آبِ زم زم کی فضیلت

آب زم زم کا سراغ لگانے والوں کو منہ کی کھانی پڑیعالمی تحقیقی ادارے آب زم زم اور اسکے کنویں کی پر اسراریت اور قدرتی ٹیکنالوجی کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام ہو کر رہ گئے۔ مزید نئے روشن پہلوؤں کے انکشافات سامنے آ گئے۔ تفصیلات کے مطابق آب زم زم اور اسکے کنویں کی پر اسراریت پر تحقیق کرنے والے عالمی ادارے اسکی قدرتی ٹیکنالوجی کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام ہو کر رہ گئے۔ عالمی تحقیقی ادارے کئی دہائیوں سے اس بات کا کھوج لگانے میں مصروف ہیں۔کہ آب زم زم میں پائے جانے والے خواص کی کیا وجوہات ہیں۔اور ایک منٹ میں 720لیٹر جبکہ ایک گھنٹے میں43ہزار 2سو لیٹر پانی فراہم کرنے والے اس کنویں میں پانی کہاں سے آ رہا ہے ۔

جبکہ مکہ شہر کی زمین میں سینکڑوں فٹ گہرائی کے باوجود پانی موجود نہیں ہے۔ جاپانی تحقیقاتی ادارے ہیڈو انسٹیٹیوٹ نے اپنی تحقیقی میں کہا ہے کہ اب زم زم ایک قطرہ پانی میں شامل ہو جائے تو اس کے خواص بھی وہی ہو جاتے ہیں جو آب زم زم کے ہیں جبکہ زم زم کے ایک قطرے کا بلور دنیا کے کسی بھی خطے کے پانی میں پائے جانے والے بلور سے مشابہت نہیں رکھتا۔ ایک اور انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ری سائیکلنگ سے بھی زم زم کے خواص میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ آب زم زم میں معدنیات کے تناسب کا ملی گرام فی لیٹر جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے۔کہ اس میں سوڈیم133، کیلشیم96، پوٹاشیم43.3، بائی کاربونیٹ195.4کلورائیڈ163.3، فلورائیڈ0.72، نائیٹریٹ124.8 اور سلفیٹ 124ملی گرام فی لیٹر موجود ہے۔ آب زم زم کے کنویں کی مکمل گہرائی99فٹ ہے اور اس کے چشموں سے کنویں کی تہہ تک کا فاصلہ 17میٹر ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کے تقریباً تمام کنوؤں میں کائی کا جم جانا، انواع و اقسام کی جڑی بوٹیوں اور خود رو بودوں کا اگ آنا نباتاتی اور حیاتیاتی افزائش یا مختلف اقسام کے حشرات کا پیدا ہو جانا ایک عام سی بات ہے جس سے پانی رنگ اور ذائقہ بدل جاتا ہے۔اللہ کا کرشمہ ہے کہ اس کنویں میں نہ کائی جمتی ہے نہ نباتاتی و حیاتیاتی افزائش ہوتی ہے نہ رنگ تبدیل ہوتا ہے نہ ذائقہ۔

ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ،سچی کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ، اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو

ملا نصرالدین اور ایک یہودی

آپ نے ملا نصر الدین کا نام تو سنا ہو گا۔ یہ شخص ترکی کا ایک مسخرہ تھا جس طرح ہمارے ہاں ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ترکی میں ملا نصر الدین کے لطیفے بڑے مزے لے لے کر بیان کیے جاتے ہیں۔کہتے ہیں ملا نصر الدین یوں تو نہایت عقل مند اور عالم فاضل شخص تھا مگر لوگوں کی اصلاح اور تفریح کے لیے بے وقوف بنا رہتا اور ایسی ایسی حرکتیں کرتا کہ لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ملا نصر الدین کے پڑوس میں ایک مال دار یہودی رہتا یہودی رہتا تھا جو اتنا کنجوس تھا کہ کبھی کسی غریب اور محتاج کو ایک پیسہ نہ دیتا تھا۔ ملا نے کئی مرتبہ اسے سمجھایا کہ خدا نے تمہیں دولت عطا کی ہے ، اسے غریب اور مفلس لوگوں پر خرچ کیا کرو، لیکن اس نے ملا کی کوئی نصیحت نہ سنی۔ آخر ملا نصر الدین نے اسے سزا دینے کے لیے ایک ترکیب سوچی۔

ایک روز صبح سویرے وہ نماز پڑھ کر زور زور سے دعا مانگنے لگا۔ یا اللہ، اگر تو مجھے ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی بھیج دے تو میں اسے محتاجوں پر صرف کر دوں۔لیکن اگر اس میں سے ایک اشرفی بھی کم ہوئی تو ہرگز قبول نہ کروں گا۔ یہودی نے یہ دعا سنی تو سوچا کہ ملا بڑا ایمان دار بنتا ہے ، اس کی ایمانداری آزمانی چاہیے۔ یہ سوچ کر اس نے تھیلی میں نو سو ننانوے اشرفیاں بھریں اور عین اس وقت جب کہ ملا نصر الدین دعا مانگ رہا تھا، اشرفیوں سے بھری ہوئی تھیلی اس کے صحن میں پھینک دی۔ ملا نصر الدین نے لپک کر تھیلی اٹھا لی اور اس میں سے اشرفیاں نکال نکال کر گننے لگا۔ کل نو سو ننانوے اشرفیاں تھیں، ملا نے خدا کا شکر ادا کیا اور کہنے لگا۔یا اللہ، میں تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نے میری دعا قبول فرما لی، ایک اشرفی کم ہے تو کوئی بات نہی، یہ اشرفی پھر کبھی دے دینا۔ یہودی نے جب ملا نصر الدین کے یہ الفاظ سنے تو سخت پریشان ہوا اور دل میں کہنے لگا کہ یہ ملا تو بہت چالاک ہے۔اس نے دھوکے سے میری اشرفیاں ہتھا لیں وہ بھاگا بھاگا ملا کے پاس آیا اور کہنے لگا تم بہت بے ایمان شخص ہو۔ لاو، میری اشرفیاں واپس کرو۔ تم نے تو کہا تھا کہ ہزار میں سے ایک اشرفی بھی کم ہوئی تو واپس کر دوں گا، لیکن اب تم نو سو ننانوے اشرفیاں قبول کرنے پر تیار ہو۔ملا نصر الدین غصے سے کہنے لگا، تم کون ہوتے ہو مجھ سے اشرفیاں مانگنے والے ، یہ تو میرے خدا نے مجھے بھیجی ہیں، جاو، اپنا کام کرو۔ یہودی سیدھا قاضی کی عدالت میں گیا اور ملا کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ قاضی صاحب نے یہودی کو حکم دیا کہ ملا نصر الدین کو بلا لاو، ہم ابھی فیصلہ کر دیں گے۔ یہودی نے ملا نصر الدین کے پاس آ کر کہا، چلو، تمہیں قاضی صاحب بلاتے ہیں۔

ملا نے جواب دیا، تم دیکھ رہے ہو کہ میرا لباس پھٹا پرانا ہے ، میں اس شرط پر جانے کے لیے ت یار ہوں کہ تم مجھے اچھے اچھے کپڑے لا کر دو، یہودی نے یہ شرط بھی منظور کر لی اور صاف ستھرے کپڑے ملا کو لا کر دے دیے۔ ملا نصر الدین یہ بیش قیمت لباس پہن چکا تو کہنے لگا، میاں یہودی، کیا اتنا قیمتی لباس پہن کر پیدل ہی قاضی کی عدالت میں جاوں، لوگ دیکھیں گے تو دل میں کیا کہیں گے ، جاو اپنا گھوڑا لے آو اس پر سوار ہو کر جاوں گا۔ مرتا کیا نہ کرتا، یہودی نے اپنا گھوڑا بھی ملا کے حوالے کر دیا اور ملا صاحب نہایت شان و شوکت سے گھوڑے پر سوار ہو کر قاضی کی عدالت میں پہنچے ، مقدمہ پیش ہوا، قاضی صاحب نے دونوں کو غور سے دیکھا۔ ملا نصر الدین کا قیمتی لباس اور سواری کا گھوڑا بھی انہوں نے دیکھا اور یہودی کا لباس بھی اور یہ بھی محسوس کیا کہ وہ پیدل آیا ہے ، یہودی نے جب سارا قصہ سنایا تو قاضی صاحب نے ملا نصر الدین سے پوچھا۔ملا صاحب، تم اس کے الزام کا کیا جواب دیتے ہو، ملا نے جواب دیا، حضور، یہ یہودی میرا پڑوسی ہے اور بڑا جھوا شخص ہے ، ابھی تو یہ کہتا ہے کہ میں نے اس کی نو سو ننانوے اشرفیاں ہتھیا لی ہیں اور کچھ دیر بعد کہے گا کہ یہ لباس جو میں پہنے ہوئے ہوں وہ بھی اسے کا ہے۔ یہ سنتے ہی یہودی چلا اٹھا، ہاں جناب، یہ لباس بھی میرا ہے ، میں نے اسے پہننے کے لیے دیا تھا۔ ملا نے کہا سن لیا آپ نے ، یہ لباس بھی اس کا ہو گیا اور ابھی دیکھیے یہ کہہ دے گا کہ گھوڑا بھی اسی کا ہے۔ یہودی غصے سے چیخ اٹھا، ہاں حضور، یہ گھوڑا بھی میرا ہی ہے ، ملا نے مجھ سے سواری کے لیے مانگا تھا۔ قاضی نے جو یہ باتیں سنیں تو یہودی کو ڈانٹ پھٹکار کر نکال دیا اور مقدمہ خارج کر دیا۔ یہودی روتا پیٹتا ملا نصر الدین کے گھر پہنچا اور اس کی بڑی منت سماجت کی۔ ملا نے اس شرط پر اس کی اشرفیاں لباس اور گھوڑا واپس کیا کہ وہ آدھی اشرفیاں غریبوں میں بانٹ دے گا اور آئندہ بھی نادار لوگوں کی مدد کرتا رہے گا۔

ٹماٹر کے ذریعے بننے والے اس نسخے پر عمل کریں

ٹماٹر جلد کی ٹون کو بہتر کرنے اور چہرے کو نکھارنے کے لئے انتہائی مفید ہے ساتھ ہی یہ چہرے کی رنگت کو بھی اجاگر کردیتا ہے۔ ٹماٹر میں وٹامن سی کی ایک وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو جلد کی رنگت کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ فیئر بھی کرتی ہے۔ اسی طرح اگر ٹماٹر کو مختلف چیزوں کے ساتھ ملا کر چہرے پر اپلائی کیا جائے تو اس سے جلد کے ڈیڈ سیلز، ایکنی، پمپلز اور نشانات کا بھی خاتمہ ہوتا ہے۔آج ہم آپ کو ٹماٹر استعمال کرنے کے وہ منفرد طریقے بتانے جارہے ہیں جن کے ذریعے آپ اپنی جلد کی رنگت کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ نشانات اور پمپلز وغیرہ سے بھی چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔ ٹماٹر کا فیس ماسک جلد کی چمک کے لئے آپ کو ماسک بنانے کے جو چیزیں درکار ہوں گی وہ یہ ہیں۔ کچھ ٹماٹر لیں اور ان کو میش کرلیں اس کے بعد اس میں تھوڑا دلیا اور دہی ڈالیں اور اچھی طرح سے مکس کرلیں، آپ کا فیس ماسک تیار ہے۔

ماسک کی تیاری کے بعد آپ اسے چہرے پر لگائیں اور تقریباً 20 منٹ کے لئے چھوڑ دیں۔ 20 منٹ پورے ہونے کے بعد اسے دھولیں نتیجہ آپ کے سامنے ہوگا۔ یہ ماسک آپ کے سورج سے متاثرہ چہرے کو چمکدار اور فیئر کردے گا۔ ٭آپ سن ٹین سے متاثرہ چہرے کے لئے ٹماٹر اور لیموں کا رس بھی استعمال کرسکتے ہیں۔کچھ ٹماٹر کاٹیں اس میں لیموں کا رس ملائیں پھر اسے چہرے کے متاثرہ حصوں پر لگائیں اور پھر کچھ دیر چھوڑ دیں۔ پھر دھونے سے پہلے کچھ پانی لیں اور اسے چہرے پر اچھی طرح مساج کرلیں اور دھولیں۔ ٭اسی طرح اگر آپ بلیک ہیڈز کا علاج تلاش کررہے ہیں تو وہ بھی جانیئے، تھوڑی سی ملتانی مٹی لیں اور اس میں ٹماٹر کا رس شامل کریں پھر اس پیسٹ کو اپنے چہرے پر اپلائی کریں۔ 15 منٹ تک لگائے رکھنے کے بعد ذرا سا پانی لیں اور اچھی طرح مساج کریں اور پھر اسے نیم گرم پانی سے دھولیں۔ٹماٹر کے ذریعے چہرے کی صفائی:اس کے لئے آپ کو صرف دو اجزاء درکار ہوں گے، ایک ٹماٹر اور دوسرا چینی۔ ایک ٹماٹر کو کاٹیں اور اس پر ایک چائے کا چمچ چینی ڈال دیں جب وہ گھُل جائے تو اس سے اپنے چہرے پر مساج کریں۔ایسا کرنے سے آپ کی اسکن کے ڈیڈ سیلز غائب ہوجائیں گے اور جلد صاف ستھری ہوجائے گی۔ٹماٹر کے ذزیعے چہرے کی جھریاں مٹانااس کے لئے آپ کو 3 اجزاء ٹماٹر، لیموں اور روئی درکار ہوں گے۔ چائے کے چمچ ٹماٹر اور 2 ہی چائے کے چمچ لیموں کا جوس لیں اس کو اپنے چہرے پر ایک روئی کے ذریعے مساج کریں اور 15 منٹ کے لئے چھوڑ دیں اور پھر دھولیں۔

ایک بادشاہ بہت ظالم اور جابر تھا۔ اسکی ہیبت کے قصے سارے ملک میں مشہور تھے،

ایک بادشاہ بہت ظالم اور جابر تھا۔ اسکی ہیبت کے قصے سارے ملک میں مشہور تھے، لوگ اس سے نفرت کرتے تھے اور اس کا نام آتے ہی لوگ کانپتے تھے۔ ایک دن جانے کیا ہوا بادشاہ نے سارے شہر کو مدعو کیا کہ ایک اہم اعلان کرنا ہے۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو بادشاہ نے اعلان کیا کہ میں آپ کا شہنشاہ آج آپ ساری رعایا کی موجودگی میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد کبھی کسی کے ساتھ نا انصافی اور سختی نہیں کروں گا اور میرا وطیرہ صرف شفقت اور نرمی ہوں گے اور تاریخ پنوں میں میرا نام سب سے نرم دل بادشاہوں میں شمار کیا جائے گا۔ سب لوگ بہت حیران ہوئے کہ شاید بادشاہ

سٹھیا گیا ہے، اس کو کیا ہو چلا ہے۔ خیر سب نے سوچا کہ بس ایسے ہی بول رہا ہے۔ وقت بتائے گا کہ یہ بدلا ہے کہ نہیں۔ بادشاہ دراصل بلکل بدل گیا تھا اور ساری عوام اس سے نہایت خوش اور مطمئن تھی۔ کئی مہینے بادشاہ اسی طرح رہا، وزیر سے صبر نہ ہوا اور ایک دن ہمت کر کے بادشاہ سے پوچھا کہ ذل الہی آخر کس وجہ سے آپ کا دل بدل گیا؟ بادشاہ بولا: کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ میں جنگل میں جا رہا تھا کہ میری نظر ایک لومڑی پر پڑی، وہ بیچاری بھاگ رہی تھی اس کے پیچھے ایک بڑا سا کتا لگا ہوا تھا۔لومڑی کو اپنا بل نظر آگیا اور وہ اس میں چھلانگ لگا رہی تھی کہ کتے نے اس کی ٹانگ پکڑ لی اور زور سے اس پر چک مارا۔ لومڑی نے پوری جان لگائی اور اپنی معزور ٹانگ گھسیٹ کر بل میں گھس گئی۔ اس کتے نے بیچاری لومڑی کو معزور کردیا تھا۔کچھ دیر بعد میں گاؤں میں پہنچا تو دیکھا کہ وہی خنخوار کتا ایک آدمی پر بھونکے جا رہا تھا۔ اس آدمی کو غصہ آیا اور اس نے کھینچ کر ایک بھاری سا پتھر بیچارے کو دے ماری۔ کتا خود بھی اسی طرح ٹانگ سے معزور ہو گیا۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اوپر والے کی لاٹھی بے آواز ہے کہ اسی آدمی کو ایک گھوڑے نے دولتی ماری اور اس کی بھی ایک ٹانگ فارغ ہو گئی۔ گھوڑا بھاگ رہا تھا اور آگے جا کر ایک گڑھے میں گر گیا۔ اتنا دیکھ کر ہی میری حالت غیر ہو گئی اور میں نے سوچا کہ میں اتنا ظالم ہوں، ہر ایک پر حکم چلاتا ہوں۔ کسی کی پرواہ نہیں کرتا تو میرا خالق میرے ساتھ بھی وہی کرے گا جو میں اس کی

مخلوق کے ساتھ کرتا ہوں تو ایک ہی ترکیب سجھائی دی کہ کیوں نہ میں اپنی رعایا کے ساتھ اچھا ہو جاؤں تاکہ میرے ساتھ بھی اچھا ہو۔ بس اتنی سی بات تھی۔ وزیر ایک عیار اور مکار آدمی تھا۔بادشاہ کی کہانی سن کر بھی اس کا دل نا پسیجا۔ بے حس آدمی ادھر سے اٹھا اور دل میں سوچا کہ بادشاہ فارغ ہو گیا ہے، یہی وقت ہے کہ میں اس کا تخت ہتھیا لوں۔ ایسی غلیظ سوچ ابھی اس کے دماغ کی دہلیز پر ہی تھی کہ خالق کا نظام کم میں جت گیا اور گھٹیا وزیر دھڑام سے سیڑھیوں سے گرا اور اس کی گردن دو ٹکڑے ہو گئی۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ کسی کے ساتھ برا کر کے یہ مت سمجھو کہ کسی نے نہیں دیکھا میں بچ گیا، جو دیکھ رہا ہے جب وہ پکڑ کرتا ہے تو بڑے سے بڑا سلطان گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ اچھا کرو اور صلے کی امید لوگوں سے مت رکھو اور برا کرو تو یاد رکھو کہ اب کہیں زمین پناہ نہیں دے گی اور پھر چپ کر کے اپنے گناہوں کا خمیازہ بھگتو۔ بہترین حکمت عملی : برا مت کرو۔

جسم فروشی کی ایک عجیب قصہ

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽﻏﯿﺮﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎﺗﮭﺎ، ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮐﭽﮫﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻨﮓ ﺩﺳﺖ ﮨﻮﮔﯿﺎ،،،ﻧﻮﺑﺖ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﻗﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﮯ .. ﺍﺱﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ،،،ﺟﺐ ﻓﺎﻗﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮩﻦﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻏﻠﻂ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﮔﺌﯽ، ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﮔﮭﺮﺳﮯ ﻧﮑﻠﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺴﻢ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﮐﭽﮫﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ !!!ﻭﮦ ﮔﮭﺮﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﯽ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺟﺴﻢ ﻓﺮﻭﺷﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽﺍﺩﺍﺋﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﻣﺘﻮﺟﮧ

ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ،،،ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﻮﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﺗﻮﺟﮧﺗﻮ ﺩﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﺗﮏ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﻟﻮﮒﺁﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺑﻨﺎ ﮔﺰﺭﺟﺎﺗﮯ، ﺧﯿﺮ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡﮐﮭﮍﮮ ﮐﮭﮍﮮ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺷﺎﻡ ﮨﻮﮔﺌﯽ، ﻭﮦ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻟﺒﺮﺩﺍﺷﺘﮧ ﮨﻮﮐﺮ ﮔﮭﺮﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﻗﺪﻡ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ !!!ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﭘﺎﯾﺎ، ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ “ﺑﯿﭩﯽ ﺗﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ؟؟؟ﻟﮍﮐﯽ ﻧﮯ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﻣﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎﮐﮧ “ﺍﺑﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﺑﻠﮑﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﻧﮑﻞﭘﮍﯼ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﺗﮏﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ !!!ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ،،،”ﺑﯿﭩﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﯿﺮﯼﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﮯ !!!ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﻮ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻧﻈﺮﺷﮩﻮﺕ ﮐﯽ ﺑﯿﺞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺁﺝ ﺗﻢ ﺑﭽﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮐﻞ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﻭﻻﺩﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭہے گی

وزیر کو کتوں کے آگے پھینگ دیا جائے

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے, اس کے وزیروں میں سے جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھنکوا دیتا کتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر مار دیتے- ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ دے دیا جو بادشاہ کو بلکل پسند نہیں آیا اس نے فیصلہ سنایا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے- وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپ کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہیں اور آپ ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں, آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بےلوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں میں پھنکوا دیں۔

بادشاہ یہ سن کر دس دن کی مہلت دینے پر راضی ہو گیا- وزیر وہاں سے سیدھا رکھوالے کے پاس گیا جو ان کتوں کی حفاظت پر مامور تھا اور جا کر کہا مجھے دس دن ان کتوں کے ساتھ گزارنے ہیں اور ان کی مکمل رکھوالی میں کرونگا, رکھوالا وزیر کے اس فیصلے کو سن کر چونکا لیکن پھر اجازت دے دی۔ ان دس دنوں میں وزیر نے کتوں کے کھانے پینے, اوڑھنے بچھونے, نہلانے تک کے سارے کام اپنے ذمے لیکر نہایت ہی تندہی کے ساتھ سر انجام دیئے-دس دن مکمل ہوئے بادشاہ نے اپنے پیادوں سے وزیر کو کتوں میں پھنکوایا لیکن وہاں کھڑا ہر شخص اس منظر کو دیکھ کر حیران ہوا کہ آج تک نجانے کتنے ہی وزیر ان کتوں کے نوچنے سے اپنی جان گنوا بیٹھے آج یہی کتے اس وزیر کے پیروں کو چاٹ رہے ہیں-بادشاہ یہ سب دیکھ کر حیران ہوا اور پوچھا کیا ہوا آج ان کتوں کو ؟ وزیر نے جواب دیا, بادشاہ سلامت میں آپ کو یہی دکھانا چاہتا تھا میں نے صرف دس دن ان کتوں کی خدمت کی اور یہ میرے ان دس دنوں میں کئے گئے احسانات بھول نہیں پا رہے, اور یہاں اپنی زندگی کے دس سال آپ کی خدمت کرنے میں دن رات ایک کر دیئے لیکن آپ نے میری ایک غلطی پر میری ساری زندگی کی خدمت گزاری کو پس پشت ڈال دیا۔۔۔ بادشاہ کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا, اس نے وزیر کو اٹھوا کر مگرمچھوں کے تالاب میں پھنکوا دیا نوٹ: جب مینیجمنٹ ایک بار فیصلہ کر لے کہ آپ کی بجانی ہے تو بس بجانی ہے۔

چینی ڈاکٹر نے کہا میں آپکے نبیﷺسے ملنا چاہتاہوں

ایک چینی ڈاکٹر ایک دن مسجد میں گیا اس نے دیکھا کہ ایک مسلمان منہ ہاتھ دھو رہا ہے۔ وہ مسلمان کے پاس گیا اور پوچھا کہ جس طریقے سے آپ منہ ہاتھ دھو رہے تھے یہ طریقہ آپ کو کس نے سکھایا ہے۔ مسلمان نے جواب دیا ہم اس طرح منہ ہاتھ دھونے کو وضو کہتے ہیں اور یہ طریقہ ہمارے نبی اکرمؐ نے ہم کو سکھایا ہے ہم دن میں پانچ بار وضو کرتے ہیں۔ اس نے کہا کہ میں آپ کے نبیؐ سے ملنا چاہتا ہوں وہ کہاں رہتے ہیں۔وہ شخص بولا ان کا تو چودہ سو سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ وہ بولا میں چینی طریقہ علاج کا ماہر ڈاکٹر ہوں۔ ہم جانتے ہیں قدرت نے انسان کے جسم میں کھال کے نیچے چھیاسٹھ

مقامات پر ایک خاص طریقے سے مساج کیا جاتا ہے جس جاتا ہے جس سے پچاس سے زیادہ بیماریوں کا موثر علاج ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ آپ جس طریقے سے وضو کر رہے تھے اس میں آپ نے وضو کے دوران جسم کی ایسی باسٹھ جگہوں پر ہاتھوں سے مساج کیا جہاں قدرت نے سوئچ نصب کر رکھے ہیں اور دن میں پانچ دفعہ وضو کرنے کی وجہ سے آپ کی بہت سی بیماریاں خود بہ خود غیر محسوس طور پر آپ کے جسم سے رفع ہوتی رہتی ہیں جس کا آپ کو احساب بھی نہیں ہوتا۔ میرا خیال تھا کہ جس شخص نے آپ کو وضو کا یہ طریقہ سکھایا وہ یقیناً انسانیت کا درد دل میں رکھنے والا ایک عظیم محقق اور علم طب کا ماہر ہوگا۔حضرت عبد اللہ صنابحى (رضی اللہ عنہ) کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بندۂ مومن جب وضو کرتا اور اس میں کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ؛ اور جب ناک میں پانی ڈال كر اسے جهاڑتا ہے تو اس کے ناک کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ؛ اور جب چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ؛ اور جب دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ؛

اور جب اپنےسر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں ؛ اور جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ۔ فرمایا:پھر اس کا مسجد جانا اور نماز پڑھنا اس پر مزید ہوتا ہے۔

وہ بیماریاں جن پر حضورﷺ نے کہا انہیں بُرانہ سمجھو

رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ چار امراض کیلئے چار امراض کو برا نہیں سمجھنا چاہئے۔   1.آنکھ کا دُکھنا اندھے ہونے سے محفوظ رکھتا ہے . 2. زکام کا ہونا برص کے روگ سے نجات دیتا ہے . 3. کھانسی کا ہونا فالج سے محفوظ رکھتا ہے . 4. پھوڑے پھنسی ہو جانے سے کئی بڑے امراض سے نجات ملتی ہے

میرے پاس رزق خود چل کر آتاہے

کسی گاؤں میں ایک نو جوان رہتا تھا۔ پڑھائی لکھائی جب ختم ہوئی تو والدین نے نوکری کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ کئی مہینے وہ نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا لیکن کہیں نوکری نہ ملی۔ایک دن تھک ہار کر خود سے بولا، رزق تو اللہ کی ذات نے دینا ہے۔ اب میں نوکری کی تلاش میں نہیں پھروں گا بلکہ سکون سے زندگی گزاروں گا۔ اللہ رازق ہے تو گھر بیٹھے ہی رزق دے گا۔اسی سوچ کے ساتھ یہ جوان صبح کی سیر کے لئے نکلا ،سیر کے بعد گاؤں کے قریب سے گزرنے والی نہر کےجا کر بیٹھ گیا۔ابھی بیٹھے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ دیکھا ایک پتہ نہر میں نیچے کی طرف بہتا ہوا آ رہا ہے۔

چھلانگ لگا کر پتہ پکڑا تو یہ کیا دیکھتا ہے کہ پتے پر دو نان اور ان پر حلوہ پڑا تھا۔واہ خدایا! واقعی رزق تو کھانے والے تک خود پہنچتا ہے۔ حلوہ کھایا بہت لذیذ تھا، پیٹ بھر کر واپس گھر آ گیا،ظہر کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا۔ ایک بار پھر حلوہ اور نان پتے پر آتے نظر آئے، اٹھائے اور کھا لئے۔مغرب کی نماز کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا۔ اس بار بھی وہی ہوا۔واہ! رات کے کھانے کا انتظام بھی ہو گیا۔اب روزانہ فجر، ظہر اور مغرب کی نماز کے بعد نہر کنارے جا کر بیٹھ جاتا اور بلا ناغہ نان اور حلوہ مل جاتے۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ایک دن خیال آیا کہ دیکھوں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح یہ نان اور حلوہ بھجواتا ہے. اسی سوچ میں صبح کی نماز کے بعد نہر کی اوپری طرف چل پڑا۔ کچھ کلومیٹر ہی گیا ہو گا کہ دیکھا، ایک بابا جی ہیں جو نان اور حلوہ لئے نہر کنارے بیٹھے ہیں۔قریب جا کر دیکھا۔۔ تو بابا جی نان کے اندر حلوہ رکھتے اور پھر اس گرم گرم حلوے سے اپنی ٹانگ پر نکلے ایک پھوڑے کو ٹکور کرتے، پھر ایک پتے پر نان اور حلوہ رکھ کر نہر میں بہا دیتے۔جوان کا دل ایک دم خراب ہونا شروع ہو گیا۔ ابکائیاں آنے لگیں کیا میں اتنے دنوں سے یہ حلوہ اور نان کھا رہا تھا؟بابا جی سے پوچھا یہ ماجرا کیا ہے؟بابا جی بولے:کئی دنوں سے یہ پھوڑا نکلا ہوا تھا۔

جس کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔ حکیم کے پاس گیا تو حکیم نے مشورہ دیا کہ روزانہ دن میں تیں بار سوجی کے حلوے کو نان پر رکھ کر اس کی ٹکور کروں، سو میں فجر، ظہر اور مغرب کے بعد ادھر آ جاتا ہوں۔نان اور حلوے کی ٹکور کے بعد نان اور حلوے کو پتے پر رکھ کر نہر میں بہا دیتا ہوں تاکہ خراب ہونے کی بجائے چرند پرند اور مچھلیاں ہی کھا لیں۔بے شک اللہ رازق ہے۔ رزق اللہ نے ہی دینا ہے، محنت اور کاہلی کے درمیان پھل کا فرق ہے۔جو محنت کرتے ہیں انھیں پاک اور صاف رزق ملتا ہے۔ جو کاہلی میں وقت گزارتے ہیں اور حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، رزق تو انہیں بھی ملتا ہے مگر وہ رزق جس میں کراہت اور گندگی ہو۔

مچھلی کے شوقین حضور اکرم ﷺ کا ارشاد پڑھ لیں

مچھلی کے فوائد بے شمار ہیں مچھلی کی کئی اقسام ہیں لیکن اس کی ہر قسم جداطبی خصوصیات کی شامل ہے،طب نبویﷺ میں بھی مچھلی کے طبی فوائد کا ذکر ملتا ہے،حضور اکرمﷺ نے بے پناہ غذائی اور طبی فوائد کی وجہ سے ہی مچھلی کے گوشت کی خاص طور پر اجازت عطا فرمائی،سفید مچھلی میں چکنائی بہت کم ہوتی ہے جبکہ تیل والی مچھلی میں غیر سیر شدہ چکنائی کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے جو کہ کولیسٹرول کے تناسب کو خود بخود کم کردیتی ہے، اس لئے اس مچھلی کا استعمال انسانی صحت کےلئے بہتمفید ہے۔ ایک واقعہ تو بہتمشہور ہے۔حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے حدیث مروی ہے”رسول اللہﷺ نے ہم کو تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارے کمانڈرحضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ تھے۔

 جب ہم ساحل بحر تک پہنچے تو ہمیں شدید بھوک نےآلیا اور اس بھوک میں ہم نے درختوں کے پتے جھاڑ کر کھائے۔اتفاق سے سمندر کی موجوں نے ایک عنبر نامی مچھلی پھینکی‘ جس کو ہم نے ۵۱ دن تک کھایا‘ اور اس کی چربی کا شوربہ بنایا‘ جس سے ہمارے جسم فربہ ہوگئے‘حضرت ابو عبیدہؓ نے اس مچھلی کی ایک پسلی کو کھڑا کیا اور ایک شخص کو اونٹ پر سوار کرکے اس پسلی کی کمان کے نیچے سے گزارا تو اس کے نیچے سے وہ باآسانی گزرگیا“  امام احمد بن حنبلؒ نے اور ابن ماجہؒ نے اپنی سنن میں حضرت عبداللہ بن عمرؓکی روایت میں کہا ہے ”نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہمارے لئے دو مرد اور دو خون حلال کئے گئے مچھلی اور ٹڈی‘ جگر اور طحال بستہ خون“مچھلی کو عربی میں سمک کہتے ہیں، اس کا گوشت اور تیل دل کے امراض کولیسٹرول ، موٹاپا، ڈپریشن، کینسر، جلد، زخم اور دوسرے بہت سے امراض میں مفید ہے، مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا دل کے امراض مٰن ایک بہت مفید چیز ہے، مچھلی کا تیل ماں کے پیٹ میں بچے کی آنکھوں اور دماغ کی نشو ونما میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔