بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔اندر جاکر بیوی نے نماز اداکی اور خوب لمبا سجدہ کیا،شوہر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔جب وہ نماز سے فارغ ہوکر بارگاہِ ایزدی میں دعا کے لئے اپنے ہاتھوں کو اٹھانے لگی تو شوہر اس کی طرف لپکا اور ہاتھوں کو پکڑ لیا، اور کہا کہ سجدے میں میرے لیے کی گئی بددعائیں کافی نہیں ہیں؟عورت نے پرسوز لہجے میں کہا کہ تیرا خیال ہے کے میں اس سب کے بعد بھی جو تونے میرے ساتھ کیا ہے، اتنی جلدی اپنے ہاتھ نیچے کرلوں گی؟شوہر نے کہا کہ بخدا!یہ سب مجھ سے غصہ میں ہوا ہے میں نے قصداً نہیں کیا۔بیوی نے کہا اسی لئے میں تیرے لئے تھوڑی دعا پر اکتفا نہیں کرسکتی۔ بددعائیں تو میں شیطان کے لئے کررہی تھی جس نے تجھے غصہ دلایا، میں اتنی احمق نہیں ہوں کہ اپنے شوہر اور شریکِ حیات کے لئے بددعا کروں۔یہ سن کر شوہر کی آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار لگ گئی اور اس نے بیوی کے ہاتھ کو بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ میں آج آپ سے وعدہ کرتا ہوں کبھی بھی آپ کو برائی کے ارادے سے ٹچ تک نہیں کرونگا۔یہ ہی وہ نیک بیوی ہے جس کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول نے خیر خواہی کی تاکید کی تھی۔تم ان کے بن کر رہو وہ تمہاری بن کر رہیں گی۔اللہ تعالیٰ سب کو ایسی نیک بیویاں عطا فرمائے۔