’اللہ کے وجود کے بارے میں میرے ذہن میں شکوک و شبہات تھے لیکن پھر مکہ گئی اور وہاں جیسے ہی کعبہ پر پہلی نظر پڑی تو۔۔۔‘ مسلمان خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کا بھی ایمان تازہ ہوجائے گا

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کے ذہن میں خدا کے وجود کے حوالے سے سوالات پائے جاتے ہیں۔ ہزار عقلی دلائل بھی ایسے لوگوں کو قائل نہیں کر پاتے لیکن بعض اوقات صرف ایک روحانی تجربہ ایسا ہوتا ہے کہ دل سے سارے شکوک و شبہات پلک جھپکتے میں غائب ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ روز ایک پاکستانی لڑکی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ parhlo پر کچھ ایسی ہی ایمان افروز کہانی بیان کی ہے۔ آئزہ ارشاد نامی یہ لڑکی لکھتی ہیں ”کعبے کا طواف کرنے والے ہزاروں کے ہجوم کا حصہ بننے سے پہلے میں متذبذب تھی۔ میں نے خود سے پوچھا کہ مجھ جیسی گناہگار کو اس نے یہاں کیونکر بلا لیا؟

میں نے اپنے سامنے سنہری خطاطی پر ایک نظر ڈالی، میں نے دیکھا کہ ہر کسی کی آنکھوں میں آنسو تھے، ہر کوئی شکر بجا لارہا تھا اور اپنے گناہوں پر استغفار کررہا تھا۔ یہاں کسی کے بھی لہجے میں سختی نہیں تھی، کسی میں بھی خود غرضی نظر نہیں آتی تھی۔ غلطی سے بھی کوئی کسی سے چھوجاتا تو فوری معذرت کرتا۔

اگرچہ میں ان بہت سے لوگوں کی زبان نہیں سمجھتی تھی لیکن پھر بھی مجھے ان کا ہر لفظ سمجھ آرہا تھا۔ وہ سب بھی وہی مانگ رہے تھے جو میں مانگ رہی تھی۔ میں نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ کعبہ پر رکھے، میرے اردگرد بہت سے مرد اور خواتین سسکیاں بھررہے تھے، ہم میں سے ہر کوئی مختلف زبان میں دعا کررہا تھا لیکن ہم سب ایک جیسے تھے۔

میں نے خدا کو کبھی دیکھا نہیں اور اس کے وجود کے بارے میں میرے ذہن میں ہمیشہ سوالات رہے تھے، لیکن جب میں نے کعبہ کو چھوا تو اسے محسوس کر لیا۔ اس لمحے میرے ذہن میں موجود تمام سوالات ختم ہوگئے کیونکہ مجھے اس کا وجود یوں محسوس ہوا کہ انکار ممکن ہی نہیں تھا۔“

میری ساری بھوک مر گئی

وہ روزانہ میرے کلینک آتی تھی اور سب سے آخری سیٹ پر آ کر بیٹھ جاتی تھی، اس دوران وہ اپنی باری کا انتظار کرتی رہتی، وہ یہاں آنے والی عورتوں سے ان کی بیماری کے بارے میں سوال جواب کرتی اور ان کی بیماریوں کے متعلق غور سے سنتی، اس دوران وہ کسکتی ہوئی دوبارہ آخری سیٹ پر پہنچ جاتی، اس کی عمر22 یا 25 سال کے لگ بھگ ہو گی، کپڑے قیمتی اور صاف ستھرے پہنتی تھی، میں ملک کا مشہور ڈاکٹر رحمان شاہ ہوں، دن میں سرکاری ہسپتال میں فرائض انجام دیتا ہوں اور شام کو اپنے پرائیویٹ کلینک پر رات دیر تک بیٹھتا ہوں، میری پریکٹس خوب چلتی ہے، لوگوں کا کہناہے کہ اللہ پاک نے میرے ہاتھ میں شفا رکھی ہوئی ہے اور میری معائنہ فیس عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے کیونکہ میرے

ہے کیونکہ میرے گھر انتظار کرنے والے کوئی نہیں ہے اس لیے میں زیادہ وقت اپنے کلینک پر ہی گزارتا ہوں، میری بیوی دو سال پہلے اللہ کو پیاری ہو چکی ہے اور اپنی دو بیٹیوں کی شادی کر چکا ہوں۔ یہ لڑکی روزانہ میرے کلینک پر آتی ہے اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھ کر بغیر معائنہ کرائے اور دوا لیے چلی جاتی ہے۔ آج میں نے اس سے پوچھنے کا ارادہ کر لیا ہے کہ آخر وہ کیا کرنے یہاں آتی ہے، جب وہ آئی تو میں نے اپنی مریضہ کو دوسری طرف بیٹھنے کو کہا اور اسے اپنی طرف بلا لیا، وہ پریشان ہو کر میری طرف دیکھنے لگی۔ میں نے اس سے کہا جی میں آپ کو ہی بلا رہا ہوں، آئیں اب آپ کی باری ہے، وہ اٹھی اور تقریباً گھسیٹتے ہوئے قدموں سے میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئی، میں نے اس سے کہا بیٹھ جائیں، وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئی۔ میں نے اس سے اس کا مسئلہ پوچھا، اس نے گلہ صاف کیا اور دھمیے لہجے میں بولی، ڈاکٹر جی آپ بہت بڑے ڈاکٹر ہیں، میں غریب عورت آپ کی فیس ادا نہیں کر سکتی اور میں اپنا یہاں علاج کرانے نہیں آئی۔ میں نے پوچھا پھر آپ یہاں کیا کرنے آتی ہو؟ اس نے جواب دیا ڈاکٹر صاحب میں پیراں اٹھ میں رہتی ہوں وہاں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔ ایک ہی حکیم تھا وہ بھی مر گیا، پچھلے دنوں بستی میں ہیضہ کی وباء پھوٹ پڑی، کہیں ماؤں کی گود اجڑ گئی کیونکہ ہمارے علاقے میں کوئی ڈاکٹر نہیں۔

اسی بیماری کی وجہ سے میری شانو بھی مر گئی اور پھر وہ رونے لگی، مجھے لگا کہ وہ بستی کے لوگوں کے علاج کے لیے اصرار کرے گی۔ مگر میرے پاس نہ تو وقت تھا اور نہ ہی جذبہ، میں کیسے اپنا چلتا ہوا کلینک چھوڑ کہ اس کے ساتھ اس کی بستی کے لوگوں کا علاج کرنے چلا جاتا۔ اسی خدشے کے پیش نظر میں نے پہلے ہی صاف جواب دینا مناسب سمجھا دیکھو بی بی اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ اگر وہاں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے یہ میری نہیں بلکہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے اور میں اس سلسلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔

براہ مہربانی میرا وقت ضائع نہ کرو، میرا غرور اور تکبر میرے لہجے سے صاف نظر آ رہا تھا۔ اس جہاں کے فانی ہونے کا اعتراف تمام مخلوقات میں سے صرف نوح انسان کو ہے مگر پھر بھی اس کی بھوک بے قابو ہے۔ چاہے وہ دولت کی ہو یا کسی اور چیز کی، میرے مریض میرا انتظار کر رہے تھے، میں نے جان چھڑانے کی غرض سے غصیلے لہجے میں کہا بی بی جب کوئی بیماری نہیں اور کوئی کام نہیں تو یہاں کیا کرنے آتی ہو؟ میرا کتنا ٹائم تمہاری وجہ سے ضائع ہو گیا۔ اس نے چند ثانیے میرے چہرے کو دیکھا اس کے چہرے پر حیرانی صاف پڑھی جا سکتی تھی۔ شاید اسے مجھ جیسے اعلیٰ درجے کے ڈاکٹر سے ایسی گھٹیا پن کی امید نہ تھی۔

وہ گویا بولی ڈاکٹر جی! آپ کے پاس جو مریض آتے ہیں میں ان سے باتوں باتوں میں ان کی بیماری کے متعلق پوچھتی ہوں جو دوائی آپ ان کو تجویز کرتے ہیں، اس کا نام بھی پوچھ لیتی ہوں اسی طرح روز ایک دو مریض سے میری بات ہو جاتی ہے، گھر جا کے میں بیماری اور دوائی کا نام کاپی میں لکھ لیتی ہوں، پوری پانچ جماعتیں پاس ہوں پھر اگر بستی میں کوئی بیمار ہو جاتا ہے تو میں بیماری کے حساب سے آپ کی بتائی ہوئی دوائی انہیں لا کر دیتی ہوں، میری شانو تو مر گئی مگر میں کسی اور کی شانو کو نہیں مرنے دوں گی، یہ کہہ کر وہ تو کلینک سے چلی گئی مگر میری اعلیٰ تعلیم اس کی پانچ جماعتوں کے سامنے بے وقعت ہو گئی اس لڑکی کی اس بات نے میری بھوک ہی مار دی۔ میری ساری بھوک مر گئی۔

یہ واقعہ ہمارے ملک کے صوبہ سندھ کا ہے

یہ واقعہ ہمارے ملک کے صوبہ سندھ کا ہے ایک چالیس سالہ نوجوان کا تعلق ہندو گھرانے سے تھا ، اسکو کینسر کا مرض لاحق ہوا ڈاکٹروں نے لاعلاج کہہ کر زندگی خوشی سے گزارنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اب آپ زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کے مہمان ہو ۔ وہ ہارے ہوے جواری کی طرح اپنے کمرے میں داخل ہوا اور بیڈ پر لیٹ گیا کہ اب میں کچھ ہی لمحوں کا مہمان انسان ہوں ۔ بیوی اس کے ساتھ پیار محبت کی باتیں کرنے لگی لیکن میاں کی عدم دلچسپی بھانپ گی اسرار کرنے پہ شوہر نے بتایا کہ اسکو بلڈ کینسر ہے جو آخری سٹیج پہ ہے ۔ بیوی نے یہ سنا تو مسکر کر بولی ” آپ ایسے ہی پریشان ہورہے ہے بلڈ کینسر بھی کوئی بیماری ہوتی ہے بھلا؟ میں آپ کو ایک کو ایک

میں آپ کو ایک ایسی چیز پلاسکتی ہوں جس کے پینے سے آپ مکمل طور پہ صحت یاب ہوسکتے ہے لیکن میرے ساتھ ایک وعدہ کرنا ہوگا آپ جب بھی صحت یاب ہوں گے تو جو میں کہوں گی وہ آپ کو کرنا پڑے گا چاہے آپکی رضا ہو یا نہ ہو بولیں آپ تیار ہے ؟شوہر حیران ہوا کہ جس بیماری کا علاج دنیا کے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں اسکا علاج میری بیوی کے پاس کہاں سے آگیا اس کے ہاتھ کونسا آلہ دین کا چراغ لگ گیا۔ شوہر نے نہ چاہتے ہوے وعدہ کیا۔ بیوی نے کہا ٹھیک ہے آپ یہی ٹھہریں میں ابھی آئی ۔کچھ لمحے بعد اسکی بیوی آیی تو اسکے ساتھ ایک جگ تھا اس نے کرسی پہ بیٹھ کر شوہر کو کہا کہ آپ کو جب بھی پیاس لگے آپ نے یہی پانی پینا ہے دوسرا کوئی بھی پانی نہیں پینا ” وہ نوجوان جب بھی پیاس محسوس کرتا تو اسی جگ سے پانی پیتا اور بیوی روز اس جگ میں پانی ڈال کر بھرا رکھتی ۔ بیوی کو نجانے کیا اعتماد تھا کہ اسکو شوہر کے آخری سٹیج کے کینسر کی زرا بھی فکر نہ تھی بلکہ وہ کینسر کو کوی مرض ہی نہیں سمجھ رہی تھی اسکے شوہر کو رہ رہ کرخیال آرہا تھا کہ ایک مہینہ بعد اسکی موت ہوجانی ہے اور اب زندہ رہنے کا کوئی چانس نہیں ۔ کچھ دن گزرنے کے بعد اس نوجوان نے خود میں واضح تبدیلیاں محسوس کی ۔

ایک ماہ گزر گیا تو وہ حیران ہوا کہ بقول ڈاکٹر وہ تو ایک ماہ کا مہمان تھا وہ خود کو صحت مند محسوس کرنے لگا لیبارٹری جاکر ٹیسٹ کرایا تو ایک حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ آپکا تو بلڈ کینسر ختم ہو چکا ہے اس انکشاف سے اس نوجوان کو بہت حیرانگی ہویی وہ جلدی سے رپورٹس لیکر دوسرے لیب گیا تو وہاں بھی یہی جواب ملا کہ آپکا تو کینسر ہی ختم ہوچکا ہے ۔ اس نے چار الگ الگ لیب سے ٹیسٹ کروایا اور یہی نتیجہ آیا کہ آپکا بلڈ کینسر ختم ہوچکا ہے ۔ وہ دوڑ کر گھر آگیا اور بیوی کو جھوم کر کہا کہ اسکے پانی تو کمال کردیا وہ اس پانی پینے کے بعد خود کو مکمل طور پہ صحت مند محسوس کررہا ہے اور لیب کی رپورٹس بھی یہی کہہ رہی ہے کہ اب آپکا کینسر ختم ہوچکا ہے، اگلے روز بیوی نے میاں کو وعدہ یاد دلایا تو شوہر نے پوچھا کہ بلکل میں ہر وعدہ پورا کرونگا آپ بولو توسہی ۔ ” آپ مسلمان ہوجاے ” بیوی نے کہا تو شوہر کو بجلی کا ایک جھٹکا لگا ” مسلمان؟ تمہارا دماغ ٹھیک تو ہے ؟ تم نے یہ لفظ کیسے بولا تیری ہمت کیسے ہوئی مجھے مسلمان بنانے کی ؟ کیا تم مسلمان ہو؟”” ہاں میں مسلمان ہوں” بیوی نے کہا ” لیکن مجھے تو بتایا گیا تھا کہ تم ہندو ہوتمہارا تو

پورا خاندان ہندو ہے پھر تم کیسےمسلمان ہوئی ” شوہر نے کہا ” پہلے آپ اپنا وعدہ پورا کریں اگر وعدہ پورا کریں گے تو سب بتا دونگی ورنہ نہیں بتا سکتی ” شوہر نے کچھ دیر سوچا اور کہا ” ٹھیک ہے میں مسلمان ہونے کو تیار ہوں”اسکے شوہر نے غسل کیا بیوی نے پاس بٹھایا اور کہا کہیے کہ “اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد رسول اللہاور يوں اس نوجوان نے اسلام قبول کیا بیوی نے کہا ” جب میں چھوٹی تھی اور سکول جایا کرتی تھی تو اس وقت میری ایک کلاس فیلو تھی وہ مسلمان تھی ہم دونوں میں دوستی بہت گہری تھی سکول کے بعد میں اسکے گھر جاتی تھی دونوں مل کر سکول کا کام کرتے ۔ وہ روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرتی تو میں بھی پاس بیٹھ جاتی ۔ قرآن آہستہ آہستہ میرے دل میں اترنے لگا یوں ایک دن قرآن دل میں اترا کہ میں 15 سال کی عمر میں چوری چھپ کے سےمسلمان ہوئی۔ میں مسلمان ہوکر خود کے اندر سکون محسوس کرنے لگی قرآن پڑھے بنا چین نہیں آتا تھا ۔ آپ کے ساتھ شادی ہوئی تو یہاں بھی چوری سے قرآن پڑھتی رہی ۔ زندگی کے اتنے سال آپ سے اپنا ایمان اور اپنا قرآن چھپائے رکھا بالاخر آپ بیمار ہوگئے اور دوائیوں نے کام نہ کیا مجھے اس بات کا مکمل یقین ہے جہاں دوائیاں کام نہیں آتی وہی اللہ کا کلام پاک کام آتا ہے اور یہ قرآن سینے کی بیماریوں کے لیے دوا ہےیہی اللہ تعالی نے فرمایا ہے ، جب آپ زندگی سے

ناامید ہوے اور خود کو مرنے کے قریب پایا تو میں نے قرآن کی یہی آیت پڑھ پڑھ کر پانی پہ دم کی اور یوں اللہ پاک نے آپکو نئی زندگی دی میرے دوستوں ہم تو قرآن پاک کی برکتوں سے واقف ہی نہیں اگر ہمیں یقین کے ساتھ اسکے برکتوں کا علم ہوجاے تو ہم کو کہی جانا ہی نہ پڑھے لیکن افسوس کہ ہمارا یقین کامل نہیں ۔ احباب سے شیئر کی اپیل ہے کہ یہ واقعہ جتنا زیادہ ہوسکے شیئر کرنا

فقیرنی سے سیکھی سخاوت اور توکل

ایک روز میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شاپنگ کے لئے جا رھا تھا گاڑی سگنل پر رُکی تو ایک مانگتی بغل میں بچہ دبائے آگئی اور صدا لگائی باؤ دے الله دے ناں تے ۔ رب تیری آس اُمید پوری کرئے. میں نے پچاس کا نوٹ دیا اور وہ خوشی سے دُعا دیتی ایک طرف چل دی چند ثانئیے بعد درجن بھر عورتوں اور بچیوں نے گاڑی پر یلغار کردی… سب کی سب ھاتھ پھیلائے دُعائیں دیتی پُر اُمید نظروں سے مُجھے دیکھ رھیں تھیں ، میں نے سب کی خدمت میں کُچھ ناں کُچھ پیش کیا سب خوشی سے سرشار لوٹ گئیں …

یہ سب معاملہ ایک منٹ کے اندر ھوا ، اشارہ کھُلا اور میں نے گاڑی آگے بڑھا دی ، میری بیوی نے خفگی کا اظہار کرتے ھوئے کہا ،، جانتے ھیں جب آپ نے پہلی منگتی کو پیسے منگتی کو پیسے دیئے تھے تب ھی مُجھے معلوم تھا کہ اب یہ دوسروں کو بھی بتائے گی اور دیکھ لیں میرا اندازہ ٹھیک نکلا ،، یہ مانگنے والے ھوتے ھی ایسے ھیں ، کم ظرف ،بیگم بُڑبُڑا رھی تھیں ، گاڑی والوں کے پاس قارون کا خزانہ ھوتا ھے ؟ جو سب کی سب نے دھاوا بول دیا ؟ میں تو کہتی ھوں آپ کو چاھئے تھا کہ پہلی والی کو ایک روپیہ نہ دیتے …ناں اُسکو دیتے نہ وہ باقیوں کو جا کر بتاتی اور نہ ھی ھمارے گرد اتنا رش لگتا … بیوی کی ساری باتیں ٹھیک تھیں ، لوگ اشارے پر کھڑے “پہلے” فقیر کو صرف اس لئے خالی ھاتھ لوٹا دیتے ھیں کہ یہ دوسرے فقیروں کو بتائے گا اور ھمارے گرد رش لگ جائے گا ،، میری بیگم نے ایک عام فہم بات کی تھی جو ھر طرح سے دُرست تھی …پر میں گاڑی چلا رھا تھا اور میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے ، بیگم نے بن بادل برسات کی وجہ پُوچھی ؟ میں نے کہا بیگم آج چند ٹکوں کی خیرات نے مُجھے ایک دائیمی گُر سکھا دیا ھے …بیگم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا میں نے کہا اُن گداگر فقیر عورتوں نے مُجھے اتفاق ،دریادلی ، سخاوت اور توکُل کے معانی سے آشنا کر دیا ھے ۔

بیگم نے حیرانی سے میری جانب دیکھا یہ کیا کہہ رھے ھیں آپ ؟ میں نے اثبات میں سر ھلایا ” ٹھیک کہہ رھا ھوں ” میں نے کہا روز مرہ زندگی میں اگر ھمیں کہیں سے کوئی سہولت مل جائے تو ھم اپنے دوستوں رشتے داروں کو نہیں بتاتے اکیلے فائدہ اُٹھاتے ھیں…کیونکہ ھمارا توکل کمزرو ھوتا ھے ھمیں لگتا ھے اگر کسی اور کو بتایا تو وہ ھمارا کام بھی بگاڑدے گا ، ھم بھول جاتے ھیں دینے والی تو الله کی ذات ھے ، میرا نصیب کوئی نہیں چھین سکتا ، یہ سب ھمارے نفس کی چالاکی ھے ، نفس ھمیں اُکساتا ھے کہ چُپ کر کے فائدہ حا صل کرو کسی دوسرے کو مت بتاؤ ، اور ھم نفس کی باتوں میں آکر اکیلے ھی ملنے والی سہولت سے فیض یاب ھوتے ھیں ،،ان فقیروں کا نفس مُطمئین ھے میرے نفس کی طرح “غیر مُطمئین” نہیں ھے ، بیگم کے چہرے کا تاثُر بدل چُکا تھا ، میرے بچے حیرانی سے میری باتیں سُن رھے تھے ۔ اُس دن وہ منگتی فقیرنی مُجھے خوشی کا یہ انمول راز چند روپوں میں سکھا گئی ، میں نے اُس منگتی سے اتفاق ، کُشادہ دلی اور توکُل سیکھا ،، وہ منگتی نہیں تھی منگتی کے روپ میں الله کی پیغام رساں تھی ،جو مُجھے ایک اچھی بات سکھانے آئی تھی ۔میری بیوی بولی آپ دن رات آنکھیں پھوڑتے ھیں ورق کالے کرتے ہیں تب جاکر پیسے ملتے ہیں تو کیا اسطرح روپے لٹانا ٹھیک ہے؟

میں نے کہا بابا جی کہا کرتے تھے کہ بیٹا جو بھی سائل آئے اسے ضرور کچھ نہ کچھ دیا کر میں نے پوچھا بابا جی اپنی محنت کی کمائی سے کیوں دوں؟ بابا جی نے کہا تو نے کونسا پلے سے دینا ھے اللہ نے تجھے دیا تو اس میں سے اگے دے دیا کر ” دتے وچوں دینا میری بیوی کو بات سمجھ آگئی تھی ۔ اس نے منہ سے تو کچھ نہیں کہا مگر چہرے سے عیاں تھا کہ دتے وچوں دینا والی بات پر متفق ھے …اب میں کوشش کرتا ھوں کے اگر مُجھے کہیں سے کوئی فائدہ ھو تو میں دوسروں کو ضرور بتاتا ھوں ، میرا نفس مُجھے ھر بار روکتا ھے اور ھر بار میں اپنے نفس کو ایک جُملہ بول کر چُپ کروا دیتاھوں …الله ھمیں آسانیاں عطا کرئے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے آمین

واقعہ ایک آدمی کاجو عورت پر عاشق ہونے کے بعدایک جادوگر کے پاس گیاتو۔۔۔۔

ایک شخص ایک عورت پرعاشق ہوگیاوہ ایک جادوگرکے پاس گیاکہ مجھے کوئی عمل کرکے دے جس سے وہ عورت میرے قابومیں آجائے.اس نے کہاکہ جائوپہلے چالیس دن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروکوئی کام نیکی کامت کروحتیٰ کہ تیرادل سیاہ ہوجائے پھرمیراجادواثرکرے گا. وہ بدبخت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتارہااورچالیس دن کے بعداس نے جادوگرسے آکرکہاکہ میں کردیاجوتونے کہاتھا.جادوگرنے عمل کیالیکن اثرنہیں ہوا.وہ شخص پریشان ہوگیاجادوگرنے کہاکہ سوچ تونے چالیس دن میں کوئی نیک کام کیاہےکہنے لگامیں نے کوئی نہیں کیا

.جادوگرنے کہاکہ میں نہیں مانتایہ ہوہی نہیں سکتاتویہاں بیٹھ اورسوچ تونے کوئی نیک کام تونہیں کیا.اس نے کہاکہ ایساتوکوئی نہیں کیاہاں ایک دن میں جارہاتھاراستے میں پتھرپڑ اتھاتومیں نےاٹھاکرسائیڈ پرکردیاکہ کسی کوٹھوکرنہ لگے .جادوگرکی ہائے نکلی اورکہاکہ لعنت ہے تجھ پرکہ توایسے کریم رب کانافرمان ہوناچاہتاہے جس نے تیری ایک چھوٹی سی نیکی پرتیرے ایمان کوسلامت رکھا.جادوگرنے کہاکہ میراجادوچلتاہی اس وقت ہے جب ایمان رخصت ہوجائے.توتوبہ کراورمیں کلمہ پڑھتاہوں

ایک عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا

ایک عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ہو جائے۔پیر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو شیر کی گردن کے بال پرہوگا۔ اور وہ بال بھی آپ خود شیر کی گردن سے اکھاڑ کر لائیں گی۔ تب اثر ہوگا ورنہ کوئی فائدہ نہ ہوگا۔وہ عورت بہت پریشان ہوگئی اور مایوس ہو کر واپس آگئی اور اپنی سہیلیوں کو بتایا۔ایک سہیلی نے مشورہ دیا کہ کام تو مشکل ہے مگر ناممکن نہیں، تم ایسا کرو کہ روزانہ پانچ کلو گوشت لیکر جنگل جایا کرو اور جہاں شیر آتا ہے وہاں ڈال کر چھپ جاؤ

کچھ عرصہ بعد شیر کے سامنے جا کر ڈالو وہ گوشت کا عادی ہو جائیگا۔تم اس کے قریب جاکر گوشت ڈالنا شروع کر دینا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دینا اور جب شیر تم سے مانوس ہو جائے تو گردن سے بال اکھیڑ لینا۔اس عورت کو بات پسند آئی، دوسرے دن ہی اس نے گوشت لیا اور جنگل گئی اور گوشت ڈال کے چھپ گئی، شیر آیا گوشت کھایا اور چلا گیا۔اس عورت نے ایک ماہ تک ایسا کیا، ایک ماہ بعد اس نے شیر کے سامنے جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دیا تاکہ شیر کو پتہ چل سکے کہ اس کی خدمت کون کرتا ہے۔کچھ عرصہ بعد شیر بھی عورت سے مانوس ہو گیا تھا، عورت نے شیر کی گردن پر آہستہ آہستہ پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا.

ایک دن عورت نے موقع دیکھ شیر کی گردن سے بال اکھیڑا اور خوشی خوشی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی اور بال پیر صاحب کو دیا اور کہا کہ میں شیر کی گردن سے بال اکھیڑ کر لے آئی ہوں اب آپ عمل شروع کریں۔پیر صاحب نے پوچھا: کیسے لائی ہو؟تو عورت نے پوری تفصیل بتا دی۔پیر صاحب مسکرایا اور کہا کہ کیا تمہارا شوہر اس جنگلی درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟جوکہ خونخوار ہوتاہے، جس کی تم نے چند دن خدمت کی اور وہ تم سے اتنا مانوس ہو گیا کہ تم نے اس کی گردن سے بال اکھیڑ لیا اور اس نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا تمہارے شوہر کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہوا ہے تم اس کی خدمت کرو جب جنگلی درندہ خدمت سے اتنا مانوس ہو سکتا ہے تو ایک باشعور انسان بھی آپ کے تابع ہو سکتا ہے

لوگوں کے سامنے بیوی کو گلے لگانا جائز ہے

کیا بیوی کو لوگوں کے سامنے گلے لگانا جائز ہے؟

جب حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللّٰہ عنہا کو لے کر مدینہ منورہ تشریف لاۓ,انہیں اپنے حرم میں شریک فرمایا,اور راستے میں ان سے زفاف کیا,تو حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کہنے لگیں,میں نے لباس بدلا اور دیکھنے کیلیۓ نکلی آپ نے مجھے پہچان لیا,آپ نے میری طرف رخ کیا,میں پلٹ گئی,آپ نے تیزی سے مجھے آ لیا اور سینے سے لگا کر فرمایا,تم نے اسے کیسی پایا؟میں نے عرض کیا,یہودی کی بیٹی یہودن ہی تو ہے,یعنی قیدی ہے. (ابن ماجہ)

1980 – حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، جِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ فَأَخْبَرْنَ عَنْهَا، قَالَتْ: فَتَنَكَّرْتُ وَتَنَقَّبْتُ فَذَهَبْتُ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَيْنِي فَعَرَفَنِي، قَالَتْ: فَالْتَفَتَ، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ، فَأَدْرَكَنِي فَاحْتَضَنَنِي، فَقَالَ: «كَيْفَ رَأَيْتِ؟» قَالَتْ: قُلْتُ: أَرْسِلْ، يَهُودِيَّةٌ وَسْطَ يَهُودِيَّاتٍ

راوی علی بن زید کے متعق :

امام احمد نے ضعیف کہا ہے۔
یحیی بن معین کہتے ہیں کہ قوی نہیں اور ایک قول ہے کہ یہ کچھ حیثیت والا نہیں۔
امام بخاری اور ابو حاتم نے کہا کہ یہ حجت نہیں۔
ابو حاتم نے مزید کہا کہ اس کی حدیث لکھ لی جاتی ہے۔
احمد عجلی کہتے ہیں کہ اس میں تشیع تھا اور یہ قوی نہیں۔
(میزان الاعتدال)

باقی ام محمد بھی مجہول الحال ہیں۔

عورت کا خاوند اسے بلوپرنٹ اورفحش فلمیں دیکھنے پر مجبور کرتا ہے

خاوند نے بیوی کواپنے ساتھ فحش فلمیں نہ دیکھنے کی صورت میں طلاق کی دھمکی دے دی ایک عورت کا خاوند اسے بلوپرنٹ اورفحش فلمیں دیکھنے پر مجبور کرتا ہے لیکن بیوی اس کا انکار کرتی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ وہ بھی نہ دیکھا کرے اوراسے یہ اختیار دیا ہے کہ یا تو فلمیں چھوڑ کراسے رکھے یا پھر اسے چھوڑدے ، اب اسے کیا کرنا چاہیے – خاوند اسے یہ دھمکی دیتا ہے کہ اگر وہ فلمیں نہیں دیکھے گی تو طلاق دے دے گا – آپ اسے کیا نصیحت کرتے اورمشورہ دیتے ہیں ؟ کیا وہ فلمیں دیکھ لے یا پھر طلاق حاصل کرلے ، اورخاص کرجب کہ اس کے تین بچے بھی ہیں ؟الحمد للہ :اللہ تعالی نے مسلمان پر واجب کیا ہے کہ وہ اپنے آپ اورگھروالوں کو جہنم کی آگ سے محفوظ کرے اوربچائے ۔اسی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا :{ اے ایمان والو! تم اپنے آپ اوراپنے گھروالوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اورپتھر ہیں ، جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں اللہ تعالی جو حکم دیتا ہےوہ اس پر عمل کرتے ہیں اوراس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جات ہے وہ بجا لاتے ہیں } التحریم ( 6 ) ۔اوراللہ تعالی نے بیوی اور اولاد کو خاوند کی رعایا بنا یا ہے اورقیامت کے روز اسے اپنی رعایا کے بارہ میں جوابدہ ہونا ہوگا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یہی ہے :

عبداللہ بن عمررضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتےہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ? تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک اپنی رعایا کا جوابدہ ہوگا ، لوگوں پر جوامیر ہے اسے اس کی رعایا کے بارہ میں باز پرس ہوگی ، اورمرد اپنے گھروالوں کا ذمہ دار ہے اوراسے ان کے بارہ میں جواب دینا ہوگا ، اورعورت اپنے خاوند کے گھراوراس کی اولاد کی ذمہ دار ہے اسے ان کے بارہ میں جواب دینا ہوگا ، اورغلام اپنے مالک کے مال کا ذمہ دار ہے اسے اس کے بارہ میں جواب دینا ہوگا ، خبردار تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارہ میں سوال ہوگا ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 853 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1829 ) ۔اللہ عزوجل نے اس شخص کو بہت سخت وعید سنائي ہے جو اپنی رعایا سے دھوکہ کرتا اورانہیں شرعی نصیت نہیں کرتا اس پر جنت حرام کردی ہے ۔معقل بن یسار رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

( اللہ تعالی نے جسے بھی کسی رعایا کا ذمہ دار اورحکمران بنایا تو وہ انہیں نصیحت نہیں کرتا وہ جنت کی خوشبوبھی نہيں حاصل کرسکتا ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 6731 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 142 ) ۔خاوند فحش اورگندی فلمیں دیکھ کرجو کچھ کررہا ہے وہ ایک برائي اوربہت ہی بڑا گناہ ہے ، ایسا کرنا اس کے لیے حلال نہیں چہ جائیکہ اپنے علاوہ وہ کسی اورکو بھی ایسا کرنے پر مجبور کرے ۔اگر خاوند اپنی بیوی کو ایسی فلموں کا مشاہدہ کرنے کا کہتا ہے تواس میں اس کی اطاعت کرنی جائز نہیں ، کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ? اللہ تعالی کی معصیت میں کسی کی بھی اطاعت نہیں ، بلکہ اطاعت تو صرف نیکی اور بھلائي کے کاموں میں ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 7257 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1840 ) ۔اورخاوند کا طلاق کی دھمکی دینا بیوی کے لیے کوئي شرعی عذر شمار نہيں کیا جائے گا ، اورنہ ہی وہ ایسا کرنے میں مجبور شمار ہوگی ، بلکہ بیوی پر واجب ہے کہ وہ خاوند کواچھے اندازمیں وعظ و نصیحت کرے ، اگر تو وہ اس برائي کو ترک کردیتا ہے توبہتر اوراچھا اوربیوی کو اس کا اجروثواب حاصل ہوگا

اور اگر خاوند اللہ تعالی کے حکم آنکھوں کو حرام کام سے نیچی رکھنے سے انکار کردے اورتسلیم نہ کرے توبیوی کے لیے برائي کے ارتکاب پر خاوند کی اطاعت حلال نہیں ، اورنہ ہی اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے اوراولاد کے خدشہ سے اسی کے ساتھ چمٹی رہے ، بلکہ اللہ تعالی اسے اس کے بدلے میں نعم البدل عطافرمائے گا

ان شاء اللہ تعالی ۔گندی اورفحش فلموں کا مشاھدہ کرنے کے حکم کی تفصیل آپ سوال نمبر ( 12301 ) کے جواب میں دیکھ سکتے ہیں ۔ایسے خاوند کووعظ ونصیحت کرنے کے طریقے آپ کو سوال نمبر ( 7669 ) کے جواب میں ملیں گے آپ اس کا مطالعہ کریں ۔اوراگر خاوند بے نماز ہو توپھر بیوی کو فسخ نکاح کے مطالبہ میں تردد نہيں کرنا چاہیے کیونکہ وہ کافر ہے ، ہم نے بے نماز خاوند کے ساتھ باقی رہنے کا حکم سوال نمبر ( 4501 ) اورسوال نمبر ( 5281 ) کے جوابات میں بیان کیا ہے ، آپ اس کا بھی مراجعہ کریں ۔

واللہ اعلم .

اس وظیفہ سے لاکھوں کا قرض دنوں میں ختم ہو گیا

بیروز گاری ، ملازمت کا نا ملنا گھریلو پریشانیاں یا پھر کسی  بھی قسم کی تنگدستی ہو تو ایک ایسا وظیفہ ہے جس کے پڑھنے سے مذکورہ پریشانیاں ختم ہوجائے گی اور دولت کی فروانی ہوجائے گی ۔

اس سے گھر میں برکت اور سکون ہوگا ۔ ملازمت مل جائے گی ، مال میں بھی برکت کے اثرات ہونگے

حضرت علی رضی اللہ کے پاس ایک غلام آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنے آقا سے مکاتبت کر لی ہے لیکن ادائگی کے لئے میرے پاس رقم نہیں آپ کچھ ذکر بتا دے کہ میرا کام ہوجائے ۔  اور میں آزاد ہو جاؤ

حضرت علی نے فرمایا کہ کیوں نہ میں تمہیں وہ دعا سکھاؤ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی ۔ دعا یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھے اور اگر ممکن ہو تو اس کو اپنا معمول بنا لے ان شاءا للہ کچھ دنوں میں ہی ادھار ختم ہوجائے گا اور مال میں برکت اور فراوانی ہو گی ۔

دعا درج ذیل ہے ۔

اللھم اکفنا بحلالک عن حرامک و اغننا بفضلک عمن سواک

سورۃ الفاتحہ کا یہ ایک رکوع پڑھلیں ہر مشکل آسان

بدن کا درد ہو یا بخار ۔ کینسر ہو یا پھر کالا یرقان ،فالج۔ زکام ہر طرح کی چھوٹی بڑی بیماریوں کے لئے صورت فاتحہ کا عمل نہایت آزمودہ ہے ۔

اس عمل کے نتائج عجیب و غریب ہے اور جس نے بھی یہ عمل کیا اس کو نمایاں تبدیلی محسوس ہوئی ۔ عمل درج ذیل ہے۔

نماز فجر کی سنتوں اور فرض کے درمیان 41 مرتبہ سورۃ فاتحہ کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ ملا کر پڑھے اول و آخر 7 مرتبہ درود پڑھے ۔ نماز فجر کے فورا بعد اس عمل کو70 دوبارہ دہرائے ۔اور اسی ترتیب سے عشاء کی نماز کے بعد اس کو پڑھے:

اگر کسی وجہ یا مجبوری سے فجر کے وقت نہ پڑھ سکے تو اس کے فجر کے بعد ضرور پڑھے ۔ اس کے ساتھ روزانہ جتنا ہو سکے ۔ :ایاک نعبد و ایاک نستعین: کا ورد کرتے رہیں