ایک سنار کے انتقال کے بعد اس کا خاندان مصیبت میں پڑ گیا

ایک سنار کے انتقال کے بعد اس کا خاندان مصیبت میں پڑ گیا.کھانے کے بھی لالے پڑ گئے.ایک دن اس کی بیوی نے اپنے بیٹے کو نیلم کا ایک ہار دے کر کہا ‘بیٹا، اسے اپنے چچا کی دکان پر لے جاؤ.کہنا یہ بیچ کر کچھ پیسے دے دیں.بیٹا وہ ہار لے کر چچا جی کے پاس گیا.چچا نے ہار کو اچھی طرح دیکھ اور پرکھ کر کہا بیٹا، ماں سے کہنا کہ ابھی مارکیٹبہت مندا ہے.تھوڑا رک کر فروخت کرنا ، اچھے دام ملیں گے.اسے تھوڑے سے روپے دے کر کہا کہ تم کل سے دکان پر آکر بیٹھنا.اگلے دن سے وہ لڑکا روز مرہ دکان پر جانے لگا اور وہاں ہیروں و جواہرات کی پرکھ کا کام سیکھنے لگا۔

ایک دن وہ بڑا ماہر بن گیا.لوگ دور دور سے اپنے ہیرے کی پرکھ کرانے آنے لگے.ایک دن اس لگے.ایک دن اس کے چچا نے کہا، بیٹا اپنی ماں سے وہ ہار لے کر آنا اور کہنا کہ اب مارکیٹ میں بہت تیزی ہے،اس کے اچھے دام مل جائیں گے.ماں سے ہار لے کر اس نے پرکھا تو پایا کہ وہ تو جعلی ہے.وہ اسے گھر پر ہی چھوڑ کر دکان لوٹ آیا.چچا نے پوچھا، ہار نہیں لائے؟ اس نے کہا، وہ تو جعلی تھا.تب چچا نے کہا جب تم پہلی بار ہار لے کر آئے تھے، اسوقت اگر میں نے اسے جعلی بتا دیا ہوتا تو تم سوچتے کہ آج ہم پر برا وقت آیا تو چچا ہماری چیز کو بھی جعلی بتانے لگے.آج جب تمہیں خود علم ہو گیا تو پتہ چل گیا کہ ہار نقلی ہے.سچ یہ ہے کہ علم کے بغیر اس دنیا میں ہم جو بھی سوچتے، دیکھتے اور جانتے ہیں، سب غلط ہے.اور ایسے ہی غلط فہمی کا شکار ہو کر رشتے بگڑتے ہیں.ذرا سی رنجش پر، نہ چھوڑ کسی بھی اپنے کا دامن.زندگی گزر جاتی ہے، اپنوں کو اپنا بنانے میں ۔

فیس بُک کی لڑکی اور سرکاری نلکا

ایک نوجوان نے اپنی گرل فرینڈ سے پو چھا “تم فیس بک استعمال کرتی ہو؟” لڑکی نے رسانیت سے جواب دیا”نہیں جانو! میں کو ئی کر یم نہیں استعمال کر تی،” لڑکے نے پھر پوچھا “اور وائبر کے بارے میں کیا خیال ہے ؟لڑکی نے جواب دیا “وائپر سے زیادہ اچھی تو تنکوں والی جھاڑو ہے جو زیادہ بہتر طریقے سے پانی خشک کر تیہے “لڑکے کا دل بیٹھا جارہا تھا اس نے آخری ٹرائی کے طور پر پوچھ ہی لیا “کیا واٹس ایپ چلا لیتی ہو:لڑکی گویا ہو ئی :نہیں ، تم چلا لینا میں پیچھے بیٹھ جا ؤنگی” نوجوان نے حسرت بھری نظر ڈالی اوراور دل ہی دل میں آخری سلام بھیج کر الٹے پیروں رخصت ہو گیا ، اسی طرح کچھ زیادہ ہی پڑھی لکھی خاتون نے اپنے دوست سے فرمائشی انداز میں پوچھا کیا تم میرا فیس بل اکا ؤنٹ کھلوا دو گے پلیز؟: لڑکے نے بھی جوابی چاہت بھرے اندازمیں کہا ” ہاں ہاں کیوں نہیں” اگلی بار لڑکی نے حد ہی کردی ،بڑی معصومیت سے پوچھا” پھر میں اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروا سکوں کی گی نا؟”لڑکا پڑھی لکھی لڑکی کو ہکا بکا دیکھتا رہ گیا۔

اسی طرح ایک جگہ رشتہ دیکھنے کی رسم میں لڑکی کے والدین نے لڑکے سے پوچھا” کیوں بیٹا کیا کر تے ہو” لڑکے نے بڑے ادب سے جواب دیا” لڑکے نے بڑے ادب سے جواب دیا ” جی میں ایڈمن فیلڈ میں ہو تا ہوں” لڑکی کے والدین نے کہا “بہت خوب، کس کمپنی میں ؟” لڑکے نے جواب دیا : جی ” فیس بک پر 10گروپس کا ایڈمن ہوں ”معاملہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا ڈیئر، اسی فیس بک کھلاڑی کو جب تنگ آکر باپ نے جلی کٹی سنائی اور کہا کہ “کم بخت چھوڑ دے پیچھا اس فیس بک کا اس سے تمھیں کھانے کیلئے روٹی نہیں ملنی”لڑنے ترنت جواب دیا “تو کیا ہوا روٹی پکانی والی تو مل جائے گی نا” اب ہماری بپتا بھی سن لیں، رات جب فیس بک اسٹیٹس اپ ڈیٹ کیا کہ “آج چھت پر سوؤں گا” تو اگلے پانچ منٹ میں 70مچھروں نے لائیک بھیجے” جب گرل فرینڈ کو فیس بک پیغام بھیجنے کے مگن بے دھیانی سے سڑک پار کرتا نوجوان گاڑی تلے آکر کچلا گیا، تو اس کی میت پر بین کرتی گرل فرینڈ جب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تو دیکھنے والو ں سے بھی برداشت نہ ہو سکا ، پاس موجود لوگ جب لڑکی کو دلاسہ دینے لگے تو لڑکی نے جھٹ آنسو پونچھے اور فوری سیلفی لیکر ” بوائے فرینڈ ودھ می ایٹ قبرستان ” کا ٹیگ لگایا اور فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ کردیا، اسی طرح ایک صاحب کی بیگم کا انتقال ہو گیا پرسہ دینے والوں میں بیٹھے تھے کہ اچانک کچھ خیال آیا اور بچوں سے گویا ہو ئے۔

” ذرا میرا لیپ ٹاپ تو لادو میں اپنا اسٹیٹس تو سنگل کردوں ”ہمارے ایک پیارے دوست کہتے ہیں کہ فیس بک کی لڑکی اور سرکاری نلکا کسی ایک کا نہیں ہو تا، خود کو اسٹیٹس اپ لوڈ کرنے میں اتنا مشغول نہ رکھو کہ سامنے سے لڑکی گزر جائے اور پتہ ہی نہ چلے ۔آخری بات جسے نصیحت سمجھیں یا فصیحت مرضی ہے آپ کی ، ہمیں اللہ پر بھروسا رکھنا چاہئے کہ اللہ وہ نہیں دیتا جو ہمیں اچھا لگتا ہے بلکہ اللہ وہ دیتا ہے جو ہمارے لئے اچھا ہو تا ہے ۔شکریہ

رات کو سونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا یہ اسم مبارک پڑھ لیں

انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں ، اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنا مسلمان کیلئے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کی دنیا میں آزمائش کیلئے اس کے سامنے کئی امتحان رکھے وہیں ان امتحانات سے سرخرو ہونے کا طریقہ بھی بتایا۔ بیماری ہو یا کوئی اور مسئلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی فرمائی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ نے دنیا میں کوئی ایسا مرض نہیں اتارا جس کا علاج نہ اس کے ساتھ پیدا فرمایا ہو سوائے مرض الموت کے ہر مرض کی شفا رکھ دی گئی ہے۔ ہماری روز مرہ میں اتار چڑھائو معمول کا حصہ ہیں۔ معاشی پریشانیاں بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو آزمانے کا سبب ہیں تاکہ بندہ اللہ کی ہر حالت میں شکر گزاری کا عادی ہو اور اچھے اور برے دونوں حالات کو رب کی طرف سے سمجھ کر شکر ادا کرے۔اللہ تعالیٰ کے 99اسم مبارک ہیں ۔ ہر اسم مبارک اپنے اندر الگ تاثیر کا حامل ہے۔

اسلم مبارکہ کے وظائف جہاں روحانی معاملات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں وہیں دنیاوی مشکلات سے بھی چھٹکارا دلانے کا باعث ہیں۔ گھریلو اور کاروباری زندگی میں اتار چڑھائو آنے کی صورت میں نماز عشا کے بعد اول و آخر درود شریف کے ساتھ تین سو تین بار ’’یا مجیب یا وہاب‘‘پڑھیں اور بعد از تسبیح اسم مبارکہ اللہ سے نہایت خلوص اور درمندانہ اندازمیں اپنی مشکلات دور اور حاجات پوری فرمانے کی دعا کریں انشااللہ آپ کی دعا اللہ تعالیٰ کےہاں مقبول ٹھہرے گی۔نوٹ: وظیفے کیلئے ہی صرف نماز نہ پڑھیں بلکہ پنج گانہ نماز کو اپنی عادت بنائیں۔ حضرت علیؓ کا قول مبارک ہے کہ جب میری خواہش ہوتی ہے کہ میں اپنے رب سے گفتگو کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں اور جب میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ میرا رب مجھ سے گفتگو فرمائے تو میں تب بھی نماز پڑھتا ہوں۔ حدیث شریف کا مفہوم ہےکہ ایککافر اور مسلمان میں فرق صرف نماز کا ہے۔ نماز نہ صرف خود ادا کریں بلکہ گھر میں خواتین اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کریں۔ نمازنہ صرف ذہنی، قلبی سکون کا باعث ہے بلکہ گھر کے ماحول کو بھی پرسکون اور رحمتوں کے نزول کا باعث بنتی ہے انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں ، اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنا مسلمان کیلئے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کی دنیا میں آزمائش کیلئے اس کے سامنے کئی امتحان رکھے وہیں ان امتحانات سے سرخرو ہونے کا طریقہ بھی بتایا۔

بیماری ہو یا کوئی اور مسئلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی فرمائی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ نے دنیا میں کوئی ایسا مرض نہیں اتارا جس کا علاج نہ اس کے ساتھ پیدا فرمایا ہو سوائے مرض الموت کے ہر مرض کی شفا رکھ دی گئی ہے۔ ہماری روز مرہ میں اتار چڑھائو معمول کا حصہ ہیں۔ معاشی پریشانیاں بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو آزمانے کا سبب ہیں تاکہ بندہ اللہ کی ہر حالت میں شکر گزاری کا عادی ہو اور اچھے اور برے دونوں حالات کو رب کی طرف سے سمجھ کر شکر ادا کرے۔اللہ تعالیٰ کے 99اسم مبارک ہیں ۔ ہر اسم مبارک اپنے اندر الگ تاثیر کا حامل ہے۔اسلم مبارکہ کے وظائف جہاں روحانی معاملات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں وہیں دنیاوی مشکلات سے بھی چھٹکارا دلانے کا باعث ہیں۔ گھریلو اور کاروباری زندگی میں اتار چڑھائو آنے کی صورت میں نماز عشا کے بعد اول و آخر درود شریف کے ساتھ تین سو تین بار ’’یا مجیب یا وہاب‘‘پڑھیں اور بعد از تسبیح اسم مبارکہ اللہ سے نہایت خلوص اور درمندانہ اندازمیں اپنی مشکلات دور اور حاجات پوری فرمانے کی دعا کریں انشااللہ آپ کی دعا اللہ تعالیٰ کےہاں مقبول ٹھہرے گی۔نوٹ: وظیفے کیلئے ہی صرف نماز نہ پڑھیں بلکہ پنج گانہ نماز کو اپنی عادت بنائیں۔

حضرت علیؓ کا قول مبارک ہے کہ جب میری خواہش ہوتی ہے کہ میں اپنے رب سے گفتگو کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں اور جب میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ میرا رب مجھ سے گفتگو فرمائے تو میں تب بھی نماز پڑھتا ہوں۔ حدیث شریف کا مفہوم ہےکہ ایککافر اور مسلمان میں فرق صرف نماز کا ہے۔ نماز نہ صرف خود ادا کریں بلکہ گھر میں خواتین اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کریں۔ نمازنہ صرف ذہنی، قلبی سکون کا باعث ہے بلکہ گھر کے ماحول کو بھی پرسکون اور رحمتوں کے نزول کا باعث بنتی ہے۔

حضورﷺ کا صحابہ کو بتایا ہوا طاقتور وظیفہ

میں آپ سے ایسی بات شئیرکرناچاہتا ہوں جس کی مجھے بھی ظرورت ہے ہرکلمہ گو کو بھی ظرورت ہے جس نے اللہ اوراللہ کے رسول ﷺ پر ایمان لایا اس کے لئے ظروری ہے کہ ان کے حکموں کا بھی پابند رہے اللہ کے حکم کومانے اس کےاوپرعمل کرے محمد ﷺ کے ہرطریقے کوہرادا کودل کی گہرائیوں سے محبت کے ساتھ تسلیم کرے۔ حضوراکرمﷺ کے پاس صحابہ بھی جاتے تھے پریشانیوں کو بھی لے کرجاتے تھے معاملات کے حل کے لئے بھی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے مسائل پوچھنے کےلئے بھی جاتے تھے اورزندگی گزارنے کے طریقے معلوم کرتے تھے تو آپ ﷺ نے ایک غریب آدمی سے لے کر بادشاہ تک ہرآدمی کے زندگی گزارنے کے طریقے بتائے کوئی آدمی جاتا کہ ہمارے گھر کے اندررزق کی تنگی ہے۔

کاروبار نہیں ہے پریشان ہیں توآپ ﷺ کیا بتاتے فرمایا کرتے تھے سورہ واقعہ پڑھ لیا کرو یہ سورہ واقعہ ستائیسویں سپارے کہ اندر ہے۔ اورپھریہ کہتے تھے کہ میرا دل چاہتا ہے میرے ہرامتی کے سینے کے اندر یہ سورہ محفوظ ہوجائے اوربہت سارے صحابہ کے واقع بھی ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بہت جليل القدر صحابی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنے دورے خلافت میں ان کا جو مہانہ معاوضہ تھا ان کی جو تنخواہ تھی وہ روک دی اوردل میں سوچا کہ وہ میرے پاس آئیں گے اور آ کے میرے پاس مطالبہ کریں گے کہ میرے کام کا معاوضہ کیوں نہیں دیاجب انہیں پتہ چلا کہ فارق اعظم رضی اللہ عنہ نے میرا مہینہ کا معاوضہ روک دیا ہے بند کردیا ہے فوراً اپنے گھرگئے جا کر بچیوں سے کہا کہ آج کے بعد تم سب نے سورہ واقعہ پڑھنی ہے انہوں نے پڑھنی شروع کردی چھ مہینے گزرگئے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ انتظار کررہے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائیں گے اورآ کر مجھے کہیں گے کہ آپ نے میرا معاوضہ کیوں روکا وہ گئے نہیں اورآخر کارفاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو خود بلانا پرا اور بلایا اورپوچھا کیا آپ نے اپنے لیے کوئی اسٹاک جمع کر کے رکھا تھا چھ مہینے ہوگئے آپ نے کوئی رابطہ ہی نہیں کیا میرے ساتھ توانہوں نے فرمایا جیسے ہی مجھے پتہ چلا کہ آپ نے میری تنخواہ بند کردی تو میں نے گھر میں بچیوں سے جا کر بتایا کہ یہ حضورنبی اکرم ﷺ کا بتایا ہواعمل ہے کوئی معمولی چیز نہیں سورہ واقعہ پڑھو اللہ اس کی برقت سے مجھے روزے دے رہے ہیں تم نے اپنا دروازا بند کیا لیکن اللہ نے تو نہیں بند کیا وہ دروازا توکھلا ہے توآپ گھر کے اندر تمام افراد مل کر جو بھی قرآن پاک پڑھا ہوا ہے سورہ واقعہ رات کو پڑھ لیا کریں آپ مغرب کے بعد پڑھ لیں عشاء کے بعد پڑھ لے رات کو سونے سے پہلے پڑھ لیں آپ یہ معمول بنا لیں گے تو انشاء اللہ تعالی آپ کے گھروں کے اندر رزق کی تنگی کبھی بھی نہیں ہوگی اوردوسری بات یہ سمجھے جو بات آدمی کہتا ہے اس بات پراس کا عمل ہوتواس کا فائدہ بھی زیادہ ہے ایک تو قرآن پاک پڑھنے کا ثواب وہ تو مستقل ہے ہی ہے۔

دس گناہ معاف ہوتے ہیں دس درجات بلند ہوتے ہیں اورنام اعمال میں دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ اللہ دنیا کی پریشانی کو بھی دورکردیتے ہیں آپ اپنے بچوں سے بھی کہیں اس سورہ کو پڑھنے کے لئے اور خود بھی پڑھیں یہ نہیں کے گھر میں صرف ایک آدمی ہی پڑھ رہا ہے سارے پڑھیں اگرایک آدمی پڑھے گا تواس کا بھی فائدہ ہے لیکن اگر سارے گھر کے پڑھیں گے تواس کا اورفائدہ بڑھ جائے گا اس لئے اس وظیفہ پراس لئے عمل کریں کہ یہ وظیفہ ہمارے پیارے بھیﷺ کا بتایا ہوا ہے عام آدمی کا بتایا ہوا نہیں ہے اورمیں آمید کرتا ہوں آپ سب اس پرعمل کو ظرورکریں گے اوراس وظیفہ کوزیادہ سے زیادہ شئیربھی کریں گے جوجو بھی آپ کی یہ بات سن کرعمل کریں گے ان کا بھی فائدہ ہوگا اورآپ کا بھی فائدہ ہوگا انسان لالچی ہے دنیا کے فائدے کے لئے تولالچ کرتا ہے آخرت کے فائدے کے لئے لالچ کرو جو فائدہ ہمیشہ کے لئے ہے دنیا میں کچھ مل بھی گیا توعارضی کے لئے ہے اس لیے یہی اللہ تعالی سے مانگیں کہ اللہ دنیا میں بھی اپنی نعمتوں سے سرفرازفرما اورآخرت کی نعمتوں سے بھی مالامال فرما۔

ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد ذہین ہو۔

ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد ذہین ہو۔ اب سائنسدانوں نے حاملہ خواتین کو ایک ایسا آسان طریقہ بتا دیا ہے جس پر عمل کرکے وہ اپنی اس خواہش کی تکمیل کر سکتی ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”جو خواتین دوران حمل ناشتے میں فرائی انڈا کھائیں ان کے پیٹ میں موجود بچے کے ذہن کی نشوونما بہترین ہوتی ہے اور وہ دوسرے بچوں کی نسبت کہیں زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔“اب تک تلی ہوئی چیزوں کو نقصان دہ خیال کیا جاتا تھا لیکن سائنسدانوں کی اس تحقیق نےتمام اندازے غلط ثابت کر دیئے ہیں۔

امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 24بچوں کی ذہانت کے ٹیسٹ لیے اور دوران حمل ان کی ماﺅں کی خوراک کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر میری کاﺅڈل کا کہنا تھا کہ ”جو خواتین دوران حمل، بالخصوص آخری تین ماہ میں، فرائی انڈا باقاعدگی سے کھاتی رہی تھیں ان کے بچوں نے ذہانت کے ٹیسٹ میں انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان بچوں کا آئی کیو لیول ان بچوں کی نسبت کہیں زیادہ تھا جن کی مائیں انڈے سے پرہیز کرتی رہیں۔اس کی وجہ فرائی انڈے میں پایا جانے والی غذائی جزو کلوئین (Chloine)ہے۔ جو خواتین دوران حمل اس جزو کی حامل دیگر غذائیں استعمال کریں ان کے بچے بھی اس کے فوائد سے تمام عمر مستفید ہوتے رہیں گے۔ انڈے کی زردی کے علاوہ یہ جزو سرخ گوشت اور مچھلی میں بھی کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے۔“

بواسیر کی علامت اور

بواسیر ( Piles ) کا مرض پاکستان میں عام ہے ۔ جلد توجہ نہ دینے اور ٹوٹکے کرنے سے اکثر مریض مرض کو پیچیدہ کر لیتے ہیں یہاں تک کہ معاملہ عمل جراحی تک جا پہنچتا ہے ۔ اگر بر وقت علاج معالجہ کیا جائے اور حفاظتی تدابیر و احتیاط کر لی جائے تو مرض پر آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے بواسیر کی اقسام بواسیر کی دو اقسام ہیں بواسیر خونی اور بواسیر بادی پہلی قسم میں خون آتا ہے جبکہ ثانی الذکر میں خون نہیں آتا ، جبکہ باقی علامات ایک جیسی ہوتی ہے بواسیر کس طرح ہوتی ہے ؟ گردش خون کے نظام میں دل اور پھیپھڑوں سے تازہ خون شریانوں کے ذریعے جسم کے تمام اعضاءکو ملتا ہے ، اس کے ساتھ آکسیجن فراہم کرتا ہے ۔ پھر ان حصوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ والا خون واپس دل اور پھیپھڑوں تک وریدوں کے ذریعے پہنچتا ہے ۔

مقعد میں خاص قسم کی وریدوں میں راستہ ( Valves ) نہ ہونے کی وجہ سے ان وریدوں میں خون اکٹھا ہو کر سوزش پیدا ہو جاتی ہے جو کہ بواسیر کہلاتی ہے ۔ اس طرح یہ مرض ہو جاتا ہے اور مناسب تدابیر نہ کی جائیں تو وریدیں اس قدر کمزور ہو جاتی ہیں کہ تھوڑی سے رگڑ سے بھی پنکچر ہو کر خون خارج کرنے لگتی ہیں ۔ مقعد کے اوپر والے حصے کے اندر خاص قسم کے خلیوں کی چادر ہوتی ہے جو کہ بہت حساس اور ( Painless ) ہوتی ہے جب کہ مقعد کا نچلے والا حصہ جلد کا ہوتا ہے اور اس میں درد محسوس کرنے والے خ لیے ہوتے ہیں ۔ مقعد میں بڑی اور چھوٹی وریدوں کے باعث موہکے ( مسے ) بھی ان کی پوزیشن پر ہوتے ہیں ۔ بواسیر کے تین چھوٹے اور تین بڑے موہکے ہوتے ہیں بواسیر کے اسبابعموما یہ مرض موروثی ہوتا ہے ۔ مستقل قبض کا رہنا بھی اس کا اہم سبب ہوتا ہے ۔ خواتین میں دوران حمل اکثر قبض کا عارضہ ہو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مقعد کے پٹھوں میں کھچاؤ ، گرم اشیاءمصالحہ جات کا بکثرت استعمال ، خشک میوہ جات کی زیادتی ، غذا میں فائبر ( ریشہ ) کی کمی سے بھی مقعد میں دباؤ بڑھ کر وریدوں میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے ۔ وہ لوگ جو دن بھر بیٹھنے کا کام کرتے ہیں اور قبض کا شکار ہو جاتے ہیں وہ بھی عموماً بواسیر کے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں علاماتمقعد میں خارش ، رطوبت اور درد کا ہونا ، اجابت کا شدید قبض سے آنا ، رفع حاجت کے دوران یا بعد میں خون کا رسنا ، قبض کی صورت تکلیف کا بڑھ جانا اور مقعد پر گاہے گاہے موہکوں کا نمایاں ہونا شامل ہے ۔

موہکے بعض دفعہ باہر نہیں آتے صرف اندر ہوتے ہیں بعض مریضوں میں رفع حاجت کے وقت باہر آ جاتے ہیں جس سے درد ، جلن بڑھ جاتی ہے پھر یہ موہکے از خود اندر چلے جاتے ہیں یا اندر کر دئیے جاتے ہیں ۔ بعض لوگوں میں کبھی یہ موہکے باہر ہوتے ہیں جو کسی طرح بھی اندر نہیں جاتے اور شدید اذیت کا سبب بنتے ہیں علاج :علاج یہ ہے کہ اسباب مرض پر توجہ دی جائے ۔ عموماً یہ مرض دائمی قبض کے باعث ہوتا ہے ۔ لہٰذا اول قبض کو دور کیا جائے ۔ دیکھا گیا ہے کہ قبض نہ ہونے سے مریض کو آدھا افاقہ ہو جاتا ہے پرہیزو غذا بواسیر میں پرہیز و غذا کو بڑی اہمیت حاصل ہے بڑے جانور کا گوشت ، چاول ، مصالحہ جات ، تلی ہوئی اشیاءسے مکمل احتیاط کی جائےگرم اشیاءانڈا ، مچھلی ، مرغ اور کڑاہی گوشت نہ کھایا جائے ۔ اس طرح خون آ جاتا ہے فائبر ( ریشہ دار اشیاء ) کا استعمال زیادہ کیا جائے ۔ فائبر پھلوں اور سبزیوں کی کثرت کی صورت لیا جا سکتا ہے ۔ اس طرح قبض نہ ہو گی اور بواسیر میں افاقہ ہوگا آٹا ، چوکر والا ( بغیر چھنا ) استعمال کریں اس طرح بھی آنتوں کا فعل درست ہو کر قبض رفع ہوگی اور بواسیر میں فائدہ ہوگا جو لوگ بیٹھے رہنے کا کام کرتے ہیں وہ صبح نماز فجر کے بعد اور شام کھانے کے بعد سیر کو معمول بنائیں پانی کا استعمال زیادہ کیا جائے پھلوں کا جوس بھی مناسب ہے

جن جن عورتوں میں یہ 3نشانیاں موجود ہوں ان سے فوراً شادی کر لینی چاہیے ؟

حضرت عائشہؓ ارشاد فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ جن عورتوں میں یہ نشانیاں ہوں وہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں. عورت کی بابرکت ہونے کی علامات میں سے ہے کہ ۔نمبر ایک : اس کی طرف رشتہ بھیجنے اوررشتہ منظور ہونے میں آسانی ہو ،.نمبر دو : اس کا مہر آسان ہو یعنی بہت زیادہ پحیپدہ نہ ہو .نمبر تین : اس کے ہاں بچوں کی پیدائش میں آسانی ہو .جن عورتوں میں یہ نشانیاں پائی جاتی ہیں وہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں. ”محبت” کو دعوت دی تھی ایک عورت کسی کام سے گھر سے باہر نکلی تو گھر کے باہر تین اجنبی بزرگوں کو بیٹھے دیکھا ، عورت کہنے لگی میں آپ لوگوں کو

جانتی نہیں لیکن لگتا ہے کہ آپ لوگ بھوکے ہیں چلیں اندر چلیں میں آپ لوگوں کو کھانا دیتی ہوں ان بزرگوں نے پوچھا ،کیا گھر کا مالک موجود ہے؟عورت کہنے لگی: نہیں ، وہ گھر پر موجود نہیں. انہوں نے جواب دیا : پھر تو ہم اندر نہیں جائیں گے.رات کو جب خاوند گھر آیا تو عورت نے اسے سارے معاملے کی خبر دی۔وہ کہنے لگا : انہیں اندر لے کر آؤ !عورت اُن کے پاس آئی اور اندر چلنے کو کہا ! انہوں نے جواب دیا : ہم تینوں ایک ساتھ اندر نہیں جاسکتے عورت نے پوچھا : وہ کیوں ؟ ایک نے یہ کہتے ہوئے وضاحت کی :اس کا نام ”مال” ہے اور اپنے ایک ساتھی کی طرف اشارہ کیا ، اور اس کا نام ” کامیابی ” ہے اور دوسرے ساتھی کی طرف اشارہ کیا، اور میرا نام محبت ہے، اور یہ کہتے ہوئے بات مکمل کی کہ جاؤ اپنے خاوند کے پاس جاؤ اور مشورہ کر لو کہ ہم میں سے کون اندر آئے؟ عورت نے آکر خاوند کو سارا ماجرا سنایا ، وہ خوشی سے چلا اٹھا اور کہنے لگا : اگر یہی معاملہ ہے تو ”مال ” کو اندر بلا لیتے ہیں گھر میں مال و دولت کی ریل پیل ہو جائے گی !عورت نے خاوند سے اختلاف کرتے ہوئے کہا : کیوں نہ ”کامیابی” کو دعوت دیں ؟ میاں بیوی کی یہ باتیں اُن کی بہو گھر کے ایک کونے میں بیٹھی سن رہی تھی،اُس نے جلدی سے اپنی رائے دی :کیوں نہ ہم ”محبت” کو بلا لیں اور

ہمارا گھرانہ پیار و محبت سے بھر جائے! خاوند کہنے لگا : بہو کی نصیحت مان لیتے ہیں ،جاؤ اور ”محبت” کو اندر لے آؤ۔عورت باہر آئی اور بولی :آپ میں سے ”محبت ”کون ہے وہ ہمیں مہمان نوازی کا شرف بخشے. گھر والوں کا مطلوبہ شخص اٹھا اور اندر جانے لگا تو اس کے دونوں ساتھی بھی کھڑے ہو گئے اور اس کے پیچھے چلنے لگے، عورت حیران و پریشان اُن کا منہ دیکھنے لگی.عورت نے ” مال ” اور ”کامیابی” سے کہا ؛ میں نے تو صرف ”محبت” کو دعوت دی تھی،آپ دونوں کیوں ساتھ جا رہے ہیں؟ دونوں نے جواب دیا :اگر تم نے ” مال ” یا ” کامیابی ” میں سے کسی کو بلایا ہوتا تو باقی دونوں باہر رہتے لیکن تم نے کیونکہ ” محبت ” کو بلایا ہے یہ جہاں ہو ہم اس کے ساتھ ہوتے ہیں. جہاں ” محبت ” ہو گی وہاں ” مال ” اور ” کامیابی” بھی ملیں گے. اپنے دل میں اور اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کے دلوں میں محبت پیدا کیجئے، آپ ایک کامیاب شخصیت کے مالک بن جائیں گے یاد رکھئے : اگر آپ” محبت ” کے ساتھ دوسروں سے پیش آئیں تو آپ کی مثال اس چراغ کی سی ہے جس کے گرد لوگ اندھیرے میں اکٹھے ہوجاتے ہیں

ایک فاحشہ عورت اور فقیر بازار

بغدادکے بازارمیں ایک حلوائی صبح صبح اپنی دکا ن سجارہاتھاکہ ایک فقیرآنکلاتودکاندارنے کہاکہ باباجی آئوبیٹھوفقیربیٹھ گیاحلوائی نے گرم گرم دودھ فقیرکوپیش کیافقیرنے دودھ پی کراللہ تعالیٰ کاشکراداکیااوراس حلوائی کوکہاکہ بھائی تیراشکریہ یہ کہہ کرفقیرچل پڑا۔بازارمیں ایک فاحشہ عورت اپنے دوست کے ساتھ سیڑھیوں پربیٹھ کر موسم کالطف لے رہی تھی۔ہلکی ہلکی بونداباندی ہورہی تھی بازارمیں کیچڑ تھا،فقیراپنی موج میں بازارسے گزررہاتھاکہ فقیرکے چلنے سے ایک چھینٹااڑااورفاحشہ عورت کے لباس پرگرگیا۔ جب یہ منظرفاحشہ عورت کے دوست نے دیکھاتواسے بہت غصہ آیا۔

اٹھااورفقیرکے منہ پرتھپڑ مارااورکہافقیربنے پھرتے ہوچلنے پھرنے کی تمیز نہیںفقیرنےہنس کرآسمان کی طرف دیکھااورکہامالک توبھی بڑابے نیازہےکہیں سے دودھ پلواتاہے اورکہیں سے تھپڑ مرواتاہےیہ کہہ کرفقیرآگے چل پڑا،فاحشہ عورت چھت پرجارہی ہوتی ہے تواس کاپائوں پھسلتاہےاورزمین پرسرکے بل گرجاتی ہے اس کوایسی شدیدچوٹ لگتی ہے مزیدپڑھیے:پانچ سو روپےکاجھنڈے والانوٹ اصلی ہے یابغیرجھنڈے والا،سٹیٹ بینک نے وضاحت کردیکہموقع پرہی فوت ہوجاتی ہے۔شورمچ گیاکہ فقیرنے آسمان کی طرف منہ کرکے بدعادی تھی جس کی وجہ سے یہ قیمتی جان چلی گئی فقیرابھی بازارکے دوسرے کونے تک نہیں پہنچ پائے تھے کہ لوگوں نے فقیرکوپکڑ لیااورکہاکہ فقیربنے پھرتے ہوحوصلہ بھی نہیں رکھتے ہوفقیرنے کہاکہ کیاہوامیاںلوگوں نے کہاکہ تم نے بددعادی اورعورت کی جان چلی گئی فقیرنے کہاکہ واللہ میں نے توکوئی بددعانہیں دی لوگوں نے ضدکی اورکہاکہ نہیں تیری بددعاکاکیادھراہے۔جب لوگوں نے ضدکی توفقیرنے کہاکہ اصل بات پوچھتےہومیں نے

کوئی بددعانہیں کی یہ یاروں یاروں کی لڑائی ہےلوگوں نے کہاکہ وہ کیا۔فقیرنے کہاکہ جب میں گزررہاتھااورمیرے پائوں سے چھینٹااڑااوراس عورت کے لباس پرپڑاتواس کے یارکوغصہ آیااس نے مجھے ماراتوپھرمیرے یارکوبھی غصہ آگیا

مولوی صاحب ! دل کی بات پوچھیں تو آپ سے شادی کے بعد میں نے خواہشوں کا گلا ہی گھونٹا ہے

“مولوی صاحب ! دل کی بات پوچھیں تو آپ سے شادی کے بعد میں نے خواہشوں کا گلا ہی گھونٹا ہے، شادی کرکے آئی تھی تو کئی امیدیں تھیں جو ہر گزرتے سال کے ساتھ دم توڑتی گئیں، اچھے گھر اور لباس کی خواہش کس کو نہیں ہوتی۔ پر کرائے کے مکان میں زندگی کٹ گئی اور لباس کے نام پر خیرات کے کپڑوں میں تن ڈھانپا” مولوی صاحب نے جو اپنی بیگم سے سوال کیا کہ آج کچھ ایسی دل کہ بات بتاؤ جو پہلے کبھی نہ کی ہو۔ پھر بیگم کے ایسے جواب پہ وہ تھوڑے خفا ہوئے اور کافی دیر بیگم کے چہرے کو دیکھتے رہے۔ پھر چارپائی سے اٹھ کے بولے “مانا کہ میں نے دنیا کی دولت نا کمائی ہو،

پر جو میرے اللہ نے مجھے عزت دی ہے وہی میرے لیے کسی خزانے سے کم نہیں” ” مولوی صاحب ! کیا کرنا ایسی عزت کا جس سے نا پیٹ بھرے نا تن ڈھکے، بس اب تو عادت ہوگئی ہے اسی طرح من مار کے جینے کی” بیگم کسی صورت ان سے متفق نہ ہوئی۔ “اللہ پاک نے رزق دینے کا وعدہ کیا ہے اور وہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا، اور یہ جو ہاتھ پاؤں دیے ہیں انکا صحیح استعمال کرنے سے ساری بنیادی ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں۔ اس سب کے بعد اگر کسی چیز کی انسان کو ضرورت ہے تو وہ ہے سکوں اور اطمینان۔ اور سکوں اور اطمینان بس اس ذات کی عبات میں محیط ہے۔ ایک دن تم بھی یہ بات سمجھ جاؤ گی” عصر کی اذان ہوئی اور مولوی صاحب مسجد کی طرف چل دیے۔ کافی دیر گزر گئی مولوی صاحب گھر واپس نہ لوٹے ۔ بیگم پریشان ہوئی محلے کے بچوں سے پوچھ گچھ کی پر کہیں سے کوئی خبر نہ آئی۔ قریب آدھی رات تک انتظار کے بعد مولوی صاحب کی لاش کو انکے گھر پہنچادیا گیا۔ سڑک پہ کسی گاڑی کی ٹکر لگی ، چند اجنبی لوگوں نے انھیں اسپتال پہنچایا لیکن وہ جانبر نہ ہوپائے۔ مولوی صاحب کی بیگم بیوہ ہوئی تو انکے کئی ایسے جاننے والے نکل آئے جن کے پاس بے حساب دولت تھی ، کیونکہ مولوی صاحب کے کردار اور صداقت کا پہلے ہی بول بولا تھا ، اسی لیے

انکی بیوہ پہ لوگوں کو بڑا رحم آیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مولوی صاحب کی بیوہ کرائے کے مکان سے نکل کے اپنے ذاتی گھر کی مالکن بن گئیں۔ کئی صاحب مال لوگوں نے انکا مہینہ باندھ دیا۔ اب انکے پاس گھر بھی تھا اور اچھا لباس بھی۔ زندگی چند ہی دنوں میں سکوں میں آگئی پر ایسا سکون تھا کہ پانچ وقت کی نمازی خاتون کی نمازیں قضا ہونے لگیں۔ مال و دولت کی خوشی تو تھی پر دل کا اطمینان دور دور تک میسر نہ تھا۔ جہاں عبادت کم پڑ جائے تو نحوست اسکی جگہ لے لیتی ہے اور اس کا اثر زندگی پہ نمایاں ہوتا ہے۔ ایک عرصہ بیتا تو مولوی صاحب کی بیوہ کو ان کی کہی وہ بات یاد آئی
“اطمینان اگر دولت میں ہوتا تو سکون کبھی سجدوں میں میسر نہ ہوتا”

میں تو بس استعمال کرنے کی چیز ہوں

میری ملاقات اس لڑکی سے ایک چوک پر ہوئی ، رات کا وقت تھا سوچا اکیلی کھڑی ہے گھر کیلئے لفٹ دے دیتا ہوں لیکن مجھے معلوم نہیں تھا وہ تو ایک کال گرل تھی ، گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہی وہ بولی گھر لے جانا ہے یا ہوٹل لے جانا ہے اس کے سوال پر میں بوکھلا گیا اور کہا میں نے تو ایسے ہی لفٹ دی تھی کہ گھر چھوڑ دوں گا وہ مسکرا کر بولی میری شکل پر کیا ۔۔۔۔۔ لکھا ہے سب کو معلوم ہوتا ہے رات کو سڑک کنارے کون سی لڑکیاں کھڑی ہوتی اس کی بات پر میں ہنس پڑا اور بولا کہ میں نے کبھی کسی بھی لڑکی کے بارے میں بُرا سوچا ہی نہیں، بس ایسے ہی دل کر رہا تھا کہ باتیں

کرتے ہیں پھر تم کو چھوڑ دوں گا، پھر میں نے اس سے پوچھا تمھارا نام کیا ہے کہنے لگی میرا نام جان کر کیا کرنا ہے بازاری لڑکی ہوں استعمال کی چیز ہوں جیسے ایک ٹشو پیپر ہوتا ہے استعمال کیا پھینک دیا۔ میں نے اس سے کئی سوال پوچھے بیچ بیچ میں وہ تھوڑی اداس سی ہو جاتی تھی پھر کہنے لگی سارے مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں سب کے ایک جیسے ہی سوال ہوتے ہیں تم مجھے کچھ الگ لگے تھے لیکن تم بھی ویسے ہی نکلے، اس کی بات سن کر میرے دماغ میں طرح طرح کے خیالات جنم لے رہے تھے ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا تو وہ بولی کہ ہم سے جو بھی ملتا ہےوہ ہمیشہ ہمارا نام ہی پوچھتا ہے کبھی اپنا نام نہیں بتاتا شاید اس لئے کہ کہیں بدنام نہ ہوجائیں میری جگہ تمھاری محبوبہ ہوتی تو تم سب سے پہلے اسے اپنا نام بتاتے کیا کرتے ہو کیا پسند ہے سب بتاتے تاکہ وہ تم کو یاد رکھے کیونکہ وہ تمھاری دنیا کی لڑکی ہے لیکن میں چونکہ اچھی لڑکی نہیں اس لئے تم نے اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا کیونکہ تم نے کون سا مجھے یاد رکھنا ہے ہیں میں تو ہوں ہی بھولنے کی چیز، وہ بول رہی تھی اور میرے دماغ پر ہتھوڑے چل رہے تھے شرم سے چور ہو رہا تھااس نے کہا کہ ایک بازاری عورت کو کسی نے کبھی اس معاشرے کا حصہ ہی نہیں سمجھا، کبھی اپنے جیسا بنایا ہی نہیں ،

میں نے ایک دم ٹوکا اور کہا کہ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے میں نے تم کو بُرا نہیں سمجھا تو وہ ہنس پڑی اور بولی اچھا چلو پھر اپنی امی سے ملوانے چلو اس کے اچانک اس سوال پر میری تو جان ہی نکل گئی وہ ہنس کر بولی ارے مذاق کر رہی ہوں مجھے معلوم ہے یہ سب باتیں ہوتی ہیں اچھا بولنے اور اچھا کرنے میں فرق ہوتا ہے پھر بولی میری جگہ تمھاری گرل فرینڈ ہوتی تو تمھارا رویہ کچھ اور ہونا تھابس فرق یہ ہے کہ میں ایک بدنام لڑکی ہوں لیکن دل تو میرے پاس بھی ہے اچھا برا مجھے بھی محسوس ہوتا ہے دکھ اور درد کا مجھے بھی معلوم ہے پیار اور نفرت کے بیچ کا فرق میں بھی سمجھتی ہوں۔ تم اپنی گرل فرینڈ کو بیوی بنانے کی خواہش کرتے ہو لیکن مجھ جیسی کو لوگ بس بستر گرم کرنے لیئے استعمال کرتے ہیں، انسان جس سے محبت کرتا ہے اسے بولتا دیکھ کر خوش ہوتا ہےسوچتا ہے کہ وقت یہیں تھم جائے لیکن ہمیں لوگ صرف دیکھتے ہیں اگر میں تمھاری محبت ہوتی تو تم مجھ سے لازمی یہ پوچھتے کہ کیا کھاؤ گی کیا پیو گی لیکن تم نے مجھ سے ایک بار بھی نہیں پوچھا حالانکہ میں نے دوپہر سے کچھ نہیں کھایا اور پیاس بھی لگی ہے لیکن میں جانتی ہوں تم کو محسوس نہیں ہوا ، میں نے اسے راستے میں اتارا اور گھر چلا گیا ، کئی بار رات کو اسی راستے سے گزر ہوا لیکن وہ مجھے پھر کبھی دکھائی نہیں دی اس دن مجھے یہ احساس ہوا کہ وہ بری نہیں تھی میں اس سے کہیں زیادہ برا ہوں