میاں بیوی کی حقیقت اسلام میں ایک دوسرے کے لباس کی طرح بیان کی گئی ہے ۔ان دونوں کے تعلق کے بہت سارے پہلوؤں میں سے سب سے اہم پہلو ان کا جنسی تعلق ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے شادی کے موقعے پر اس بارے مین رہنمائی مفقود نظر آتی ہے ۔شرم و حیا کے سبب کوئی بھی بزرگ نوبیاہتا

جوڑے کو اس حوالے سے کسی بھی رہنمائی سے گریز کرتا ہے ۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شادی شدہ جوڑے کی جنسی زندگی آغاز ہی سے مخمصے کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اللہ تعالی نے عورت کو مرد کی کھیتی قرار دیا ہے ۔اور اس سے حاصل ہونے والی لزت کو جنت کی لزتوں میں سے ایک قرار دیا ہے ۔ساتھ ہی

فرمان الہی ہے کہ تم جیسے چاہو اپنی کھیتی میں جاؤ یعنی اس تعلق کے حوالے سے آزادی بھی فراہم کر دی مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ شرعی حدود و عیود کا بھی تعین کر دیا جس کا جاننا میاں بیوی کے لیۓ ضروری ہے ۔

مباشرت کے عمل سے قبل باوضو ہو کر بسم اللہ پڑھنا ایک ایسا عمل ہے کہ اس سے شیطان اس عمل سے قبل میاں بیوی کے درمیان سے رخصت ہو جاتا ہے ۔اگر بسم اللہ نہ پڑھی جاۓ تو میاں بیوی کی قربت کے اس عمل میں شیطان ایک تیسرے فریق کی صورت ان دونوں کے درمیان موجود رہتا ہے ۔

قرآن نے عورت کو مرد کی کھیتی اس لیے قرار دیا ہے کہ مباشرت کا یہ عمل نئی نسل کی پیدائش کا وسیلہ ہوتا ہے لہذا اس موقع پر احکام خداوندی کو مد نظر رہنا مقصود ہونا چاہیۓ تاکہ پیدا ہونے والی نسل بہترین انسان کی صورت میں پیدا ہو اسی سبب جماع کے وقت گفتگو سے منع فرمایا گیا ہے

کیونکہ اگر اس دوران بات چیت کی جاۓ تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کے توتلے ہونے کے امکانات ہوتے ہیں ۔ اسی طرح جماع کے وقت شرم گاہ کو دیکھنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے

کیوںکہ اس صورت میں پیدا ہونے والے بچے کے پیدائشی اندھے ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اسی طرح اگرچے عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے مگر ایک

دوسرے کے سامنے مکمل برہنہ ہونے سے بھی اجتناب برتنے کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔برہنگی کی حالت میں مباشرت کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والا بچہ بھی بے حیا ہو گا ۔ احکام الہی کی بجا آوری ہم سب پر واجب ہ

ے

اور جب معاملہ اگلی نسل کی پیدائش کا ہو تو اس کی نزاکت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔لہذا اس بات کا اہتمام لازمی کرنا چاہیۓ کہ اس بارے میں تعلیم عام کی جاۓ ۔اور میاں بیوی کو اس امر سے آگاہ کیا جاۓ کہ مباشرت کے عمل کے قواعد و ضوابط کیا ہیں